خبریں / کالم e1  
3
2 1 p2
کالم e1
`````````````
 
4
خبریںe1
   
a
1
1
a
a
a
1
a
وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق آصف زرداری نے وزیر اعظم کے عہدے کیلئے گیلانی سے پہلے جاوید ہاشمی اور اسفند یار ولی کے نام تجویز کئے تھے لیکن مشرف انہیں وزیر اعظم بنانے کے حق میں نہیں تھے۔ وکی لیکس کے مطابق 2008 کے انتخابات سے قبل زرداری اور پرویز مشرف کے درمیان قریبی رابطے تھے اور آصف زرداری نے پرویز مشرف کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر طارق عزیز سے وزیر اعظم کے تعین کیلئے مشورہ کیا تھا مگر سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل ندیم تاج سمیت دیگر لوگوں نے زرداری کو خود وزیر اعظم بننے سے روکا تھا ۔سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے مراسلوں میں پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کیلئے مجوزہ ناموں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ امین فہیم وزیراعظم بننے کیلئے قابل اعتماد لیکن کمزور ہیں اوروزیر اعظم بننے کیلئے فی الوقت موزوں بھی نہیں، گیلانی کیخلاف کرپشن کے الزامات ہیں، شاہ محمود قریشی خودنمائی کے شوقین اورآگے بڑھ جانے کے جذبے سے سرشارہیں، میرانی کی عمر 70 سال ہوچکی ہے اور وہ انتہائی نرم مزاج ہیں،جبکہ احمد مختار زرداری کیلئے قابل اعتبارہیں۔ مراسلے کے مطابق پرویز مشرف کے معاونین مخدوم امین کا نام آگے بڑھانا چاہتے تھے اسکی وجہ شاید یہ بھی ہوکہ زرداری امین فہیم سے مطمئن نہیں تھے ،وہ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کویہاں تک کہہ چکے تھے کہ امین فہیم کبھی دن میں کام کرتے ہی نہیں۔ پرویز مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز کے مطابق سعودی عرب نے فروری 2008 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ( ن ) کی مالی معاونت کی تھی جس میں وہ پیپلزپارٹی کے بعد دوسری جماعت بن کر ابھری۔ خفیہ امریکی مراسلہ کے مطابق صدر زرداری عوامی حکومت بنانے پر رضامند تھے لیکن مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ دینے پر تیار نہیں تھے۔ صدر زرداری شریف برادران کے علاوہ کسی کو بھی وزیر اعظم کے منصب پر فائز کرنے پر تیار تھے۔ امریکا مخالف رحجانات رکھنے والی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ( ن ) کی قیادت کے بارے میں اس مراسلہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے امریکا سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ وکی لیکس کے انکشاف کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اہلخانہ سمیت کوئٹہ بھیجنے کی تجویز تھی تاہم اس پر عملدرآمد اس لئے نہ ہو سکا کہ چیف جسٹس کے پاس پستول تھا وہ حکومت کی کسی بھی ایسی کوشش کی بھرپور مزاحمت کرتے جس سے حالات بے قابو ہونے کا خدشہ تھا ۔ وکی لیکس دستاویز کے مطابق امریکی سفیر کی جانب سے بھیجے گئے مراسلہ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے بھوربن معاہدہ کے 24 گھنٹے بعد امریکی سفیر کو آگاہ کیا تھا کہ مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں نواز شریف ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس کی بحالی نہیں چاہتے اور وہ عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس برقرار رکھنے پر رضامند ہیں ۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے دو مراسلے واشنگٹن ارسال کیے، جن کے مطابق بینظیر نے امریکا سے تحریری درخواست کی تھی کہ وہ ان کی سیکورٹی کا جائزہ لیکر ان کی مکمل حفاظت کیلئے درکار اضافی وسائل کے بارے میں آگاہ کرے تاہم اس وقت اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر این پیٹرسن نے اپنی حکومت کو سختی سے تجویز کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی سیکورٹی حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے، اس لئے امریکی حکومت کو اس معاملے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی سفیر نے یہ بھی لکھا تھا کہ سفارت خانہ ان تجاویز کو انتہائی غیرمعقول سمجھتا ہے جس میں پیپلز پارٹی کو بڑے اجتماعات منعقد کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔
ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے تاجر ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں ۔ جاوید ہاشمی
a
مہنگائی ، بیروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ۔ جاوید ہاشمی
a
مسلم لیگ ن کی قیادت نے جاوید ہاشمی کا قومی اسمبلی سے استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جاوید ہاشمی کا قومی اسمبلی کی رکنیت کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جاوید ہاشمی نے اپنا استعفیٰ ایک روز قبل پارلیمانی لیڈر چودھری نثار کے حوالے کر دیا تھا۔ چودھری نثار کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی نے ہماری بات مان لی ہے تاہم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ استعفیٰ پارٹی کے پاس ہے جب چاہے سپیکر کو دے دیں۔ دریں اثناءانہوں نے گذشتہ روز پارٹی قائد نوازشریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنے استعفے کی پیشکش کی جس پر نوازشریف نے کہا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے اختلافات سب کے ہو سکتے ہیں لیکن استعفیٰ کی بات نہ کریں۔ جاوید ہاشمی نوازشریف کی بات مان کر استعفیٰ واپس لینے پر آمادہ ہوئے۔
جلد ہی اپنا استعفی پارٹی قیادت کے حوالے کرونگا۔ جاوید ہاشمی
a
موجود ہ خارجہ پالیسی نے ملک کو خطرناک پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔ جاوید ہاشمی
a
ن لیگ کو صوبوں کی مخالفت کر کے خود کو تنہا نہیں کرنا چاہیے ۔ جاوید ہاشمی
a
آمروں سے ڈیل کرنے والے سیاستدان قوم سے معافی مانگیں ۔ مزید صوبے بننے چاہیں ۔ جاوید ہاشمی
a

آمروں سے ڈیل کرنے والے سیاستدان قوم سے معافی مانگیں ۔ مزید صوبے بننے چاہیں ۔ جاوید ہاشمی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنمامخدوم جاویدہاشمی نے کہاہے کہ میں نے جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں وزارت قبول کی جس پرمیں پوری قوم بلکہ آنے والی نسلوں سے بھی معافی مانگتاہوں اور اپنی قیادت بشمول میاں نوازشریف سے بھی مطالبہ کرتاہوں کہ وہ بھی جنرل ضیاء الحق سے اپنی وابستگی پرقوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹوکوعظیم لیڈر اور شہیدقراردیتے ہوئے صدرآصف علی زرداری کواپنا دوست قراردیااورکہا کہ اپنے والدین کے انتقال کے بعدمیں محترمہ بے نظیربھٹوکی شہادت پرآنسوؤں سے رویاتھا۔نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیاکہ اگر بروقت نئے صوبے نہ بنائے گئے تو آئندہ انتخابات سے پہلے ملک کا نقشہ بدل جائیگا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعرات کوقومی اسمبلی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرکے خطاب پربحث کے دوران کیا۔انہوں نے ملک میں امن وامان کی صورتحال پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ صرف ملتان میں ایک سال میں1400ڈاکے پڑے ہیں۔ ہمیں ان واقعات کی ذمہ داریاں ایک دوسرے پرڈالنے کی بجائے اصلاح احوال کی طرف قدم اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی دس کروڑآبادی کے لئے ایک وزیراعلیٰ‘ ایک چیف سیکرٹری اور ایک آئی جی پولیس انتظامی معاملات کوکیسے سنبھال سکتاہے۔ جب فوج یہ دیکھتی ہے کہ 10کروڑآبادی والابڑاصوبہ ہمارے ساتھ ہے تووہ مارشل لاء لگانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی اور ہم بھی فوج کااقتدارقبول کرلیتے ہیں لیکن اس عمل میں چھوٹے صوبے پس جاتے ہیں۔ وہاں محرومیاں پیداہوتی ہیں اور پھرعلیحدگی کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ مشرقی پاکستان میں بھی نئے صوبے بنانے کے مطالبے ہوئے تھے لیکن ہم نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کیلئے ان کامطالبہ تسلیم نہیں کیااور نتائج ہمارے سامنے آگئے۔ آج بھی سب لوگ نئے صوبے بنانے کامطالبہ کررہے ہیں توپھراس میں رکاوٹ کہاں پراورکیوں ہے۔مخدوم جاویدہاشمی نے کہاکہ مجھے ضیاء الحق کی کابینہ میں شرکت پرآج تک شرمندگی ہے۔ میں صرف اپنی قوم سے نہیں بلکہ آنیوالی نسلوں سے بھی معافی مانگتاہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کاانتخاب صرف قومی اسمبلی سے نہیں بلکہ سینیٹ کے ایوان سے بھی ہوناچاہئے۔ اہم قومی معاملات کوحل کرنے اور ان پرعملدرآمد کرنے کیلئے آنیوالے وقتوں کاانتظارنہ کیاجائے اور نہ ہی انہیںآ ئندہ کی حکومتوں کیلئے موٴخرکیاجائے کیونکہ کچھ معلوم نہیں کہ آنیوالے دنوں میں حالات کیارُخ اختیارکریں۔ انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں کے قائدین کی دولت اور اثاثے بیرون ملک ہیں‘ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی دولت ملک میں لے آئیں۔ اگرانہوں نے ایسانہ کیا تو عوام انہیں مستردکردیں اور پارٹی کارکن انہیں اپنالیڈرتسلیم کرنے سے انکارکردیں

مسلم لیگ (ن ) کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا جاوید ہاشمی نے کہا کہ عوام سے قربانیاں لینے کے بجائے حکمران طبقے کو قربانیاں دینا ہوں گی ۔ عوام پر مظالم بڑھائے گے تو خطرناک نتائج نکلیں گے عوام کرپشن بدعنوانی سے متنفر ہو چکے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کو مایوس کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسائل پر قابوپانے اور بحرانوں سے نبردآزما ہونے کی اہلیت رکھتی ہے ۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ بدلنے سے حالات نہیں بدل جائیں گے ۔ حالات میں بہتری کے لیے مثبت پلاننگ بہترین حکمت عملی اور خلوص نیت کی ضرورت ہے جو موجودہ حکمرانوں میں نام کی بھی نہیں ہے ۔ ن لیگ کے وفود سے ملاقات میں انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن حالات کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ہماری قیادت بحرانوں کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ بار ملتان میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ملک میں موجودہ جمہوریت وکلا کی تاریخی تحریک کا ثمر ہے۔ وکلا نے قربانیاں دے کر آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کو یقینی بنایا اور آزاد عدلیہ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ موروثی سیاست کے قائل نہیں اب عوامی سیاست کا دور ہے۔ ملک میں بے روزگاری میں کمی اورمہنگائی کے سیلاب کوختم کرنے کےلیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو امریکی اہلکارریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا ہوگا اگرحکومت نے ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کیا تو سخت عوامی رد عمل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 

a


makhdoom
makhdoom
 
Makhdoom
makhdoom
Makhdoom
makhdoom javed hashmi
makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
makhdoom javed hashmi
makhdoom javed hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
 
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi

لاہور (نمائندہ جنگ)مسلم لیگ ن کے رہنما رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر پاکستان کے تمام سیاستدان، عمائدین، دانشور مل جائیں تو پاکستان کو وہ کچھ نہیں دے سکتے جو احساس تحفظ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو دیا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کتاب کی تقریب رونمائی سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر دیگرمقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں اپنے محسنوں کو قید کرتی ہیں ان پر جسمانی تشدد کرتی ہیں، ان کا حشر وہی ہوتا ہے جو آج ہمارا ہو رہا ہے۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے کو پھانسی دے دی گئی، جاری رکھنے والے کو ہوا میں اڑا دیاگیاا ور عمل درآمد کرنے والے کو اقتدار سے بے آبرو کرکے نکالا گیا ۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھنے کے میدان میں بھی ثابت کردیا کہ وہ قوم کی ہر شعبہ میں رہنمائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی ایک ہی سوچ ہے کہ پاکستان کس طرح ترقی کرسکتا ہے، کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو 60 سال کے اندر جو کچھ دیا اگر تمام سیاستدان، عمائدین، انجینئر، دانشور مل جائیں تو وہ کچھ نہیں دے سکتے جو ڈاکٹر قدیر نے ہمیں تحفظ کا احساس دیا۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عالم اسلام نے ڈاکٹر قدیر کو جو مقام دے دیا ہے اب انہیں کوئی مقام دے یا نہ دے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ڈاکٹر قدیر کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔  

 
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
Makhdoom Javed Hashmi
 
 
پیپلزپارٹی کی سیاست اب ختم ہوچکی، جاوید ہاشمی
مسلم لیگ(ن﴾) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست اب ختم ہو چکی۔ جو پارٹی اپنے کارکنوں کو انصاف نہ دے سکے وہ عوام کو کیا انصاف دے گی ۔ ملتان میں ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے منتخب ممبران کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نام نہاد جہوری حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی۔ پاکستان کو اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے لیکن سیاسی پارٹیوں نے آئین اور ملک کو تحفظ دینے کی بجائے موروثی سیاست کو تحفظ دیا۔ ان کا کہنا تھا ملک میں جتنے زیادہ صوبے ہوں گے مسائل کا حل تلاش کرنے میں آسانی ہوگی ۔
 


سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں،جاوید ہاشمی
1عارف والا…مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ جرائم اورمعاشرتی بگاڑ میں اضافے کی بڑی وجہ عدم مساوات اور ناانصافی ہے۔یہ بات انھوں نے عارف والا میں ایک سمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہی ،جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں جب قوم کے رہنما لٹیرے بن جائیں تو افراتفری پیدا ہونا قدرتی بات ہے۔ان کا کہناتھا کہ قائدین کو قوم کے سامنے رول ماڈل بننا چاہیے ،امریکایا یورپ میں کوئی جرم کرے تو وہاں قانون کی عمل داری نظر آتی ہے ۔اس موقع پر کمشنر ساہیوال طارق محمود ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال امجد سلیمی اور دیگرنے بھی خطاب کیا ۔



جنگ اور جیو نے منی لانڈرنگ کیس قوم کے سامنے رکھ دیا، جاوید ہاشمی
بلزانو، اٹلی (رپورٹ : ڈاکٹر جاوید کنول) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے جنیوا سے منی لانڈرنگ کیس کی اصل دستاویزات کی لندن منتقلی کے انکشاف پر جیو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اور جیو نے تمام صورتحال کی اصل تصویر قوم کے سامنے رکھ دی ہے ۔ اس طرح کی انوسٹی گیٹیو رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔ اپنے ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ واجد شمس الحسن ان دستاویزات کو اپنے گھر لے گئے ہیں یا کہیں اور۔ قوم کا حق ہے کہ اسے اعتماد میں لیا جائے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح وہ ڈاکومنٹ محفوظ ہیں۔ جب مخدوم جاوید ہاشمی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ڈاکومنٹس کو نیب یا سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے پاس رکھے تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں جو ادارے تنخواہیں لے رہے اور فوائد حاصل کر رہے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ وہ کاغذ چھپا کر جس انداز سے اٹھائے گئے ہیں اس پر تو ان کے خلاف دستاویزات کی چوری کا مقدمہ بن سکتا ہے
صدر زرداری اپنے ہر اقدام سے ہیرو سے زیرو بن رہے ہیں، جاوید ہاشمی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری ناسمجھی میں خود اپنے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور اپنے ہر اقدام سے ہیرو سے زیرو بن رہے ہیں۔ اپوزیشن نہیں، حکومت خود جمہوریت کو ” ڈی ریل “ کر رہی ہے ۔ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے حکومتی عہدیداران اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود مستعفی ہو جائیں۔ قرضے معاف کرانے والوں، پلاٹس لینے اور پرمٹ حاصل کرنے والوں کوبھی بے نقاب کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی شب کراچی ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ سندھ کے رہنما سلیم ضیاء اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ مخدوم جاوید
ہاشمی نے صدر زرداری کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر زرداری صاحب درست اقدام کریں تو ان کے خلاف سازشیں خود ختم ہو جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ذمہ دار اور فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے اگر صدرزرداری میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کریں اور ملک کو بچانے کیلئے درست اقدامات کریں تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ایک سوال پر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ قرضے حاصل کرنے والا گروپ گزشتہ 50 سال سے ملک کو کھوکھلا کر رہا ہے اس گروپ میں اضافہ ہو رہا ہے ، لوگ قرضہ لے کر سیاست اور پھر اسمبلیوں میں آجاتے ہیں





1

 







حکومت مشرف کیخلاف کارروائی کرے، فوج دفاع نہیں کریگی، جاوید ہاشمی

آمر کو اس کی زندگی میں ہی کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا جو انقلاب کا پیش خیمہ ہسلم لیگ (ن) کے سین¿ر نائب صدر جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی آمر کو عدالت نے طلب کیا ہے اور اب انہیں عدالتوں کے چکر لگانا پڑیں گے ۔ جامعہ نعیمیہ میںڈاکٹرمفتی سرفراز نعیمی کے صاحبزادے ڈاکٹر راغب نعیمی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتیں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ احتساب عدالتیں برقرار رہنی چاہیں کیونکہ احتساب کی صورت میں ہی قوم کو یقین آئے گا کہ وہ لٹیروں سے بچ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے جانے سے پہلے اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں بنائی تھیں لیکن وہی پناہ گاہیں ان کے لیے شکنجہ بن گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈکٹیٹر جسے گارڈ آف آنر پیش کر کے رخصت کیاگیا تھا اسے اس کے زندگی میں ہی کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا یہ ملک میں تبدیلی اور انقلاب کا پیش خیمہ ہے ۔