حالات زندگی  












مخدوم محمد جاوید ہاشمی ملتان سے 12 کلومیٹر مشرق کی طرف ملتان دہلی روڈ پر واقع قصبہ مخدوم رشید میں جولائی 1949میں پیدا ہوئے ۔ یہ قصبہ ایک ہزار سال قبل ان کے جدامجد حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی ؒ نے آباد کیا اور انہیں کے نام معنون ہو گیا ۔
مخدوم رشید پاکستان کے عام قصبوں جیسا ایک قصبہ ہے ۔ یہاں کوئی بڑا جاگیردار ہے اور نہ کوئی سردار۔ صلاحیت اور قابلیت کے بنیاد پر ہی یہاں کوئی معتبر ٹھہرتا ہے ۔ یہاں کے لوگوں کا خاصہ مخدوم صاحب سمیت کسی سے مرعوب نہ ہونا ہے بلکہ منہ پر سخت بات کرنے والی کی عزت یہاں زیادہ ہے ۔ اس کے باوجود فیوڈل ذہنیت کی چھاپ معاشرتی زندگی میں موجود ہے ۔ ہزار سال پہلے قائم ہونے والے قصبے میں شاید ہی کبھی کوئی قتل ہوا ہو یا کوئی طلاق دی گئی ہو ۔
اس کی گلیاں تنگ اور میلی ہیں مگر لوگ فراخ دل اور اجلے ہیں ۔ بس اڈے سے گھروں تک پیدل جانا پڑتا ہے ۔

پاکستان کے واحد سیاست دان جن کے آبائی گھر کے دروازے تک پختہ سڑک نہیں اور نہ انہوں نے بنوائی ۔ چنانچہ انہیں اب بھی پیدل اپنے گھر جانا پڑتا ہے ۔

اس قصبے کے شمال میں پانچ میل کے فاصلے پر بابا فریدالدین گنج شکر ؒ کی جائے پیدائش ہے اور ان کے والد کا مدفن بھی ۔ نومیل کے فاصلے پر مشرق میں مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کے نام پر جہانیاں شہر آباد ہے ۔ جو ان کا حلقہ انتخاب بھی ہے ۔ جنوب مغرب میں دس میل کے فاصلے پر حضرت سخی سرورؒ کی جائے پیدائش ہے اور ان کے والد کا مدفن بھی ۔ مغرب میں نومیل کے فاصلے پر ملتان شہر ہے جسے مدینتہ الاولیا کہتے ہیں ۔

ملتان قبل ازتاریخ کا شہر ہے ۔ یہ صدیوں تک موجودہ پاکستان یعنی وادی سندھ کا دارلحکومت رہا اور ہندوں اور مسلمانوں کا مقدس مقام بھی ۔ مخدوم علی ہجویری المعرو ف حضرت داتا گنج بخش ؒ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ میں لاہور میں رہتا ہوں اور یہ ملتان کے مضافات میں ہے ۔

اسی علاقے میں گذشتہ ایک ہزار سال کے دوران ادب اور شاعری عروج کو پہنچے ۔ بابا فرید کے کلام کو سکھوں نے اپنی مقدس کتاب کا حصہ بنایا ہے ۔ حضرت بلھے شاہ کا تعلق بھی اچ شریف سے رہا ہے جو مخدوم رشید سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ حضرت سلطان باہو بھی پچاس میل شمال میں معرفت کا درس دیتے رہے ۔

مخدوم صاحب ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ذریعہ آمدنی کادارومدار فصل کے اچھاہونے پر منحصر تھا ۔ اگر فصل اچھی ہو جاتی تو رہن سہن شادی غمی میں امیرانہ جھلک آجاتی ۔ مزید جائیداد بھی خرید لے لی جاتی ۔ فصل خراب ہوجاتی تو مزاج ٹھکانے آجاتے ۔ 1966 کے بعد آٹھ فصلیں لگاتار خراب رہیں لیکن ان کی وجہ سے گھر ، ڈیرے ، تعلیم اور کالج و یونیورسٹی کی انتخابی سیاست متاثر نہ ہوئی ۔ ایسے موقعوں پر جائیداد بیچنے کی بجائے گھر کا فالتو سامان بیچ کر کام چلایا گیا ۔ قربانی دینے کے لیے سب سے پہلی باری ان کی والدہ محترمہ لے جاتیں جو غریبوں کی مدد روکنے کی بجائے اپنے زیورات کی قربانی دے دیتیں ۔وہ نقدآور فصل کے آنے کا انتظار نہیں کرتیں تھیں ۔ ان کے والد محترم نے کبھی بھی انکی والدہ محترمہ کو غریبوں کی مدد کرنے سے نہیں روکا تھا ۔ ساری زندگی غربت اور امارت کی درمیانی پگڈنڈی پر سفر کرتے گذری ۔
جب میں الیکشن لڑتا ہوںتو عمومازرضمانت کے پیسے نہیں ہوتے اور جیل جاتا ہوں تو قانونی جنگ کا بوجھ سر پر ہوتا ہے ، تاہم وسائل کی کمی نے مجھے کبھی محرومی کا احساس نہیں دلایا ۔ میں بہت خوش قسمت ہوں میرے دوستوں اور رشتوں داروں کو میری حالت کا علم ہے ۔ اسی لیے وہ ہر مشکل گھڑی میں اپنے وسائل قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ اسی بنا پر میں خود کو بڑا سرمایہ دار سمجھتا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ اگرجہاز خریدنے کی ضرورت ہو تو میرے احباب ایک دن میں سرمایہ فراہم کرنے کے لیے اپنا سب کچھ داﺅ پر لگا دیں گے ۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں بڑی بڑی ملیں لگاتا اور جائیدادیں بناتا تو اپنی سوچ کے مطابق سیاست نہ کر سکتا۔ سرمایہ کی کمی میرے لیے سرمایہ کا کام کرتی رہے ۔ میں دادا کے بنائے ہوئے وسیع و عریض گھر میں پیدا ہوا ۔ جسے گاﺅں والے وڈا گھر (بڑے گھر ) کے نام سے پکارتے ہیں ۔ گاﺅں کی زندگی میں خود کو رائل فیملی کا رکن سمجھتا تھا ۔ کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ والدمحترم ، میرے دادا اور پڑداد نے جائیدادیں خریدیں ۔ میں پہلا شخص ہوں جس نے صدیوں پہلے خریدی گئی جائیدادیں بیچ کر سیاست کی ۔ حتی کہ اپنے داد کا تاریخی ڈیرہ بھی بیچ دیا اور یہ ایسا واقعہ تھا جس سے بعض دوستوں اور خیرخواہوں کو گہرا صدمہ ہوا ۔


ہم نے آسودہ زندگی گزاری ۔ میرا ، بھائیوں اور کزنز کا لباس منفرد ہوتا تھا ۔ بچپن میں پھندنے والی لال ترکی ٹوپی ، گلے میں سفید چکن یا بوسکی کا کرتا ہوتا جس پر ریشمی ویسٹ کوٹ سفید شلوار یا ملتانی طلائی لنگی اور پاﺅں میں کھسہ یا گرگابی جرابوں کے ساتھ پہنایا جاتا۔ نوجوانی میں ترکی ٹوپی کی جگہ جناح کیپ نے لے لی جو خاندان کے مرد حضرات کے لباس کا لازمی جزو تھی ۔ میٹرک میں سر پر ہیٹ رکھتا تھا ۔ کالج میں پہنچا تو دستار کی قربانی دے کر سر بچا لیا ۔ جد اعلی کے عرس کے موقع پر ایک دستار میرے سر پر رکھی جاتی ہے ۔اس دستار کے ہر پیچ میں ہزار سال کی روایات ہیں ۔ اب اس دستار کو بچانے کے لیے سر کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو گیا ہوں ۔ جب میں کالج میں داخل ہوا تو سائیکل خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے ۔ میں شروع دن میں اپنے کزن صفدر عباس کی بائیسائیکل پر کالج جاتا رہا ۔ بچپن کے اولین مناظر سے ایک یہ ہے کہ صبح آنکھ کھولتاتو والد محترم کو عبادت میں مصرو ف پاتا ۔ ڈیوڑھی پر اور گھر کے اندر حاجتمندوں کی قطاریں لگی ہوتیں ۔ والدہ محترمہ ضرورت مندوں میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کر رہی ہوتیں ۔ میری سائیکل کے لیے پیسے نہ تھے ۔ مگر میری والدہ میرے ساتھ پڑھنے والے غریب طالبعلموں کی فیس کے لیے اپنے زیور تک بیچ دیتیں ۔ آخری سانس تک وہ اپنی اس روش کو نبھاتی رہیں ۔


رمضان شریف ہمارے تمام افراد کی تربیت کامہینہ ہوتا ۔ گھر کے تمام ملازمین کو چھٹیاں دے دی جاتیں اور کام گھر کی خواتین کرتیں ۔ سحری کے وقت گاﺅں کی مساجد میں مسافروں کا کھانا ، مدارس کے طالبعلموں کی سحری ، بیواﺅں اور غریبوں حتی کہ ضعیف ملازموں اور ملازماﺅں کے گھر کھانا پہنچانے کی ذمہ داری بچوں کے سر آن پڑتی ۔ میرے بچپن میں رمضان شریف سردیوں میں تھا ۔ ایک میل تک پھیلے ہوئے قبصے میں ٹھٹھرتا ہوا دروازوں پر دستک دیتا ، اپنے سر پر رکھے تھال سے ان کے حصے کا کھانا دے کر اگلے دروازے پر چلا جاتا ۔ تقریبا پانچ سال تک میں نے یہ ذمہ داری نبھائی ۔ یہ ہمارے تمام بچوں کا پہلا تربیتی کورس تھا ۔ میری والدہ فرماتیں : بزرگوں نے کہا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جب دولت کی بارش ہو گی جو چاہیں گے اسے پھاوڑوں کے ذریعے اندر لانا لا سکیں گے مگر ایماندار وہی ہوں گے جو دولت کو گھر سے نکالیں گے ۔ کسی کی مدد کے لیے ۔