کالم e1  
3
2 1 p2
 
4
   
جاوید ہاشمی اور دو صندوق...کٹہرا…خالدمسعودخان
یہ قریباً دو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ تب وہ مکمل طور پر صحت مند تھا۔ میں اسے ملنے گیا تو اس وقت قطعاً یہ اندازہ نہ تھا کہ اس سے کوئی خاص بات ہوگی۔ بس ایئر پورٹ سے واپسی پراس کے گھر کے سامنے سے گزرا تو اس کے صحن اور ڈرائیو وے کو خلاف معمول خالی دیکھ کر میں نے گاڑی اس کے گھر کی طرف موڑ لی۔ اجمل اپنے کمرے میں فون پر بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے اندر انٹر کام پر اطلاع دی اور دو منٹ بعد ہی جاوید ہاشمی اپنے مخصوص انداز میں ہنستا ہوا میرے سامنے موجود تھا۔
میں جاوید ہاشمی سے ہر دوسرے تیسرے مہینے ملنے چلا جاتا ہوں۔ اس ملاقات کا واحد مقصد پاکستان کی سیاست کے بارے میں اس کے تجربے سے مستفید ہونا۔ اس سے سیاسی تاریخ کے چھپے ہوئے گوشوں کا تذکرہ سننا اور اس سے جی بھر کر اختلاف کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات میں صرف شغل کے طور پر اس سے اختلاف کرتا ہوں مگر وہ فوراً سمجھ جاتا ہے اور بات وہیں ختم ہو جاتی ہے ۔ اس روز وہ خلاف معمول ضرورت سے زیادہ سنجیدہ تھا۔ اس کی باتوں میں نہ تو حسب معمول والی چاشنی تھی اور نہ ہی تسلسل۔ وہ اس روز ویسا نہیں تھا جیسا ہمیشہ ہوتا تھا۔ میں نے کہا جاوید بھائی! آپ کچھ پریشان ہیں؟ وہ مسکرایا اور کہنے لگا میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ تم ایک خطرناک آدمی ہو۔ جتنا بہتر تم مجھے جانتے ہو شاید کم ہی لوگ مجھے اتنی اچھی طرح جانتے ہیں۔ تم سے ڈرنا چاہئے۔ یہ اس کا ایک خاص انداز ہے۔
اس نے فون اٹھا کر اجمل کو انٹرکام پر کہا کہ جب تک خالد بیٹھا ہے وہ کوئی فون اندر نہ ملائے۔ پھر وہ میری طرف پلٹ کر کہنے لگا تم سے ایک مشورہ کرنا ہے۔ میں نے کہا کہئے۔ وہ کہنے لگا میں اسمبلی کی سیٹ اور مسلم لیگ حتیٰ کہ سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں۔ تمہارا کیا مشورہ ہے؟ میں نے کہا آپ پہلی دو چیزیں تو چھوڑ سکتے ہیں مگر کیا آپ سیاست چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا مچھلی پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے؟ وہ مسکرا کر کہنے لگا سیاست سے میری مراد جماعتی سیاست ہے۔ میں اس شہر کے لئے ، اپنے اس خطے کیلئے ، جنوبی پنجاب کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس علاقے کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے کوئی کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ”مین سٹریم“ چھوڑ کر کچھ کرنے کا سوچنا بھی ایک کار بے کار ہے۔ لوگ کمزور یادداشت کے مالک ہیں وہ چند دنوں بعد آپ کو بھول جائیں گے۔
وہ کہنے لگا پھر کیا کیاجائے؟ میں نے کہا آپ وہی کریں جو آپ کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ آپ اپنی پارٹی میں حق سچ کا علم بلند کئے رکھیں۔ درست اور غلط پر اپنی بات باآواز بلند کہتے رہیں۔ پارٹی میں وہ بات مسلسل کہتے رہیں جو مفاد پرست اور موقع پرست نہیں کہہ رہے۔ وہ کہنے لگا کب تک؟ میں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کوئی بہتر سبب نہیں پیدا کرتا۔ جب تک آپ کو بہتر متبادل میسر نہیں آتا یا جب تک یہ پارٹی آپ کو برداشت کرتی ہے اور اٹھا کر باہر نہیں پھینک دیتی۔ پھر میں نے کہا یہ آخری بات میں صرف ازراہ تفنن کہہ رہا ہوں۔ کوئی آپ کو اٹھا کر باہر پھینکنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ کوئی یہ بات کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتا۔ آپ جب تک چاہیں اپنی پارٹی میں حق سچ کہہ سکتے ہیں۔ عام لوگ یہ سب کچھ سننا چاہتے ہیں اور آپ کی لیڈر شپ یہ سب کچھ سن کر خاموش رہنے اور آپ کو برداشت کرنے پرمجبور ہے۔ آپ انتظار کریں۔ ایک بہت بہتر متبادل آپ کا منتظر ہے۔ تب اس نے شاید سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ بہتر متبادل تحریک انصاف ہوگی۔ تب جاوید ہاشمی اپنی لیڈر شپ کے رویے ، اپنی قربانیوں کی ناقدری پر اور چوری کھانے والے مجنوؤں کی پذیرائی پر دکھی تھا۔ اٹھارہ ارکان کی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی اسے سونپی گئی اور اسی سے زائد ارکان پر مشتمل پارٹی کی قیادت چوہدری نثار علی خان کے حوالے کردی گئی۔ جب وہ سفید پوشوں کا تشدد برداشت کر رہا تھا تب لوگ ہسپتالوں میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ جب وہ جیل کاٹ رہا تھا تب لیڈر شپ سرور پیلس میں مزے کر رہی تھی لیکن جب سینئر منسٹر بنانے کی باری آئی تو قرعہ فال نثار علی خان کے نام نکلا۔ جب حکومت سے علیحدگی ہوئی اور لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کا مرحلہ درپیش آیا تو چوہدری نثار علی خان کو یہ بار اٹھانے کے قابل سمجھا گیا اور جب چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی نامزدگی کا مرحلہ آیا تو قرعہ فال ایک بار پھر چوہدری نثار علی خان کے نام ہی نکلا۔
میں نے ایک روز اس کے گھر کے صحن کے ایک کونے میں کھڑا ہو کر یہ دیکھنا چاہا کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں سے کس طرح ڈیل کرتا ہے تو مجھے اس کی ہمت پر رشک آیا۔ ساری عمر دائیں ہاتھ سے لکھنے والا شخص اپنے ہاتھ کی معذوری کو جواز بنا کر آرام سے بیٹھنے کے بجائے اب بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھ چکا تھا اور رقعوں پر دستخط کر رہا تھا۔ بائیں ہاتھ سے فون اٹھا کر سفارشیں کر رہا تھا اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں لگا ہوا تھا۔
آج کل ملتان کی مسلم لیگی قیادت اس کے بارے میں وہ کچھ کہہ رہی ہے جو جاوید ہاشمی کے مرتبے کو تو کم نہیں کر رہی مگر مسلم لیگ کی مقامی قیادت کے ظرف کو ضرور ظاہر کر رہی ہے۔ ایک ایم این اے کا کہنا ہے کہ بوڑھے جاوید ہاشمی نے جوانی جنرل ضیاء الحق کے قدموں میں گزاری تو صرف تاریخ کی درستی کیلئے عرض ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف اسمبلی میں جو پہلی حزب اختلاف بنی تھی اس کا بانی جاوید ہاشمی تھا اور جاوید ہاشمی اس آئی جی پی (انڈیپنڈنٹ گروپ آف پارلیمنٹرینز) کا سربراہ تھا۔ مسلم لیگ کے نام پر سرکاری اداروں میں تنخواہ دار ملازم آج جاوید ہاشمی میں وہ ساری برائیاں دیکھ رہے ہیں جو شاید اس میں تو موجود نہیں مگر مسلم لیگ کی ٹاپ قیادت میں موجود ہیں۔ ملتان کی مسلم لیگی قیادت اور میاں نواز شریف کو جاوید ہاشمی سے ایک گلہ یہ ہے کہ وہ جاتے ہوئے خدا حافظ نہیں کہہ کر گیا۔11 دسمبر 2000ء کو اسلام آباد میں رات گئے تک بیگم کلثوم نواز شریف بضد تھیں کہ ان کیلئے سعودی عرب سے کوئی جہاز نہیں آیا۔ علی الصبح میاں صاحب کسی کو بھی خدا حافظ کہے بغیر چالیس صندوقوں کے ساتھ جدہ چلے گئے اور جاوید ہاشمی کو بے آسرا مسلم لیگ کا سربراہ بنانے کا دوسطری رقعہ چھوڑ گئے۔ ساری مسلم لیگ کو اپنی یتیمی اور میاں صاحب کی سعودی عرب روانگی کا علم تب ہوا جب طیارہ پاکستان چھوڑ کر جا چکا تھا۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ کو چھوڑتے ہوئے صرف دو صندوق اپنے ساتھ لے کر گیا ہے۔ ایک صندوق قربانیوں کا تھا اور دوسرا صندوق صبر کا اور بھلا وہ یہ دونوں صندوق مسلم لیگ میں چھوڑ کر بھی کیوں جاتا؟ اس کے علاوہ یہ وزن اور اٹھا بھی کون سکتا تھا؟
 
ورنہ ہم باغی ہیں...حرف بہ حرف…علی مسعود سید
کراچی جلسہ میں مخدوم جاوید ہاشمی کی تقریر مجھے پرانی نہیں لگتی اگرچہ بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی پر زرداری صاحب کی تقریر پر بہت کچھ لکھا جاسکتا تھا، مجھے زرداری صاحب کی ٹھنڈی اور شکستہ تقریر میں بھی بہت سے بغاوت کے پہلو نظر آئے، میں سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ہم امریکہ سے نجات کے راستے پر چلے ہیں، روس جو اب بھی دنیا کے دس بڑے معاشی پہلوانوں میں ایک ہے، اہمیت دینے کو تیار ہے اورچین تو ہر حالت میں ساتھ رہا ،یقین کیسے آسکتا ہے مگر سن رہا ہوں کہ ہم اپنی سر زمین سے امریکہ کوایران پر حملہ نہیں کرنے دیں گے اور پائپ لائن بچھائیں گے، یہ بغاوت ہو یا نہیں مگر معلوم ہو ،خواہ افغانستان پر حملہ ہو یا کوئی کسی اور پر پاکستانی عوام اس کے ذمہ داروں سے نفرت کرتے ہیں، ریاست کرائے کے قاتل ایسے کردار پر کب تک چل سکتی ہے؟یہ موضوع پھیل رہا ہے لیکن ایک”بہادر آدمی“سے میرے دلی لگاوٴ نے مجھے اپنی طرف بہا لیا ہے۔ جون 2010ء کو میں نے لاہور میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کالموں پر مشتمل کتاب ”سحر ہونے تک “ کی تقریب رونمائی کرائی تو تقریب کی صدارت کے لئے جاوید ہاشمی کو مدعو کیا، باوجود انتہائی مصروفیت کے وہ اسلام آباد سے لاہور پہنچے۔ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں، ہمیں ہر صورت غلامی سے نجات حاصل کرنی ہوگی، وہ گرجے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کمزور قیادت کو گریبان سے پکڑ کر عوام کے سامنے لایا جائے،24جون2010ء اپنے کالم کے آخر میں لکھا کہ ”بے شک یہ ایک حقیقی باغی کی آواز ہے اور عوام کی آواز یہ ہے کہ جاوید ہاشمی قدم بڑھاوٴ…ہم تمہارے ساتھ ہیں“جولائی2010ء میں مگر ہاشمی صاحب پر بیماری کا حملہ ہوا، میں کراچی میں تھا ہاشمی صاحب جنرل اسپتال میں داخل ہوئے،دوسرے روز لاہور آکراپنی بیگم کے ساتھ عیادت کے لئے پہنچا ، حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی صحت یابی کے لئے بہت دعائیں مانگیں،باہر کافی لوگ تھے،ہاشمی صاحب کی صاحبزادی کی مدد سے اندر گئے،ہاشمی صاحب نے اشاروں سے خوش آمدید کہا ،واپسی پر بیگم سے کہا کہ انشاء اللہ ہاشمی صاحب جلد ٹھیک ہوں گے۔کچھ روز بعد ہاشمی صاحب اسمبلیوں میں گرجنے لگے۔
پورے شباب پراب مگرکراچی کے جلسے میں گرجے کہ”ہاں!ظلم کے خلاف،آمریت کے خلاف، اس بدمعاشانہ نظام کے خلاف، ملک لوٹنے والوں کو،سرمایہ داروں کو،جن کی جائیدادیں ملک سے باہر ہوتی ہیں،جن کے بچے ملک سے باہر ہوتے ہیں،جن کے سارے وسائل ملک سے باہرہوتے ہیں ایسے لوگوں سے اس ملک کی قیادت چھیننے کی بات میں نے کی تھی،میں نے کہا تھا ہاں میں باغی ہوں،ہاں میں باغی ہوں اور پھر یہ بھی کہا کہ میں اکیلا تھا،میں 1991ء سے اسمبلیوں میں کہہ رہا تھا،اپنے اثاثے واپس لاوٴ،مت لوٹو غریبوں کو،انہوں نے میرا کہا نہیں مانا۔میں براہ راست جلسہ دیکھ رہا تھا اور سن بھی رہا تھا،ایک طرف مشرف کابینہ سج رہی تھی، عرض کرتا چلوں تقریباً تمام پارٹیز کے کارکن مجھے ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں ،تحریک انصاف کے کارکنان کئی دن سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ پرویز مشرف کے ساتھی پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔ بہرحال پورے جلسے میں” ایک بہادر آدمی“ نے کہا، میں باغی ہوں مجھ سمیت بہت سے لکھ کرگواہی دے چکے کہ ہاں!وہ باغی ہے۔ میں معذرت کے ساتھ عرض کروں گا، میں طوالت سے بور ہوگیا تھا،میں نے آگے بڑھ کر ان کی سوچتی اور انتظار کرتی ہوئی بغاوت کے زخموں کوکریدا تھا، آج پھر میں ان لفظوں کو جگانا چاہتا ہوں، 12فروری2011ء کو کالم ”جاوید ہاشمی اصلی بغاوت یہ نہیں“میں لکھا تھا کہ ”ہم بہت سے خواب دیکھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں،اس طرح کہ انتظار کی سولی پر لٹکنے والا نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیریں خود ہمارے ہاتھوں میں ہیں،روز ازل سے آدم زاد کے ماتھے پر لکھ دیا گیا…کوشش“۔ میں نے لکھا تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنی اپنی جماعتوں کے قائدین کے سامنے ڈٹ جائیں اور بغاوت کی کہ سیاسی رہنما ذاتی مفاد کے لئے قوم کو استعمال نہ کریں۔ جاوید ہاشمی صاحب نے الطاف حسین کی فوج کو اپیل کے برعکس ارکان پارلیمنٹ سے استدعا کی ہے،نسبتاً یہ بہت اچھی بات ہے مگر افسوس ایسا ہو گا نہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ہاشمی صاحب یہ بات لے کر عوام میں آئیں۔یہ وقت ساحل سے پکارنے کا نہیں، موجوں سے کھیلنے کا ہے، ڈوبنے والے کو دست و بازو کا سہارا چاہئے۔ عوام غنڈوں میں گھری مظلوم عورت کی طرح گھبرائی، کسی مرد کو پکار رہی ہے…کوئی مرد ہے جو بچا لے۔ ہاشمی صاحب کی بغاوت سے مگر میں مایوس نہیں ہوا 24/اپریل2011ء کو اپنے کالم”ہاں! میں باغی ہوں“ میں پھر ان کی بغاوت یاد دلائی۔آج وہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ان کی بغاوت کو وسعت ملے گی توبسم اللہ۔ میں جس طرح مسلم لیگ ن میں شامل نہ تھا مگر ایک باغی جاوید ہاشمی کے ساتھ تھا،آج بھی جاوید ہاشمی کے ساتھ ہوں ،آج پھر قائد اعظم کے مزار کے سامنے آپ نے اصرار کیا ہاں! میں باغی ہوں،تو یہ ناچیز پھر گواہی دیتا ہے کہہ ہاں آپ باغی ہیں،مگراس لئے کہ جس وعدے کا ذکرکرتے ہوئے آپ نے کہا کہ عمران خان !جو وعدہ آپ نے کیا تھا،میرے ساتھ، قوم کے ساتھ ،اسی پر چلتے رہنا ہے ،نہ چلے تو یاد رکھنا کہ میں باغی ہوں،تو آج ہاشمی صاحب کو بھی یاد رکھنا ہوگا، آپ جانتے ہیں کہ لوٹی ہوئی دولت کبھی لٹیرے خود واپس نہیں لایا کرتے ،اب اگر نیچے والا طبقہ خود نہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ آج تک جیسا میرے ملک میں ہوتا آیا ہے، نہیں ہوگا؟ہاشمی صاحب !خواہ کوئی بھی پارٹی ہو اگر درمیانے اور غریب طبقے کے کارکنوں کو نمائندہ نہ بنایاگیا،طبقاتی تفریق کومسمار نہ کیا،اگرلٹیروں کو ٹکٹیں بانٹ دی گئیں،ٹوٹتے ہوئے کہنہ نظام کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش یا جان ڈالنے کی کوشش ہوئی، عوام کے دھتکارے ہوئے مکار سیاست دان پھر سے مسندنشین ہوئے، آمروں کے اشاروں پر ناچاگیا،امریکہ کو صرف اس لئے آنکھیں دکھائی گئیں کہ غیرت کا ریٹ بڑھ جائے،پاک سرزمین پر پھر سے ناپاک عزائم کے مضمون کو نئے عنوان دینے کی کوشش کی گئی اور آپ نے بغاوت نہیں کی تو پھر آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں باغی ہوں اور بھی بہت باغی ہیں جو آپ کی بغاوت پر حملہ کر دیں گے اگر آپ غلط کام کے خلاف بروقت بغاو ت کریں گے تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے، میرے جیسے کئی باغی ہیں جوآپ کی بغاوت کی قدآوری کے عہد میں اُگ آئے۔ ٹھیک ہے، پلیٹ فارم چاہئے ہوتا ہے، خواہ کوئی بھی پارٹی ہو، بغاوت ایک پارٹی روٹی، کپڑا ، مکان نہیں عوام کو اقتدار چاہئے اور ہماری تازہ بغاوت یہی ہے کہ جب تک بلوچستان وفاق کی سب سے نمایاں علامت نہیں بن جاتا، ہم اپنا حق بھی ان کو دیں گے، جیوے پاکستان۔
جاوید ہاشمی.... تاریخی جدائی۔ اعجاز حفیظ خان
عمران خان کا تیار کردہ ”کشتہ“ !... روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی
ایک مبارکباد عمران خان کو اور دوسری جاوید ہاشمی کو! عمران خان کو مبارک کہ ان کا کراچی کا جلسہ بہت ہی کامیاب رہا۔ اس میں کراچی کے عوام کی پُرجوش شرکت ایک خوش آئند امر ہے۔ اگرچہ جلسے پر پیسہ بے تحاشا خرچ ہوا لیکن عمران خان اللہ پر توکل کرنے والے انسان ہیں۔ وہ اس کی فکر نہیں کرتے کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔ اس کے لئے ان کی نظریں اپنی پارٹی کے سجادہ نشینوں پر بھی نہیں اٹھتیں کہ جانتے ہیں سجادہ نشینوں کی خدمت کی جاتی ہے ، ان سے خدمت لی نہیں جاتی۔ بس یہ اللہ پر توکل کرنے کا نتیجہ ہے کہ جب سے انہوں نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ہے ، اندھا دھند اخراجات ہو رہے ہیں مگر یہ میرے نہایت پیارے دوست ، ایک بہترین انسان اور تحریک انصاف کے لئے دعاگو پروفیسر رفیق اختر کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ غیب سے پیسوں کی بارش ہو رہی ہے۔ باقی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ فنڈز کے لئے اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھیں، وہ ادھر سے آپ کی مدد کرے گا جدھر سے مدد کرنے والے پہلے ہی سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
دوسری مبارک اپنے خوبصورت دوست اور جمہوریت کے لئے بے بہا قربانیاں دینے والے جاوید ہاشمی کے لئے کہ انہوں نے اپنی علالت اور عمر کے اس حصے میں ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی پندرہ سالہ ”دوشیزہ“ سے شادی رچائی ۔ میں ان دنوں اگر پاکستان میں ہوتا تو مبارک دینے کے لئے جاوید ہاشمی کے پاس خود چل کر جاتا مگر افسوس کہ امریکہ میں ہوں، تاہم واپسی پر انشاء اللہ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور یہاں سے خاص ان کے لئے خریدی گئی ملٹی وٹامنز بطور سلامی انہیں پیش کروں گا۔
باقی رہا جلسہ تو اس کی ساری کارروائی میں نے ”جیو“ پر دیکھی۔ یقین کریں دل خوش ہو گیا۔ بہت عرصے کے بعد کراچی میں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت کا پُربہار جلسہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایم کیو ایم کے جلسوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہے تاہم تحریک انصاف نے بھی سیاسی جلسوں کے حوالے سے ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ ان جلسوں میں بہت سلیقے سے ہلکی پھلکی موسیقی کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے جس سے سیاسی پکوان لذیذ ہو گیا ہے۔ امید ہے دوسری جماعتیں بھی اس کی تقلید کریں گی بلکہ ممکن ہے جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کو بھی اس کی ضرورت محسوس ہو۔ متذکرہ جلسے کے حوالے سے ایک مبارکباد رہ گئی اور یہ مبارک ایم کیو ایم کا حق ہے جس نے جلسے کے انعقاد کے حوالے سے تحریک انصاف سے بھرپور تعاون کیا۔ بصورتِ دیگر یہ جلسہ نہیں ہو سکتا تھا۔ خود تحریک انصاف کے عمران نے بھی اس جلسے کے لئے ایم کیو ایم کے بارے میں اپنے رویے کی ”اصلاح“ کی، ان کے خلاف لندن کی عدالتوں سے رجوع کرنے کے ارادے پر تین حرف بھیجے اور دورانِ جلسہ بھی ایک اچھے بچے کی طرح Behave کیا، اس کے لئے ”مہمان“ اور ”میزبان“ دونوں مبارک کے مستحق ہیں۔
اب رہے دوسرے معاملات جن میں سے ایک یہ اعتراض کہ عمران خان اپنے جلسوں میں مسلسل وہی پروگرام پیش کر رہے ہیں جو کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کے منشور کا حصہ ہیں لیکن وہ یہ سب کام کریں گے کیسے؟ عمران اس ضمن میں کوئی واضح نقشہ پیش نہیں کرتے۔ سچی بات پوچھیں تو عمران خان کو دوسری جماعتوں کی نسبت ایک بہت بڑی سہولت حاصل ہے اور وہ یہ کہ ان کی جماعت یا وہ خود کبھی اقتدار میں نہیں رہے چنانچہ ان پر یا ان کی جماعت پر وہ الزامات عائد نہیں کئے جا سکتے جو کسی بھی اس جماعت پر آسانی سے اور بجا طور پر عائد کئے جا سکتے ہیں جو ایک دن بھی اقتدار میں رہی ہو۔ عمران خان اگر اقتدار میں آتے ہیں تو ان کی جماعت کا دامن بھی کہیں نہ کہیں سے تر ضرور نظر آئے گا کیونکہ پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں فرشتوں کی جماعت نہ کبھی وجود میں آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ سہولت کچھ زیادہ اچھی نہیں لگتی چنانچہ انہوں نے اس ”کمی“ کو پورا کرنے کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں کے کرپٹ لوگوں کے لئے اپنی جماعت کے دروازے کھول دیئے ۔ اس ضمن میں ”خود کفالتی“ کی منزل تک تو جب پہنچیں گے سو پہنچیں گے، کیوں نہ اس سے پہلے ”ہم عصر“ کوڑا کرکٹ سے کام چلایا جائے؟ مگر اس میں قباحت یہ ہے کہ انقلاب پیچھے رہ جاتا ہے ، کوڑا کرکٹ آگے نکل جاتا ہے۔
اگر عمران خان کی بجائے میرا مخاطب کوئی اور ہوتا یعنی کوئی ایسا لیڈر جو آئیڈیل قسم کے دعوے نہ کرتا ہو تو میں شاید یہ سب باتیں نہ کہتا۔ خان صاحب چونکہ عوام کو یقین دلا رہے ہیں کہ اقتدار میں ان کی آمد کے بعد پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی ، انصاف کا ایسا بول بالا ہو گا کہ خود سپریم کورٹ حیران رہ جائے گی، مساوات کا وہ دور دورہ ہو گا کہ عوام کو خلفائے راشدین  کا دور یاد آ جائے گا، یہ اور اسی قسم کے دوسرے دعووں اور نعروں سے تیار کردہ عمارت کا مصالحہ بھی تو ایسا ہونا چاہئے جس سے یہ عمارت کھڑی ہو سکے اور اس کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے لیڈر ہی طرح اپنے عزم میں پختہ ہوں اور ان کے مفادات پارٹی کے نظریے سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہوں۔ تاہم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عملی طو رپر ایسا نہیں ہے، کیونکہ انقلاب کے لئے جو ٹیم سامنے آئی ہے وہ پرانے چہروں ہی پر مشتمل ہے۔ کوئی بلند حوصلہ اور پاک صاف نوجوان ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا جن کی قیادت کا دعویٰ تحریک انصاف کرتی ہے۔ لگتا ہے نوجوانوں کو محض شو، شا کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ جو لوگ سامنے آئے ہیں وہ پرویز مشرف کی باقیات، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) ، پی پی پی اور دوسری جماعتوں کے اچھے اور برے افراد پر مشتمل ہیں۔ ان سب کو ”کھرل“ کر کے اقتدار کا کشتہ تو تیار کیا جا سکتا ہے، جو ”مدمقابل“ کو ایک دفعہ تو ضرور حیران کر دیتا ہے مگر یاد رکھیں اس سے گردے بھی فیل ہو جاتے ہیں، تحریک انصاف ابھی”کم سن“ ہے، اللہ جانے اسے ابھی سے ان کشتوں کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے؟
کوئے یار سے…! ...نقش خیال…عرفان صدیقی

مسلسل پر پھڑ پھڑاتے پرندے کو کسی نہ کسی آن اڑان بھرنا ہی ہوتی ہے سو وہ بھر گیا۔ ہاشمی صاحب نے کراچی میں کپتان اور شاہ محمود قریشی کے درمیان بیٹھے اپنی سیاسی ہجرت کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال کا ایک فارسی مصرعہ پڑھا۔
”تیز ترک گامزن، منزل مادور نیست“
”تھوڑا اور تیز چلو کہ ہماری منزل دور نہیں“ کہا… ”مسلم لیگ (ن) سے ناتا توڑ نے کا سبب نواز شہباز سے کوئی رنجش ہے نہ گلہ۔ میں نے صرف تیز قدمی کے خیال سے کارواں تبدیل کیا ہے“۔ مان لینا چاہئے کہ ایسا ہی ہوگا ورنہ جاویدہاشمی جیسے شخص کے لئے اب کوئی عہدہ و منصب اتنا پرکشش نہیں ہوسکتا کہ وہ ڈھلتی عمر کے ان سرد موسموں میں میرکارواں بھی بدل لے اور ہم سفر بھی۔
22/دسمبر کی سہ پہر بھنک پڑی تو شکستہ دل سعد رفیق گھر سے نکلا۔ جاوید ہاشمی کی تلاش میں وزیر اعلیٰ کے مہمان خانے پہنچا جہاں وہ ٹھہرا کرتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ وہ وہاں نہیں تلاش بسیار کے بعد انہیں جالیا۔ اندازہ ہوا کہ خبر درست ہے۔ سعد اچھی دلیل کے ساتھ پراثر گفتگو کرنے کا سلیقہ رکھتا ہے۔ اس نے اپنی سی کوشش کرلی لیکن بات نہ بنی۔ اگلے دن، 23/دسمبر کو شہید جمہوریت خواجہ محمد رفیق کی برسی کی تقریب تھی ۔ ہاشمی صاحب بھی شریک تھے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا…”صرف ایک لیڈر اس ملک و بحرانوں سے نکال سکتا ہے اور اس کا نام ہے محمد نواز شریف“۔ سعد رفیق نے کئی کانوں میں یہ بات پھونک دی کہ ہاشمی کو سمجھائیں۔ تقریب میں شریک حامد میر نے کوشش کی لیکن بارآور نہ ہوئی۔ جہاں دیدہ حافظ حسین احمد نے کہا…” دیکھو میری جماعت اور قیادت پچھلے کئی سالوں سے میرے ساتھ جو کچھ کررہی ہے، آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یاد کرو جب آپ کچھ ساتھیوں کے ہمراہ میرے پاس آئے تھے اور مجھے مسلم لیگ (ن) میں آنے کے دعوت دی تھی۔ میں نے آپ کو جواب دیا تھا کہ ہزار اختلاف اور قیادت کی زیادتیوں کے باوجود انسان اپنی جماعت میں ہی اچھا لگتا ہے۔ گھر سے نکل جانے والا ایک نہ ایک دن ضرور پچھتاتا ہے“۔ حافظ صاحب کا جادو بھی نہ چلا۔شام کو سعد رفیق کے ہاں کھانا تھا۔ احباب جاوید ہاشمی کو بزور اپنے ہمراہ لے گئے۔ خواجہ آصف، پرویز رشید، احسن اقبال، سعد رفیق، پرویز ملک، تہمینہ دولتانہ، زعیم قادری اور جانے کون کون ، کس کس طرح انہیں قائل کرتا رہا مگر بے سود۔ عشایئے کے شرکاء میں ماروی میمن بھی تھیں۔ ماروی پھٹی پھٹی آنکھوں سے قومی سیاست کا یہ عجب منظر نامہ دیکھ رہی تھی۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ ملتان کا مخدوم کسی بندھن میں بندھ چکا ہے تو وہ پھٹ پڑی۔ ”ہاشمی صاحب! میری حیثیت تو آپ کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ آپ نصف صدی سے سیاست میں ہیں۔ میری سیاسی جدوجہد کی عمر تین سال ہے۔ لیکن میں بہت کچھ جان گئی ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کیا کھیل کھیل رہی ہے۔ آپ کو کیوں نظر نہیں آرہا؟ جب میں گھوٹکی کے جلسے سے شرکت کے بعد واپس آئی تو آپ نے فون کرکے مجھے کہا تھا کہ ایسی غلطی نہ کرنا۔ میں نے طے کرلیا ہے کہ اب میں کسی پی ایم ایل (ق) 2کا حصہ نہیں بنوں گی۔ یہ آپ کیا کرنے جارہے ہیں۔ ماروی کو کوئی جواب نہ ملا۔ ایک مرحلے پر سعد رفیق نے گھٹنے چھو لئے۔ پھر پاؤں پکڑ لئے۔ ماروی ایک دفعہ پھر بھرائی ہوئی آواز میں بولی ”ہاشمی صاحب میں آپ کی بیٹیوں کی جگہ ہوں لیکن یاد رکھیں آپ اس کے سوا کچھ نہیں کررہے کہ اسٹیبلشمنٹ تالیاں پیٹے اور خوشی کا اظہار کرے۔ مشرف دور میں پرویزرشید نے جتنے سنگین مظالم سہے اور جس قدر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا، اس کی نظیر کوئی دوسرا شخص پیش نہیں کرسکتا۔ اس نے بھی اپنا ہنر آزما لیا لیکن لاحاصل۔ تب بیگم کلثوم نواز کو کمک کے لئے بلایا گیا۔ وہ کسی محافظ کے بغیر آدھے گھنٹے میں پہنچ گئیں۔ جاوید بھائی کو منانے کے لئے انہوں نے وہ سب کچھ کرلیا جو ان کے بس میں تھا۔ یہ وہ موڑ تھا جب سعد رفیق کی بیگم اور بھابھی نے اپنی چادریں پھیلادیں۔ سعد کی بیٹی فلزہ روتے روتے نڈھال ہوگئی تو بولی…“ سنیں انکل۔ آپ جو کچھ کرنے جارہے ہیں اس سے نواز شریف کا کوئی نقصان ہوگا نہ مسلم لیگ (ن) کا۔ آپ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچانے جارہے ہیں اور بہت جلد آپ کو اس کا اندازہ ہوجائے گا“۔
رات آدھی ڈھل چکی تھی جب جاوید ہاشمی یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے“۔ آپ لوگ صبح گیارہ بجے ملتان آجائیں۔ میں نے جن لوگوں سے مشاورت کی ہے۔ آپ انہیں قائل کرلیں“۔ سب بجھے بجھے دلوں کے ساتھ اپنے گھروں کو چلے گئے۔ رات ڈیڑھ بجے کا عمل ہوگا کہ سعد رفیق کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف جاوید ہاشمی بول رہے تھے۔ ”آپ لوگ کل ملتان نہ آیئے گا۔ میرا فیصلہ اٹل ہے اور میں صبح کراچی جارہا ہوں“۔
صبح دم وہ کراچی جانے کیلئے گھر سے نکلے۔ ہاشمی سے بے پناہ عشق کرنے والے روتے بلکتے کارکن دہائی دیتے رہے ہاتھ جوڑتے رہے۔ کچھ گاڑی کے آگے لیٹ گئے لیکن مسافر نقل مکانی کا فیصلہ کرچکا تھا۔ اور جب کوئی ٹھان لے تو محبتیں یوں ہی بلکتی، اپنی آگ میں بھسم ہوتی اور عظیم صوفی شاعر میاں محمد بخش کے الفاظ میں کیکر پہ ٹنگی لیروں کی طرح تار تار ہوتی رہتی ہیں۔ ”تیز ترک گامزن“ والا نہیں ناکارہ اسباب کی طرح پھینک کہ دور نکل جاتا ہے کہ اس کے دل میں صرف ”منزل مادور نیست“ کا زمزمہ بج رہا ہوتا ہے۔
وحشتیں سر میں سما جائیں تو رشتے کیسے
کوئی زنجیر وفا سے بھی بندھا رہتا ہے؟
شورش پھر یاد آرہا ہے۔ کیا سدا بہار جملہ کہہ گیا ہے…”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“۔ یہ بات کندھوں پر سواری کرنے والے لیڈروں پر ضرور صادق آتی ہے لیکن کارکن ذرا مختلف نفسیات رکھتے ہیں۔ ان کے سینے میں بڑا دردمند دل ہوتا ہے۔ وہ اپنے لیڈر سے نوخیزعاشقوں جیسی محبت کرتے ہیں۔ لیڈر راستہ بدل لے تو انہیں دکھ ہوتا ہے۔ دیر تک ان کے دل سے اجڑی ہوئی خیمہ گاہ کی طرح دھواں اٹھتا رہتا ہے۔ کچھ عرصے کیلئے وہ چپ چاپ روٹھ جانے والے کی یادگار پر پھول چڑھاتے رہتے ہیں۔ پھر ہولے ہولے ان کے اندر تلخی کا ایک غبار سا اٹھتا ہے۔ توہین وفا کا احساس اس غبار کو سرخ آندھی کا بگولہ سا بنا دیتا ہے۔ پھر وہ زخم وفا کھانے والی دہقانی عورت کی طرح انتقام پر اتر آتے ہیں۔ یہ انتقام اتنا کڑا ہوتا ہے کہ دردو دیوار لرز جاتے ہیں۔ اہل پاکستان نے محبت، عشق ، وارفتگی، توہین وفا اور انتقام کی یہ کہانی راولپنڈی میں رقم ہوتے دیکھی جہاں لوگوں کے دلوں میں پھول کی طرح کھلا رہنے والا شیخ رشید احمد دیکھتے دیکھتے گلیوں کی دھول ہوگیا۔
دلیلوں اور تاویلوں سے قطع نظر، جاوید ہاشمی کی رخصتی، مسلم لیگ (ن) کے لئے بڑا دھچکا ہے۔ جاوید ہاشمی جیسے لوگ جماعتوں کا زیور ہوتے ہیں۔ انہیں زیو رہی کی طرح سینت سینت کے رکھنا چاہئے۔ عمران خان جتنا جی چاہے اصولوں کے پرچم لہرائیں اور تبدیلی کے نعرے لگائیں، ان کے چار سو ”اسٹیٹس کو“ کی ترجمانی کرنے والا ایک بہت بڑا انبار خس و خاشاک جمع ہوچکا ہے۔ اتنا ہی ایک اور ہجوم کو چہ گرداں جمع ہوجائے تو بھی وہ کپتان کو وہ کچھ نہیں دے پائے گا جو جاوید ہاشمی کی صورت میں اسے مل گیا ہے۔ پاکستان کے لوگ جس جاوید ہاشمی کو جانتے ہیں وہ ان میں سے نہیں جو تحریک انصاف میں چار سو ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔ ڈھور ڈنگروں کی طرح شاداب کھرلیوں کے متلاشی، دستر خوانوں پر منڈلانے والی مکھیاں ، افق مشرق پر نظر رکھنے والے سورج مکھی کے کھیت، ہری چراگاہوں کے لئے بھٹکتے حریص چوپائے، بڑے پیٹوں والے سدا کے بھوکے شکم پرست، ہر آن سجدہ گاہیں بدلنے والے فرزندان وقت، اور زور آوروں کے اشاروں پر رقص کرنے والی کٹھ پتلیاں، ہاشمی جیسے شخص کا اس قبیل سے کیا واسطہ؟ وہ مخصوص کھونٹوں پر بندھنے اور ممیانے والوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ وہ تو ان جوانمردوں میں سے ہے جو کہتے ہیں کہ
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
ممکن ہے مسلم لیگ (ن) کی سست روی اور مصلحت کیشی سے ہاشمی کے پاؤں میں آبلے پڑ گئے ہوں لیکن اس کے بانکپن کا تقاضا تھا کہ وہ واقعی کسی دشت پرخار کو نکلتا۔ وہ تو ان تختہ ہائے گل کی طرف جانکلا ہے جن کی طرف شرق و غرب کے سارے نازک اندام لپکے چلے آرہے ہیں۔ ہاشمی کو چاہنے والوں کو وہ ایک ایسی بھیڑ کا حصہ بنتا اچھا نہیں لگا جس میں شریک اکثر کے ماتھوں پر آمروں کی چوکھٹ کے سیاہ داغ ہیں اور جن کے منہ سے ہم وقت رال ٹپکتی رہتی ہے۔ انگریزی محاورے میں اسے ”بینڈ ویگن“ کہتے ہیں۔ بے ننگ و نام سیاسی کوچہ گرد اس بینڈ ویگن کی طرف بھلے لپکیں، ہاشمی جیسے طرحدار آدمی کا وقار اس کے پائیدان سے کیوں چمٹے؟ کوئے یار سے نکلنے والا سوئے دار ہی اچھا لگتا ہے، سوئے اقتدار نہیں۔
اسد اللہ خان غالب نے پیش گوئی کی کہ میں فلاں سال مرجاؤں گا۔ اس سال دلی میں طاعون کی وبا پھوٹی، ہرگھر، ہر گلی سے کئی کئی جنازے اٹھے۔ سال تمام ہوگیا اور غالب زندہ رہا۔ احباب نے کہا…”حضرت آپ نے تو اس سال مرجانا تھا۔ ایک خلق خدا چلی گئی اور آپ زندہ سلامت ہیں“؟ اپنے عہد کے نابغہ نے کہا …”میرا نام اسد اللہ خان غالب ہے۔ میں اس طرح کے انبوہ مرگ کا حصہ کیسے بن جاتا کہ صبح و شام جنازے اٹھ رہے ہوں۔ کوئی جان ہی نہ پائے کہ غالب کا جنازہ کون سا ہے؟ مروں گا تو اکیلے اور اس شان سے کہ دنیا دیکھے“۔
کاش ہماری سیاست کا یہ اسد اللہ خان غالب اس ”مرگ انبوہ“ کا حصہ نہ بنتا۔ اس نے جانا ہی تھا تو اس وقت عمران خان کا ہاتھ تھامتا جب وہ یوسف بے کارواں کی طرح صحراؤں میں بھٹک رہا تھا۔ آج کل تو وہ زلیخاؤں کے جھرمٹ میں ہے اور برکھا مسلسل برس رہی ہے۔

یہ تاثر ایک عرصے سے موجود تھا کہ جاوید ہاشمی ناخوش و بیزار ہیں اور قیادت بھی، ان کی خوئے بغاوت کی شاکی ہے۔ اٹھارہ برس قبل ملتان کے دونوں مخدوم، مسلم لیگ (ن) کا حصہ تھے۔ 1993ء میں نواز شریف نے مخدوم رشید والے حلقے پر جاوید ہاشمی کو ٹکٹ دے دیا تو شاہ محمود قریشی ناراض ہوگئے۔کہنے لگے۔ ” میاں صاحب! آپ نے وہ نشست ہم سے چھین لی ہے جو تین پشتوں سے ہمارے پاس تھی۔“ میاں صاحب کا جواب تھا ”میں ہاشمی سے یہ ٹکٹ واپس نہیں لے سکتا۔“ شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی میں چلے گئے اور ملتان/خانیوال کی یہ نشست جیت لی۔ 1997ء میں جاوید ہاشمی نے انتقام لے لیا اور شاہ محمود قریشی کو شکست دے دی۔ دونوں مخدوموں کے درمیان سیاسی رقابت کی ایک کہانی ہے۔ یہی سبب ہے کہ چند ماہ پہلے جب شاہ محمود کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی بات چلی تو سب سے پہلے ہاشمی صاحب کو اعتماد میں لیا گیا۔ سب کو خوش گوار حیرت ہوئی کہ جاوید ہاشمی نے خوش دلی سے اجازت دے دی۔ ایک دوبار انہوں نے اسمبلی میں چوہدری نثار سے کہا۔ ”اس کو پکڑلیں۔ تحریک انصاف میں نہ جانے دیں۔“ عام خیال یہی تھا کہ شاہ محمود قریشی کے تحریک انصاف میں چلے جانے اور عمران خان کے بعد دوسرے مقام بلند پر فائز ہوجانے پر ہاشمی صاحب کے لئے اس قبیلے کا حصہ بننا مشکل ہوگیا ہے لیکن یہ خیال غلط نکلا۔
فیصل آباد کے جلسے میں ، میاں صاحب کی خصوصی دعوت پر انہوں نے پرجوش تقریر کی۔ 9/دسمبر کو وہ لاڑکانہ کے جلسہ عام میں شرکت کے لئے نواز شریف کے ہمراہ لاڑکانہ گئے۔ زبردست تقریر کی اور شرکاء سے نواز شریف کا ساتھ دینے کا عہد لیا۔ واپسی پر بھی وہ میاں صاحب کے ہمراہ تھے اور پرویز رشید بھی۔ سفر کے دوران ہاشمی صاحب نے کہا۔ ”میاں صاحب !شاہ محمود قریشی کی خالی کردہ نشست پر اگر فلاں شخص کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ دے دیا جائے تو میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی شکست کی ضمانت دیتا ہوں۔“ میاں صاحب بولے۔ ”انشاء اللہ۔ الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کو ہے۔ ہم پارٹی اجلاس بلا کر آپ کی مشاورت سے فیصلہ کرلیں گے۔“ پھر ہلکی پھلکی گفتگو کا لطافتوں بھرا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ راستے جدا ہونے سے پہلے دونوں کی آخری ملاقات تھی۔
ایک تاثر یہ ہے کہ جاوید ہاشمی کی وہ قدر افزائی نہ ہوئی جس کے وہ حقدار تھے۔ میاں صاحب نے جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی کو اپنا جانشین نامزد کیا۔ یہ کڑا امتحان تھا۔ مشرف کی قہرناک آمریت کے دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی نگہبانی کوئی آسان کام نہ تھا۔ میاں صاحب کے فیصلے کا سبب یہ پختہ یقین تھا کہ ہاشمی کسی طور بکنے اور جھکنے والا شخص نہیں۔ ہاشمی اس توقع پر پورا اترا۔ ”اس نے کم و بیش تین سال قید کاٹی اور مشرف کی رعونت پر پیہم خاک ڈالتا رہا۔ اگر ہاشمی کی خواہش تھی کہ انہیں قائد حزب اختلاف بنایا جائے تو اس خواہش کو بے جا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ”ناقدری“ کے تصور پر یقین رکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہاشمی صاحب کو محدود خصوصی حلقہ مشاورت سے خارج رکھا گیا۔ ان کے پاس اور بھی کئی حوالے ہیں۔ ان سب باتوں میں کسی نہ کسی قدر وزن ضرور ہے اور عوام کا اچھا خاصا بڑا طبقہ ان پر یقین رکھتا ہے۔
ایک حلقے کا خیال ہے کہ میاں صاحب ہاشمی کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ میاں صاحب ابھی جلاوطن تھے کہ 2008ء کے انتخابات میں ہاشمی صاحب نے چار نشستوں سے الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ مانگے۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ آپ راولپنڈی اور ملتان کے دو حلقے رکھ لیں۔ چار ٹکٹوں سے پارٹی کے اندر بھی مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ ہاشمی صاحب کے اصرار پر انہیں چار ٹکٹ دے دیئے گئے۔ ان میں لاہور سے میاں صاحب کا اپنا حلقہ بھی شامل تھا۔ مخدوم رشید والے روایتی حلقے سے ہاشمی ، شاہ محمود کے مقابلے میں بڑے مارجن سے ہار گئے۔ باقی تینوں سیٹوں پر وہ کامیاب ٹھہرے۔ ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی خواتین کی مخصوص نشستوں سے رکن قومی اسمبلی قرار پائیں۔ جلاوطنی کے پورے عرصے میں میاں صاحب نے ہاشمی صاحب سے مسلسل رابطہ رکھا۔ ان کے مقدمات اخلاص اور ذاتی نگرانی میں لڑے۔ یہ 2007ء کا ذکر ہے۔ مجھے کوٹ لکھپت جیل سے ہاشمی صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے۔ ” سب آتے ہیں۔ تم ملنے نہیں آئے۔“ اگلے دن جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں ان سے ملاقات ہوئی۔ تھوڑی دیر میں کھانا لگ گیا جو کسی پرتکلف دعوت سے کم نہ تھا۔ میں نے مزاحاً کہا۔ ”ہاشمی صاحب ! ایسا کھانا ملتا ہے یہاں جیل میں۔“ ہنس کر بولے۔“ جب میں یہاں آیا تو جدہ سے میاں صاحب کا فون ملا۔ بڑی لجاجت سے کہنے لگے۔ ”ہاشمی صاحب ! بڑے ادب سے ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں لیکن پہلے آپ وعدہ کریں کہ رد نہیں کریں گے۔“ میں حیران ہوا کہ جانے کیا بات ہے۔ بصد اصرار مجھ سے وعدہ لینے کے بعد میاں صاحب کہنے لگے۔ ”ہاشمی صاحب! اللہ کرے آپ جلد رہا ہوجائیں لیکن جب تک آپ یہاں ہیں، دونوں وقت کا کھانا گھر سے آئے گا۔“ میں نے کہا۔ ”میاں صاحب آپ تو خود بے گھر ہیں۔“ کہنے لگے۔ ”میں بے گھر سہی لیکن گھر تو ہے نا۔ بس آپ مجھ پر یہ مہربانی فرمائیں۔“ سو وہ دن اور یہ دن۔ کھانا میاں صاحب کے گھر سے آتا ہے۔ میں بھی کھاتا ہوں، میرے مہمان بھی اور جیل والے بھی۔“ اپنی کتاب ”ہاں میں باغی ہوں“ میں وہ جیل کے دنوں کی یادداشت یوں بیان کرتے ہیں۔ ”سردار یعقوب ناصر کو وزارت سے فارغ کرنے کا طریق کار ٹھیک نہیں تھا۔ میں استعفیٰ لکھ کر میاں صاحب کے پاس گیا اور انہیں پیش کردیا۔ انہوں نے استعفیٰ پھاڑ کر میری جیکٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا آپ کا اور میرا زندگی بھر کا ساتھ ہے۔ سردار صاحب سے زیادتی کا ازالہ بہت جلد ہوجائے گا اور یہ بات آپ سردار صاحب کو بتادیں۔ میں نے سردار یعقوب ناصر کی رہائش گاہ پر انہیں میاں صاحب کا پیغام پہنچایا۔ میں سردار صاحب کے الفاظ کبھی بھول نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا۔ ”میاں صاحب میرے کپتان ہیں۔ وہ جس پوزیشن پر کھیلنے کو کہیں گے، میں ان کا فیصلہ قبول کرلوں گا۔“ اسی کتاب میں وہ مزید کہتے ہیں۔ ”جنرل زینی نے اپنی کتاب ”BATTLE READY“ میں لکھا ہے کہ کس طرح کارگل کے موقع پر اور ایٹمی دھماکے کے مرحلے میں نواز شریف ثابت قدم رہے اور دونوں موقعوں پر جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل مشرف کا کردار کیا تھا؟ یہ حقائق قوم کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سیاستدان قوم کی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا اور جرنیل اپنی ملازمت کی۔ میں جیل کوٹھڑی سے پوری آواز کے ساتھ نواز شریف سے کہنا چاہتا ہوں“۔ ”نواز شریف پاکستان کو آپ پر فخر ہے“ ”Nawaz Sharif Pakistan is proud of you“
مان لیا جائے کہ میاں صاحب کی ”دلداری“ سرد مہر تھی لیکن یہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ہاشمی صاحب کی وفا بھی زیادہ گرم جوش نہیں رہی۔ایسے بیسیوں واقعات ہیں۔ میاں صاحب نے ہاشمی صاحب سے کہا کہ ”آپ پنڈی کی سیٹ رکھ لیں۔ ہم نے پنڈی والوں سے وعدہ کیا ہے اور یوں بھی شیخ رشید احمد سے ایک اور انتخابی معرکہ درپیش ہوگا۔“ ہاشمی صاحب نے قیادت کی بات نہ مانی۔ پنڈی اور لاہور کی سیٹوں سے مستعفی ہوگئے۔ اٹھارہویں ترمیم کے وقت بھی بعض شقوں پر ان کا ووٹ پارٹی ڈسپلن کے مطابق نہ تھا۔ وہ اخباری بیانات میں بھی قیادت پر نشترزنی کرتے رہتے تھے۔ اپنی کتاب میں بھی انہوں نے اپنی باغیانہ سرشت کے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ انہیں کبھی پارٹی کی طرف سے کوئی تحریری نوٹس جاری نہ ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ ہاشمی کی انا کی دھار تیز ہے اور اس کے لہو میں لو دیتی خوئے بغاوت اسے تند رو ریلے کی طرح کناروں کے اندر بہنے کی اجازت نہیں دیتی۔
سو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر شہر کے لوگ ظالم تھے تو ہاشمی صاحب کو مرنے کا شوق بھی تھا۔ ان کے فیصلے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ(ن) سے رشتہ توڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کا جواز تلاش کرنا ان کے لئے مشکل نہ ہوگا لیکن فیصلے کا دوسرا پہلو ضرور زیر بحث رہے گا اور شاید تحریک انصاف کے بینڈ ویگن میں سوار ہوجانے کا جواز ان کے لئے آسان نہ ہو۔
کراچی میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہاشمی صاحب نے خود بتایا۔ ”ہم لاڑکانہ سے لاہور پہنچے تو ایئرپورٹ پر میاں صاحب کی گاڑی کھڑی تھی۔ انہوں نے پوچھا۔ ”ہاشمی صاحب“ کی گاڑی کہاں ہے؟ میرے اصرار کے باوجود وہ مجھے لئے ہوئے میری گاڑی تک آئے۔ مجھے بٹھایا۔ ”میری گاڑی چل پڑی تو وہ اپنی گاڑی کی طرف گئے۔“
کل 31/ دسمبر کو ہاشمی 63 برس کا ہوجائے گا۔ یکم جنوری سے وہ چونسٹھویں سال میں قدم رکھے گا۔ عمر کی ڈھلتی شامیں پرانی رفاقتوں کو سمیٹنے اور چھوٹی موٹی تلخیوں کے چاک سینے کے لئے ہوتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جوانوں کی سی امنگ ترنگ رکھنے والے بزرگ سیاستدان کو 23سالہ رفاقت کا رشتہ توڑ کر ”تیز ترک گامزن“ والی چونچال حسینہ کا ہاتھ تھامنے پر کیا ملتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ ہاشمی کو کارکنوں کی وہ بے لاگ محبتیں نہ مل پائیں گی جنہیں وہ روتا بلکتا چھوڑ گیا۔ اور میرا وجدان کہتا ہے کہ بہت جلد وہ علامہ کا یہ شعر گنگنا رہا ہوگا۔
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازہ صحرا

ہاشمی اور عمران ۔ عبدالقادر حسن
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی - ایک بہادر آدمی کے آنے پر
لاہور اور کراچی کے فقیدالمثال جلسے بھی ایک سیاسی دھماکہ ہیں مگر سب سے بڑا دھماکہ جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت ہے۔ جتنے لوگ اس سے پہلے شریک ہوئے تو لوگ پریشان ہوئے۔ ایک بہادر آدمی کے آنے سے لوگ حیران ہوئے۔ تحریک انصاف میں اسے آپ منصفانہ شرکت کہہ سکتے ہیں۔ عمران کے لئے ایک نرم گوشہ میرے تار تار دل میں ہے۔ مشرف کے وزیروں اور کرپٹ سیاسی لوگوں کی شمولیت سے عمران کے ساتھ محبت کرنے والوں کی آنکھوں میں سوال ہی سوال تھے اور کوئی جواب دینے والا نہ تھا۔ عمران نے بھی اس حوالے سے اچھے بیانات نہ دئیے۔ وہ مشرف کے ساتھیوں کو کون سے شک کا فائدہ دینا چاہتے ہیں؟ جاوید ہاشمی آیا ہے تو سب لاجواب ہو گئے ہیں۔ اب تو سوال بھی چمک اٹھے ہیں۔
بہادر آدمی کے لئے کتنی عزت محبت لوگوں کے دلوں میں ہے۔ ہم تو ظالموں کے درمیان پھنس گئے ہیں اور ظالم بہادر نہیں ہوتا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ہم نے جاوید ہاشمی کے لئے ایک نعرہ لگایا جو مجیب الرحمن شامی کے دفتر میں سوچا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ شامی صاحب نے مجھ سے بھی فون پر اس حوالے سے اپنی بے قراری کا اظہار کیا تھا۔ جاوید ہاشمی نے اپنے لئے اس نعرے کی لاج رکھی۔ اسے مال و منال اور حرام کے پیسے کی ضرورت نہ تھی۔ اسے جو عزت محبت ملی وہ سرشار کر دینے کے لئے کافی ہے۔ سرشاری بے قراری کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ جاوید ہاشمی بے قرار اور دردمند دل لے کے پیدا ہوا ہے۔ میری اور اس کی محبت کئی رنگوں کی ہے۔
نواز شریف کی مسلم لیگ ن میں اس کی جدوجہد کے نتائج دوسروں کے قدموں میں ذلیل ہوئے۔ جلاوطنی میں اپوزیشن کا جھنڈا جاوید ہاشمی نے اٹھائے رکھا۔ ہم وطنی میں اس جھنڈے سے ڈنڈے کا کام چودھری نثار کے سپرد کر دیا گیا۔ نواز شریف کی طرف سے سینئر وزیر کا حلف صدر جنرل مشرف سے لینے کا چودھری نثار کو بہت لطف آیا۔ جبکہ بہادر آدمی نے جنرل مشرف سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جانتے ہیں کہ یہ بھی جرات انکار ہے مگر اقرار کے لئے بھی جرات چاہئے۔ جرات اقرار جرات انکار جیسی ہوتی ہے۔ جاوید ہاشمی کا عمران کا ساتھ دینے کا فیصلہ جرات مندانہ ہے۔ نواز شریف جانتے ہیں کہ جنرل مشرف کو آرمی چیف بنانے کا مشورہ چودھری نثار کا تھا۔ اسے سینئر وزیر کس کے مشورے پر بنایا گیا۔ اس سے زیادہ اہم ہے کہ پھر اسے اپوزیشن لیڈر کس کے مشورے پر بنایا گیا۔ اس دوران کئی موقعوں پر چودھری نثار نواز شریف پر گندی اور ننگی تنقید کا براہ راست موقعہ فراہم کرتا رہا۔
اگر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جاوید ہاشمی ہوتا تو اس کا اتنا فائدہ نواز شریف کو ہوتا جس کا اندازہ وہ بھی کر سکتے ۔ فرینڈلی اپوزیشن اور سرکاری اپوزیشن کی تہمت بھی نہ لگائی جاتی۔ ایک بہادر آدمی کے سامنے کھڑا ہونے سے ساری مخالفانہ آوازیں دم توڑ دیتیں نواز شریف اس لحاظ سے بدقسمت آدمی ہیں کہ وہ ذمہ داریوں کی تقسیم بھی اپنی پسند و ناپسند کے مطابق کرتے ہیں۔ صدارتی الیکشن کے لئے جاوید ہاشمی نے چودھری شجاعت سے بات کی انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف آپ کو ٹکٹ دے دیں تو ہم حاضر ہیں۔ ہاشمی نے کہا کہ یہ بات پکی ہو گئی چودھری صاحب نے کہا کہ اس لئے پکی ہے کہ آپ کو نواز شریف کبھی صدارتی امیدوار بھی نہیں بنائیں گے۔ چند روز کے بعد چودھری پرویز الٰہی نے فون کیا تو جاوید ہاشمی نے صرف خاموشی اختیار کی۔ کلثوم نواز نے پہلے جاوید ہاشمی کو منانے کا خیال نہ کیا۔ جب وہ نواز شریف کے لئے تحریک جلاوطنی چلا رہی تھیں جسے تحریک جمہوریت جان کر جاوید ہاشمی ان کے آگے آگے تھے۔ جتنی رعونت جاوید ہاشمی کے لئے برتی گئی یہ کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتی۔ جبکہ سارے لوگ اور مسلم لیگ (ن) کے اکثر لوگ جانتے تھے کہ جاوید ہاشمی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ روز بروز نواز شریف اور اس کی مسلم لیگ (ن) کےلئے پریشانیوں میں اضافہ ہوا جاوید ہاشمی کےلئے ایک شعر یاد آیا ہے
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی ایک بہادر آدمی عمران خان کے ساتھ آ کے کھڑا ہوا ہے۔ تحریک انصاف میں بڑے بڑوں کے آنے پر کبھی عمران کے چہرے پر یہ چمک نظر نہیں آئی جو جاوید ہاشمی کے آنے پر آئی۔ اب سے بہت دن پہلے پشاور کے دھرنے میں جاوید ہاشمی نے شرکت کی تھی۔ کئی لوگوں نے تب آرزو کی تھی کہ جاوید ہاشمی کوئی بڑا اعلان کرے مگر جاوید ہاشمی کو یہ معلوم ہے کہ کون سا کام کس وقت کیا جانا چاہئے۔ ملتان والے تحریک انصاف کے دھرنے میں اسے بلایا ہی نہ گیا تھا۔ میرے ساتھ فون پر یہ شکایت اس نے کی۔ مگر یہ اچھا ہوا کہ وہاں جاوید ہاشمی کوئی اعلان کر دیتا تو کیا ہوتا۔ یہ اعلان کرنے کا یہی موقع تھا۔ اس سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ان لوگوں کو پریشانی ہوئی جن کے سامنے زندگی اور سیاست کا کوئی مقصد نہیں۔ یہ لوگ عمران خان کے پاس گئے اور عمران خان جاوید ہاشمی کے پاس گیا۔
اس حوالے سے بڑی کوشش بڑے دل والے عمران خان کے سچے ساتھی حفیظ اللہ خان نیازی نے کی۔ وہ بھی بہادر آدمی ہے۔ اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی اس کی نظریاتی اور ایمان و آگہی سے مالا مال جذبوں کی گواہ ہے۔ یہ سچے لوگ عمران خان کو بھٹکنے نہیں دینگے۔ حفیظ اللہ تو عمران خان کا چچا زاد بھائی اور بہنوئی ہے۔ جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف میں لا کے لوگوں کی الجھنوں کو آسودگی عطا ہوئی ہے۔ اب تک عمران جھوٹوں کے درمیان ایک سچے آدمی کی طرح ثابت قدم کھڑا تھا۔ اس کیلئے طرح طرح کی باتیں سن سن کر بھی لوگ اسکے ساتھ ہیں۔
جاوید ہاشمی کو عمران نے تحریک انصاف کی چیئرمینی بھی آفر کردی ہے۔ وہ سٹیج پر آیا تو عمران خان کھڑا ہوگیا۔ برادرم توفیق بٹ وہاں موجود تھا۔ اس نے بتایا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ جاوید ہاشمی کی تقریر کے بعد جلسہ ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ جوش و خروش سے لبالب بھرے ہوئے لوگوں نے عمران خان کی طرح جاوید ہاشمی کی پذیرائی کی۔ ایک بہادر آدمی کے نعروں سے کراچی کی فضائیں گونج رہی تھیں۔ جاوید ہاشمی نے عمران سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے وعدے یاد رکھیں ورنہ میں باغی ہوں۔ اسکے بعد پورے جلسے میں دیر تک باغی باغی کی آوازیں ہواﺅں کے ساتھ ٹکراتی رہیں۔ آج لگ رہا تھا کہ لوگوں نے بغاوت کا اعلان کردیا ہے۔ آج پتہ چل رہا تھا کہ عمران خان کو اپنے جیسا ایک ساتھی مل گیا ہے۔ وہ لوگ مایوس ہوئے ہونگے جنہیں تحریک انصاف میں بھیجا جا رہا ہے۔ آج شاہ محمود قریشی ہارے ہوئے دل کے ساتھ موجود تھا کہ اسے اپنی موجودگی مشکوک لگ رہی تھی۔ ایٹمی اثاثوں کیلئے جو باتیں آج اس نے کرنا تھیں وہ شاید اسے بھول گئی تھیں اور اس نے عمران کا پورا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
عمران خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جتنا مرضی میری چمچہ گیری کرلو تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عمران خان نہیں جانتے مگر چمچہ گیری کرنیوالے جانتے ہیں کہ فائدہ کس طرح اٹھایا جاتا ہے۔ وہ اس لالچ میں عمران کے نقصان کا بھی خیال نہیں کریں گے۔ جاوید ہاشمی کے آنے پر تحریک انصاف میں کچھ نمایاں لوگوں کو پریشانی ہوئی ہے تو مسلم لیگ (ن) کے کچھ ضروری آدمیوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ رانا ثناءاللہ کی باتوں میں دکھ بھری راتوں کی اذیت کسمسا رہی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ جاوید ہاشمی اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے جبکہ اسکے تحریک انصاف میں جانے والے ان لوگوں کا اعتبار بھی قائم ہوا جو واقعی اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں۔ رانا صاحب یہ بتائیں کہ پھر ہاشمی اتنی مدت مسلم لیگ (ن) میں کیا کرتے رہے۔ سنا ہے ہر جماعت میں ایسے آدمی ہوتے ہیں۔ پرویز رشید نے بھی قربانیاں دی ہیں مگر اسے انکا صلہ مل چکا ہے۔ جاوید ہاشمی تو بیرون ملک بھی نہ گیا اور جلاوطنی کے مزے نہ لوٹے۔ مردِ میداں ہو کر آمریت کا مقابلہ کیا۔ جس جمہوریت کے ثمرات کھائے اور لٹائے جا رہے ہیں۔ وہ جاوید ہاشمی جیسے بہادر آدمیوں کے صبر کا اجر ہے۔
جاوید ہاشمی کی قیادت سے محبت ۔۔۔ !طیبہ ضیاء
جاوید ہاشمی کی اپنی قیادت کے ساتھ محبت تھی جس نے تمام تر رقابت اور مخالفت کے باوجود پارٹی میں ایک طویل عرصہ گزار دیا۔ ہاشمی صاحب حساس طبیعت کے مالک ہیں۔ پارٹی سے علیحدگی کے فیصلے کے دوران شدید ذہنی دباﺅ کا شکار رہے۔ امریکہ میں موجود قریبی ساتھیوں کے ساتھ بھی قلبی کیفیات کا اظہار کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے انہیں کارنر کر دیا ہے جبکہ وہ جسمانی و ذہنی طور پر صحت مند ہیں ، سیاست کرنا چاہتے ہیں، ملک کے لئے کام کر نا چاہتے ہیں مگر ان کے رقیب انہیں ایک علامتی کردار بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس قید تنہائی میں عمران خان نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا، انہیں خدمات کا مکمل یقین دلایا، انہوں نے عمران خان کے وعدے پر یقین کیا اور کراچی کی جانب چل دئیے۔ جاوید ہاشمی سے نیویارک میں دو بار ملاقات کا موقع ملا۔ ہاشمی صاحب ایک حساس سیاست دان ہی نہیں ایک حساس باپ بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی مومنہ کی شادی سے دو روز قبل مجھے فون کیا اور کہا کہ پرسوں مومنہ کی شادی ہے، اس کی ہم نام کی یاد آئی، آپ میری بیٹی مومنہ کو بھی اپنی دعاﺅں میں یاد رکھیں۔“ میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ بیٹیاں تو ویسی ہی بڑی پیاری ہوتی ہیں اور پھر ہم نام بیٹی ہو تو زیادہ پیاری لگتی ہے۔ جاوید ہاشمی کی بیٹی مومنہ کے ساتھ بھی نیویارک میں ملاقات ہوئی تھی۔ چند ہفتے قبل میں نے ایک کالم میں اس اندیشے کا ذکر کیا تھا کہ عمران خان جاوید ہاشمی کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں اور لگتا ہے کہ وہ ”چھکا“ مارنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اندیشہ حقیقت ثابت ہوا۔ بحث یہ نہیں کہ جاوید ہاشمی کے جانے سے مسلم لیگ نون کو کیا فرق پڑتا ہے، بحث یہ ہے کہ جاوید ہاشمی پارٹی چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئے؟ مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما جاوید ہاشمی نے عمران خان کی پارٹی کیوں جائن کی؟ مسلم لیگ نون کے لئے یہ خبر افسوسناک ہے مگر نظریاتی حلقوں کے نزدیک ہاشمی صاحب کی تحریک انصاف میں شمولیت، ایک نظریاتی پارٹی سے دوسری ایک نئی پارٹی میں ٹرانسفر ہے۔ جاوید ہاشمی نے سیاسی پارٹی تبدیل کی ہے، نظریہ نہیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون دائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ قائدؒ اور علامہؒ کے نظریات کی علمبردار ہیں۔ جاوید ہاشمی نے سیاست کے میدان میں جو عزت کمائی وہ ان کی زندگی کی اصل جمع پونجی ہے جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ فرشتے کہاں سے لائیں، گو کہ جاوید ہاشمی بھی فرشتے نہیں مگر سیاست کے گند سے دامن بچا کر رکھنا اور آمر کے سامنے کلمہ حق کہنا بہت بڑا کریڈٹ ہے۔ جاوید ہاشمی متعدد بارامریکہ آئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی اور صدر کی نامزدگی کا مرحلہ آیا تو ہاشمی صاحب فوری طور پر پاکستان پہنچے مگر ان کی پارٹی نے زرداری کے مدمقابل ایک ریٹائر جج صاحب کو نامزد کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ہاشمی صاحب پارٹی کی طرف سے بددل ہو گئے مگر پھر بھی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس کے بعد اپوزیشن لیڈر بھی نثار چودھری کو نامزد کر دیا گیا ہاشمی اس پر بھی آزردہ تھے۔ اس کے بعد امریکہ آئے تو لوگوں نے کہاکہ سوچ اور کردار کے اعتبار سے آپ عمران خان کے قریب ہیں، عمران خان کی پارٹی میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے، اس پر ہاشمی صاحب نے کہا کہ انہیں اپنی قیادت سے محبت ہے، گو کہ پارٹی میں خامیاں ہیں مگر وہ پارٹی کے اندر رہ کر ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کو سٹروک ہو گیا اور فیزیو تھراپی کے لئے انہیں پھر امریکہ آنا پڑا۔ اس وزٹ کے دوران جاوید ہاشمی کے اندر کا افسردہ اور مایوس سیاستدان کھل کر سامنے آیا مگر اپنی قیادت سے محبت کی وجہ سے پارٹی سے علیحدگی کی بات زبان پر نہ لا سکے۔ ہاشمی صاحب کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ جن دنوں ہاشمی صاحب جیل میں تھے وہ ہاشمی صاحب سے ملاقات کے لئے جیل گیا۔ ہاشمی صاحب نے اپنی قیادت کی جلاوطنی پر دکھ کا اظہار کیا، اس پر ان کے ساتھی نے کہا کہ، آپ خود سلاخوں کے پیچھے قید ہیں اور میاں نواز شریف کی ملک بدری پر افسردہ ہیں؟ ہاشمی صاحب نے کہا کہ میں اپنے ملک کی جیل میں ہوں مگر میاںصاحب کو ملک آنے کی اجازت نہیں جو میں سمجھتا ہوں زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ محبت یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔ میاں نواز شریف کو بھی جاوید ہاشمی کے ساتھ قلبی وابستگی ہے مگر ایسا کیا ہُوا کہ دو پیار کرنے والے ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے۔ ایک دوسرے پر اعتبار کرنے والوں میں دوریاں حائل ہو گئیں۔ پارٹی میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جنہیں ہاشمی صاحب کی موجودگی کبھی برداشت نہ تھی اور میاں نواز شریف کا پرابلم ان کی سادگی ہے کہ وہ اپنے خوشامدیوں اور مفاد پرست مشیروں کی لگی لپٹی میں گرفتار رہتے ہیں۔ لاہور میں ہونے والی ملاقات کے دوران میں نے میاں صاحب کے منہ پر کہا تھا کہ آپ کے کچھ چمچے کھڑچے آپ کو حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے مسلم لیگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جاوید ہاشمی صاحب کو آگے لائیں اور رشتے دار سیاستدانوں پر نظر رکھیں۔ میاں صاحب حالات بے قابو ہو گئے توکل ہمیں مسلم لیگ کی تعزیت کے لئے آپ کے پاس آنا پڑے گا۔“ کبھی کبھار خدشات اور اندیشے سچے ہو جاتے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف جائن کرنے کے بعد پارٹی اور قائدین کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ گلے شکوے بجا مگر ہاشمی صاحب کو اپنی قیادت سے اور قیادت کو جاوید ہاشمی صاحب کے ساتھ بدستور محبت ہے۔ ”جاوید ہاشمی کے پارٹی سے چلے جانے پر پارٹی کو فرق نہیں پڑتا“ کہنے والوں کو علم ہونا چاہئے کہ اس شخص کے پارٹی سے چلے جانے سے مسلم لیگیوں کے دل کا خون ہوا ہے۔ محبت، اعتماد اور مان کے رشتوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔ خواجہ آصف ، چوھدری نثار یا کوئی اور پارٹی چھوڑ جاتا تو اتنا فرق نہ پڑتا جتنا فرق جاوید ہاشمی کے پارٹی چھوڑ جانے سے پڑا ہے۔ پاکستان کے تمام سیاسی قائدین جب تک اپنی صفوںکو درست نہیں کریں گے، جاوید ہاشمی جیسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ جاوید ہاشمی واحد سیاست دان ہیں جن کے پارٹی تبدیل کرنے پر ان کے مخالفین کو بھی افسوس ہوا البتہ جاوید ہاشمی کے رقیب خوش ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہاشمی صاحب کا پارٹی سے جانا شریف برادران کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پارٹیوں میں بندے آتے جاتے رہتے ہیں مگر محبت اور وفا کرنے والے چند ایک ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ کو تہمت اور ندامت سے بچانے کے لئے وفاداروں اور مفاد پرستوں میں تفریق کرنا ہو گی۔ میاں نواز شریف عوامی لیڈر ہیں، ملک و قوم سے پیار کرتے ہیں، نہ مغرور ہیں اور نہ بے وفا البتہ مشیروں کے ہاتھوں کبھی کبھار دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ بعض اوقات بعض فیصلے نقصان دہ ثابت ہو تے ہیں۔ عوام حکومت کے خلاف واویلا کرتے رہے اور میاں صاحب فرینڈلی اپوزیشن کرتے رہے۔ کچھ صحافی مشیروں نے بھی انہیں غلط ٹریک پر چڑھا دیا۔ بہت پہلے الیکشن ہو جاتے تو مسلم لیگ اقتدار میں ہوتی مگر اب وقت کم اور مقابلہ سخت ہے اوپر سے جاوید ہاشمی نے ناراضی کا عملی ثبوت دے کر مسلم لیگیوں کو اداس کر دیا ہے۔ جاوید ہاشمی کا پارٹی سے یوں روٹھ جانا میاں نواز شریف کے لئے بہت تکلیف دہ ہے مگر اس جدائی کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض مرتبہ محبت اور وفا کے رشتے خونی و سیاسی رشتوں پر حاوی ہوتے ہیں۔!
نرم گرم ۔ زاہد حنا
اوریا مقبول جان ۔ حرف راز
توفیق...ناتمام…ہارون الرشید
عمران خان سدا کا خوش نصیب ہے مگر آج سے اوربھی خوش بخت۔ ساری جدوجہد مگر بیکار ہے ، اگر یہ مظلو م ملک اور اس کے مظلوم باسی سرخرو اور آبرو مند نہ ہوں ۔ رہا اقتدار تو گاہے وہ چھچھوروں کو بھی مل جا یا کرتاہے ، گاہے کیا اکثر۔ خدمت کی توفیق بڑے نصیبے کی بات ہے ۔

توفیقِ عمل مانگ نیاگانِ کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوا زند گدارا
بالآخر برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے دامن میں کرسیاں ڈال کر ہم بیٹھ گئے کہ کئی دن کے بعد سنہری دھوپ جلوہ گر تھی۔ اپنے محترم اور عزیز دوست گلبدین حکمت یار سے میں نے سوالات کا آغاز کیا: آپ کے مطالعے کی حدود کیا ہیں ؟ آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور اس نے کہا: بہت کچھ میں نے پڑھا ہے ، مثلاً سید ابو الاعلیٰ مودودی کے تمام آثار (کتب) لیکن زندگی کے اسرا رمیں نے قرآن کریم سے سیکھے۔ گلبدین کچھ اور نادر خصوصیات کے بھی حامل ہیں۔ رازداری کو انہوں نے ایک سائنس بنادیا۔ بہادر اور بے خوف ایسے کہ اگر دس محاذ کھلے ہوتے اور گیارہواں کھولنا پڑتا تو زیادہ تامل نہ کرتے۔ اللہ انہیں اپنی امان میں رکھے، حافظہ ایسا کہ قرآن مجید کے آخری بائیس سیپارے ، خانہ جنگی کے دوران حفظ کئے۔ مرعوبیت نام کو نہیں ، عامیوں کے ساتھ خوش دلی سے ملتے لیکن مصروف ہوتے تو بڑے بڑوں کو انتظار کرواتے۔ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوتے تو دیر تک تلاوت کیا کرتے ۔ آج فجر کے وقت آنکھ کھل گئی ۔ جیو ٹی وی کو جاوید حاشمی کے فیصلے پر ردّعمل درکار تھا۔ فرصت ہوئی تو ایک شرمندہ احساس کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی کا تدبّر قرآن کھولا ۔ سوچتا رہا کہ کسی آیت پر پڑاؤ کیا جائے۔ مولانا الفاظ کے درو بست اور سیاق و سباق سے خوب بحث کرتے ہیں ۔ اتفاق یہ ہے کہ کل شام سے "صبر"کے مفہوم پر غور کرتا رہا۔ ورق پلٹا تو اسی عنوان سے سیدنا عمر فاروق اعظم کے پسندیدہ شاعر زہیر بن ابی سلمہ سمیت کئی شاعروں کا حوالہ تھا۔
دورِ جاہلیت میں عربوں کے اہلِ سخا میں، سب سے نامور اور خود شاعروں میں ممتاز حاتم طائی نے کہا تھا
عمرہ موت لیس فیھا ہواوہ۔ یکون صدور الشرفی جسورھا
(اور موت اورہلاکت کے کتنے ہولناک دریا ہیں ، جن پر تلواروں کے پل ہیں )
صبر نالہ فی نھکھا و مصابھا ۔ یا سیافنا حتیٰ یبوخ سعیرھا
(ثابت قدمی دکھلائی، یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے پڑ گئے)
اصبغ کا شعر ہے
یا ابن الجحاحة المدارہ۔ والصابرین المکارہ
(اے شریف سرداروں اور شدائد پر صبر کرنے والوں کی اولاد)
زہیر بن ابی سلمیٰ نے کہا
قودالجیاد واصفھار الملوک و صبر ۔ فی مراطن لوکانو بھاسمئوا
(اصیل گھوڑوں کی سواری ، بادشاہوں کی دامادی اور ایسے مورچوں میں ثابت قدمی، جہاں دوسرے ہمت ہار بیٹھیں)
مولانا حمید الدین فراہی کا قول انہوں نے نقل کیا ہے "یاد رکھنا چاہئیے کہ عربوں کے نزدیک صبر عجز و تذلّل قسم کی کوئی چیز نہیں ، جو بے بسوں اور درماندوں کا شیوہ ہے بلکہ یہ عزم اور قوت کی بنیا د ہے "
چار بجے صبح جاوید ہاشمی ملتان پہنچے تھے ۔ پانچ بجے کے بلیٹن میں ، میں نے ان کا انٹرویو سنا کہ سات بجے اپنے دوستوں اور بہی خواہوں کو انہو ں نے طلب کیاہے ، جس کے بعد انہیں کراچی روانہ ہو جاناتھا ۔ تھکے ہوئے آدمی کی شائستہ آواز نے آزردہ بہت کیا۔ دوسروں کے لیے وہ ایک سیاستدان ہوگا، میرے لیے تو محض ایک دوست ہے ۔ بہت دیرینہ آرزو تھی کہ وہ تحریکِ انصاف سے وابستہ ہو جائے ۔ کتنے ہی ممتاز لوگ میرے توسط سے عمران خان سے ملے ۔ مجھے اس پر کبھی فخر کا احساس نہ ہوا۔ کبھی روداد بھی لکھ دوں گالیکن چار آدمیوں کے باب میں یہ آرزو بہت شدید تھی۔ میجر نادر پرویز کہ قدیم شرافت کا نمونہ ہیں۔ معلوم نہیں کہ اب تک تامل کا شکار کیوں ؟ جہانگیر ترین اور ان کے دانا رفیقِ کار اسحٰق خاکوانی اور سب سے بڑھ کر جاوید ہاشمی۔ ترین صاحب بہت ہی غیر معمولی توانائی اور صلاحیت کے آدمی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگرچہ آخری وقت پر جاوید صاحب سے میرا رابطہ نہ ہو سکا۔ جیسی مسرت ان کے اقدام سے ہوئی ، زندگی میں خالص ذاتی کامیابیوں پر بھی شاذ ہی کبھی ہوئی ہوگی۔ پہاڑ جیسے پختہ ارادے اور عرب شہسواروں جیسی تب و تاب رکھنے والے اعظم سواتی نے تو میرے مکرم و مشفق استاد اور ذاتی دوستوں کے توسط سے ، خود ہی اس ناچیز سے رابطہ کیا ۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے کوئی شرط عائد نہ کی ۔ صرف کچھ سوالات کے جواب چاہے۔ میاں محمد نواز شریف نے ہر وہ پیشکش انہیں کر دی ، جو کر سکتے تھے۔ ہم نے فقط یہ عرض کیا کہ اگر کوئی جواب پیشِ نظر ہے تو دل کا دروازہ چوپٹ کھلا ہے ۔ انشاء اللہ کبھی آپ کو شرمندگی نہ ہوگی اور وقار پہ کبھی حرف نہ آئے گا۔ تین ماہ قبل کپتان سے میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ میدان میرا نہیں۔ اب اجازت دو لیکن وہ نہ مانا بلکہ بگڑ گیا کہ کیا تم پاگل ہو ۔ ایسے فیصلہ کن مرحلے پر ذاتی ترجیحات کے لیے فکر مند ہو گئے۔
اعجاز چوہدری اور میرے خالہ زاد بھائی محمد طارق چوہدری کے بعد گوجرانوالہ کے ایس اے حمید پہلے جواں مرد تھے۔ بڑے میاں صاحب نے حمزہ شہباز کو گوجرانوالہ بھیجا اور ایک قابلِ احترام خاتون کو بھی لیکن بعض ذاتی دوست کے توسط سے کئے گئے وعدوں پر وہ ڈٹ گئے۔ حال یہ ہوا کہ نون لیگ کو گوجرانوالہ میں آخر نومبر کا جلسہ منسوخ کرنا پڑا۔ اب کچھ اور اہم واقعات وہاں پیش آنے والے ہیں ۔ سندھ ، سرحد اور سرائیکی پٹی سے دو درجن ممتاز شخصیات سے میرا رابطہ ہے ۔ خواہش یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے ہی یہ کام نمٹ جائے۔پارٹی اور اقتدار کی سیاست میرے لیے ایک بوجھ ہے ۔ اس کے سوا اب کوئی تمنا نہیں کہ پوری طرح صحافت ممکن ہو تو اس کے بعد تصنیف و تالیف میں دل لگاؤں ۔ نون لیگ نے کردار کشی کی مہم برپا کر کے مجھے دھکا دیا۔ اب مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ ایک آرزو یہ بھی ہے کہ چند ماہ کے لیے ملک بھر میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے رابطہ کروں ۔ وہ کنفیوژن کا شکار ہیں ۔
اکثر خالص اور سچے مگر سیاست کی حرکیات سے نا آشنا ۔ ان کی بعض شکایات درست بھی ہیں۔ کوئی طریقِ کار وضع ہونا چاہئیے کہ ازالہ ہو ۔ یہ سیاسی پارٹی ایک روایتی بھیڑ کی بجائے نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم ہسپتال کی طرح بتدریج ایک ادارہ بن جائے۔ کپتان کی نہیں ، قوم کی پارٹی!
اسلام آباد سے میں لاہور پہنچا۔ جاوید ہاشمی ہسپتال کے بستر پر سوئے پڑے تھے۔ زرد رو اور نڈھال ۔دل بھر آیا لیکن پھر خود کو میں نے تھاما۔ جاگ اٹھے تو ان کے کان میں، میں نے کہا : اٹھ بیٹھو، یہ بستر تمہارے نہیں …کے لیے ہے ۔ اس پر خوش دلی سے وہ ہنسے ۔ حیرت انگیز قوت ارادی کا آدمی کچھ دن میں بھلا چنگا ہو گیا۔ جسمانی تب و تاب اگرچہ کم ہے مگر ذہنی استعداد اتنی ہی روشن ۔
آج پل بھر سویا اور جاگ اٹھا ہوں۔ سپیدہ سحر طلوع ہونے والا ہے اور میر# یا د آتے ہیں ، یعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا ۔ کالم نہیں ، یہ کالم کی تمہید ہے ۔ یادیں ہیں کہ امنڈی چلی آتی ہیں ۔ انشاء اللہ کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔ آج فقط یہ ہے کہ سچی کامرانی صرف صاحبانِ عزم کے نصیب میں ہوتی ہے ۔ وہ جو صبر کے مفہوم سے واقعی آشنا ہوں ۔ا س عاجز نے شاہ محمود کا خیر مقدم نہ کیا تھا اور جب تک انہیں بدلتا نہ دیکھوں، انتظار کروں گا۔ جاوید ہاشمی کو خوش آمدید ۔ زندگی میں بعض دروازے فقط شجاعت سے کھلتے ہیں اور یہ وہ آدمی ہے ، جس نے کتنی ہی بار اپنی خیرہ کن دلاوری سے دیوار کو در بنا دیا ہے ۔عمران خان سدا کا خوش نصیب ہے مگر آج سے اور بھی خوش بخت۔ ساری جدوجہد مگر بیکار ہے ، اگر یہ مظلو م ملک اور اس کے مظلوم باسی سرخرو اور آبرو مند نہ ہوں ۔ رہا اقتدار تو گاہے وہ چھچھوروں کو بھی مل جا یا کرتاہے ، گاہے کیا اکثر۔ خدمت کی توفیق بڑے نصیبے کی بات ہے ۔
توفیقِ عمل مانگ نیاگانِ کہن سے
شاہاں چہ عجب گر بنوا زند گدارا
اک بہادر آدمی...انداز بیاں …سردار احمد قادری
وہ ملتان میں اپنی رہائش گاہ کے برآمدے میں کھڑے ہو کر میرا انتظار کررہا تھا۔ وہ میرا نام لے کر اپنے کارکنوں کو ہدایات دے رہا تھا کہ میں جیسے ہی پہنچوں اس کو فوری طور پر اطلاع دی جائے اور اس وقت میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے ایک نظر مجھے بھرپور انداز سے دیکھا اور پھر دوسرے ہی لمحے مجھے پہچان لیا۔ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محبت اور شفقت بھرے انداز میں پوچھا ”کیا تم نے ساری زندگی اب پردیس میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے؟ یا اپنے وطن پاکستان بھی واپس آؤ گے؟“ میں نے اس کا سوال سن کر کہا میرا تو ابھی پتہ نہیں کہ کب واپس آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولیائے کرام کے خاندان میں پیدا کیا، تم مخدوم عبدالرشید حقانی کی اولاد میں سے ہو اور ان کے روحانی وارث بننے کے دعویدار بھی ہو۔ تم کئی بار اسمبلی کے ممبر بنے، وزیر بنے، اپنی پارٹی کے قائد بنے کیا تم یہ سب حاصل کرکے مطمئن ہو؟ تمہارا دل گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو صلاحیتیں دی تھیں تم نے ان کا حق ادا کردیا؟ ایک لمحے کے لئے گردن جھکائی اور پھر سر اٹھایا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس کی خاموش آنکھیں سب کہانی سنا رہی تھیں۔ مجھے ایسا لگا کہ اس کے اندر کا وہی متحرک اور فعال نوجوان پھر انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا اگرچہ بیماری نے اسے نڈھال کردیا تھا لیکن اس نے پُرعزم لہجے میں مجھ سے کہا … ”نہیں! میں زیادہ عرصہ خاموش نہیں رہوں گا۔ میں حق، سچ کی بات کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔
پھر چند دنوں بعد ہم نے ملتان سے اسلام آباد ہوائی جہاز میں اکٹھے سفر کیا۔ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر میرے پاس آ کرکھڑا ہوا اور گفتگو کرنے لگا۔ اس نے اسلام آباد مجھے ملنے کیلئے کہا لیکن میں نے وقت کی کمی کی وجہ سے معذرت کرلی لیکن اسکو اس کا وعدہ یاد دلایا۔ حق اور سچ بات کہنے کا وعدہ۔ اظہار رائے کھل کر بیان کرنے کامشورہ پھر دیا چند دنوں بعد میں نے اخبارات میں دیکھا کہ وہ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہہ رہا تھا کہ سب کو اپنے سابقہ کرتوتوں کی معافی مانگنی چاہئے اس نے کہا کہ ضیاء الحق کی کابینہ کا وزیر بننے پر میں بھی معافی مانگتا ہوں اور میرے لیڈر نواز شریف کو بھی فوج کا ساتھ دینے اور پھر ملک سے چلے جانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ میں نے سوچا کہ اس نے کھل کر اظہار خیالات کا سلسلہ شروع کردیا جو شائد اسکے پارٹی قائدین کو پسند نہیں آئیگا اور یہی ہوا اسکو نظر انداز کیا جانے لگا اور اسے گویا دیوار سے لگادیا گیا۔ بالآخر اس نے تمام ذاتی اور پارٹی تعلقات چھوڑ کر حق اور سچ کی بات کہنے کیلئے عمران خان کا ہاتھ تھام لیا۔ کراچی کے جلسے میں جب ہر طرف ”اک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی“ کے نعرے گونج رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ جاوید ہاشمی کو اپنے ساتھ رکھنا اور برداشت کرتے رہنا عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ہاں میں باغی ہوں ...صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
کراچی میں تحریک انصاف کے بہت بڑے جلسے میں جاوید ہاشمی کو ”میں باغی ہوں، میں باغی ہوں“ کے نعرے لگاتے اور دھاڑتے ہوئے دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) سے اصلی شیر تو چلا گیا اور باقی رہ گئے نقلی شیر۔ کچھ نے صرف اپنا نام شیر رکھا ہوا ہے اور کچھ نے شیرکی کھال اوڑھ کر شیر کا بہروپ دھار رکھا ہے۔ بھلا اصلی شیر کون ہوتا ہے؟ اصلی شیر وہ ہوتا ہے جو مخالفانہ ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کرے، پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے لئے ہر وقت تیار رہے، جیل کو اپنا دوسرا گھر سمجھے، حکومت اسے الٹا لٹکا دے تب بھی کمپرومائز نہ کرے اور آمریت گولیاں چلائے تو وہ سینہ تان کر گولی کھانے کے لئے باہر نکل آئے۔ شیر جیل اور مخالفوں کے ظلم و ستم سے گھبرا کر صلح نہیں کرتا اور جان بچانے کے لئے دم دبا کر بھاگ کھڑا نہیں ہوتا اور نہ ہی پولیس کو گھر کی طرف آتے دیکھ کر قیمتی پلنگ کے نیچے چھپ جاتا ہے۔ دشمنوں اور آمروں کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے اور یہ کام صرف ”جگرے“ والے ہی کر سکتے ہیں، صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کی روحیں جنم جنم کی باغی اور جن کے دل و دماغ سچے جذبے کی آماجگاہ ہوں، جو صرف زبان کے شیر اور کام کے ڈرپوک نہ ہوں اور جو عیش و عشرت اور رئیسانہ ٹھاٹھ باٹھ کی قربانی دے کر شدید سردی میں یخ ٹھنڈے فرش پر سونے سے بھی نہ ڈرتے ہوں۔ یہ سب کہہ لینا آسان لیکن کرنا نہایت مشکل ہے۔ میں جاوید ہاشمی کو 1972ء سے جانتا ہوں اور میں 1972ء سے صرف یہی جانتا ہوں کہ جاوید ہاشمی سچا باغی ہے، جاوید ہاشمی مخلص اور محبت کرنے والا دوست ہے، جاوید ہاشمی سر تا پا پاکستانی اور پکا مسلمان ہے، جاوید ہاشمی ظلم و زیادتی کے خلاف بغاوت کرتا اور آمریت کے سامنے پہاڑ بن جاتا ہے۔ آمریت فوجی ہو یا سیاسی وہ بلا خطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے کیونکہ اس کا عشق سچا ہے، اس کا عشق صرف اقتدار،عیش و عشرت اور دربار سے نہیں کیونکہ اقتدار سے محبت ”عقل“ اور سود و زیاں کا حساب کرنے والے کرتے ہیں جبکہ اپنے نظریے ، کاز اور منزل سے محبت کرنے والے عاشق سود و زیاں سے بے نیاز کنوئیں میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور عقل محو تماشائے لب بام بنی رہتی ہے۔
1972ء میں اس ملک پر ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کا راج تھا۔ اگر چہ بھٹو عوامی مقبولیت کی لہر پر سوار ہو کر اور انتخابات جیت کر اقتدار میں آئے تھے لیکن بھٹو صاحب اپنے مخالفین کے لئے بدترین آمر تھے۔ بھٹو صاحب کا ظاہر جمہوری لیکن باطن و ڈیرہ اور جاگیردارانہ تھا چنانچہ مخالفت برداشت کرنا اور اپنے خلاف نعرے سننا ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔ وڈیرہ اور جاگیردار صرف وہی نہیں ہوتا جس کے پاس وسیع و عرض رقبے، ہزاروں ایکڑ زمین اور بے شمار مزارعے ہوں بلکہ میرے نزدیک وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری ایک سوچ، ذہن اور مخصوص شخصیت کا نام ہے جو صرف اور صرف خوشامد کی عادی، دربار داری کی خوگر، عقل کل کے زعم میں مبتلا اور حرف تنقید یا حرف اختلاف کی دشمن ہوتی ہے، جاگیردارانہ ذہنیت غرور و تکبر کا نام ہے، انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کا نام ہے اور اپنے ماتحتوں یا ساتھیوں کو مزارعے اور کمین سمجھنے کا نام ہے اس لئے ضروری نہیں جاگیردار یا وڈیرہ زمینوں اور جاگیروں کا مالک ہو، وہ صنعتکار، بزنس مین اور دولت مند شخص بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جاگیرداری ذہنیت کا نام ہے جو صرف جاگیرداروں کی جاگیر نہیں۔ میں نے صنعت کاروں، بڑے عہدوں پر متمکن افسروں اور جرنیلوں، جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آنے والے حکمرانوں اور نودولتیے حضرات کو اپنے رویے، سلوک، انداز اور سوچ میں اسی قدر فیوڈل دیکھا ہے جس قدر کوئی جاگیردار ہو سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ (ن) سے بغاوت اسی طرح کے جبر اور ماحول کے خلاف بغاوت ہے۔ دراصل یہ بغاوت ایک مخلص انسان کی عزت نفس اور خودداری بچانے کے لئے بغاوت ہے اور ظاہر ہے کہ ”خودی“ ہمیشہ تکبر کے خلاف بغاوت کرتی رہی ہے۔ یہی علامہ اقبال کا پیغام ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ علامہ اقبال کا پیغام اور کلام صرف علامہ کی طرح تصویریں بنوانے سے سمجھ میں نہیں آتا، اسے سمجھنے کے لئے جگر خون کرنا پڑتا ہے اور پھر اسے اپنے اوپر نافذ کرنے کے لئے تکبر، انا، جھوٹ، طرز بادشاہی اور ہر قسم کی ہوس سے نجات حاصل کرنی پڑتی ہے۔
ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ بھٹو ظاہر میں جمہوری لیکن باطن میں فیوڈل تھا جو اپنے سیاسی مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو ملیامیٹ کرنے کی آرزو کا اسیر تھا۔ زُلف اقتدار کی اسیری عام طور پر ہوس اقتدار کا اسیر بنا دیتی ہے اور پھر انسان تکبر میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو عقل کل اور راست رو سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو کم عقل، کم حیثیت اور غلط رو دشمن تصور کرنے لگتا ہے۔ بھٹو صاحب نے جاوید ہاشمی نامی باغی پر ہر قسم کے ستم ڈھائے، یہ نوجوان ایک شعلہ جوالا تھا جو ہر ستم کے ساتھ مزید بھڑکتا اور مزید باغی ہو جاتا تھا۔ دسمبر جنوری کی اسی طرح کی شدید راتوں میں اس کی باغیانہ باطنی آگ کو بجھانے کے لئے اسے برف کی سلوں پر لٹایا جاتا تھا اور چھت کے ساتھ الٹا لٹکایا جاتا تھا کہ یہی حاکم وقت کا حکم تھا لیکن برف کی سلیں پگھل جاتی تھیں اور جاوید نہیں پگھلتا تھا۔ اسے چھت کے ساتھ لٹکا کر چھتر مارے جاتے تھے اور وہ ہر چوٹ پر ہاں میں باغی ہوں اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتا تھا۔ وہ بھی ناز و نعمت میں پلا ہوا مخدوم گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ سختی برداشت نہ کر سکتا تو معافی مانگ کر باہر آ جاتا اور چاہتا تو دربار شاہی میں جگہ پاتا لیکن وہ تو اصلی اور سچا باغی تھا، معافی کا لفظ اس کی ڈکشنری میں موجود نہیں تھا۔ ایسے ہیرے کو بڑے پیار سے سنبھال اور سجا کر رکھا جاتا ہے۔ ایسے باغی کو عزت و احترام، خلوص اور محبت کی طلائی زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) ان طلائی زنجیروں سے محروم ہو چکی ہے اور وہ ہر کارکن کو شخصیت اور دولت کے حصار میں قید کرنا چاہتی ہے۔ جاوید ہاشمی مشرف کا قیدی تو بن سکتا تھا لیکن اس طرح کے ماحول کا قیدی نہیں بن سکتا تھا۔ مشرف نے اس کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ میں جاوید سے روا رکھے گئے ظلم و ستم کا تصور کرتا ہوں تو اس کی بہادری کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ مشرف کے آمرانہ دور کا سب سے بڑا باغی جاوید ہاشمی ہے۔ آج کی مسلم لیگ (ن) اس کی قربانیوں کی مرہون منت ہے اسی لئے میں خلوص نیت سے محسوس کرتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) اصلی شیر سے محروم ہو گئی ہے۔ وطن کی خدمت کے جذبے سے سرشار، انقلاب کے نقیب، تبدیلی کے محرک اور انصاف کے متلاشی بلکہ راہی نے بالآخر تحریک انصاف جوائن کر لی ہے۔ تحریک انصاف ملک میں انصاف، استحکام، قانون کی حاکمیت، امن، اسلامی اقدار کے احیاء، کرپشن کے خاتمے، موروثی سیاست کے خلاف جہاد، سٹیٹس کو کو توڑنے، نظام میں تبدیلی لانے، پاکستان کو خوددار اور خودمختار ملک بنانے اور صنعتی ، زرعی ، تجارتی ترقی کے ذریعے خوشحالی لانے کا وعدہ کر رہی ہے۔ لوگ آزمائے ہوئے بلکہ بار بار آزمائے ہوئے سیاستدانوں سے مایوس ہو چکے ہیں اور تبدیلی کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ لوگ صبح نو کے منتظر ہیں اور جاوید اسی صبح نو کی کرن بن کر تحریک انصاف میں گیا ہے جس سے تحریک انصاف کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے۔ عمران خان سنو! اس قیمتی اثاثے اور باغی کو سنبھال کر رکھنا اور اس کے جذبے کی قدر کرنا۔ اگر تم نے بھی اپنے وعدے پورے نہ کئے اور امیدوں کے گلستان کو پامال کیا تو یاد رکھو ہم بغاوت کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر تمہارے خلاف صف آرا ہوں گے کیونکہ ہمیں شخصیات نہیں ہمیں ملک پیارا ہے اور اس وطن پر ہم سارے ”پیار“ قربان کر سکتے ہیں۔
سرجری ۔ جاوید چوہدری
جاوید ہاشمی کی تازہ بغاوت...طلوع … ارشاد احمد عارف
جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے باغی مخدوم جاوید ہاشمی کو مقدمہ بغاوت میں پچیس سال قید بامشقت کی سزا ہوئی تو مسلم لیگ کے قائمقام صدرا ور مخدوم رشید کے سپوت کی عبوری مقبولیت آسمانو ں کو چھونے لگی، دوست دشمن سب نے ہاشمی کی بہادری کی تعریف کی اور حکومت کی سنگدلی و حماقت پر نفرین بھیجی۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور یوں محسوس ہوا کہ موثر احتجاجی تحریک فوجی آمریت کی بنیادیں ہلا دے گی مگر اچانک بریک سی لگ گئی۔ ایک مسلم لیگی ر کن اسمبلی (بخدا خواجہ سعد رفیق نہیں) سے پوچھا برادر! ماجرا کیا ہے؟ ادھر ادھر دیکھ کر افسردہ لہجے میں بولے ”فون آگیا تھا جاوید ہاشمی کو ہیرو بنانے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسٹبلشمنٹ کی چال لگتی ہے“۔
میاں نواز شریف نے جدہ روانگی سے قبل راجہ ظفر الحق اور دیگر کئی سینئر تجربہ کار اور وفادار ساتھیوں کی موجوگی میں جاوید ہاشمی کو قائمقام صدر نامزد کیا تو مجھے حیرت ہوئی ، کابینہ کے رکن کے طور پر ہاشمی وزیراعظم کے پانچ پیاروں میں شامل نہ تھے اور علیحدگی میں چند منٹ ملاقات کے لئے ترستے تھے۔ ہاشمی صاحب کے بہنوئی برادرم اقبال ہاشمی سے پوچھا کہ ”میاں صاحب اچانک ہاشمی صاحب پر مہربان کیوں ہوں گئے“ جواب دلچسپ تھا ”ہاشمی سے زیادہ سادہ لوح پارٹی میں کوئی دوسرا کہاں؟ جو بھاگ دوڑ کرے گا، مار کھائے، جیل جائے اور امانت میں خیانت نہیں کرے گا“۔
اڈیالہ جیل میں مخدوم یوسف رضا گیلانی اور جاوید ہاشمی اکٹھے تھے جب بھی ملاقات کے لئے جانے کا موقع ملا گیلانی صاحب کو ملنے والوں کا تانتا بندھا دیکھا۔ ہاشمی صاحب کے بارے میں احکامات تھے کہ کوئی ملنے نہ پائے، یہ احکامات اکیلے جنرل پرویز کی طرف سے نہیں شریف برادران کے یار نما وفاقی قائدین کی طرف سے بھی جاری ہوئے تھے۔ ایک بار اڈیالہ جیل میں دوران ملاقات ہاشمی صاحب کی صاحبزادیوں آمنہ ہاشمی اور جویریہ ہاشمی نے میری اہلیہ سے کہا ”مسلم لیگی قائدین اور کارکن ابو کو اڈیالہ جیل بھیج کر بھول گئے ہیں“ میمونہ ہاشمی، زاہد بہار ہاشمی اور مختار شاہ مرحوم طارق عزیز کو ساتھ لے کر جیل اور کچہری کے دھکے کھاتے رہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں بھی یہی حال تھا، خواجہ سعد رفیق، زعیم قادری، ڈاکٹر اسد اشرف، ناصر اقبال خان، خواجہ عامر رضا اور جاوید لطیف ملا کرتے کسی اور مقامی مسلم لیگی کو کم ہی توفیق ہوئی ، کھانا البتہ میاں صاحب کے گھر سے آیا کرتا تھا ۔
یوسف رضا گیلانی کو اڈیالہ جیل میں رہنے کا صلہ پارٹی اور آصف علی زرداری نے وزارت عظمیٰ کے اعلیٰ منصب کی صورت میں دیا۔ امریکہ اور فوجی جرنیل کی خواہشات اور دباؤ کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی اور جمہوری جدوجہد کا فیصلہ کیا، مسلم لیگ (ق) کی بجائے مسلم لیگ (ن) سے تجدید تعلقات کو ترجیح دی اور امریکہ و ایسٹبلشمنٹ کی بجائے عوام پر انحصار کیا تو انہیں بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ زندہ رہتیں تو وزارت عظمیٰ کی بجائے کوئی دوسرا بڑا منصب یوسف رضا گیلانی کو سونپا جاتا مگر جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت جیل سے چھوٹے تو ”چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا“ کی کیفیت تھی۔ رہائی پر ان کے استقبالی جلوس کو بھی پسند نہ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ اب پارٹی کو باغیوں کی نہیں چودھری نثار علی خان اور اسحق ڈار جیسے مصلحت پسندوں اور مصالحت کاروں کی ضرورت ہے جو مسلم لیگ (ن) اور ایسٹبلشمنٹ کے مابین پل کا کردار ادا کرسکیں۔
یوسف رضا گیلانی کی پہلی کابینہ میں شمولیت کے مرحلہ پر مسلم لیگ کی فہرست میں جاوید ہاشمی کا نام درج نہ تھا۔ وضعدار اور خودار جاوید ہاشمی نے احتجاج کرنے کی بجائے یہ بیان دے کر اپنا اور قیادت کا بھرم رکھ لیا کہ وہ ایک فوجی جرنیل سے حلف نہیں لیں گے، کسی کو کیا بتائے کہ پانچ سالہ قید وبند کے صلے میں وہ چند روزہ وزارت کے حقدار نہیں۔ بعد ازاں انہیں پارلیمانی اور اپوزیشن لیڈرکے قابل بھی نہ سمجھا گیا حالانکہ سپیکر فہمیدہ مرزا نے یہ سوچ کر مسلم لیگ کے قائمقام صدر ہی مسلم لیگ ن کے پارلیمانی ہوں گے انہیں ابتدائی خطاب کی دعوت بھی دے ڈالی تھی۔
پرویز مشرف کی رخصتی پر صدارتی امیدوار کی نامزدگی کا مرحلہ آیا تو چودھری شجاعت حسین نے پیشکش کی کہ آصف علی زرداری کے مقابلے میں میاں نواز شریف خود سامنے آئیں یا جاوید ہاشمی کو امیدوار نامزد کریں۔ سینٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہمارے سارے ووٹ ان کے ہوئے۔ چودھری شجاعت حسین آج تک حیران ہیں کہ میاں صاحب نے یقینی کامیابی کی یہ فراخدلانہ پیشکش کیوں قبول نہ کی ۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ میاں صاحب دس سالہ پابندی کی وجہ سے خود امیدوار بن نہیں سکتے تھے اور جاوید ہاشمی کواس قابل نہ سمجھا۔ کچھ آصف علی زرداری کی تازہ تازہ دوستی کا پاس لحاظ بھی تھا ورنہ ان کے کاغذات نامزدگی جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی سے ضرور چیلنج کرائے جاتے۔
جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کرکے مسلم لیگ (ن) کو ادھ موا کر دیا ہے۔ مسلم لیگی لیڈر لاکھ کہیں کہ ایک شخص کے جانے سے فرق نہیں پڑتا مگر جاوید ہاشمی ایک شخص نہیں ایک تحریک، ایک انجمن، ایک ادارہ اور جمہوری جدوجہد، جرأت، بہادری کا ا ستعارہ ہے۔ سیاسی ساکھ اور اعتبار کا پہاڑ، آخری روز بیگم کلثوم نواز نے انہیں منانے کی جو کوشش کی وہ شلجموں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف تھی۔ مومنہ ہاشمی کی شادی میں شریف برادران کے علاوہ بیگم کلثوم نواز نے شرکت نہ کرکے دیرینہ تعلقات اور وضعداری کی حقیقت عیاں کر دی تھی جس کے بعد ہاشمی کو کوئی خوش فہمی لاحق نہیں رہی۔
ایک ایک کرکے لوگ جانے لگے تو مسلم لیگ کے پاس خوشامدیوں، مفاد پرستوں اور ”جھولی چکوں“کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔دس اوور کے میچ میں عمران خان نے وننگ چھکا لگایا ہے، چالیس سال تک سول اور فوجی آمریتوں سے لڑنے، مقدمہ بغاوت کا مقابلہ کرنے والے جاویدہاشمی کی تحریک انصاف میں شرکت نے اس پارٹی اور عمران خان پر لگنے والا یہ الزام ختم کر دیا کہ اس کی بااثر سیاستدانوں میں مقبولیت، ایسٹبلشمنٹ کی اختراع اور مرہون منت ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت بسم اللہ کے گنبد میں بند رہی اور اپنے اپنے دل شکستہ، ازردہ اور زخم خوردہ لیڈروں، کارکنوں کی دلجوئی نہ کر پائی تو سارے باغی عمران خان کے اردگرد نظر آئیں گے۔پرجوش نوجوان، زور دارانہ فلک شگاف نعرے، والہانہ پذیرائی، تبدیلی کے دعوے اور دل کھول کر بات کرنے کی آزادی! جاوید ہاشمی کو اور کیا چاہئے یہ تو ایک ایسا ٹانک ہے جو چند دنوں میں اسے پھر سے جوان کردے گا۔

کپتان کو باغی مبارک ۔ ایاز خان
2011ء کی عظیم ترین بغاوت ...قلم کمان …حامد میر
وہ جدوجہد اور قیدوبند کے زمانے کے ساتھیوں کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ باغی نے اپنوں کے خلاف بغاوت کر ڈالی۔ جاوید ہاشمی کا مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونا 2011ء کی سب سے بڑی سیاسی بغاوت ہے ۔ 23دسمبر کی سہ پہر ایوان اقبال لاہور میں خواجہ رفیق فاؤنڈشن کے سیمینار میں جاوید ہاشمی اسٹیج پر میری بائیں طرف لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ خواجہ سعد رفیق نے بڑے درد بھرے لہجے میں مجھے کان میں بتایا کہ جاوید ہاشمی صاحب تحریک انصاف میں جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں آپ پلیز انہیں سمجھائیں کہ پرانے ساتھیوں کو چھوڑ کر مت جائیں ۔ یہ سن کر میں واقعی لرز گیا۔ جس شخص کو پرویز مشرف کی جیلیں اور تشدد نہ توڑ سکا اسے عمران خان نے کیسے توڑ لیا ؟ جاوید ہاشمی ایک ایسی جماعت میں کیسے جا سکتا ہے جو پرویز مشرف کی کابینہ کے وزیروں سے بھر چکی ہے ؟ حافظ حسین احمد نے تقریر شروع کی تو میں نے جاوید ہاشمی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنا شروع کیا۔وہ سمجھ گئے کہ میری نظریں کیا پوچھ رہی تھیں ۔ پھر انہوں نے جو کہا اس کو مسترد کرنا میرے لئے مشکل تھا ۔ میرے پاس کوئی دلائل نہیں تھے کیونکہ ماضی کے کئی واقعات کا تو میں خودعینی شاہد تھا ۔ میں نے بحث نہیں کی۔ خاموش ہو گیا۔
خواجہ سعد رفیق کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہاشمی صاحب کو منالے گا۔ تقریب ختم ہوئی تو خواجہ صاحب دھڑکتے دل کے ساتھ جاوید ہاشمی کو عشائیے کے بہانے اپنے گھر لے گئے ۔ بہت سمجھایا بجھایا۔ ماروی میمن بھی وہاں پہنچ گئیں انہوں نے جاوید ہاشمی سے کہا کہ عمران خان نے انہیں بھی کئی مرتبہ تحریک انصاف میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے لیکن وہ شامل نہیں ہوئیں تو آپ کیوں جا رہے ہیں ؟جاوید ہاشمی مسکراتے رہے۔ بیگم کلثوم نواز نے بھی بہت سمجھایا لیکن باغی اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کیلئے تیار نہ تھا ۔ خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ اور بیٹی نے رونا شروع کر دیا لیکن آج بہن اور بیٹی کے آنسو بھی انہیں موم نہ کر سکے ۔ اگلے دن ملتان میں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کا وعدہ کرکے وہ لاہور سے نکلے لیکن 24دسمبر کو کراچی میں عمران خان کے پاس پہنچ گئے ۔ یہ عمران خان کی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ہے ۔ جس وقت جاوید ہاشمی کی کراچی میں عمران خان، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس ٹی وی چینلز پر نشر کی جا رہی تھی تو میں سوچ رہا تھا کہ عمران خان نے اپنے ارد گرد وزارت عظمیٰ کے کئی امیدوار اکٹھے کر لئے ہیں ۔ کیا جاوید ہاشمی بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں ؟ شائد نہیں ۔
تحریک انصاف میں وزارت عظمیٰ کا صرف ایک امیدوار ہے اور وہ ہے عمران خان، جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس دیکھتے دیکھتے میں ماضی کی تلخ یادوں میں کھو گیا۔ مجھے 1994ء میں ریگل چوک لاہور کا وہ منظر یاد آ گیا جب نواز شریف کی تحریک نجات میں پولیس جاوید ہاشمی کو مسجد شہداء کے سامنے سڑک پر لٹا کر ڈنڈوں سے پیٹ رہی تھی ، میں نے بچانے کی کوشش کی تو مجھے بھی ڈنڈے پڑے ۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو نواز شریف اپنی پارٹی جاوید ہاشمی کو سونپ کر سعودی عرب چلے گئے ۔ جاوید ہاشمی، سعد رفیق اور پرویز رشید سمیت کئی مسلم لیگی آئے دن پاکستانی فوج کے ایک افسر کرنل ندیم اعجاز کی نگرانی میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے تھے ۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ایک دن جاوید ہاشمی نے اپنے جسم پر تشدد کے نشانات دکھائے تو میری آنکھیں بھر آئیں ۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ق)کو حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا تھا ۔ ق لیگ والوں نے جاوید ہاشمی کے سامنے وزارت عظمیٰ کی پیشکش رکھی لیکن ہاشمی صاحب نہیں مانے ۔ کچھ عرصہ کے بعد انہیں بغاوت کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ۔ مشرف دور میں جاوید ہاشمی پاکستان کی جمہوریت پسند قوتوں کے ہیرو بن کر ابھرے کیونکہ انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے تشدد اور جھوٹے مقدمات کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا لیکن 2008ء کے بعد جاوید ہاشمی نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ انہیں پارٹی کے اندر وہ عزت نہیں دی جا رہی جس کے وہ مستحق تھے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے چودھری نثار علی خان کے ساتھ اختلافات تھے ۔ چودھری صاحب نے جاوید ہاشمی کے ساتھ گلے شکوے جیل کے زمانے میں دور کر لئے تھے ۔ چودھری نثار علی خان کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا اعلان خود جاوید ہاشمی نے کیا تھا ۔ جاوید ہاشمی اس وقت مایوس ہوئے جب ستمبر 2008ء میں مسلم لیگ (ن)نے انکی بجائے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا ۔ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ق) سمیت کئی جماعتوں نے پیشکش کی تھی کہ اگر مسلم لیگ (ن) انہیں اپنا صدارتی امیدوار بنا لے تو وہ جاوید ہاشمی کی حمایت کریں گی۔ اگر مسلم لیگ (ن) جاوید ہاشمی کو صدارتی امیدوار بنا لیتی تو آصف علی زرداری کو بہت سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ۔ جب مسلم لیگ (ن)نے ”گو زرداری گو “ تحریک کا اعلان کیا تو جاوید ہاشمی کا موقف تھا کہ اسمبلیوں سے استعفے دیئے جائیں لیکن قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو یقین تھا کہ جلد بازی میں کئے گئے کسی فیصلے سے تحریک انصاف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ جب میمو گیٹ سکینڈل میں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تو جاوید ہاشمی کو یقین ہو گیا کہ نواز شریف ان طاقتوں کے ساتھ صلح چاہتے ہیں جو عمران خان کی مدد کر رہی ہیں ۔ 23دسمبر کی دوپہر جب شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی نے فوج پر سازش کا الزام لگا کر غداری کی ہے تو جاوید ہاشمی نے اپنے مسلم لیگی دوستوں سے کہا کہ آپ فوج کے ساتھ مل کر کھیلیں تو ٹھیک اور اگر کوئی اور فوج کے حق میں بولے تو وہ خفیہ اداروں کا ایجنٹ کیوں بن جاتا ہے ؟
تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد جاوید ہاشمی نے اپنی سابقہ پارٹی کے خلاف کوئی شکوہ شکایت نہیں کیا لیکن مسلم لیگ (ن) والے صدمے کا شکار ہیں ۔صدمے کے باعث انہوں نے ہاشمی صاحب کے خلاف ایس ایم ایس پیغامات کا طوفان کھڑا کر دیا ہے ۔ ان سے گزارش ہے کہ صبر کریں، جاوید ہاشمی نے اپنے دکھڑے بیان کرنے شروع کئے تو پھر مسلم لیگ (ن)والوں کیلئے بڑی مشکل ہو جائے گی ۔ مسلم لیگ (ن)جاوید ہاشمی کے بارے میں خاموش رہے تو بہتر ہے ۔ انتظار کرے اور دیکھے کہ تحریک انصاف جاوید ہاشمی جیسے باغی کو کب تک اور کیسے سنبھالتی ہے ؟
عمران خان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ۔ان کے لئے اگلا چیلنج یہ ہے کہ جاوید ہاشمی کو سنبھال کر کیسے رکھنا ہے ؟ 2011ء گزر گیا اور 2012ء شروع ہونے والا ہے 2012ء میں انتخابات بھی ہو سکتے ہیں 2012ء میں ایبٹ آباد کمیشن کی انکوائری رپورٹ سامنے آئے گی ، میمو گیٹ سکینڈل کی اصل کہانی سے بھی پردہ اٹھے گا اور شائد محترمہ بینظیر بھٹو کے اصل قاتل بھی بے نقاب ہو جائیں۔ 2012ء میں بہت سے طوفان آنے والے ہیں اور ان طوفانوں کا کوئی ایک جماعت یا ادارہ اکیلے مقابلہ نہیں کر سکے گا ۔ 2012ء میں افغانستان میں امریکہ پر دباؤ بڑھے گا اور امریکہ اس دباؤ سے نکلنے کیلئے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے ۔ یاد رکھئے گا ! پاکستان کے دشمن ہمارے اندرونی اختلافات کا فائدہ ضرور اٹھائیں گے اور 2012ء میں ہمیں سبق سکھانے کی کوشش کریں گے ۔ اگر ہم نے ایک دوسرے کو عزت نہ دی اور اداروں نے ایک دوسرے کا احترام نہ کیا تو پھر ایسی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گی جس میں صرف سیاسی رشتے نہیں بلکہ آئینی رشتے بھی ٹوٹیں گے ، خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گا اور آپ افغانستان میں خانہ جنگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں خود خانہ جنگی میں پھنس جائیں گے ۔
جاوید کا جانا اور ”ن“ کا مستقبل ...چوراہا… حسن نثار
جاوید ہاشمی والے جھٹکے نے ن لیگ کو ”آئی سی یو“ میں پہنچا دیا ہے۔ قارئین کو میرا وہ کالم یاد ہو گا جس کا عنوان تھا… ”تیرا لٹیا شہر لہور نی لیگے بے خبرے۔“ یہ بھی عرض کر دیا تھا کہ باقی شہروں میں بھی ”زلزلے“ کے جھٹکے محسوس ہوں گے اور یہ کہ ن لیگ کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی لیکن شاید تکبر کو میرا یہ تبصرہ پسند نہیں آیا اور اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کہ جاوید ہاشمی کے بغیر ن لیگ ایسے ہی ہے جیسے زردی کے بغیر انڈہ، انجن کے بغیر گاڑی، نعل کے بغیر گھوڑا، گولی کے بغیر پستول، پیندے کے بغیر برتن اور وگ کے بغیر چوہدری نثار۔ جاوید ہاشمی کے ساتھ تعلق تب سے ہے جب اس نے پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا تاریخی الیکشن لڑا اور جیتا تھا۔ حفیظ خان اور میں کالج کے بعد یونیورسٹی میں بھی کلاس فیلو تھے۔ حفیظ خان جہانگیر بدر کے مقابلہ پر صدارتی امیدوار تھا، نائب صدارت کے لئے راشد بٹ مرحوم اور سیکرٹری جنرل کے لئے جاوید ہاشمی پر مشتمل پینل تھا۔ اس دھماکہ دار الیکشن کے نتیجہ میں حفیظ خان صدر اور جاوید ہاشمی سیکرٹری منتخب ہوئے جبکہ ”بائیں بازو کی طرف سے صرف راشد بٹ کامیاب ہو سکا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ جاوید کے ساتھ میرا تعلق عشروں پر محیط ہے اور سب جانتے ہیں کہ ا سکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک کے تعلق مجھے بہت عزیز ہیں اور میں نے انہیں بہت سنبھال کر رکھا ہوا ہے سو ظاہر ہے جاوید ہاشمی بھی ٹین ایج کی اک اچھی یاد کی طرح بہت عزیز تھا لیکن گزشتہ چند سالوں میں وہ مجھے برا لگنے لگا، اسے دیکھ کر غصہ چڑھتا اور وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اپنی توہین اور خود کو نظر انداز کئے جانے پر خاموش کیوں ہے؟ ری ایکٹ کیوں نہیں کرتا؟ احتجاج کیوں نہیں کرتا؟ یہ شخص ن لیگ بلکہ سیاست ہی کو چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟ پھر جب وہ بیمار ہوا اور قائداعظم ثانی صاحب کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی عیادت کو گئے تو میں نے چڑ کر لکھا تھا کہ تہمینہ دولتانہ بھی اپنے لئے کسی ایسی ہی بیماری کی دعا مانگے تاکہ ”لیڈر شپ“ ادھر بھی متوجہ ہو۔ جاوید ہاشمی جیسے جینوئن اور جی دار شخص کو بری طرح نظر انداز کرنا تو مجھے ہضم نہ ہوا تو خود جاوید کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟ پارٹی ٹکے ٹوکری ہو گئی ہوتی اگر جاوید نے جان ہتھیلی پر نہ رکھ لی ہوتی لیکن افسوس پرانے ساتھی آج اسے یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ ہاشمی اپوزیشن لیڈر نہ بنائے جانے پر ناراض تھا۔ سبحان اللہ کیا سوچ ہے کہ جاوید ہاشمی سے زیادہ اس کا مستحق کون تھا؟ ”کھان پین نوں“ بھاگ بھری تے دھون بھنون نوں جماں“ یعنی موج مستی تو بھاگ بھری کرتی رہے اور گردن تڑوائے جماں تو عقل کے ماتو! یہ جماں نہیں جی دار جاوید ہاشمی تھا جو سیاست اور جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ادھر نثار علی خان کا فرمان ہے کہ کسی کے جانے سے فرق نہیں پڑتا تو دیکھو تو سہی… سائیکل ا سٹینڈ پر ایک سائیکل گر جائے تو آخری سائیکل تک لائن لگ جاتی ہے جبکہ انہیں جاوید ہاشمی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو یہی ”ایروگینس“ انہیں برباد کر کے رکھ دے گی۔ یوں سمجھو کہ ن سے نمک کی ڈلی پانی میں گر گئی ہے، بروقت نہ نکالی تو تحلیل ہو جائے گی اور سلسلہ یونہی چلتا رہا، رویئے، اعمال اور حکمت عملی تیزی سے تبدیل نہ ہوئی تو ن لیگ کی لیڈر شپ کے لئے لاہور میں ذاتی سیٹوں پر بھی سرخ رنگ کا سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینے میں ہی بہتری ہو گی کہ لاہور سمیت دوسرے شہر اب کسی کی ”کالونی“ نہیں رہے۔ ”بارہ“ کا ہندسہ تو یوں بھی انہیں راس نہیں جبکہ 2012 سر پر چڑھا ہوا ہے اور ماضی میں مقید مفکرین کو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ وقت کے تیور کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں بلکہ ہو چکے ہیں۔
میں ن لیگ کے بارے فکر مند ہوں اور یہ فکر مندی اصولی بھی ہے اور منطقی بھی کیونکہ میں روز اول سے ”تیسری قوت“ کی ضرورت کا قائل ہوں جس کے لئے مجھے ”مثالیت پسندی“ کا طعنہ بھی سننا اور سہنا پڑا لیکن یہ بات میرے سیاسی ایمان کا بنیادی پتھر ہے کہ صرف دو پارٹیوں کی اجارہ داری سیاسی فرعونوں کو جنم دیتی ہے اور باعزت سیاسی ورکرز کے لئے سیاست قسطوں میں ذلت بن کر رہ جاتی ہے۔ پارٹی ”مالکان“ سیاسی پارٹیوں کو ذاتی فیکٹریوں اور جاگیروں کی طرح چلاتے ہیں سو ان کی بلیک میلنگ اور مافیائی سیاست کا زور توڑنے کے لئے تیسری قوت بیحد ضروری ہے سو اگر ن لیگ اک خاص حد سے زیادہ پتلی ہو جاتی ہے تو سمجھیں کھوتی پھر بوڑھ کے نیچے آ گئی یعنی پھر وہی دو پارٹی سسٹم والی نحوست … اصل بات یہ کہ تین پارٹیاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ریس میں رہیں۔ میں پہلے بھی یہ لکھ چکا کہ میری ناقص عقل کے مطابق ملک کی مین سٹریم پارٹیوں میں شخصی آمریت کو جینوئن جمہوریت سے ری پلیس کرنے کا صرف یہی اک طریقہ ہے ورنہ اس نام نہاد جمہوریت کا ہول سیل کاروبار کرنے والے موروثیت مارکہ قائدین اسی طرح بیٹوں، پوتوں، دامادوں اور رشتہ داروں کی سیاست کر کے باعزت سیاسی ورکرز کی توہین و تذلیل کرتے رہیں گے۔ ان کی گردنوں میں سے سریئے نکالنے کے لئے سہ جماعتی سسٹم ملک کے لئے امرت دھارا ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں چشم تصور سے صرف اتنا ملاحظہ فرمائیں کہ پیپلز پارٹی سی ای سی کی میٹنگ ہے۔ ان کی گود میں کھیلا ہوا بلاول… بھٹو… زرداری یہ میٹنگ چیئر کر رہا ہے اور اعتزاز احسن، بیرسٹر اعتزاز احسن، دیانت اور ذہانت کا پیکر اعتزاز احسن اپنے چیئرمین کے سامنے اپنے سفید بالوں سمیت ”مودب“ بیٹھا ہے۔
یہ جمہوریت نہیں لعنت ہے۔
مختصراً یہ کہ ن لیگی قیادت کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ درمیانی سطح سے نچلی سطح تک ضرورت سے زیادہ جھاڑو نہ پھر جائے۔

 
عمران خان نے یہ کیا کہہ دیا؟ جواب آگیا!!!...کس سے منصفی چاہیں…انصار عباسی
گزشتہ ہفتہ سیاسی ہلچل سے بھرپور تھا۔ اگر ایک طرف وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا پہلے ”شیر“ بن کر اپنی ہی فوج پر حملہ کرنااور پھر اِسی تنخواہ پر کام کرنے کا ڈرامہ تھا تو دوسری طرف محترم جاوید ہاشمی کا مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا سیاسی دھماکا تھا جس نے ایک طرف (ن) لیگ کے اندر بھونچال پیدا کر دیا تو دوسری طرف تحریک انصاف میں خوشی کی ایک لہر دوڑا دی۔ کراچی میں ایک بہت بڑے جلسہ کا انعقاد کر کے تحریک انصاف نے اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا جس سے یقینی طور پر ایم کیو ایم اور پی پی پی کو پریشانی لاحق ہو گئی ہو گی ۔ کیا اتنا بڑا جلسہ کبھی اپنے گھر میں ایم کیو ایم منعقد کرا سکی؟؟؟ گزشتہ ہفتہ ہی قصور میں تحریک انصاف کے جلسے کے اختتام پر عوام کی طرف سے کرسیوں کی چوری کے live شو نے ہمیں پوری دنیا میں تماشا بنا دیا۔ کسی نے تحریک انصاف کو اِسی بہانے تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو قصور کے بیچارے لوگ صفائیاں پیش کرتے ہوئے سنائی دیئے کہ وہاں کے لوگ ایسے نہیں۔ کچھ نے کہا کہ یہ کوئی سازش تھی۔ سچ پوچھیں تو جو منظر قصور کے جلسے کے اختتام پر ٹی وی چینلز نے دکھایا یہی حال پورے پاکستان کا ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ چور اور ڈاکو اِس ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں مگر سچ یہ بھی ہے کہ عوام کو بھی جب چوری کا موقع ملتا ہے تو وہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے…!! چوری کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں مگر تربیت کی کمی اور ”احتساب“ سے بے خوفی نے اِس ملک کی ایسی حالت بنا دی ہے کہ سب لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ جو اِس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوتے اُن کو بے وقوف اور پاگل سمجھا جاتا ہے۔ کیا ہم نے دیکھا نہیں کہ کس جوش و خروش اور فخر کے ساتھ بچے  بوڑھے  جوان اور حتیٰ کہ عورتیں قصور میں کرسیوں کی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے۔ نہ کوئی شرمندہ تھا اور نہ ہی کسی کو اللہ کے سامنے جوابدہی کا ڈر تھا  سب لوٹ کھسوٹ کے موج مزے میں مصروف تھے۔ حکومت کی نااہلی  احتساب کے نظام کی عدم موجودگی  قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے جرم کرنے کے ڈر سے مکمل بے خوفی جیسے عوامل اپنی جگہ مگر انفرادی طور پر اگر ہم اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو پتا چلے گا کہ جھوٹ سچ  اصل نقل  گناہ ثواب اور حق و باطل کا فرق ہی ہم نے بھلا دیا۔ ہمارا اپنا کیریئر ہو یا بچوں کا معاملہ، ساری توجّہ پیسہ بنانے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے کے حصول پر ہے۔ ہم نے اپنے ضمیر کو مار دیا  دین کے اُصولوں کو بھلا دیا اور دُنیا کی کامیابی کو اپنا مطمح نظر بنا لیا ہے۔ اِن حالات میں صرف اہلیان قصور کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہم سوچیں۔ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی جرأت کریں تو یہ شرمندگی ہم سب کی یکساں ہے ۔ لندن میں مقیم میرے ایک دوست اور تحریک انصاف کے سرگرم رہنما (جن کا نام واجدعباسی ہے مگربھاجی کے نام سے دوستوں میں جانے جاتے ہیں) نے قصور کے واقعہ پر ازراہ مذاق ایک دلچسب تبصرہ کیا۔ بھاجی نے کہا کہ اُنکی پارٹی کے قصور کے جلسے میں پارٹی ورکرز کی طرف سے کرسیاں اُٹھا لے جانے کا اصلی پیغام یہ تھا کہ تحریک انصاف کرسی کی سیاست نہیں کرتی اور یہ کہ ”کرسی پر اصل حق عوام کا ہے“ جو ہم نے ثابت کر دیا۔
دوسری طرف کرسی کے نشے میں دھت وزیراعظم گیلانی نے کسی کے کہے پر ”شیر“ بنتے ہوئے اپنی ہی فوج پر چڑھائی کر دی اور ایسے الزامات لگا دیئے جو انتہائی سنگین تھے۔ میمو اسکینڈل نے حکومت کی دُم پر کچھ ایسا پاؤں رکھا ہے کہ وزیراعظم اپنی ہی فوج کیخلاف اِس انداز میں اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں شاید اب دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔ گیلانی کے ان بیانات پر عمران خان صاحب اور چوہدری نثار صاحب کو اپنے باہمی اختلافات کے باوجود یہ کہنا پڑا کہ ایسا لگتا ہے جیسے میمو سازش پر حکومت نے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اصلی حقیقت کیا ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر اپنی پرانی روش (جو حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں آزاد عدلیہ اور آزاد صحافت کیخلاف بارہا آزمائی) کو دہراتے ہوئے فوج کو جمہوریت کیلئے خطرہ اور سازش کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر امریکیوں کو دیے گئے ویزوں کے متعلق پوچھا گیا تو پھر گیلانی صاحب یہ بھی پوچھیں گے کہ اُسامہ کو کس نے پاکستان کا ویزا دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ فوج کو مجبور کیا جائے کہ وہ میمو اسکینڈل پر اپنے موقف سے پھر جائے، چاہے اِس سے پاکستان کو کتنا ہی سنگین خطرہ کیوں نہ ہو۔ گیلانی صاحب اور اُنکی زبان سے فوج کیخلاف پراپیگنڈہ کروانے والوں کو دوسرے ہی دن شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب آرمی چیف نے صاف صاف کہہ دیا کہ فوج کسی بھی غیرآئینی اقدام کیلئے تیار نہیں اور یہ کہ مارشل لاء لگانے کی محض افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم کا نام لئے بغیر اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ یہ افواہیں اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔ میمو اسکینڈل کی طرف واضح اِشارہ کرتے ہوئے جنرل کیانی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ قومی سلامتی کیلئے کسی بھی معاملہ پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا…!! اِس بیان پر ”شیر“ وزیراعظم فوری بکری بن گئے اور جنرل کیانی کے بیان کا خیرمقدم کیا حالانکہ جنرل کیانی نے کہا کہ افواہیں (جو وزیراعظم نے پھیلائیں) اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پھیلائی گئیں اور یہ کہ فوج میمو اسکینڈل پر اپنے موقف پر قائم ہے۔ گیلانی صاحب اور اُنکے سیاسی پیر صدر زرداری جو چاہے سیاست کریں مگر پاکستان کی عوام میمو معاملہ پر ایک آزاد انکوائری کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ہمارے درمیان کوئی دشمن کا ایجنٹ تو موجود نہیں۔ یقیناً یہ ایک اصول کی بات ہے کہ منتخب حکومت کو گرانے کیلئے فوج کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کوئی غیرآئینی کام کرے، مگر اسکے ساتھ ساتھ کسی حکمران کو یہ بھی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذاتی خواہش اور مفاد کی خاطر عدلیہ اور فوج جیسے قومی اداروں کی تضحیک کرے اور اُن کو تباہ کرنیکی سازش کرے۔
دوسری طرف اپوزیشن میں آمنے سامنے کھڑی (ن) لیگ اور تحریک انصاف ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں۔ جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت اس پارٹی کیلئے اب تک کی یقیناً سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جبکہ (ن) لیگ کیلئے یہ انتہائی شدید سیاسی SetBack ہے۔ اگر (ن) لیگ نے اپنی طرز سیاست میں کوئی تبدیلی نہ کی تو ممکن ہے کہ (ق) لیگ کی طرح (ن) لیگ کے رہنماؤں کو بھی تحریک انصاف کھانا شروع کر دے۔ ایاز امیر تو پہلے ہی بے چین بیٹھے ہیں  اب دیکھتے ہیں اور کون کون ملکی اور عوامی مفاد میں عمران خان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے۔ یقیناً عمران خان نے دس دس اوورز کے میچ میں پہلے ہی اوور میں میاں صاحب کو چھکا دے مارا۔ دیکھتے ہیں اگلے اوورز میں کیا ہوتاہے…؟؟ یہ بھیڑ چال تو جاری ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدّت آئے گی مگر عمران خان کے ایک تازہ بیان نے اُن کے اصل ایجنڈے کے متعلق کئی سوال اُٹھا دیے۔ ایک ٹی وی چینل میں عمران خان کے طلبہ کے ساتھ دکھائے جانے والے سوال و جواب سیشن میں جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ عورتوں کے حقوق سے متعلق آپ کی کیا پالیسی ہو گی تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ عورتوں کے لباس پر کوئی پابندی نہیں لگائیں گے ۔ اللہ اور رسول کی بات کرنے والا، ایمان کی طاقت پر بھروسا کرنے والا اور علامہ اقبال کی سوچ پر فخر کرنے والا عمران خان یہ بات کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟ اگر ماضی کا پلے بوائے کرکٹر عمران خان یہ بات کرتا تو کوئی مسئلہ نہ تھا مگر قرآن کو پڑھنے اور اُس کو سمجھ کر تبدیل ہونے والے آج کے عمران خان نے یہ کیسے کہہ دیا؟ اگر اللہ اور اللہ کے رسول نے عورتوں کے لباس کے متعلق فیصلہ دے دیا اور ایک پابندی لگا دی تو کوئی مسلمان ایسی پابندی سے کیسے اختلاف کر سکتا ہے۔ عمران کون سا نظام لانا چاہتے ہیں؟؟ کہیں وہ کمال اتا ترک اور جنرل مشرف کی روشن خیالی کا پیروکار تو نہیں؟؟ اس بات کی وضاحت ضروری ہے،ایسا نہ ہو کہ کہیں تحریک انصاف اور عمران کے بہت سے چاہنے والوں سے کوئی دھوکہ ہو جائے؟؟؟ ویسے عمران خان کے اس بیان پر وینا ملک جیسے ”روشن خیال “کافی خوش ہوں گے۔ذہن میں اٹھنے والے ان سوالات کے بعد میں نے اتوار کی شام عمران خان سے اس سلسلے میں استفسار کیا تو انکا کہنا تھا کہ وینا ملک جیسے لوگ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں کرسکتے اور یہ کہ ملک میں قرآن و سنّت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ مجھے امید ہے کہ عمران خان نے جو بات مجھ سے کہی ہے، وہ عوام کے سامنے بھی کرینگے۔
جاوید ہاشمی صاحب ! یہ آپ نے کیا کیا ؟ عمار چوہدری
جاوید ہاشمی بن کر سوچنا ہو گا۔ جاوید چوہدری
اجمل نیازی !ڈاکٹر“ جاوید ہاشمی”
جاوید ہاشمی ایک سچے اور دلیر پارلیمنٹرین کے طور پر پارلیمنٹ میں بولتا ہے۔ ورنہ ہمارے ممبران صرف اپنے پارٹی لیڈر کی باتوں کی جگالی کرتے ہیں۔ اس کی ہاں میں ہاں اور نہیں میں نہیں ملاتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ صدیق الفاروق بھی صرف نواز شریف کا ترجمان بن کے رہ گیا ہے۔ کبھی وہ اپنے دل کی ترجمانی بھی کرتا تھا۔ یہی حال دل والے پرویز رشید کا ہوا ہے۔ اس کا یہ کام البتہ بہت قابل تحسین ہے کہ وہ راجہ انور کو پنجاب حکومت میں کام پہ لے آیا ہے۔ اب یہ بھی کرے کہ اسے کام کرنے دیا جائے۔ ہمارے حکمرانوں کو جب تک افسروں کی محتاجی سے نجات نہیں ملے گی تو کچھ نہیں ہو گا۔ بیورو کریسی کو برا کریسی بننے سے روک لیا جائے مگر یہ شاید ابھی ناممکن ہے۔ جاوید ہاشمی نے قوم سے معافی مانگی ہے کسی سیاستدان سے نہیں مانگی۔ ہمارے سیاستدان غلطیاں قبل از وقت کرتے ہیں اور معافی بعداز وقت مانگتے ہیں۔ وقت پر کوئی کام کرتے ہی نہیں یا انہیں کرنے ہی نہیں دیا جاتا۔ یہ دونوں ایک ہی کام ہیں۔ جاوید ہاشمی نے جنرل ضیا کا وزیر شذیر رہنے پر معافی مانگی ہے۔ ”گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر“ معافی مانگتے ہو تو تلافی بھی کرو، جاوید ہاشمی نے تو اپنے طور پر بہت تلافی کر لی ہے۔ یعنی اپنا نقصان کر لیا ہے۔ مگر اس کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہوا یہ تلافی اس طرح بھی ہو گی کہ اس نے اپنے لیڈروں پر بھی زور دیا کہ تم بھی معافی مانگو۔ تم نے بھی میرے جیسا کام کیا تھا۔ یہ میرے کام سے بڑا تھا۔ نواز شریف وزیراعلی بنے۔ جنرل ضیا کے بعد۔ اس کی عمر گزار رہے ہیں اس کی دعا قبول ہوئی اس نے دعا کی تھی: اے اللہ! میری عمر بھی نواز شریف کو لگا دے! وہ بابر بادشاہ کی طرح اپنی جان ہار گیا اور نواز شریف ہمایوں کی طرح ”بادشاہ“ بن گیا۔ اس نے وزارت عظمٰی کو شاہی میں بدلنے کی کسی حد تک کامیاب کوشش کی اور جنرل ضیا کی طرح امیرالمومنین بنتے بنتے رہ گیا۔ ہمارے صوفی دانشور بزرگ واصف علی واصف نے خوب کہا کہ جس قوم کے لوگ معافی مانگنے اور معافی دینے میں دیر اور ضد کرتے ہیں غرور میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ قوم ذلیل و خوار ہو جاتی ہے۔ معافی مانگنا اور معاف کرنا نواز شریف کی ڈکشنری میں ہی نہیں۔ اس میں سارے ایسے الفاظ ہی نہیں۔ چودھری برادران نے ایسا ہی ”جرم“ جنرل مشرف کے حوالے سے کیا ہے۔ مگر یہی کام جنرل ضیا کے ساتھ جرم نہیں۔ ضیا نے بھٹو کی حکومت توڑی اور اسے پھانسی دی۔ وہ بھی بھٹو کو معاف کرتا مگر بھٹو نے بھی معافی نہ مانگی۔ ایسا موقعہ آتا ہے زندگی میں کہ معافی نہ مانگنا اور معاف نہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے مگر ہم ضروری اور غیر ضروری میں فرق نہیں کرتے۔
ہمارے سیاسی منظر نامے میں ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جو جرنیلوں اور ایجنسیوں کی پیداوار نہ ہو۔ یہ گملوں میں اُگے ہوئے درخت ہیں۔ ان کی چھاﺅں میں بسنے والے اور پھل کھانے والے مخصوص اور ذاتی لوگ ہیں۔ موروثی سیاست اور خاندانی حکومت نے اس ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ پارٹی لیڈر کو چھوڑیں کہ وہ صرف پارٹی لیڈر ہیں لیڈر نہیں۔ عام ممبران بھی اسمبلی کی رکنیت گھر سے باہر نہیں جانے دیتے اور بیورو کریٹس افسری کو صرف اپنے گھر میں اور اپنے دفتر کے اندر رکھتے ہیں۔ شریف برادران جاوید ہاشمی کے اس قلندرانہ مشورے پر عمل کریں تو وہ سرخرو ہوں گے۔ مگر چودھری نثار اور اس کے جیسے لوگ انہیں یہ نہیں کرنے دیں گے۔ وہ صرف انہیں سرشار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مدہوش ہونے اور مغرور ہونے میں فرق کرنے ہی نہیں دیا جاتا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نواز شریف کو بے عزت کرانے والا چودھری نثار ہے۔ بلیک میلنگ سے خود کو سینئر وزیر اور پھر اپوزیشن لیڈر بنوایا، فرینڈلی اور سرکاری اپوزیشن کے نعرے تخلیق کرائے۔
بے نظیر بھٹو کو شہید سب مانتے ہیں اور کون تھا جو اس کی موت پر رویا نہ ہو۔ خود نواز شریف پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں سے پہلے ہسپتال پہنچے تھے اور یہ اچھی سیاسی روایت تھی۔ مگر کیا اپنے طور پر پارٹی کا کوئی آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ ن والوں کو جاوید ہاشمی کے عمران کے دھرنے میں جانے پر بھی اعتراض ہے۔ اب چودھری نثار نے عمران پر ایجنسیوں کے حوالے سے الزام تراشی کی ہے۔ یہ الزام درپردہ جاوید ہاشمی پر لگایا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ وہ خود ایجنسیوں سے رابطوں کے لئے مشہور ہے۔ اس کے لئے نواز شریف کی پسندیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ایجنسیوں سے رابطے کے لئے بہت موزوں شخص ہے۔ ملک غلام سرور بھی ق لیگ کی حکومت میں وزیر تھا مگر اس کا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے چودھری نثار کو کئی بار شکست فاش دی ہے۔ دیہاتی کھرے پن کے ساتھ اپنے لوگوں میں گھل مل کر رہنے والا سرور جاوید ہاشمی کو پسند کرتا ہے۔ جاوید ہاشمی نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اب جاوید ہاشمی کو ڈاکٹر جاوید ہاشمی کہنا چاہئے۔ شیخ رشید کی طرح وہ بھی مجید نظامی سے عقیدت رکھتا ہے۔ مجید صاحب کی شفقت دونوں کو حاصل ہے۔ سارے منجھے ہوئے سیاستدان زرداری کے سامنے حیران ہیں اور نواز شریف پریشان ہے۔ ہمارے ایک غیر سیاسی دانشور ڈاکٹر شبیہ الحسن نے ہمدردانہ انداز میں کہا کہ شریف برادران بالخصوص نواز شریف کرکٹ کے کھلاڑی ہیں اور صدر زرداری شطرنج کے کھلاڑی ہیں۔ دونوں کا کیا موازنہ اور کیا مقابلہ۔ اب چال چلی جا رہی ہے کہ شریف برادران کو صرف پنجاب تک مصروف رکھواور محدود کر دو۔ زرداری حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دینے والے سیاستدان اور میڈیا کے لوگ تنگ آ گئے ہیں مگر انہیں صدر زرداری نے ”تنگ آمد بجنگ آمد“ نہیں ہونے دیا۔ کسی ایک مخالف کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ ایسی ایسی سیاسی چال چلی گئی کہ آپ بے شک اختلاف کریں مگر آپ کو اعتراف بھی کرنا پڑے گا۔ آپ ان سیاسی چالوں کو بری چالیں تو کہہ سکتے ہیں مگر ناکام چالیں نہیں کہہ سکتے۔ یہ نعرہ لگا کہ اک زرداری سب پر بھاری۔ تو مذاق اڑانے والے خود مذاق بن گئے ہیں۔ زرداری سیاست اچھی نہیں ہے تو دوسرے بھی اس سیاست کے کھیل کا حصہ ہیں۔ آخر میں جاوید ہاشمی کے لئے علامہ اقبال کے دو شعر جو ڈاکٹر جاوید اقبال کے ہمسفر اور ہم عمر لوگوں کے لئے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جن کا نام جاوید ہے۔ ....
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
قبرستان میں اذان ؟... صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
آپ مانیں گے تو نہیں لیکن میں مشورہ دینے سے باز نہیں آؤں گا کہ یارو سیاستدانوں کو طعنے دینے چھوڑ دیں کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ طعنے دینا ہمارے کلچر اور مزاج کا ناگزیر حصہ ہے اس لئے مجھے خطرہ ہے کہ آپ باز نہیں آئیں گے۔ کہتے ہیں کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا لیکن عادتیں بقول صوفی شاعر میاں محمد صاحب سر کے ساتھ نبھتی ہیں۔ عزیزی جاوید ہاشمی کے بیان سے آپ کو یہ اندازہ تو بہرحال ہو گیا ہو گا کہ اس حمام میں ماشاء اللہ سبھی ننگے ہیں۔ عزیزم جاوید ہاشمی جب معافی کا دریا بہانے پر آیا تو تقریباً سبھی سیاستدانوں کو اس میں بہاتا چلا گیا اور خود بھی معافی کے دریا میں غوطے کھانے لگا۔ اس میں جاوید ہاشمی کا قصور نہیں کیونکہ گزشتہ چار پانچ برسوں سے پاکستان میں معافی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور حکمرانوں و سیاستدانوں کی بڑی تعداد قوم سے معافیاں مانگ چکی ہے لیکن اس کے باوجود نہ سیاسی موسم کے انداز بدلے ہیں اور نہ ہی اس سے عوام کو کوئی فائدہ پہنچا ہے اس لئے اب میرا جی چاہتا ہے کہ جاوید ہاشمی کو مشورہ دوں عوام سے معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے عوام کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، نہ مہنگائی کم ہو گی اور نہ ہی اس سے لوڈ شیڈنگ کے تیور بدلیں گے ، نہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے معافی مانگنے سے پولیس اور انتظامیہ کے مظالم کم ہوں گے، نہ اس سے غربت کی رفتار پر اثر پڑے گا اور نہ ہی کرپشن لوٹ مار اور رشوت کا سلسلہ رکے گا، اس لئے میری گزارش ہے کہ عوام سے معافی مانگنے کی بجائے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے معافی مانگیں شاید اس کی رحمت جوش میں آ جائے اور عوام کی سختیاں، مشکلات اور مسائل کم ہو جائیں ورنہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے اندازنہ بدلے ہیں نہ بدلیں گے۔ جاوید ہاشمی نے چونکہ برملا پاکستانی عوام کے سامنے بڑے بڑے نامور سیاستدانوں اور حکمرانوں کو معافی کی سُولی پر چڑھا دیا اس لئے بہت سے لیڈران اس سے شدید ناراض ہو گئے ہیں اور ان لیڈران کے حواریوں اور درباریوں کو بھی نمبر ٹانکنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ ان لیڈران کی ناراضگی کی اصل وجہ تو ان کے باطن کا غرور اور تکبر ہے کیونکہ وہ اتنی بلندیوں پر اڑ رہے ہیں جہاں سے عام لوگ انہیں کیڑوں مکوڑوں کی ایک قسم دکھائی دیتے ہیں اس لئے وہ ان کیڑوں مکوڑوں سے معافی مانگنے کا سوچ بھی نہیں سکتے چنانچہ انہیں جاوید ہاشمی کا مطالبہ اپنی ہتک اور توہین محسوس ہوا ہے۔ جن عوام کی جاوید ہاشمی بات کرتا ہے وہ تو ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کے حواریوں نے انہیں یقین دلا رکھا ہے کہ وہ عقل کل ہیں اور ان سے بڑا لیڈر آج تک پاکستان میں پیدا ہوا ہی نہیں۔ وہ جدھر جائیں لوگ ان کی جھلک دیکھنے کے لئے بے چین ہوتے ہیں۔ بھلا ان لوگوں سے وہ معافی مانگیں گے ؟
تیسرا مسئلہ انا کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ہر جماعت کا اپنا اپنا ووٹ بینک ہے اور لیڈروں کو یقین ہے کہ ان کا ووٹ بینک پکا اور سچا ہے ۔ وہ معافی مانگیں یا نہ مانگیں ووٹ بینک میں فرق نہیں پڑے گا اس لئے وہ کیوں بلندی سے اتر کر پستی پر آئیں اور ان لوگوں سے معافی مانگیں جو ان کے لئے زندہ باد کے نعرے لگا لگا کر ہلکا ن ہو رہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جاوید ہاشمی کا دردمندانہ مشورہ ہوا میں اڑ کر رہ گیا اور لیڈران نے اسے اتنی بھی اہمیت نہ دی جتنی کسی رنگ برنگی پتنگ کو ہوا میں اڑتے دیکھ کر دی جاتی ہے ۔ دراصل جاوید ہاشمی کی یہی باغیانہ باتیں اور اصولی سوچ اس کی دشمن ہے جن کے سبب اس نے چھ سات برس پرویز مشرف کی جیل بھگتی اور اس کی قربانیوں کے نتیجے کے طور پر جب چمن میں بہار آئی اور جمہوریت کا سورج طلوع ہوا تو اس کی اپنی پارٹی نے اسے گھاس ڈالنے سے انکار دیا۔ اسے کہتے ہیں ہور چوپو۔ جاوید کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ انقلاب کی باتیں میاں شہباز شریف جیسے دانشور حکمرانوں کو زیب دیتی ہیں نہ کہ جاوید ہاشمی جیسے پیدائشی باغی کو جس نے یونیورسٹی میں شعور کی آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو ذوالفقار علی بھٹو کا قیدی پایا اور قید بھی اتنی ظالم کہ دسمبر کی شدید سردی میں برف کی سلوں پر لٹایا گیا، چھت سے باندھ کر لٹکایا گیا اور تربیت یافتہ تھانے دار محاورے کی زبان میں اسے دن رات ڈرائنگ روم کی سیر کرواتے رہے۔ افسوس برف کی سلیں اور منجمد تودے اس کی اندرونی آگ نہ بجھا سکے، اس کے باطن کا باغی وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا رہا اور اس کے اندر جلنے والی آگ نے نہ صرف اسے پرویز مشرف جیسے آمر سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا بلکہ بدلے ہوئے موسم میں اس پر شدید بیماری کا حملہ کر کے اسے طویل عرصے کے لئے صاحب فراش بھی کر دیا۔ اندازہ تھا کہ اتنی مہلک بیماری اس کے باطن کے باغی کو سمجھدار اور دنیا دار بنا دے گی۔
لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے اس بیماری نے اس کی باغیانہ سوچ کو دوآتشہ کر دیا ہے اور وہ اندلس کا دریا عبور کر کے ایک بار پھر کشتیاں جلانے والا ہے۔ لطف کی بات ہے کہ اس کی باغیانہ سوچ کو سب سے زیادہ شہہ اور عزت افزائی اس پیپلز پارٹی سے ملی جس کی جاوید کے ساتھ روا رکھی گئی مظالم کی داستان میں 1973-74 کے دوران ہفت روزہ زندگی میں پڑھ کر تنہائی میں رویا کرتا تھا۔ اس وقت تک میری اس خوبرو نوجوان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مشرف کے آمرانہ دور میں جب میں اسے جیل میں ملنے گیا تو اس کے حوصلوں، ہمت اور بہادری پر مسکراتا رہا۔ اب جب جاوید ہاشمی کوئی باغیانہ حرکت کرتا ہے تو میں پریشان ہونے کی بجائے ہنسنا شروع کر دیتا ہوں۔ ایک صوفی دوست کا کہنا ہے کہ ہنسنا بھی دراصل رونے کی ہی ایک قسم ہوتی ہے۔ کبھی آنسو آنکھوں سے بہتے ہیں تو کبھی دل سے ٹپکتے ہیں۔ آنکھوں سے بہنے والا پانی تو نظر آتا ہے لیکن دل سے ٹپکنے والا لہو نظر نہیں آتا۔
بات دور نکل گئی کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ قبرستان میں اذانیں دینے کا کیا فائدہ؟ کیا کبھی اذانوں سے مُردوں کے آرام میں خلل واقع ہوا ہے ؟ آپ کہیں گے کہ میں ”مُردوں“ کا ذکر کیوں کر رہا ہوں وہ اس لئے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو انسان بظاہر زندہ ہو وہ اصل میں بھی زندہ ہو۔ میرے نزدیک زندہ انسان وہ ہے جس کا ضمیر زندہ ہے۔ مجھے جاوید ہاشمی کہیں مل جائے تو میں اس کا کان کھینچ کر کہوں کہ بے ضمیروں اور مُردوں کے درمیان کھڑے ہو کر ضمیر کی باتیں کیوں کرتے ہو، قبرستان میں اذانیں کیوں دیتے ہو؟ انقلاب کی باتیں چھوڑو۔ انقلاب کی باتیں صرف انہیں زیب دیتی ہیں جو آمروں کے دست و بازو بنے رہے۔ آمروں کے وزیر مشیر بنے رہے یا پھر آمروں سے معافی مانگتے رہے۔ بھلا آمروں سے اقتدار اور معافی مانگنے والے عوام سے معافی کیوں مانگیں گے؟
ہاں !میں بھی باغی ہوں... حرف بہ حرف…علی مسعود سید
مسلم لیگ (ن) میں صرف ایک ہی ببر شیر ہے اور وہ ہے جاوید ہاشمی ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دو ،چار اور بھی شیر ہیں مگر انہوں نے دوسرے جانور وں کی کھال پہن رکھی ہے،میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ شیر ہے تو سامنے آئے کیونکہ بھیڑیا ،بھیڑ کی کھال پہنے ،گدھا ،شیرکی کھال پہنے تو بات بنتی مگر شیر ،شیر ہی ہوتا ہے شیر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دوسرے جانوروں کی کھال پہنے ،جس طرح جاویدہاشمی صاحب ظاہر اور باطن میں شیر ثابت ہوئے ہیں،جیسے مخدوم صاحب نے اسمبلی کے اندر اور باہر ٹھوک بجا کر کہہ دیا کہ نواز شریف ضیا سے تعلقات اور مشرف سے معاہدے پرمعافی مانگیں درحقیقت یہ تو عنوان ہے اگر مضمون لکھا جائے تو معافی لمبی ہوتی چلی جائے گی ،عدلیہ ،صحافت پر حملہ ،چھانگا مانگا کی سیاست ،چمک ،بد انتظامیوں اور نااہلیوں کی ایک لمبی فہرست ہے،بہرحال یہ ایک ایسا دورہے جس میں ہر ذمہ دار شخص کی ذمہ داری دوگنی ہو چکی ہے ،یہ نئی بنیاد رکھنے کا وقت ہے ،یہ کھانے کا نہیں کما نے کا وقت ہے ،مصلحت کا نہیں ،دو ٹوک بات کرنے کا وقت ہے، جس طرح قربانیاں دے کر یہ پاکستان حاصل کیا گیاتھا ،آج یہ مٹی صر ف اور صرف قربانی مانگ رہی ہے۔
جس طرح کٹھن اور مشکل حالات کے باوجود ہم نے آزادی حاصل کی تھی ، وہی آزادی چاہیے ،نہ وسائل تھے،نہ دفتروں کے لیے سامان تھا ،نہ تنخواہوں کے لیے پیسہ تھا پھر بھی یقین تھا کہ یہ ملک آگے بڑھے گا،اور کچھ نہیں وہی یقین چاہیے ،یقین یہ ہے کہ ہمارے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں جس کی مدد سے ہم ترقی کا آغاز کر سکتے ہیں اور مفاد پرستوں نے ملک کو ہمیشہ برباد کیا ہے ۔یقین جانیئے ! اس ملک کو ایک ان پڑھ شخص بھی بہت بہتر چلا سکتا ہے مگر شرط صرف اخلاص ہے ،لیکن ہم نے تو بہت پڑھے لکھے ،بلکہ عظیم سائنسدانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھاکیونکہ وہ اپنی مٹی سے وفا کا رشتہ استوار رکھتے تھے ، اس لیے کہ وہ علم ،ہنر و سائنس کی دلیل اورفروغ کا باعث بن رہے تھے ، مگر کیونکہ ہمارے ملک کے دشمنوں کویہ پسند نہیں تھا کہ ملک کسی طور خود مختار ہو اور اس ملک کا سب سے بڑا دشمن امریکہ، دوست کی شکل میں ہمیں تباہ کرتا رہا ہے لہذا ،ہمارے مفاد پرست طبقے نے ہمیشہ ملک دشمنی ہی کی ہے ۔
امریکہ ہمیں قرضہ دیتا ر ہا ہے مگر ہماری معیشت تباہ کرتے رہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت ہمارے ہی ملک کو آگ لگاتے رہے ، ہماری سرحدوں کو پامال کرتے رہے ۔ آج اشارہ ہوا تو آٹھ سال بعد عمران خان دھرنادینے نکلے ، شہباز ِپنجاب نے بھی نعرہ لگایا کہ ہم ڈرون کے خلاف مارچ کریں گے۔سو بسم اللہ۔۔مگر اپنے پہلے رویے پر معافی مانگیں اور قوم کو بتائیں در پردہ ہم سب آپس میں ملے ہوئے تھے اور کبھی مخالفت کر کے اور کبھی جانبداری کر کے ہم اپنے مفادات کا کھیل کھیلتے رہے ہیں۔ ہاشمی صاحب نے سچ کہا بلکہ انہوں نے ایک بڑا سچ کہااور کچھ لوگوں کے تحفظات کا خیال نہیں کیا ، جو اب تک اپنی غلطی بھی تسلیم نہیں کرنا چاہتے ۔
اصل میں بھٹو خود ایک سچ ہے ، اور سچ سر چڑھ کر بولتا ہے ،بھٹو کو اس لیے نہیں مارا گیا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو برداشت نہیں کرتا تھا بلکہ اس کو اس لیے مارا گیا کہ وہ اپنی حکومت پر امریکہ کی حکومت برداشت نہیں کرتا تھا ، اس نے ایسے بہت سے کام کردیے تھے ،جس کے بعد CIA نے اسے سزائے موت سنا دی تھی اور ہنری کسنجر نے عبرت ناک انجام کی دھمکی دی تھی۔آپ کا ذاتی بغض اپنی جگہ مگر بتائیں بھٹو اور امریکہ کی دشمنی میں آپ نے کس کا ساتھ دینا ہے، آپکایہ فیصلہ ایک واضح لکیر کھنچتا ہے اور اگر میں نے اس لکیر کو لمبا کیا تو پھر چلا اٹھیں گے ۔ایک ذمہ دار نما صاحب بلوچستان کے مسئلے پر ایران سے کچھ اس طرح ناراض نظر آئے کہ جیسے امریکہ کی مدد لے کر ایران سے لڑ پڑیں گے ، ہماری عقلوں کا جنازہ اسی تنگ گلی سے اٹھتا ہے ،بھائی صاحب !یہ ملک امریکہ کا غلام ہے ،یہاں امریکہ کا راج ہے ،تم اس کا قرضہ کھاتے ہو اور دوسرے دن پھر مانگنے جاتے ہو ، تم اپنی حقیقت کھو چکے ہو ،تم اپنی جان کے دشمنوں کے کہنے پر اپنے بازو کاٹ چکے ہو ،تمہیں کون فولاد مانے جبکہ تم بودے ثابت ہوچکے ہو، تمہیں دوست دشمن کی تمیز نہیں رہی ہے ،صورت کچھ ایسی بنتی ہے کہ تمہیں دنیا میں امریکی پٹھووں کے طور میں دیکھا جاتا ہے ۔
یہ امریکہ ہی ہے کہ جس نے پہلے آپ کے ایٹمی پروگرام کے خالق کو پھانسی لٹکایا پھر آپ کے ایٹم بم کے خالق کو اندر کیا،محسن پاکستان کو قطرہ قطرہ آزادی کی اعصابی جنگ لڑنی پڑی ،پہلے وزیر داخلہ نے کچھ چالاکیاں کیں اور ایک نام نہاد معاہدہ تھوپ دیا۔
پھر عدالتوں میں معاملہ گھسیٹ گھسیٹ کر ادھ مویا کردیا۔ پیغام یہی تھا کہ آزادی نہیں اجازت لینی ہو گی ،ہر قدم پر اجازت۔گھیر لیا اور نہا دھو کر آگئے بلکہ فرمائشیں کرنے لگے،وہ لوگ جنہوں نے پرویز مشرف کے کہنے پر محسنان ِپاکستان پر عرصہ حیات تنگ کردیا تھا آج بھی براجمان ہیں اوربھلے سے لگتے ہیں،اب ڈاکٹر صاحب کچھ تقریبات میں جاپاتے ہیں، جیسے ”جنگل میں مو ر ناچا“16 اپریل صبح ڈاکٹر صاحب لاہور ائیرپورٹ پر اترے ، قیدی قافلہ پوری سیکورٹی میں رینالہ خوردمیں اسکول کے افتتاح کے لیے روانہ ہوا،ڈاکٹر صاحب کے بہت اچھے دوست چوہدری جاوید نے مدعوکیاتھا جبکہ انتظام ،بحرین کے کامیاب پاکستانی بزنس مین چوہدری اکرم نے کیا تھا ،چوہدری اکرم علاقے کی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
تقریب میں بہت اچھی اچھی باتیں ہوئیں ،ہاں اگر مجھے موقع دیا جاتا تو ضرور کچھ دوسری باتیں کرتا،یہی وجہ ہے کہ میری موجودگی تصور ہی نہیں کی جارہی تھی ،سیکورٹی افسر صاحب خود ہی اسٹیج پر براجمان ہوگئے ،میں ان کو جانتا ہوں اور وہ مجھے ۔۔۔مگر تجاہل ِ عارفانہ سے کام لیتے رہے یوں انہوں نے ایک بار پھر مجھے نیچے کی طرف دھکیل دیااور کرسی پر قبضہ کرلیا،اس ملک کا یہی تو المیہ ہے ،جناب میرا کیا ہے ،درویش آدمی ہوں ،یقین رکھتا ہوں ،زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اگر اس اسٹیج سے نہیں بولنے دیا گیا تو کسی اور مقام سے بولوں گااور آخری لائن یہ ہے کہ قیدی قافلہ جس طرح آیا تھا ،اسی طرح روانہ ہواصبح آٹھ سے ساڑھے تین بجے تک میں بھی بصد شو ق قیدی بنا رہامگر نجانے کیا کھلایا کہ ہفتہ بھر معدہ خراب رہا۔
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے... قلم کی آواز…سید انور قدوائی
مخدوم جاوید ہاشمی نے سیاست کے نقار خانہ میں ایک ایسا زور دار آوازہ بلند کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان ہی میں نہیں ملک بھر میں سب کی گردنیں ان کی جانب گھوم گئی ہیں اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی ہی قیادت پر صرف تنقید ہی نہیں کی بلکہ دونوں قائدین سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ آمر سے ڈیل کر کے ملک سے باہر جانے پر قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے صدر آصف زرداری، عمران خان اور اسفند یار ولی کے بھی نام لئے ہیں تاہم انہوں نے اس نیک کام کا آغاز اپنی ذات گرامی سے یہ کہہ کر کیا کہ ”میں ضیاء دور میں ان کی کابینہ میں شمولیت پر اس ”ایوان“ اور قوم سے معافی مانگتا ہوں“۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”بہت دیر کی مہرباں آتے آتے“ کہ جناب ہاشمی 1980ء میں اسوقت جنرل صاحب کے نائب وزیر تھے جب چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا راج تھا اور جناب مخدوم کو اپنے اس سیاسی گناہ اور غلطی کا احساس دو چار نہیں 31 سال بعد ہوا ہے۔ ان سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایسا پہلے کیوں نہیں ہوا کہ ان پر ہر دور میں ”ضیاء حمایت“ کا الزام لگتا رہا ہے۔ اتنے طویل عرصہ کے بعد وہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے انہیں معافی مانگنے پر مجبور کر دیا اور اس پر طرہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے قائدین سے بھی ایسا کرنے کا نہ صرف مطالبہ کر دیا بلکہ ایک چونکا دینے والی بات یہ کہہ دی ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف سابق صدر مشرف سے ڈیل کر کے سعودی عرب گئے تھے جبکہ ماضی میں انکی پارٹی اور قیادت اسکی سختی سے تردید کرتی رہی ہے اور حقائق بھی جناب ہاشمی کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس وقت جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں سابق صدر اور سعودی حکومت فریق تھے۔ ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد، قطر کے امیر، سعودی فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے حکمران وہ شخصیات تھیں جن کی جانب سے سابق صدر پر مسلسل دباؤ تھا کہ میاں برادران کو رہا کیا جائے۔ قطر کے امیر سے بھی مذاکرات ہوئے اور 10 دسمبر کو جب میاں برادران اور ان کا خاندان جدہ روانہ ہوا اس وقت قطر ایئر لائنز کا بھی ایک خصوصی طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر انہیں لے جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف نے جنرل مشرف کے نام درخواست دینے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے وکیل اعجاز بٹالوی مرحوم کی جانب سے سزا ختم کرنے کے لئے جو درخواست دی گئی تھی وہ اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کے نام تھی۔ جاوید ہاشمی کی پارٹی قیادت سے ناراضگی اپنی جگہ لیکن حقائق توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرنے چاہئیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ قومی لیڈر وہی بڑا اور عظیم ہوتا ہے جو ملک و قوم کے لئے جان تک دینے کے لئے تیار ہو۔ لیکن شریف برادران پر ایسا نہ کرنے کا الزام بھی عائد نہیں کیا جا سکتا۔ میاں نواز شریف نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں یہاں تک کہ قید تنہائی بھی کافی۔ یہ کتنی اذیت ناک ہوتی ہے افریقی دنیا کے عظیم لیڈر جناب نیلسن منڈیلا کی سوانح حیات میں اس کا تفصیلاً ذکر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف آخری وقت تک جلاوطنی پر تیار نہیں تھے۔ اور جب شریف برادران ڈیل سے انکار کرتے ہیں تو پھر معافی کس بات کی۔ جہاں تک آمروں سے تعاون اور حمایت کا تعلق ہے تو اس کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ضیاء دور میں وفاقی وزیر، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صوبائی وزیر خزانہ رہے ہیں۔ جناب بھٹو ایوب دور میں وزیر خارجہ، یحییٰ دور میں ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ تھے۔ قائد اعظم علیہ الرحمہ کے ساتھی چودھری خلیق الزمان کنونشن لیگ کے چیف آرگنائزر، فضل القادر چودھری پہلے وزیر اور اس کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر، مولوی تمیز الدین خان ، محمد علی بوگرہ اور صوبر خان وفاقی وزیر ہوا کرتے تھے۔ جمہوریت کے بہت بڑے داعی اور بڑے نام کے سیاستدان سیّد حسین شہید سہروری محمد علی بوگرہ کی اس کابینہ میں سینئر وزیر تھے جو دستور ساز اسمبلی توڑنے کے بعد قائم کی گئی اور فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان اس میں وزیر دفاع تھے۔ ان سب کی جانب سے بھی تو ”عوامی معافی“ مانگنی ہو گی۔ جاوید ہاشمی نے اگرچہ دیر کی ہے لیکن فیصلہ ہر صورت درست ہے کہ ماضی کے سیاسی گناہ پر کم از کم نادم ہو کر معافی تو مانگی جائے اور اس بات کا عہد کیا جائے کہ آئندہ کوئی سیاستدان ، سیاسی کارکن ایسی غلطی نہیں کرے گا ۔ تاہم جو لوگ ایسے حالات پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے غیر جمہوری طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو ان کی بھی تو سزا مقرر کی جائے۔ پلٹ کر دیکھئے تو ایوب خان کا عوامی خیر مقدم کیا گیا، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے ان سے ملاقات کر کے خوشنودی کا اظہار کیا تھا، کیا جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء کابینہ میں قومی اتحاد کی جماعتوں کے نمائندے شامل نہیں تھے اور لوگوں نے حلوے کی دیگیں پکاکر اس کا خیر مقدم نہیں کیاتھا۔ یہ درست ہے کہ بھٹو مرحوم کو ہٹانے اور تختہ دار تک لے جانے میں امریکہ کی اشیرباد شامل تھی جس کا اظہار خود جناب بھٹو نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کیا تھا تو اسکا تدارک کیوں نہیں کیا گیا۔ ماضی میں جو کچھ ہو گیا اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور حکمران پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو صرف ایک نکتہ پر متحد و متفق ہو جانا چاہئے کہ ملک میں ہر صورت اور ہر قیمت پر جمہوری اداروں کا نہ صرف تحفظ کیا جائے گا بلکہ انہیں مضبوط کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ صدر زرداری جس مفاہمت و مصالحت کی پالیسی پر رواں دواں ہیں اس کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو بھی دیوار سے لگایا گیا تو تمام کاوشیں رائیگاں جائیں گی۔ اس حوالے سے جاوید ہاشمی اپنے ”معافی مشن“ کو جاری رکھیں لیکن الزامات عائد کر کے کشیدگی کی فضا پیدا نہ کریں۔ اور میری دعا ہے کہ وہ جلد آصف زرداری پر اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر لیں۔
پرویز مشرف نے طعنہ دیا تو…جرگہ…سلیم صافی
”ہاں میں باغی ہوں“ کے مصنف جاوید ہاشمی نے ایک اور بغاوت کرڈالی۔ خود معافی مانگ لی اور اپنے قائدین سمیت باقی سیاسی رہنماؤں کو ماضی کی غلطیوں پر قوم سے معافی مانگنے کی نصیحت کردی لیکن اب ردعمل میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوگا، اس کے بعد لامحالہ انہیں ایک اور معافی مانگنی ہوگی۔ اصولوں کی خاطر آزمائش کے دنوں میں اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری نبھانے اور قربانی دینے کی ”غلطی“ پر معافی۔
سیاستدانوں سے زیادہ گناہگار شاید ہم اہل صحافت ہیں جو یہاں کی سیاست کو موضوع بحث بناتے اور اس پر اپنا یا قوم کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ کوئی جماعت حکومت میں جاتی ہے یا نکلتی ہے ، کسی کے ساتھ کسی کا اتحاد بنتا ہے یا بگڑتا ہے ، کوئی قاف میں رہتا ہے، ن میں جاتا ہے،ہم خیال بنتا ہے ، پی پی پی میں رہ کر خوشحال بنتا ہے یا پھر ناہید خان اور شاہ محمود بن کر بدحال ہوجاتا ہے۔ اس سے ملک اور قوم کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے ؟ پاکستانی سیاست کی کتاب سے اصول اور نظریات کو نکلے ہوئے عرصہ بیت گیا ہے۔ اب یہ صرف اور صرف مفادات کی جنگ کا دوسرا نام ہے ۔ ذاتی مفاد سے بات آگے بڑھ جائے تو خاندانی مفاد کا دائرہ شروع ہوجاتا ہے ۔ کوئی اس سے نکلے تو گروہی ، مسلکی اور پارٹی مفاد شروع ہوجاتا ہے ۔ نعرے سہانے اور دعوے دل لبھانے والے ہوتے ہیں لیکن پاکستانی سیاست عملا مذکورہ مفادات کے گرد گھوم رہی ہے ۔ ہدف اور مقصد ایک لیکن طریقہ واردات مختلف ہے۔ نام، اسلام، پاکستان، عوام، جمہوریت ، ملکی دفاع، قومی مفاد وغیرہ کا لیا جاتا ہے لیکن ملک و قوم کے اصل مسائل کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کی ترجیح نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ملکی سیاست میں ہر موضوع زیربحث ہے سوائے قوم کو درپیش اصل موضوعات کے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نیشنل سیکورٹی اسٹیٹ بن گیا ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کی ترجیحات میں اسے اس صورت حال سے نکالنا اور فلاحی ریاست کی طرف گامزن کرنا شامل نہیں۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مسئلہ ،ام المسائل کی حیثیت حاصل کرچکا ہے لیکن سیاسی قیادت کو اس کی سمجھ ہے اور نہ اس سے کوئی سروکار ۔ پختون بلٹ اور بلوچستان کے مسائل سے ملکی مستقبل داؤ پر لگا نظر آرہاہے لیکن سیاست دیگر ایشوز کے گرد گھوم رہی ہے۔ ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا کراچی بارود کا ڈھیر بن گیا ہے لیکن اسے بڑھک باز اور ڈرامہ بازوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ معیشت دیوالیہ ہونے کو ہے لیکن پارلیمنٹ میں اس کا ذکر ہی نہیں ہوتا ۔
اقتدار کی طوالت معیار ہو تو زرداری صاحب بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے بھی بڑے سیاستدان ثابت ہوئے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاست جتنی ان کے دور میں بے توقیر ہوئی، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ فوج، عدلیہ، میڈیا اور سیاسی حلیف و حریف ، سب کے بارے میں ان کی ایک ہی پالیسی ہے۔ ایک ہاتھ گلے اور دوسرا اس کے قدموں پر۔ جہاں موقع ملتا ہے گلا دباتے ہیں اور بات نہ بنے تو پاؤں پڑنے میں دیر نہیں لگاتے۔ میاں نوازشریف دوکشتیوں (حکومت بھی اور اپوزیشن بھی) کے سفر کو انجوائے کررہے ہیں۔ مطمئن ہی نہیں کسی حد تک سیاسی تکبر کے بھی شکار ہیں۔ سمجھ بیٹھے ہیں کہ کچھ کریں یا نہ کریں ، اگلی ٹرم ان کی ہی ہے۔ بات جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن اپنی پارٹی میں انتخابات تو دور کی بات تنظیم سازی تک نہیں کرسکتے۔ یہ واحد جماعت ہے کہ جس میں اہم شخصیات شامل ہونا چاہتی ہیں لیکن اس کی قیادت کے پاس ان کو اپنی جماعت میں شامل کروانے کے لئے وقت نہیں۔ رہی مسلم لیگ (ق) تو وہ پہلے سیاسی جماعت کی تعریف پر اترتی تھی اور نہ اب ہے ۔ جہاں سے دانہ ڈالا گیا، وہاں چل پڑے گی ۔ ہم تو کیا مولانامفتی محمود مرحوم بھی دنیا میں واپس آجائیں تو انہیں مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو سمجھنے میں پچاس سال لگیں گے۔ اتنا بہ ہر حال ہم سمجھ رہے ہیں کہ ان دنوں ان کی سیاست اعظم سواتی اور رحمت اللہ کاکڑ کی وزارتوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ سید منور حسن کو دیکھ کر مجھ سمیت اکثر لوگوں کو قاضی حسین احمد کی امارت کی یاد ستانے لگ گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست بس احتجاج کا دوسرا نام ہے۔ مہینے میں کم از کم چار دن احتجاج کرنا طے ہے ۔ دھرنوں کا پروگرام پہلے بنتا ہے اور اس کے لئے وجہ اور ایشو بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں۔ پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والی اے این پی نے پختون فروشی کی نئی تاریخ رقم کردی۔ قوم فوج اور عسکریت پسندوں کے رحم وکرم پر ہے اور پختونخوا حکومت لوٹ کھسوٹ میں مصروف ۔ ظلم کی انتہادیکھئے کہ جس پختون پولیس والے کو خودکش حملہ آوروں کے سامنے لاکھڑا کیا گیا ہے ، اس کے لئے غیرملکی خیرات سے جو کلاشنکوفیں اور بلٹ پروف جیکٹ خریدے گئے، وہ بھی دو نمبر نکلے۔ اسفندیار ولی خان اسلام آباد یا دوبئی میں غائب رہتے ہیں اور محمود خان اچکزئی کوئٹہ میں گوشہ نشین ہیں۔ ایم کیوایم حکومت میں آتی اور جاتی ہے لیکن قوم کے ایشوز پر نہیں بلکہ ذولفقار مرزا کے بیانات کی بنیاد پر ۔ ہم وطن واپسی کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن اب لندن میں بھی کم دستیاب رہتے ہیں۔ یہ جماعت قومی جماعت بننے کی آرزو لگائے بیٹھی ہے لیکن اپنے دامن پر لگے داغوں کو دھوسکی اور نہ عوام کی نظروں میں اپنے امیج کی تبدیلی کے لئے خاطرخواہ اقدامات کرسکی۔ رہے عمران خان صاحب تو ان کا دل پھر کوئے ملامت کا طواف کرنے لگا ہے اور جو سیاست مارپڑنے کے بعد انہوں نے 2002ء میں ترک کی تھی، دوبارہ شروع کربیٹھے ہیں۔
جمہوری اصولوں پر یقین تقاضائے ایمان اور اس کا تسلسل ملکی بقا اور ترقی کا واحد راستہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے اور اس میں سیاسی قیادت کا رول کیا ہے؟ خارجہ پالیسی فوج چلارہی ہے ۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ جو کھیل ، کھیل رہا ہے ، اسکے جواب میں سارا کھیل فوج کھیل رہی ہے ۔ بلوچستان کا معاملہ فوج کے سپرد ہے ۔ وزیراعلیٰ کا رول صرف وزیراعلیٰ ہاؤس کے مزے لوٹ یا پھر وزراء کی بڑی فوج پر مشتمل کابینہ جس میں بعض اغواء کار بھی شامل ہیں،کے اجلاسوں کی صدارت کرنے تک محدود ہے۔ وار آن ٹیرر کی سیاسی قیادت کو سمجھ ہے اور نہ اس کو اس سے کوئی سروکار ہے ۔ قبائلی علاقوں اور سوات وغیرہ میں جو کچھ ہورہا ہے فوج کررہی ہے ۔ پختونخوا حکومت دو سالوں میں وہاں کا انتظام بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکی۔ اب تو اقتصادی ٹیم بھی فوج کو بنانی اور چلانی پڑرہی ہے ۔
جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا حصہ رہنے پر قوم سے معافی مانگ کر مخدوم جاوید ہاشمی نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ ان اور ہم جیسے وہ لوگ جو پرویز مشرف کے دور میں جمہوریت کی بحالی کی دہائی دیتے رہے ، کہیں سیاسی قائدین کی نااہلیوں اور خودغرضیوں کی وجہ سے آمریت کی مخالفت اور جمہوریت کی حمایت پر قوم سے معافی مانگنے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ کچھ عرصہ قبل سابق فوجی آمر پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں مل کر بڑی دیر تک ملکی حالات کی ابتری کا رونا روتے رہے ۔ بحث طویل ہوگئی تو پرویز مشرف طعنہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ سلیم ! اب بھگتو اپنی جمہوریت کو ۔ میرے دور میں تمہارے پیٹ میں بھی جمہوریت کا بہت مروڑ اٹھ رہا تھا۔ ان کو تو میں نے ترکی بہ ترکی جواب دے دیا لیکن میں حیران ہوں کہ اگر وہ فون اٹھا کر مخدوم جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن کو ایسا طعنہ دے ڈالیں تو وہ کیا جواب دیں گے۔
 
جاوید ہاشمی بھی عجیب لاڈلے ہیں ۔ روف کلاسرا
سب توبہ تائب ہو جائیں ۔ عبدالقادر حسن
جاوید ہاشمی کا سچ...سویرے سویرے…نذیر ناجی
پاکستانی قیادت کو رول ماڈل بننا چاہیے۔ وہ جو بات کرے‘ اس پر خود بھی عمل کرے۔ پاکستان کے سیاستدانوں کو بیرون ملک رکھی اپنی دولت واپس لانی چاہیے۔ انہیں اگر اس ملک میں سیاست کرنی ہے تو بیرون ملک سے اپنی دولت واپس لانا ہو گی۔“ عوام کے ذہنوں میں اور زبانوں پر تو یہ باتیں گاؤں گاؤں‘ شہر شہر اور گلی گلی عام ہیں۔ ملک کے نمائندہ ایوان میں یہ پہلی بار جاوید ہاشمی نے کہہ دیں اور حیرت ہے کہ اپوزیشن جو عام طور پر عوامی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے‘ اسے یہ باتیں بری لگیں اور حکومتی بنچوں سے ان کی تائید میں تالیاں بجائی گئیں۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جاوید ہاشمی کا تعلق اپوزیشن سے ہے اور چونکہ آج کل وہ پارٹی قیادت کے معتوب ہیں۔ اس لئے ان کے منہ سے نکلی ہوئی سچی باتوں کو بھی اپوزیشن کی حمایت نہ مل سکی۔ کوئی پسند کرے یا ناپسند۔ جاوید ہاشمی نے وہی کہا جو وقت کی آواز ہے۔
اگر حکمران طبقے وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں‘ ان باتوں کو بروقت سمجھ لیں تو اس میں ان کی اپنی بھلائی ہے اور اگر نہیں سمجھیں گے‘ تو پھر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ کسی وقت بھی چھلک پڑے گا۔ یہ وہ پیمانہ ہے جو لبریز ہو جائے‘ تو نہ فوجیں اس کے چھلکاؤ کو روک سکتی ہیں۔ نہ حکومتوں کی طاقتیں اور نہ ہی لیڈروں کی مقبولیتیں۔ سب کچھ لرزنے لگتا ہے۔ چند عرب ملکوں میں اس کے جو مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں‘ وہ ان چیزوں کے لئے تھے جو ہمیں دستیاب ہیں۔ یعنی وہ صرف جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی مانگ رہے ہیں۔ ہمیں یہ سب کچھ دستیاب ہے اور جب ان ساری چیزوں سے فیضیاب عوام اٹھیں گے‘ تو ان کی بغاوت بھی رائج نظام کے خلاف ہو گی۔ ہمارا رائج نظام کیا ہے؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور جب اس کے خاتمے کے لئے عوام اٹھیں گے‘ تو ہدف کون بنے گا؟
اپنی حد تک جاوید ہاشمی نے اس گناہ پر عوام سے معافی مانگ لی ہے کہ انہوں نے ایک فوجی آمر جنرل ضیاالحق کی کابینہ میں حلف لیا تھا اور ساتھ ہی اپنے دونوں لیڈروں نوازشریف اور شہبازشریف سمیت ایسے تمام لیڈروں سے معافی مانگنے کے لئے کہا ہے‘ جنہوں نے مختلف اوقات میں فوجی حکمرانوں کا ساتھ دیا یا ان سے معاہدے کئے۔ انہوں نے صاف کہا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کو پرویزمشرف سے معاہدہ کر کے ملک سے باہر چلے جانے پر معافی مانگنا چاہیے کہ انہوں نے 10سال جلاوطنی میں گزارے اور عوام آمریت میں پستے رہے۔ یاد رہے جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے وہ لیڈر ہیں‘ جنہوں نے 5 سال انتہائی تکلیف دہ حالات میں جیلوں کے اندر گزارے۔ فوجی حکومت کی طرف سے انہیں بھی معاہدوں اور مراعات کی مشروط پیش کشیں کی جاتی رہیں۔ لیکن انہوں نے آمریت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بجائے قید میں رہنا پسند کیا اور شاید ان کی یہی ”ادا“ قیادت کو ناگوار گزری ۔ کہاں جلاوطنی کے وقت انہیں پارٹی کی قیادت پیش کر دی گئی تھی اور کہاں آج وہ فراموش کردہ ساتھیوں میں شامل ہیں۔ اگر آج انہیں یاد بھی کر لیا جائے‘ تو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جو سیاسی راستہ اب انہوں نے اختیار کر لیا ہے‘ مسلم لیگ (ن) اس پر چلنے کا حوصلہ نہیں کر پائے گی۔ کیونکہ جاوید ہاشمی کا نیا راستہ آزمائشوں‘ امتحانوں اور تکلیفوں کا راستہ ہے اور ہمارے روایتی سیاستدان وہ راستہ اختیار نہیں کیا کرتے۔ انہیں عوامی غیظ و غضب کی طوفانی لہریں دھکیل کر آزمائشوں کے راستے پر ڈالتی ہیں اور پھر اس راستے کی منزل بھی آزمائشیں ہی ہوتی ہیں‘ ان کے سوا کچھ نہیں۔
آمریت کا ساتھ دینے پر جن لیڈروں سے جاوید ہاشمی نے معافی کا مطالبہ کیا ہے‘ ان میں آصف زرداری کا نام نہ جانے کیوں شامل ہو گیا؟ انہوں نے ایک نہیں دو آمریتیں بھگتائی ہیں اور دو ایسی سول حکومتوں کا جبر برداشت کیا ہے‘ جن کے پیچھے آمریت کی طاقتیں کھڑی تھیں۔ انہوں نے نہ کسی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ نہ کسی سے معاہدہ کر کے‘ بیرون ملک گئے اور نہ کسی کے ساتھ سودے بازی کر کے کوئی رعایت حاصل کی۔ ان کی مسلسل مردانہ وار مزاحمت پر تو انہیں میڈیا نے ”مردحر“ کا خطاب دیا تھا۔ وہ کس بات پر معافی مانگیں؟ معافی نہ مانگنے پر؟
ہمارے سیاسی رہنماؤں کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اب کرپشن اس پاورسٹرکچر کے اندر قابل قبول نہیں رہ گئی‘ جس کے بل بوتے پر ماضی میں سب نے مل کر لوٹ مار کے نظام کو چلا رکھا تھا۔ اب کئی ادارے عوامی موڈ کو دیکھتے ہوئے کرپشن کے خلاف ہو چکے ہیں۔ عدلیہ نے اس سے پہلے کرپشن اور آمریت کے خلاف اتنے بڑے‘ اتنے زیادہ اور اتنے مسلسل فیصلے نہیں کئے تھے‘ جتنے گزشتہ کچھ عرصے سے ہو رہے ہیں۔ فوج کے اندر کرپشن کے خلاف جذبات کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور آج کی فوجی قیادت ماضی کی طرح کرپشن کو ایک ناگزیربرائی سمجھ کر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں اور اس نوجوان ایم این اے کو بھی نہیں بھولنا چاہیے‘ جس نے دہری قومیت اور بیرون ملک سرمایہ اور کاروبار رکھنے والوں پر یہ پابندی لگانے کی تجویز دی ہے کہ وہ یا سیاست چھوڑ دیں یا دوہری شہریت واپس کر کے سرمایہ اپنے ملک میں لے آئیں۔یہ نوجوان رضاحیات ہراج ہیں‘ ان کا اپنا تعلق بھی حکمران طبقے سے ہے۔ لیکن نوجوان ہونے کی وجہ سے ان کا الارمنگ سسٹم زیادہ موثر اور تیز ہے۔ انہوں نے آنیوالے وقت کی آواز کو قومی اسمبلی میں پہنچا دیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ یہ کام پرامن طریقے سے ہو جائے۔ میں نے چند روز پہلے بھارت میں کرپشن کے خلاف اچانک اٹھنے والی عوامی لہر کی تفصیل اپنے قارئین تک پہنچائی تھی۔ ایسا نہ ہو کہ ایسی ہی تحریک پاکستان میں اچانک اٹھ کھڑی ہو۔ بھارت میں ابھی جمہوریت پر اعتماد پایا جاتا ہے۔ اسی لئے عوامی مظاہرے کی قیادت کرنے والوں نے قانون سازی کے وعدے پر اعتمادکر کے تحریک کو معطل کر دیا۔ پاکستان میں جمہوریت پر یقین کی وہ کیفیت نہیں ہے۔ یہاں کرپشن کے خلاف بے چینی کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی‘ تو پھر کوئی حکمرانوں کے وعدوں پر یقین کر کے واپس اپنے گھر نہیں جائے گا۔ یہاں عوام اپنی بات منوا کر رہیں گے اور مجھے تو اندیشہ ہے کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں سے خود حساب لینا شروع نہ کر دیں اور ہمارے لیڈروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب عوام حساب لیتے ہیں‘ تو وہ کس طرح کا ہوتا ہے؟
پاکستانی سیاست بھی عجیب ہے۔ جو کوئی جس سیاسی جماعت کا حامی ہوتا ہے‘ اس کی کوئی غلطی اسے نظر نہیں آتی اور باقی جن کی مخالفت کرتا ہے‘ انکی کوئی خوبی دیکھنا اسے پسند نہیں ہوتا۔ میں یہ بات بلا امتیاز لکھ سکتا ہوں کہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت اور لیڈر ایسا نہیں رہ گیا‘ جس نے کسی نہ کسی وقت فوجی حکمرانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر سب ایک دوسرے کو طعنہ یہی دیتے ہیں کہ وہ آمریت کا ساتھ دیتا رہا۔ مثلاً ن لیگ جب ق لیگ سے یہ کہتی ہے کہ تم نے فوجی حکومت کا ساتھ دیا‘ تو یہ بھول جاتی ہے کہ ضیاالحق کون تھا؟ اور جب پیپلزپارٹی کسی دوسرے کو یہ کہتی ہے‘ تو اسے بھی یاد نہیں رہتا کہ ایوب خان کون تھا؟ جب مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاق اور پنجاب میں شریک اقتدار ہوتی ہے‘ تو یہ جائز ہے۔ مگر جب مسلم لیگ (ق) اس پر غور کرتی ہے‘ تو اس کی مخالفت میں ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ابھی اس نے کوئی فیصلہ بھی نہیں کیا۔ میں یہ راز نہیں کھولنا چاہتا تھا کہ فوج اور سیکورٹی ایجنسیز کے خلاف شعلہ افشانی کرنے والوں نے چند ماہ پہلے انہی سے مدد مانگی تھی کہ موجودہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے ان کی مدد کی جائے۔ مگر جب بری بھلی جیسی بھی جمہوریت چل رہی ہے‘ اس کے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے سے انکار کر دیا گیا‘تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر جس کو وزارت عظمیٰ کی امید تھی‘ اس نے توپوں کے دہانے کھول دیئے۔ کیا آج کی فوجی قیادت کا محض یہ قصور ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ نہیں کر رہی؟ اور سکیورٹی ایجنسی تو قومی دفاع کے ستونوں میں ہوتی ہے۔ ہماری سکیورٹی ایجنسی کے خلاف دہلی اور واشنگٹن سے آوازیں اٹھیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ مگر اپنے گھر میں کوئی دشمن کے لہجے میں بات کرے تو سمجھ میں نہیں آتی۔
صرف پورا سچ نجات دے سکتا ہے... ناتمام…ہارون الرشید
ادھورا سچ کوئی سچ نہیں ہوتا ۔جاوید ہاشمی، آج بھی اگر آپ پورا سچ نہ بولیں گے تو کب بولیں گے ۔ اگر آج بھی پوری طرح وہ یکسو نہیں تو کب ہوں گے۔ اللہ کی آخری کتاب تو یہ کہتی ہے "قولو قولاً سدیدا۔" جب بات کرو توپختہ اور پوری بات کیا کرو۔
امید ہے ، برادرم جاوید ہاشمی مجھے معاف فرمادیں گے ۔ ا ن کی جرات مندی میں کوئی کلام نہیں مگر
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات
بڑی دلیری ، مستقل مزاجی اور جانبازی کے ساتھ جاوید ہاشمی نے جنرل مشرف کی جیل کاٹی۔ اسیری میں لکھی گئی ان کی کتاب کا مسوّدہ مکمل ہو چکا اور حجازِ مقدس جانا ہوا تو میاں محمد شریف مرحوم کی تعزیت کے لیے جدّہ میں ان کے فرزندانِ گرامی کی خدمت میں حاضر ہوا۔کیسا شاندار نام اس کتاب کا تجویز ہوا تھا ”ہاں! میں باغی ہوں“ اور آرٹسٹ شبیر حسین نے کس محبت سے کیسا شاندار ٹائٹل بنانے کے بعد معاوضہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مدتوں کے بعد دونوں بھائیوں سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ میاں محمد نواز شریف اوّل اوّل ناراض نظر آئے لیکن پھر کھلے ۔ مجھ ناچیز کی رائے تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو لازماً جنرل مشرف سے مذاکرات کریں گی۔ وہ نہ مانے اور مصر رہے کہ وہ بہت دانا ہیں، ایسی غلطی کبھی نہ کریں گی۔ میثاقِ جمہوریت کی نمود اس کے بعد ہوئی اور متوازی طور پر محترمہ جنرل سے بات بھی کرتی رہیں۔ رخصت ہونے کا وقت آیا تو ان سے گزارش کی : جاوید ہاشمی کی کتاب کا دیباچہ لکھ دیجئے، جیل میں وہ اذیت اور انتظار کے دن کاٹ رہا ہے ۔ فرمایا: سوچ رہا ہوں۔ عرض کیا: سوچ بچار کیسی ۔ نکات کسی کو لکھوا دیجئے اور مسودہ لکھا جا چکے تو نظر ثانی کر لیجئے۔ غیرمعمولی ایثار اور بانکپن کا مظاہرہ جس نے کیا ہے ، محبت کے سوا کس چیز کا وہ مستحق ہے ۔
جاوید ہاشمی کو تب انہوں نے مسلم لیگ کا صدر بنایا تھا ، جب کوئی دوسرا یہ بوجھ نہ اٹھا سکتا کہ کانٹوں کا تاج تھا ۔ ہاشمی نے یہ صلیب اس طرح اٹھائی کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔برسوں بعد میاں نواز شریف اتنی سی بات پر ناراض ہو گئے ، جب جاوید ہاشمی نے راولپنڈی میں شیخ رشید کی نشست برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ وہ ملتان کی نمائندگی پر مصر تھے۔ اس کے بعد سرد مہری اور اذیت رسانی کا طویل اور تکلیف دہ سلسلہ شروع ہوا۔ کم از کم دو مواقع پر خوشامدیوں کے جلو میں نون لیگ کے دوممتاز لیڈروں نے میاں نواز شریف کی موجود گی میں ، پارٹی کے بہادر لیڈر کا مذاق اڑایا جو گاہے اختلاف رائے کی جسارت کرتا تھا ۔
نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ وہ اپنے حلقے میں شاہ محمود قریشی کے ایما پر مخالف تھانیدار مقرر کرنے کی شکایت کرتے پائے گئے۔ خوئے دلنوازی جس چیز کا نام ہے ، وہ میاں نواز شریف میں پائی ہی نہیں جاتی اور اختلاف کبھی گوارا نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں ، جسے اختلاف کرنا ہو ، تنہائی میں کرے ، دوسروں کے سامنے اور پارٹی کے اجلاس میں کبھی نہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ فاصلے بڑھتے گئے اور انگریزی محاورے کے مطابق وہ اپنی الگ دنیائیں بسانے لگے ،حتیٰ کہ ایک دن جاوید ہاشمی بیماری کے ہاتھوں نڈھال ہو کر گر پڑے۔ ”چار عشروں سے شاہ بلوط کے کسی شجر کی طرح ایستادہ ، ہماری قومی سیاست کا یہ کردار کیا ماضی کا حصہ بن جائے گا؟“ یہ سوال ذہنوں میں اٹھا اور مجیب الرحمٰن شامی کے سوا ، کسی کو ادراک نہ تھا کہ وہ کتنے غیر معمولی اعصاب او رکس قدر بے پناہ قوّت ارادی کا حامل ہے ۔ یاد ہے کہ اس کی اذیت ناک اسیری کے ہنگام ، عصر حاضر کے عارف سے میں نے استدعا کی کہ وہ ہاشمی کے لئے دعا تجویز کریں۔ کچھ دن کے بعد ، ہنستے ہوئے انہوں نے کہا : جیل سے جاوید صاحب کا فون آیا تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ رہائی نہیں ، مجھے حوصلہ مندی کی دعا درکار ہے ۔ مجھے صدمہ پہنچا : اسے کیا ہو گیا ہے ۔ آزمائش آپڑے تو شکایت نہ کرنی چاہئیے اور سر اونچا رکھنا چاہئیے ۔ مسلمان آزمائش کی تمنا توکبھی نہیں کرتا۔
تفصیلات بہت ہیں مگر ان کے تذکرے سے کیا حاصل۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا، سرد مہری اور مغائرت بڑھتے پھیلتے ذہنی تحفظات میں بدلتی چلی گئیں۔ اس معاشرے کا مزاج ہی یہ ہے کہ ایک کونسلر تک کو درجنوں خوشامدی مل جاتے ہیں ۔پارٹی کی قیادت ایک لیڈرنہیں بلکہ دیوتا کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ جاوید ہاشمی کا تضاد مگر یہ تھا کہ وہ اختلاف بھی کرنا چاہتا تھا اور جماعت میں آسودہ اور معتبر رہنے کا آرزومند بھی ۔ 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کے ہنگام جب یہ لکھا کہ احتجاج کے سب سے مقبول لیڈر غلام مصطفیٰ جتوئی کا راستہ بالاخر پیپلز پارٹی سے الگ ہو جائے گا تو دوستوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ ان سب کا کہنا یہ تھا کہ جس شخص نے طشتری میں پیش کی گئی وزارتِ عظمیٰ ٹھکرا دی۔ آسودہ زندگی کو لات مار کر قید و بند کی صعوبت اور المناکی گوارا کی ، بتدریج کیا اس کے مراتب بلند نہ ہوتے جائیں گے ۔ عرض کیا : پارٹی کی قیادت ، ایک دوسرے لیڈر کی ایسی مقبولیت گوارا نہ کر ے گی۔ اس معاشرے میں سیاسی جماعتیں ذاتی کاروبار کی طرح ہیں ۔ کسی دوسرے کی شرکت بس اتنی ہی گوارا ہے کہ مددگار اور معاون ہو ، خود رہنما بننے کی کوشش نہ کرے۔
جاوید ہاشمی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سرائیکی صوبے کی تحریک محض ایک پہلو ہے ۔ اصل مسئلہ نفسیاتی ہے ۔ لیڈر کے دل میں چھپا ہوا خوف، جسکا کوئی نظریہ نہیں۔درحقیقت کوئی مسلک ہی نہیں ۔ قائد اعظم کے بعد ابھرنے والے اکثر رہنماؤں کی طرح ،سیاست جس کے لیے انسانی احساسات ، امنگوں اور جذبات کا کاروبار ہے ۔ اور آخری منزل بادشاہت کا حصول۔ ایسی حکمرانی ، جس میں سب دوسرے لوگ اس کے اشارہء ابرو پر حرکت کریں ۔ دخل اگر دے سکتاہے تو خاندان کا کوئی فرد یا ایسے وفادار جو اجازت سے اختلاف کریں۔ ٹوکا جائے تو رک جائیں اور حکم دیا جائے تو اطاعت کریں۔ نواز شریف چاہتے یہ ہیں کہ جاوید ہاشمی اسی طرح ان کی پیروی کریں ، جیسے وہ جنرل محمد ضیاء الحق کی کرتے تھے۔ جاوید ہاشمی مگر نواز شریف کیسے بنے۔
آشکار ہے کہ اب ان کے راستے جدا ہو چکے۔ جاوید ہاشمی کو انتظار رہے گا کہ پارٹی اسے الگ کر دے اور شریف خاندان یہ چاہے گا کہ وہ برہم ہو کر خود رخصت ہوں۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے اور علالت کے باوجود جاوید ہاشمی کے ہارنے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔ اندازہ یہ ہے کہ اکسانے کی اسے کوشش کی جائے گی لیکن اب وہ ایک پختہ کار سیاست دان ہے اور حربوں سے خوب آشنا۔ مزید یہ کہ اسکے پاس کھونے کے لیے ہے کیا ؟ جس چیز سے اسے محروم ہونا ہے ، ذہنی طور پر وہ اس کے لیے پہلے ہی تیار ہو چکا۔
یہ مگر اس نے کیا کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور انکی نورِ نظر عظیم رہنما اور قابلِ فخر شہید ہیں ۔ کیا نواز شریف کو چڑانے کے لیے اس نے یہ بات کہی ہے ؟ کیا بھٹو وہی نہ تھے ، جنہیں خود ہاشمی ملک توڑنے کا ذمہ دار ٹہراتے رہے ۔اپنی رائے جاوید ہاشمی نے تبدیل کر لی ہے تو اس پر الگ سے قوم سے معافی طلب کرنی چاہئیے۔ ایٹمی پروگرام ، اسلامی کانفرنس اور دستور سازی کے کارنامے بجا مگر لیاقت باغ کے جلسہ ء عام پر گولیاں کس نے برسائی تھیں۔ کیا یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایوب خان کے مارشل لا کی پیداوار تھے ۔ فیلڈ مارشل کو انہوں نے عصرِ حاضر کا صلاح الدین ایوبی کہا تھا ۔ خواجہ رفیق اور ڈاکٹر نذیر احمدایسے نجیب ، بہادر اور کھرے قومی خدمت گزاروں کا قاتل کون تھا ؟ خود اپنے حامیوں کے لیے دلائی کیمپ کس نے آباد کیا؟ 1977ء کے الیکشن میں کھلی دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے 329 مقتولین کا خون کس کے سر ہے ؟بھٹو شہید ہیں تو کیا وہ شہید نہیں ؟ بلوچستان پر فوج کشی کیا اسی عظیم بھٹو نے کی یا کسی دوسرے نے ؟ ذرا ذرا سب جاوید ہاشمی کو یاد ہوگا مگر انہوں نے بھلا دیا۔ چوہدری خاندان کو بھی بھلا دیا جس نے ایوب خان ، جنرل محمد ضیا ء الحق اور پرویز مشرف کے تینوں مارشل لاؤں کی خدمت گزاری کی اور نہایت فخر کے ساتھ ۔
ضیا ء الحق کی وزارت سے وابستہ رہنے پر جاوید ہاشمی کو معذرت کی ضرورت کیا تھی؟ پہلے ہی کر چکے اور عمران خان تو مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت پر بارہا۔ہاشمی نے زرداری صاحب، وزیر اعظم گیلانی اور چوہدریوں کے کارناموں پر بھی بات کی ہوتی ۔ معاف کیجئے گا جاوید صاحب! ادھورا سچ کوئی سچ نہیں ہوتا ۔ اگر آج بھی آپ پوری طرح یکسو نہیں تو کب ہوں گے ۔ آج بھی اگر آپ پورا سچ نہ بولیں گے تو کب بولیں گے ۔اللہ کی آخری کتاب تو یہ کہتی ہے "قولو قولاً سدیدا۔" جب بات کرو توپختہ اور پوری بات کیا کرو۔ اللہ کے آخری رسول نے ارشاد کیا تھا : الصدق ینجی والکذب یہلک۔سچ نجات دیتا اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد پورا سچ ہے ، ادھورا نہیں۔قائد اعظم کے بعدپاکستان کی سیاست میں پورا سچ بولنے والا مردِ کار مگر کوئی نہ اٹھا۔
نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گلِ ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

 
کوئی تجھ سا کہاں ۔ ایا ز خان
BBC- Urdu ہاشمی کا مشورہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے سرائیکی، بہاولپور اور ہزارہ سمیت مزید صوبے بنائیں اور میاں نواز شریف کو ضیاءالحق سے تعاون اور پرویز مشرف سے معافی مانگ کر ملک سے باہر جانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کے پارلیمان سے خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی دس کروڑ ہوگئی ہے اور انتظامی طور پر ممکن ہی نہیں کہ ایک انسپیکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری عوام کو سہولت دے سکیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ’صوبے بنانا کوئی گناہ نہیں ۔۔ہمیں پنجاب سے زیادہ پاکستان پیارا ہے۔۔ سرائیکی، بہاولپور اور پوٹوہار صوبے بننے چاہیے۔ ’پنجاب کے بڑے صوبے ہونے کی وجہ سے ہی مارشل لا لگتے ہیں کیونکہ فوج میں اکثریت پنجاب کی ہے اور وہ ان کے خلاف نہیں اٹھتے۔ ان کے بقول صوبہ خیبر پختونخواہ کا بھی فوج میں حصہ ہے لیکن بلوچستان اور سندھ بھگتے ہیں۔

’ہم نے ملک توڑ دیا لیکن بنگالیوں کا مطالبہ نہیں مانا۔۔ بلوچستان میں بھی حالات خراب ہیں اور چند برسوں میں وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کی کابینہ میں شمولیت پر وہ آج تک شرمندہ ہیں اور وہ اس غلطی پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے قائد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ضیاءالحق سے سیاسی تعاون اور پرویز مشرف سے سزا معاف کرواکر دس برس کے لیے باہر چلے جانے پر قوم سے معافی مانگیں۔

جاوید ہاشمی کے اس مطالبے پر اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان جو اپنے چیمبر میں بیٹھے تھے وہ تیز تیز چلتے ہوئے ایوان میں آئے اور اپنی جماعت کے خواجہ آصف اور سردار مہتاب عباسی سے کھسر پسر کی اور ایوان سے باہر چلے گئے۔ بظاہر ایسا لگا کہ وہ شہباز شریف کو رپورٹ دینے گئے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران پارٹی کو سنبھالا اور پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی وجہ سے بغاوت کے مقدمے میں جیل چلے گئے۔ اس دوران چوہدری نثار علی خان اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ جب سنہ دو ہزار آٹھ میں انتخابات ہوئے تو جاوید ہاشمی کے بجائے پارٹی میں چوہدری نثار کی اہمیت بڑھ گئی اور ہاشمی پیچھے چلے گئے۔ ان کے بعض ساتھیوں کے بقول پارٹی میں نظر انداز کیے جانے پر انہیں گزشتہ برس برین ہیمرج ہوگیا۔

جاوید ہاشمی جو آج کل بھی کافی کمزور ہیں انہوں نے اپنی لرزتی آواز میں چوہدری نثار اور خواجہ آصف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے اپنی پارٹی نے کہا کہ مشرف سے حلف لیں اور وزیر بنیں، میں نے انکار کیا اور کہا کہ میں مر جاؤں گا مشرف سے حلف نہیں لوں گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سرائیکی علاقے میں لوگ کہتے ہیں کہ جب رائےونڈ (شریف برادران کی رہائش گاہ) کی ایک سڑک پر دس دس ارب روپے خرچ ہوں گے تو دوسرے علاقوں کا کیا بنے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ وہ والدین کے بعد اگر کسی کی موت پر زیادہ روئے ہیں تو وہ بینظیر بھٹو کے قتل پر روئے اور آج تک وہ انہیں یاد کرکے رو پڑتے ہیں۔ ’میں بھٹو کو شہید مانتا ہوں اور بینظیر بھٹو بھی شہید ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں صدر آصف علی زرداری کی سیاست سمجھ نہیں آتی اور اس کے لیے انہیں پی ایچ ڈی کرنی پڑے گی۔ ’میں اپنی جماعت کی قیادت سے بھی یہی کہتا رہا اور آج دیکھیں کون کہاں ہیں۔‘

ملتان کے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ جس بھی سیاسی جماعت کے رہنما کی بیرون ملک ملکیت اور بینک اکاؤنٹ ہیں وہ پاکستان میں لائیں یا پھر پاکستان کی قیادت چھوڑ دیں۔ ان کی تقریر کے دوران ایوان کی دونوں جانب تمام جماعتوں کے ارکان ڈیسک بجاتے رہے۔

اپنی جماعت کی قیادت پر ہلکی پھلکی تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی پارٹی کو ٹکٹ کے لیے کہا اور نہ اب کہیں گے۔ ’ بھلا ہوا میری گھگری پھوٹی میں پانیہ بھرن سے چھوٹی۔‘

 
نام اپنا‘ مقام اپنا...سویرے سویرے…نذیر ناجیe1
کل حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں کافی عرصے کے بعد جاوید ہاشمی کو دیکھا۔ شایدبیماری کے بعد وہ پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر آئے تھے۔ انکی گفتگو اور چہرے کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ خرابی صحت کے اثرات سے بڑی حد تک نکل آئے ہیں۔ ذہنی طور پر اسی طرح چاق و چوبنداور حاضر دماغ تھے۔ کچھ دن پہلے ان سے فون پر گفتگو ہوئی تو بڑے خوش تھے کہ قدرت نے انہیں حیرت انگیز رفتار سے صحت یاب کیا ہے۔ انہیں امریکی ڈاکٹروں نے بھی بتایا تھا کہ انکی جسمانی حالت کے معائنے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بحالی صحت کے بعد ان کا انرجی لیول پہلے سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ ان کا بلڈ پریشر اور شوگر دونوں جوانوں کی طرح ہو چکے ہیں۔ جاوید ہاشمی مجھے بتا رہے تھے کہ ڈاکٹروں کی پیش گوئی کے مطابق واقعی‘ وہ اپنے آپ کو چست اور مضبوط محسوس کر رہے ہیں۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر وہ جلوس میں ساڑھے چھ گھنٹے مسلسل کھڑے رہے یا چلتے رہے اور انہیں کوئی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نئی زندگی دی ہے۔ یوں تو جاوید ہاشمی نہ کبھی ڈرے ہیں ‘ نہ خطرت سے گھبرائے ہیں۔ اب یوں لگتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ عزم و ہمت کے ساتھ سیاسی میدان میں آگے بڑھیں گے۔ جہاں تک مقامی سیاست کا تعلق ہے‘ اس میں تو حالات ان کیلئے بہت سازگار ہو چکے ہیں۔
ان کی سیاسی زندگی بھی ہمارے بیشتر قومی لیڈروں کی طرح مارشل لا سے شروع ہوئی۔ وہ بھی جنرل ضیاالحق کی کابینہ کے وزیر بنے۔مگر جلد ہی ان کے راستے فوجی حکمرانوں سے الگ ہو گئے اور جب وہ 1985ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے‘ تو حزب اختلاف کے سرکردہ لیڈروں میں شامل تھے اور آمر کے خلاف جن ممبران قومی اسمبلی نے فخر امام کو سپیکر کے منصب کا امیدوار بنایا‘ ان میں جاوید ہاشمی پیش پیش تھے۔ ضیاالحق کو یہ پہلا سیاسی چیلنج تھا‘ جو ان کی اپنی ہی بنائی گئی اسمبلی کے اندر سے انہیں کیا گیا۔ جب نوازشریف قومی سطح پر نمودار ہوئے‘ تو جاوید ہاشمی ان کے ساتھ تھے۔ وہ ان کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ لیکن وزارت میں اتنا عرصہ نہیں گزارا‘ جتنا عرصہ‘ انہیں سڑکوں پر جدوجہد کرتے یا جیل میں گزارنا پڑا۔ پرویزمشرف کی فوجی حکومت مسلط ہوئی اور نوازشریف کو جیل میں ڈالا گیا‘ تو جاوید ہاشمی بے جگری سے آمرانہ قوتوں کے ساتھ لڑتے رہے اور یہ لڑائی لڑتے لڑتے جب وہ قومی اسمبلی میں آئے‘ تو وہاں کھڑے ہو کر پرویزمشرف اور اس کے فوجی ساتھیوں کی وہ درگت بنائی کہ پرویزمشرف آپے سے باہر ہو گئے اور انہیں جیل میں ڈال دیا۔ ان کی ہمت‘ استقامت اور حوصلے کو دیکھ کر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے حوصلے قائم اور بلند رہے۔ پہلے مارشل لا سے جان چھڑانے سے لے کر‘ اب تک مسلسل وہ جدوجہد کے راستے پر ہی گامزن ہیں اور جس طرح وہ اپنی واپس آتی ہوئی جسمانی اور ذہنی توانائیوں پر خوش نظر آئے‘ اس سے اندازہ ہوا کہ اب وہ پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں سیاسی جدوجہد کریں گے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس بار انہیں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہیں ملے گا کیونکہ قیادت ان سے خوش نہیں۔ لیکن نوازشریف کی ذاتی پسند ناپسند اپنی جگہ‘ مگر وہ جاوید ہاشمی جیسے مضبوط‘ باکردار‘ آزمودہ اور حوصلہ مند ساتھی کو نظرانداز کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچیں گے۔ جہاں تک جاوید ہاشمی کا تعلق ہے‘ انہیں انتخابی مقابلوں میں شکست دینا آسان نہیں رہا۔ ان کے پاس ٹکٹ ہو یا وہ اپنی آزادانہ حیثیت میں عوام کے سامنے آئیں‘ کسی مخالف امیدوار کو ان کے خلاف اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے کچھ نہیں ملے گا۔
بے شک جاوید ہاشمی ملک کے صدر یا وزیراعظم نہیں بنے۔ لیکن ان کے سیاسی سفر کی جتنی مماثلت بھٹو صاحب کے ساتھ ہے‘ کسی اور کے ساتھ نہیں۔ ہرچند بھٹو صاحب کا کینوس بہت بڑا تھا اور جاوید ہاشمی اپنے ضلع اور صوبے کی سیاست تک رہے۔ لیکن ایک فوجی حکمران کی کابینہ کے رکن رہ کر انہوں نے جس طرح بغاوت کی اور پھر عوامی سیاست میں آگے بڑھتے چلے گئے‘ اس میں بھٹو صاحب کے سیاسی سفر کی جھلکیاں جابجا نظر آتی ہیں۔ لیکن ان مماثلتوں کے باوجود جاوید ہاشمی نے نہ کبھی خود بھٹو بننے کا دعویٰ کیا اور نہ اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ انہیں دوسرا بھٹو ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ حالانکہ ایک آمر کو چھوڑنے کے بعد‘ انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنی سیاسی زندگی میں دوبارہ نہ کسی آمر کے ساتھی بنے اور نہ اس کے ساتھ سودے بازی میں ناکام ہونے کے بعد ہیرو بننے کی کوشش کی۔جاوید ہاشمی کے بزرگ بھی دین فروغ اور خلق خدا کی خدمت کرتے تھے اور سرائیکی علاقے کی روایت کے مطابق مخدوم کہلاتے تھے۔ لیکن انہوں نے جوانی سے ہی اپنے نام سے پکارے جانے کو ترجیح دی۔
حامد میر کے ایک سوال پر انہوں نے اپنا دیرینہ موقف پھر دہرایا کہ ہم لوگوں میں ذاتی طور پر ایسی کوئی خوبی یا علمی سرمایہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو مخدوم کہلا سکیں۔ یہ صرف ہمارے بزرگوں کو زیب دیتا ہے۔ ہم دنیا دار ہوگ ہیں۔ سیاست میں حصہ لیتے ہیں۔ اقتدار میں شریک ہوتے ہیں اور ہم میں ایسی کوئی خوبی بھی نہیں‘ جس کی بنا پر ہم خود کو دوسروں سے برتر سمجھیں۔ ان سے اپنے گھٹنوں اور پیروں کو ہاتھ لگوائیں۔ ان سے امید رکھیں کہ وہ ہمارے ہاتھ کو بوسہ دیں اور یہ تو ظلم کی انتہا ہے کہ سیاست میں عوام کی خدمت اور غریبوں کی زندگی بدل دینے کے نعرے لگائے جائیں‘ مگر وہی غریب جب حاضری دینے کے لئے آئیں‘ تو ان سے نذر نیاز بھی وصول کریں اور بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر لاکھوں روپے بٹوریں اور یہ آمدنی جو کروڑوں میں ہوتی ہے‘ اس پر نہ کوئی ٹیکس دیا جائے‘ نہ اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ یہ بدترین استحصال ہے۔ خدا کا شکر ہے میں نے اپنے آپ کو اس سے بچا لیا۔
سیاست کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے میری دعا ہے کہ جاوید ہاشمی کی صحت مکمل طور سے بحال ہو جائے اور امریکی ڈاکٹروں کے مطابق ان کا انرجی لیول پہلے سے بھی زیادہ ہو اور وہ عوامی حقوق کی بحالی کی جدوجہدجہد میں پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے حصہ لیتے رہیں۔ انہی جیسے سیاسی کارکن معاشرے کی طاقت اور سرمایہ ہوتے ہیں‘ جو ہر طرح کی قربانی دینے اور تکالیف اٹھانے کے باوجود لیڈری کے دعویدار نہیں بنتے۔ اپنے آپ کو ایک حد تک رکھتے ہیں۔ ڈرامے کر کے دوسرا بھٹو بننے کی کوشش نہیں کرتے۔ شاید ایسا کرنے والوں کو علم نہیں کہ کسی بھی تاریخ ساز قومی لیڈر کی جگہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا اپنا ایک عہد ہوتا ہے۔ اس عہد کے جداگانہ تقاضے ہوتے ہیں۔ عوام کی توقعات اور ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مقامی اور عالمی حالات بھی الگ ہوتے ہیں اور بڑے لیڈر‘ تاریخ کے ایک مخصوص دور میں اور ایک خاص موڑ سے ملکی اور عالمی منظر پر نمودار ہوتے ہیں۔ نصف صدی کے بعد نئے حالات اور نئے تاریخی مراحل میں‘ لیڈرشپ پروان نہیں چڑھ سکتی‘ جو گزرے ہوئے زمانے میں سامنے آئی ہو۔ اب جو بھی کوئی لیڈر ابھرے گا‘ وہ بھٹو نہیں ہو گا۔ بے نظیر بھٹو ہوگا۔ نوازشریف ہو گا اور اگر کوئی ان سے بھی آگے بڑھے گا‘ تواس کا اپنا نام ہو گا۔ اقبال لاکھوں پھرتے ہیں لیکن علامہ اقبال کوئی نہیں۔ بھٹو بننے کی تمنا ہر سیاسی لیڈر کرتا ہے‘ مگر بن نہیں پاتا۔ تاریخ جب کسی کو بلند مقام دیتی ہے‘ تو نام بھی اس کا اپنا ہوتا ہے۔
جاوید ہاشمی صاحب!اصلی بغاوت یہ نہیں ہے...علی مسعود سید
ہم بہت سے خواب دیکھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں اس طرح کہ انتظار کی سولی پر لٹکنے والا نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیریں خود ہمارے ہاتھوں میں ہیں، ہم یہاں خواب دیکھتے ہیں کہ پاکستان بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے،دہشت گردی ،بے انصافی ،مہنگائی سے نجات مل جائے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا جب تک ہم کوشش اور درست سمت میں کوشش نہیں کریں گے۔ ہر طرف سے انقلاب، انقلاب کی صدائیں آتیں ہیں،اگر کوشش ہے اورراستہ درست ہے ،تو کامیابی لازمی ہے اوراگر ناکامی ہے تو عارضی ہے ۔جناب مخدوم جاوید ہاشمی ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ارکان جواپنے حلقوں کے لاکھوں لوگوں کے حق کی نمائندگی کرتے ہوئے اور ملک وقوم کے مفاد میں اپنی اپنی جماعتوں کے قائدین کے سامنے ڈٹ جائیں،اور یہ بھی کہ نواز شریف سمیت تمام سیاسی رہنما ،ذاتی مفاد کے لئے قوم کو استعمال نہ کریں۔جاوید ہاشمی صاحب نے الطاف حسین کی فوج کو اپیل کے برعکس ارکان پارلیمنٹ سے استدعا کی ہے ،نسبتاًیہ بہت اچھی بات ہے مگر افسوس ایسا ہو گا نہیں ہوگا،کیا ہی بہتر ہو کہ ہاشمی صاحب یہ بات لے کر عوام میں آئیں۔ارکان سے بات ضرور کریں مگریہاں سے زندگی کی نئی لہر نہیں دوڑ سکتی ،بات یہ نہیں کہ آپ کہہ کراپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے ،یہ وقت ساحل سے پکارنے کا نہیں ،یہ وقت موجوں سے کھیلنے کا ہے ،ڈوبنے والے کو آپ کی حوصلہ مند آواز نہیں ،دست و بازو کا سہارا چاہیے ۔ عوام غنڈوں میں گھری مظلوم عورت کی طرح گھبرائی، کسی غیرت مند مرد کو پکار رہی ہے ۔۔۔کوئی مرد ہے جو بچا لے ۔۔۔کوئی مردہے جو بچا لے۔۔۔صرف ایک مردچاہیے ،جو غیرت مند ہو ،جس کی ٹانگوں میں جان ہو ،جسے کوئی خوف ہو تو صرف خدا کا خوف ہو، کہیں ایسا نہ ہو جائے ،کہیں ویسا نہ ہو جائے ،نہیں نہیں ۔۔۔بس ایک فیصلہ کن مرد ۔۔ ۔ سازشی پر اللہ کی لعنت ہو ،حق بات ٹھوک بجا کرکر وں گااور وقت کی پکار یہی ہے کہ ہیجڑوں کے تماشائی ہجوم میں اگر کوئی مرد ہے تو سامنے آئے ورنہ عزت کا جنازہ آپ کے سامنے اٹھے گا ،چاہے آپ اسے کندھا دیں یا نہ دیں۔یہی وہ وقت ہے،جس کا انتظار ایک حقیقی لیڈر برس ہا برس کرتا ہے ،اگر اب نہ سمجھے تو کچھ نہ سمجھے ،جب ہم مڑ کر جھانکتے ہیں تو تاریخ کے کٹہرے میں ایسے بھی بے شمار لوگوں کھڑے ہیں جو خود تو غلط نہیں تھے مگرانہوں نے غلط لوگوں کے خلاف درست راستہ اختیار نہیں کیا ۔یوں درست فیصلے کو زائل کرنے والوں نے ستر ،ستر سال کے لیے قوموں غلامی و بربادی کی طرف دھکیل دیا۔
اسی طرح ایک فیصلہ کورٹ کے کوٹ میں آن پڑا ہے ،اگرجناب کالے جاسوس المعروف گورے سفارت کار ریمنڈ ڈیوس کے سلسلے میں درست فیصلے کا تعلق ہے تو جانے نہ پائے ۔ اس نے قتل کیا ہے،صبح صبح میرے دوست کرار کا فون آیا کہ اگر یہ قانون ہے تو پھر انہیں بھی امریکہ میں سفارت کار مقرر کیا جائے ،روز ایک دو خبیث دھر لیا کریں گے، محترم نجم سیٹھی صاحب دیگرتجزیہ کار حضرات متوجہ ہوں کہ اول تو ویانا کنونشن برائے قونصلر ریلیشنز 1963 کے تحت سنگین جرائم کی صورت میں سفارتی چھوٹ ختم ہوجاتی ہے جبکہ یہ بحث الگ ہے کہ موصوف تو سفارت کار ہی نہیں۔ سزا ملنی چاہیے ،جس طرح برسوں پہلے شام میں یہودی ہیرو اور موساد کے جاسوس ایلی کوہن کو سرعام دمشق میں پھانسی دی گئی،وہ صدر کا قریبی دوست بننے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اسی کے نقشے تھے ، جس کی مدد سے اسرائیل نے چھ دن میں جنگ جیتی تھی۔ اسرائیل نے اپنے ہیرو کو بچانے کیلئے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دے رکھی تھی، دنیا بھر سے بہت دباوٴ ڈالا گیا مگر اسے 18مئی 1865 کو پھانسی دی گئی۔

 
اعجاز مہر - سیاست یہاں مال باہر: جاوید ہاشمی کا گِلہ
پاکستان میں کئی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کا سیاسی کلچر تبدیل ہو رہا ہے اور دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اب کی بار ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے گریزاں ہیں۔
پاکستان کے بدلتے ہوئے اس سیاسی کلچر کی ایک نمایاں جھلک جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت دکھائی دی جب مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی طویل علالت کے بعد بولے۔
جاوید ہاشمی کی آواز میں وہ ماضی والی گھن گرج تو نہیں تھی لیکن لڑ کھڑاتی زبان سے جو انہوں نے باتیں کیں وہ شاذ و نادر ہی سننے کو ملتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا سیاسی لیڈر نہیں ہے جو اس ملک کو مسائل سے نکالے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی جدہ میں جائیداد بناتا ہے تو کوئی دبئی میں، کوئی سپین میں املاک خریدتا ہے تو کوئی کوریا میں۔
لیکن ان کے بقول پاکستان کی دھرتی کو کوئی سیاسی لیڈر قبول نہیں کرتا اور وہ یہاں صرف سیاست کرتے ہیں مال بناتے ہیں اور باہر لگاتے ہیں۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، چوہدری شجاعت حسین، الطاف حسین، اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن کے نام لے کر کہا کہ وہ مل بیٹھیں اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کی کوشش کریں۔
جاوید ہاشمی نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنی جماعتوں کے لیڈرز سے بحث کریں اور غلط بات پر ڈٹ جائیں اور انہیں عوام کی بہتری کے لیے پالیسیاں بنانے پر مجبور کریں اور ان کا احتساب کریں۔ جس پر ایوان کی دونوں جانب سے اراکین نے بھرپور انداز میں ڈیسک بجا کر ان کی تائید کی۔
پاکستان میں تمام معدنی وسائل ہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن پھر بھی غربت، بدحالی، بھوک بد امنی ہے اور عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ سیاسی قیادت کا ملک سے مخلص نہ ہونا ہے
جاوید ہاشمی
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام معدنی وسائل ہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن پھر بھی غربت، بدحالی، بھوک بد امنی ہے اور عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ سیاسی قیادت کا ملک سے مخلص نہ ہونا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی اور غربت کی وجہ سے جو حالات خراب ہیں اگر وہ فوری ٹھیک نہیں کیے گئے تو پھر کوئی اور (جرنیل) آجائے گا۔
جاوید ہاشمی کی تقریر کے دوران وزیراعظم تو موجود رہے لیکن اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان غیر حاضر رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کئی اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ جب میاں نواز شریف جلا وطن ہوئے تو مشکل ترین دور میں قربانی جاوید ہاشمی نے دی اور پرویز مشرف نے انہیں بغاوت کے ایک مقدمہ میں جیل میں بھی ڈالا۔
لیکن جب سنہ دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر حکومت بنائی تو ’فرنٹ لائن‘ میں جاوید ہاشمی کی جگہ چوہدری نثار نظر آئے۔ جاوید ہاشمی اور سید یوسف رضا گیلانی دونوں ضیاءالحق کی کابینہ میں رہے لیکن بعد میں ملتان کے دونوں پیر سیاستدانوں نے اپنے لیے ترتیبوار مسلم لیگ (ن ) اور پیپلز پارٹی کا انتخاب کیا۔
بدلتے حالات کی وجہ سے سید یوسف رضا گیلانی پاکستانی سیاست کے معراج وزارت اعظمیٰ ٰ پر پہنچ گئے لیکن جاوید ہاشمی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی نصیب نہیں ہوا۔ ان کے بعض ساتھی کہتے ہیں کہ اس طرح کے حالات کی وجہ سے ہی جاوید ہاشمی کو ’برین ہیمرج‘ ہوا۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے نظم و ضبط کی سب کو پابندی کرنی چاہیے لیکن جہاں سیاسی قیادت غلط کرے تو انہیں غلط کہنا چاہیے۔ ان کے بقول یہ کوئی بغاوت نہیں ہے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو ’ہاں میں باغی ہوں‘۔
ان کی تقریر ختم ہونے کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سمیت تمام جماعتوں کے اراکین نے ان کی سیٹ پر جا کر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ایک موقع پر وہ تمام جماعتوں کی خواتین اراکین کے جھرمٹ میں تھے
makhdoom2
makhdoom javed hashmi
makhdoom1
۔
 
یہ بھی ایک عجب مرد آزاد ہے ....صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمودe1
یہ بھی عجب مرد آزاد ہے کہ نظریاتی کمٹ منٹ اور خلوص کی صلیب پر لٹکا رہتا ہے ۔ یہ بھی عجب مرد آزاد ہے کہ مخالفوں اور دشمنوں سے کبھی مات نہیں کھاتا لیکن اپنوں سے مات کھا جاتا ہے۔ یہ بھی عجب مرد آزاد ہے کہ مخالف اور آمر اپنی پوری کوشش اور تشدد کے باوجود اسے مریض نہیں بنا سکتے لیکن اپنوں کا رویہ اسے ہسپتال پہنچا دیتا ہے۔ جاوید ہاشمی نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں جیلیں بھگتیں، تشدد برداشت کیا لیکن پارٹی وفاداری اور اصولوں پر ڈٹا رہا۔ جنرل مشرف اسے سب کچھ دینے کو تیار تھا لیکن اس نے نہ صرف ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا بلکہ آزادی پر جیل کی تنگ و تاریک اور جون جولائی کے مہینوں میں تنور سے زیادہ گرم کوٹھڑی کو ترجیح دی۔ وہ رات رات بھر انگاروں کے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا لیکن اُف کرتا نہ احتجاج۔ پریس نے اُسے بہادر آدمی قرار دیا اور کالم نگاروں کو وہ پہاڑ دکھائی دیا لیکن جب میں اسے جیل میں ملنے گیا تو وہ مجھے گلاب کا پھول لگا۔ میں نے نہایت ابتلاء اور تکلیف کے دور میں بہت کم لوگوں کے چہروں پر اس قدر عزم اور استقلال دیکھا ہے جتنا اس کے چہرے پر تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ عزم ، استقلال اور اصولوں سے وفاداری روشن باطن کی دین ہوتی ہے۔ مضبوط کمٹ منٹ اور نظریاتی وابستگی کا نتیجہ ہوتی ہے ورنہ تو ہم نے بڑے بڑے ”مائی کے لال“ آمروں کی جیلوں میں بلک بلک کر روتے دیکھے ہیں، ان کے چہروں پر ایسے خوف کے سائے دیکھے ہیں جو پتھروں کو پگھلا دیں اور پھولوں کو مرجھا دیں۔ اصولوں اور سچائی کے لئے سزا بھگتنے اور جیلوں میں تشدد برداشت کرنے میں بھی ایک لذت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب ضیاء الحق کے دور میں پی پی پی کے کارکنوں پر زور سے کوڑے برسائے گئے اور جسم سے خون پھوٹ پھوٹ کر زمین پر بہنے لگا تو قیوم نظامی جیسے نازک اندام کارکن نے بھی بھٹو زندہ باد کے نعرے لگائے البتہ سمجھ دار اور دنیا دار کارکنوں نے وہاں بھی جہانگیر بدر کی مانند وی آئی پی کوڑوں کا انتظام کر لیا۔ وی آئی پی کوڑے تعداد میں کم اور لگنے میں اس سے بھی کم ہوتے تھے۔ یہ کمٹ منٹ اور خلوص ہی ہے جو تحریک آزادی کے دوران سیاسی قیدیوں کو بیوی، ماں یا بیٹے بیٹی کی موت پر بھی پیرول پر رہائی سے انکار کر دیتا تھا اور یہ اصولوں اور وطن سے محبت ہی ہے جو میاں افتخار وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا جیسے شخص کو اکلوتے بیٹے کے سنگدلانہ قتل پر صبر عطا کرتی ہے اور اس کے منہ سے یہ تاریخی الفاظ نکلواتی ہے کہ اگر میرے تین چار بیٹے بھی ہوتے تو انہیں وطن پر نثار کر دیتا۔ اکلوتے بیٹے کے قتل یا شہادت سے بڑا کوئی صدمہ نہیں ہو سکتا اور جو شخص اس صدمے کو یوں سہہ لیتا ہے وہ انسان نہیں پہاڑ ہے پہاڑ۔ اور اگر ملک میں ایک بھی ایسا پہاڑ جیسا انسان ہو تو پھر اس ملک کو کوئی خطرہ نہیں، کوئی اس ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ایسے عزم و استقلال کے پہاڑ کسی قوم کے روشن باطن کی دلیل ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں کروڑوں میاں افتخار بستے ہیں تو پھر تشویش یا مایوسی یا خطرہ کس بات کا؟؟ قومیں محض انسانوں کا ہجوم نہیں ہوتیں۔ قومیں نام ہے باطنی قوت کا کیونکہ باطنی قوت ہی سے قوم بنتی ہے۔ باطنی قوت ملک اور قوم سے بے لوث محبت اور بے پناہ ایثار سے حاصل ہوتی ہے، قومیں جذبوں سے بنتی ہیں۔ مجھے امریکہ برطانیہ جیسے خوشحال، ترقی یافتہ اور نام نہاد شمالی ممالک یا معاشروں سے ایک بھی ایسی مثال نکال دو کہ جب وہاں کسی جوان فوجی کی لاش پہنچی ہو تو اس کے والد نے کہا ہو کہ میں ملک کے لئے ایسے چار بیٹے بھی قربان کر سکتا ہوں۔ نہیں بالکل نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے مواقع پر والدین کو زار و قطار آنسو بہاتے اور میڈیا سے حکومت پر تنقید کرتے دیکھا ہے۔ میاں افتخار جیسے لوگوں کی موجودگی میں جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایک قوم نہیں، وہ جھوٹ بولتے ہیں اور بصیرت سے عاری ہیں۔ ہم ایک مضبوط قوم ہیں ہمیں فقط قائد اعظم جیسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ہمیں ان پستیوں اور اندھیروں سے نکال کر بلندیوں اور روشنیوں کی جانب لے جائے۔ یارو قوم کی پہچان جذبہ ہوتا ہے نہ کہ ہنستے کھیلتے ہجوم ۔ جتنا جذبہ پاکستانی قوم میں ہے اتنا دوسری اقوام عالم میں نہیں۔ ضرورت فقط اس جذبے کو منظم کرنے، سمت طے کر کے اس سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔ جب تک سونے اور تیل کے خزانے زمین کے اندر چھپے رہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن جب انہیں کھود کر اور نکال کر استعمال کیا جائے تو خوشحالی کا سیلاب آ جاتا ہے۔
بات دور نکل گئی کیونکہ جب قلم صفحہ قرطاس پر چلتا ہے تو پھر دور نکل جاتا ہے اور روکنے سے بھی نہیں رُکتا۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جاوید ہاشمی بھی ایک عجب مرد آزاد ہے جسے پرویز مشرف جیسا آمر اپنی پوری ریاستی قوت کے باوجود نہ جھکا سکا نہ خرید سکا اور وہ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری قوت کا استعارہ اور سمبل بن کر محفوظ ہو گیا کیونکہ ایسے ہی سیاستدانوں کے عزم و استقلال، ایثار اور کمٹ منٹ کے دم قدم سے پاکستان میں جمہوریت آتی ہے ورنہ تو پرویز مشرف سودے بازی کے ذریعے بڑے لیڈروں کو جلا وطن کر کے تادم آخر اقتدار میں رہنے کا بندوبست کر چکا تھا اور ہاں! وہ لوگ بھی ”قابل داد“ ہیں جو اصولوں کے بلند بانگ دعووں کے باوجود مشرف سے ڈیل کر کے آرام دہ پناہ گاہوں میں چھپ گئے اور جب جمہوریت کے لئے خون دینے والوں کی قربانیاں رنگ لائیں تو وہ پناہ گاہوں سے نکل کر پھر عہدوں پر قابض ہو کر مار کھانے والے کارکنوں کے مقدر کے فیصلے کرنے لگے۔اس دکھ اور درد کو سمجھنا ہے تو جاوید ہاشمی، صفدر عباسی اور ناہید خان سے پوچھو، امین فہیم اس فہرست سے نکل چکے۔
جاوید ہاشمی کئی برس جیل کی مار کھاتا رہا۔ میں سرکاری ملازمت کے باوجود اسے جیل میں ملنے گیا تو جاوید کو تروتازہ پایا۔ وہ بہت خوشی سے بتایا کرتا تھا کہ میڈیکل چیک کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے سو فیصد فٹ قرار دیا ہے۔ اس کوٹھڑی پر جیمر لگا تھا اس لئے اسے خفیہ موبائل سے بات کرنے کے لئے کہنی اور کان کو زنداں کی سلاخوں سے باہر نکالنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی اس سے رات گئے بات ہوتی تو پتہ چلتا کہ وہ تنور کی مانند گرم کوٹھڑی میں پڑا ہے۔ اس نے کولر کی سہولت بھی لینے سے انکار کر دیا ہے بقول اقبال
غیرتِ فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول
جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکوٰة
جبکہ بڑے بڑے لیڈران مشرف سے یہ زکوٰة لے کر یا بیرون ملک چلے گیا یا گھروں میں نظربند کر دیئے گئے۔
میں نے جیل میں جاوید ہاشمی سے پہروں باتیں کیں اور پائے استقلال میں لغزش تو دور کی بات ہے میں نے ہمیشہ اسے پہاڑ جیسا آدمی پایا۔ مجھے اس کی باتیں ہمیشہ فیض کے یہ اشعار یاد دلاتیں
جو رُکے تھے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یادگار بنا دیا
یہاں اگر آپ ”رہ یار“ کو ”رہ قوم“ پڑھ لیں تو مفہوم زیادہ واضح ہو جائے گا۔ رہائی کے بعد جاوید ہاشمی سے ملاقاتیں ہوئیں تو محسوس ہوا کہ اسکے ذہن پر بوجھ سا رہتا ہے لیکن وہ اسے بے نقاب کرنے کیلئے تیار نہ تھا۔ آہستہ آہستہ یہ راز سمجھ آنے لگا اور پھر خلق خدا کی زبان اور میڈیا نے یہ راز فاش کر دیا کہ جاوید اپنوں کی سردمہری کا شکار ہے ۔
اس کو بے مہری عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
پھر اچانک جاوید ہاشمی پر برین ہیمبرج کے حملے کی خبر سن کر میں پریشان ہو گیا۔ میں ہر روز اس کی صحت یابی کے لئے دعائیں کرتا رہا اور فون کر کے اس کی خیریت دریافت کرتا رہا۔ فوری طور پر دیکھنے اس لئے نہ گیا کہ ڈاکٹروں نے پابندی لگا رکھی تھی اور یہی مریض کے مفاد میں تھا لیکن لاشعور میں ایک بات اور بھی تھی اور وہ یہ کہ جس شخص کو میں نے آمر کے سامنے پہاڑ کی مانند کھڑے اور ڈٹے دیکھا تھا میں اسے یوں بستر علالت پر بے بس پڑے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ جب وہ کمرے میں شفٹ ہوا تو میں چند لمحوں کے لئے اسے دیکھنے گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بیٹھ جائیں لیکن میں نے کھڑے کھڑے جاوید ہاشمی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا۔ دعائیں دیں اور ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے نکل آیا۔ اس مرد آزاد کو یوں خاموشی سے بیماری کے ہاتھوں بے بس پڑے دیکھ کر مجھے مرزا محمد منور کا یہ قطعہ یاد آ گیا
یاس کی ایک نرم سی ٹھوکر
نشے کتنے اتار دیتی ہے
کون مرتا ہے موت کے ہاتھوں
زندگی آپ مار دیتی ہے
یارو عجب مرد آزاد ہے جاوید ہاشمی بھی۔ وہ انشاء اللہ اپنی قوت ارادی سے بیماری کو شکست دے دے گا کیونکہ اسی قوت ارادی کے ذریعے اس نے مشرف جیسے آمر کے منصوبے خاک میں ملا دیئے تھے لیکن وہ آئیڈیلز کی دنیا میں رہنے والا مرد آزاد یہ نہیں جانتا کہ سیاست بڑا سنگدلانہ اور خودغرضانہ کھیل ہوتا ہے۔
اس میں مخلص مہرے پٹتے اور ہوشیار و عیار اور خوشامدی حکمرانی کرتے ہیں۔ جاوید ایک مخلص اور بہادر انسان ہے میں اس سے پنجابی میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہور چوپو !!
 
جاوید ہاشمی اور صحت مند سیاستدان ۔ عبدالقادر حسن
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی - ہاں.... میں باغی ہوں!
جاوید ہاشمی کے لئے ہمیشہ اچھی خبریں آئیں۔ بہادر آدمی کو جیل میں ڈالا گیا تو یہ بھی کوئی بری خبر نہ تھی۔ اس کی عظیم قربانی کی کہانی کے لئے ہر محبت کرنے والے نے اپنی پسند کا عنوان دیا۔ اس کے ساتھ اپنی قیادت نے خود فراموشیوں کی انتہا کر دی تو اس سے بھی میرا دل برا نہ ہوا۔ جب اس کے سامنے کسی دل جلے نے شکایتوں کے انبار لگا دیئے تو اس نے پھر بھی دل کی حکایت بیان نہ کی۔ اس کے دل پہ کتنے زخم ہیں اس کےلئے سوچتے ہوئے ہم زخم زخم ہیں۔ میں تو حیران ہوں کہ پھر بھی اسے ہارٹ اٹیک نہ ہوا، برین ہیمبرج ہوا۔ اس خبر سے بھی میں مرعوب نہ ہوا۔ میرے دل نے کہا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ کوہسار صفت آدمی ہے۔ چٹان سے زیادہ ثابت قدم ہے۔ کئی چراغ اس کی آنکھوں میں جلتے ہیں۔ روشنی ہی روشنی اس کے آس پاس ہو گئی ہے۔ خوشبو اس کے اردگرد پروانہ وار رقص کرتی ہے۔ ابھی ہم میں کسی کو پوری طرح پتہ نہیں چلا کہ وہ کس سوہنی مٹی سے بنا ہوا ہے۔ دلیری اور دلبری برابر برابر اس کے وجود میں وجد کرتی ہے۔ وہ خوبصورت آدمی ہے اور پورے ماحول میں خوبصورتیاں سجانا چاہتا ہے۔ اس کے خواب اس کی خوبیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ خواب اور انقلاب کی سرحد پر کھڑا ہے۔ وہ بولتا ہے تو روحوں کے صدر دروازے کو کھولتا ہے۔ وہ بیش بہا زندگی ہے۔ اسے دیکھ کر لوگ زندگی کو کوئی اور زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو خواہش کرتے ہیں کہ خواہش کو زوال نہیں۔ مجھے قتیل شفائی یاد آتا ہے
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
کیا ہم سب منافق ہیں؟ جاوید ہاشمی نے ظلم کرنے والے کو حیران کر دیا اور بغاوت کو ایک سمت بنا دیا۔ اس کی یہ بیماری بھی بغاوت کا ایک عکس ہے۔
اسے صبح کی سیر کرتے کرتے نشتر ہسپتال لایا گیا۔ شہباز شریف کو خیال آگیا اوراسے لاہور لے آیا گیا۔ خیال کرنے کے لئے میں شکرگزار ہوں۔ یہاں اس کے استقبال کے لئے پرویز رشید موجود تھا۔ اس کی پائنتی کے ساتھ چلتا ہوا پرویز رشید اچھا لگا۔ اس نے مجھے خبر دی کہ جاوید کا حال اچھا ہے۔ پھر بھی ہسپتال کئی دنوں تک نہ گیا۔ میں نے جاوید ہاشمی کے ایک عاشق زار اورنگ زیب عباسی کو فون کیا۔ جاوید ہاشمی کے لئے عباسی صاحب نے مجھے سینکڑوں فون کئے ہونگے مگر یہ فون میں نے اسے کیا۔ فون کے دونوں طرف خاموشی تھی۔ خاموشی اور تنہائی دونوں بہنیں ہیں۔ تشنگی اور تنہائی بھی آپس میں کزن ہیں۔ تنہائی غار حرا کی اور تشنگی کربلا کی۔ خاموشی غم کی گہرائی کی اور تنہائی سچائی کی گہرائی کی۔ میں نے یہ ساری کیفیتیں چند لمحوں کے ان دیکھے جہانوں میں دیکھیں۔ نظر نہ آنے والی بستیوں کے زخمی پرندے آتے تھے اور میری آنکھوں کی جھیل سے آنسو پی کے چلے جاتے تھے۔ میرے کانوں میں صبح کے اجالے کی طرح اجلی چڑیا نے سرگوشی کی۔ جاوید ہاشمی نے ابھی بہت بڑا کام کرنا ہے، اللہ یہ کام اسی سے لے گا۔
جاوید ہاشمی اور بیٹی میمونہ ہاشمی سے بھی بات ہوئی۔ سیاست کی گزرگاہوں میں اس کے علاوہ ایک محترم خاتون سمیعہ راحیل قاضی ہے۔ میمونہ ہاشمی حافظ قرآن ہے اور یاد رہ جانے والی آیات مبارکہ کی روشنی اس کی آنکھوں میں معصومیت بن کر لرزتی رہتی ہے۔ اس نے کہا کہ ابا آپ کو یاد کر رہے تھے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں جاوید ہاشمی کے پاس نہیں آیا کہ میں اسے بستر علالت پر نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے شاندار روشن چہرے پر کوئی مرجھائی ہوئی لہر نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب مجھے اندر سے کسی نے کہا کہ اب اس کے پاس چلے جاﺅ تو میں آجاﺅں گا۔
دو ایک دن بعد کبیر تاج کا فون آگیا۔ وہ ایک بے لوث ورکر ہے۔ وہ بھی اپنے لیڈروں کی نزدیکیوں کا مارا ہوا ہے۔ ناصر اقبال خان دوریوں کے دائرے میں چکرا رہا ہے۔ کبیر تاج ہی تھا جو مجھے کوٹ لکھپت جیل میں جاوید ہاشمی کے پاس لے گیا تھا۔ دوسری ملاقات میں ساری بیٹیاں تھیں۔ وہ انہی دنوں میں مجید نظامی کے پاس بھی گئی تھیں۔ جاوید ہاشمی بھی ان کے پاس حاضر ہوا تھا اور ساری باتیں ان سے کی تھیں جو اس نے کسی کے ساتھ نہیں کیں۔ بیٹیوں کے ساتھ جاوید سرائیکی بولتا تھا تو صحرا میں اکیلے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر تنہا بیٹھے اداس پرندے کی ساری غمزدگی بھی بولتی تھی۔ بیٹی بشریٰ ہاشمی کے ساتھ میں نے یہ وعدہ نبھایا کہ تمہاری شادی میں جیل سے جاوید ہاشمی پہنچے گا۔ جاوید نے مجھے ملتان سے فون کیا کہ تم نے جس طرح کالم میں لکھا تھا اسی طرح مجھے یہاں لایا گیا ہے۔ میں نے جنرل مشرف سے نہیں چودھری پرویز الٰہی سے اپیل کی کہ جاوید کو اغوا کر کے ملتان لے جاﺅ، اب وہ ہسپتال میں بھی ایسے ہی پہنچایا گیا ہے۔
میں کبیر تاج کے ساتھ اسے ملا تو وہ مجھ سے زیادہ بیدار اور گرمجوش تھا۔ تیمور صاحب بڑی محبت سے مجھے کمرے میں لے گئے۔ خالد ہاشمی بھی وہاں تھا۔ ڈاکٹر صلاح الدین آغاز ہی سے جاوید ہاشمی کے لئے اچھی باتیں کر رہا ہے۔ جناح ہسپتال میں ڈاکٹر زاہد پرویز اور ڈاکٹر رفعت امین کے ساتھ ڈاکٹر صلاح الدین سے بھی دوستی ہو گئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ جب سمن آباد کی مظلوم لڑکیوں کے لئے جاوید ہاشمی کی تلاطم خیز جوانی ایک طغیانی اور حیرانی کی طرح لاہور کی فضاﺅں میں بکھرنے اور نکھرنے لگی تو یہ اعزاز مجھے ملا کہ وہ میرے کندھوں پر سوار تھا۔ وہ لازوال لمس آج بھی میرے خمیرضمیر میں سرسراتا ہے۔ اس نے بتایا کہ اتنی جلدی اپنے آپ میں سنبھل جانے والا اور اپنے آپ کو سنبھالنے والا کوئی مریض میری زندگی میں نہیں آیا۔ مجھے ڈاکٹر کی باتیں اچھی لگ رہی تھیں مگر مریض کا لفظ اجنبی سا لگا۔
جاوید جتنی جیل تو شاید کسی نے پاکستان میں کاٹی ہو، اس کے جیسی جیل کس نے کاٹی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مجیب شامی کے دفتر میں جاوید ہاشمی کے لئے ایک نعرہ بنایا گیا اور وہ پورے ملک میں بھی مقبول ہوا: ”ایک بہادر آدمی۔ ہاشمی ہاشمی“۔ میں ایک بار صدر رفیق تارڑ کے ساتھ جاوید ہاشمی کے گھر گیا تھا۔ ایک دیہاتی طرز کا مکان جسے ڈیرہ کہنا مناسب ہے۔ اب صدر رفیق تارڑ جاوید ہاشمی کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ جاوید ہاشمی نے جلاوطنی کے دوران اپنی پارٹی کی سیاست کو زندہ رکھا تب وہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کا سب سے بڑا آدمی تھا مگر یہ بات اڑتے اڑتے وطن میں پہنچی کہ ہم نے اسے نائب صدر بنایا ہے، ہماری خبر دو کالمی لگتی ہے اور اس کی خبر تین کالمی لگتی ہے۔ کاش ہم صرف باخبر نہ ہوتے اہل خبر ہوتے جو صرف ایک نقطے کے اضافے سے اہل خیر ہو جاتا ہے۔ جاوید نے صدر جنرل مشرف سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا کہ اس نے مجھے جیل بھجوایا اور میرے لیڈر کو جلاوطن کیا۔ ہم وطنی کی اذیت جلاوطنی کے احساس سے بہت بڑی ہے۔ شریف برادران کو کسی نے کہا کہ جاوید نے اس طرح ان کی حکم عدولی کی ہے پھر اسی سیاسی چہیتے نے جنرل مشرف کو آرمی چیف بنوایا تھا۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ بیرون ملک جنرل علی قلی خان نواز شریف کو ”دیکھ لینے“ کی بات کرتا ہے۔ جنرل علی قلی خان آرمی چیف ہوتا تو کبھی نواز شریف کی حکومت نہ توڑتا، ہمیشہ جونیئر آرمی چیف جنرل سیاست میں آتے ہیں۔ آخر چودھری نثار کے پاس کیا ”گیدڑ سنگھی“ ہے، اسے سینئر وزیر بنوا دیا اور پھر اسے اسی حکومت میں قائد حزب اختلاف کیوں بنایا؟ اس کے بعد فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سنے۔
خدا کی قسم پورے ملک میں مسلم لیگ ن اور اس کی لیڈرشپ کی عزت ہوتی اگر جاوید ہاشمی جیسا لیڈر قائد حزب اختلاف ہوتا۔ چودھری نثار کا تعلق جنرل مشرف کے ساتھ تھا شاید اب بھی ہو۔ اس کا رابطہ جنرل کیانی کے ساتھ بھی ہے۔ شہباز شریف کے ساتھ جنرل کیانی سے اس کی کئی ایک ملاقاتوں پر نواز شریف نے کھلے عام ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ قائد حزب اختلاف کے طور پر مولانا فضل الرحمن اور چودھری نثار میں ذرا فرق نہیں۔ شاید جلاوطنی اور ہم وطنی کو ہمکنار کرنے کیلئے اس کی ضرورت ہے مگر زندگی میں بے کنار ہونے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اس کیلئے جاوید ہاشمی کی رفاقت سے زیادہ کوئی چیز نہیں۔ ملتان سے ایک شخص وزیراعظم ہے، دوسرا وزیر خارجہ ہے، جاوید ہاشمی ان دونوں سے بہت بڑا لیڈر ہے۔ حیا اور وقار والا یہ شخص اپنوں کی بے اعتنائی کا شکار ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے حکمران سیاست دان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے مگر وہ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اگر جاوید ہاشمی کا دل دکھی نہ ہوتا تو ان کی پذیرائی میں کتنا اضافہ ہوتا۔ مسلم لیگ ن میں ہر اچھے دل و دماغ والا سیاست دان اور ورکر بیزار ہے۔ صبر اور بے بسی میں فرق مٹ گیا ہے
کوئی کارواں سے چھوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دلنوازی
یہ بات میں ایک دوست کے طور پر کر رہا ہوں کہ ان کے اپنے ان سے زیادہ ناخوش ہیں، تو پھر خوش کون ہے؟ وہ اپنے آپ سے پوچھ لیں۔ ان کو جواب مل جائے گا بلکہ وہ لاجواب ہو جائیں گے۔ یہ میں نے نہیں کہا، ڈاکٹر شیر افگن نے کہا ہے کہ صدر جنرل مشرف کے بارے میں شاہ عبداللہ نے نواز شریف کا دماغ درست کر دیا ہے۔
 

 
 
اللہ تعالی جاوید ہاشمی کو جلد صحت عطا فرمائے ۔ مبشر لقمان e1
 
makhdoom
 
 
makhdoom
 
جاوید ہاشمی ہوا کرے کوئی (شاہد اعوان) e1
جاوید ہاشمی جیسے سیاسی کارکن صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں لیکن ایسے کارکنوں کی سیاسی جماعتیں قدر کم ہی کیا کرتی ہیں اور مسلم لیگ میں تو یہ کلچر ہے ہی نہیں ۔توقع یہ تھی کہ میاں برادران جلاوطنی کے بعد کھوٹے اور کھرے کی پہچان کر پائیں گے لیکن وطن واپس آکر اُن میں زرابرابر بھی فرق نہیں آیا بلکہ موجودہ دور میں جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کو کچھ زیادہ ہی نظرا نداز کیا گیا ہے ۔ گذشتہ روز ٹی وی پر اچانک میرے کانوں میں جب یہ آوازگونجی کہ جاوید ہاشمی کو برین ہیمرج ہو گیا ہے تو میں سکتے میں آگیا باوجود اسکے کہ نہ اُن سے کبھی زندگی میں ملا قات ہوئی ہے اور نا ہی جان پہچان صرف ان کی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی داستانیں سنی اور پڑھی ہیں۔ بعدمیں تفصیلات سامنے آنے لگیں لیکن دل میں انجانے خوف نے سارا دن گھیرے رکھا کسی سے پوچھنے کی جرات نہیں ہورہی تھی میرے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا جب غزہ میں آج نیوز کے جناب طلعت حسین کو یرغمال بنا لیاگیا تھا ۔میری جرات نہ تھی کہ کسی سے پوچھ سکوں کہ مبادا کوئی بری خبر ہی نہ ہو جناب جاوید ہاشمی سے روحانی رشتہ ضرور ہے وہ ایک بے باک اور نڈر لیڈر رہے ہیںشام کو اپنے بیٹے خرم سے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو اُسنے بتایاکہ اب جاویدہاشمی ماشاءاللہ صحتمند ہیں اور یہ کہ انہیں لاہور شفٹ کر دیا گیا ہے۔ خیریہ ڈر اور خوف اس لئے آتا ہے کہ ہمارے ملک سے اچھی اور کریم لیڈر شپ ختم ہورہی ہے جب بی بی شہید کا واقع ہوا اس دن سے ایک انجانہ خوف لگا رہتا ہے کہ یا اللہ سب کی خیر ہو اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔
جاوید ہاشمی جہاں بہادر اور جرات مند لیڈر ہیں وفا اُن میںکوٹ کوٹ کربھری ہوئی ہے موجودہ زمانے میں ان جیسے لوگوں کی تلا ش کرنی پڑتی ہے جزل مشرف کا دور کوئی اتنی دور کی بات نہیں میاںنواز شریف کو 2/3اکثریت حاصل تھی پورے ملک میں انکا حکم چلتاتھا لیکن ان کی اپنی غلطیوں کیوجہ سے جزل مشرف نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر کے انہیں جیل میں ڈال دیا جاوید ہاشمی بھی پابندِ صلاصل تھے بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ہراول دستے کا کام کرتے رہے یقینا ہاشمی صاحب کی خواہش ہو گی کہ اب میاں نواز شریف دوسرا ذوالفقار علی بھٹو بنیں گے اور قید وبدن کی صہوبتیں جھیل کرکندن بن کر باہر آینگے لیکن جاوید ہاشمی کی یہ خام خیالی تھی اور میاں نوازشریف اپنے تمام قربانیان دینے والے ساتھیوں کو بے یار مددگار چھوڑ کر جزل مشرف سے معائدہ کر کے سعودی عرب سرورپیلس میں جا بیٹھے لیکن جاوید ہاشمی اور سینکڑوں دوسرے کارکن مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرنے لگے جبکہ چوری کھانے والے مجنوں سیدھے مشرف کی گود میں جا بیٹھے اور بعض دوسرے "سیانے"اپنے گھروں میں "نظر بندی "کی زندگی گزارنے لگے انہوںنے اندرونِ خانہ مشرف سے گٹھ جوڑ کر لیا تھا ۔ صرف ایک سر پھر ا جاوید ہاشمی تھا جس نے آمریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیاا ور اپنے اجداد کی سنت پر عمل کر تے ہوئے وقت کے یزید کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب مشرف نے محسوس کیا کہ یہ سید زادہ میرے بہکاوے میں آنے والا نہیں تو اُس نے ایک خط کو جواز بنا کر جاوید ہاشمی کو "باغی "بنا دیا ۔ جاوید ہاشمی کے پاﺅں میں اس وقت بھی لغزش نہیں آئی اور انہوں نے جیل کی سلاخوںکو اور موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر اپنی "وفاداری " کی حدکر دی جیل میں بھی مشرف نے کئی بار پیغامات بھیجے کہ اب بھی وقت ہے ہمارے قافلے میںآملو یہاں عیش و عشرت اور مال ودولت ہے جبکہ دوسری جانب کال کوٹھڑی ۔ سید زادے نے جیل کی قید کو اپنے لئے پسند کیا جبکہ دنیا کی عیش و عشرت پر لات مار دی پھر وہ قت بھی آیا جب انہیں جیل سے رہائی ملی۔ پھر وقت آتا ہے جب بے نظیر بھٹو شہید وطن واپس آئیں جاوید ہاشمی بی بی شہید سے بھی ملے ۔میاں نوا زشریف کی وطن واپسی ہوئی جاوید ہاشمی جو اس وقت قائم مقام صدر تھے انہوں نے صدارت میاں شہباز شریف کے حوالے کی اور خود ملک بھر میں سیاسی جلوسوں سے خطاب کرنے میں مصرف ہوگئے تو قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے انتخاب جیت کر اپنے لیڈر میاں نواز شریف کی جھولی میںڈال دی اور اپنے لئے ملتان کی سیٹ پسند کی ۔ یہ سید زادہ عالمِ حیرت میں تھا کہ مرکزی قیادت انہیں وہ مرتبہ اور مقام نہیں دے رہی جسکی وہ امید لئے بیٹھے ۔جب وزیراعلیٰ بننے کا وقت آیا تو میاں نوازشریف نے اپنے بھائی کو اس کا اہل سمجھا، قومی اسمبلی میں جب وزارتوں کاوقت آیا تو اس سید زادے نے جزل مشرف سے بدلہ یوں لیاکہ ا نہوں نے وزارت کا حلف ہی نہیں لیا کیونکہ اس آمر نے انہیں "باغی "بنایا تھا انہوں بغاوت کر کے دکھا دی جب قائدِ حزبِ اختلاف کی باری آئی تو جناب جاوید ہاشمی جیسے مقرر اور پرانے پارلیمنٹرین کو اس قابل نہیں سمجھا گیا اس بار بھی چوہدری نثار علی خان جیسے شخص کو اس مسند پر بٹھا دیاگیا جنہوں نے جزل مشرف کے آٹھ سالہ دور میں اس آمر کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔
مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے جاوید ہاشمی کو اس قابل بھی نہیں جانا کہ کسی معاملہ پرانہیں اعتما د میں لیا جائے اس سے مشورہ ہی کر لیا جائے ایسے حالات میں وہ مسلم لیگ کے گن گاتے پھرتے تھے کبھی کبھی جب قریبی دوستوں کے طعن و تفنگ سے تنگ آتے تو ایک آدھے بیان داغ دیتے لیکن قیادت جانتی ہے کہ یہ توگھر کی مچھلی ہے جب دل چاہا قابو کر لی لیکن آخر کب تک انسان آخر انسان ہے جاوید ہاشمی 8سال تک جزل مشرف کے ظلم و ستم سہتے رہے جب اپنی حکوت آئی تو بھی امتحان شروع کر دئیے گئے ایسے میں انسان اپنا سر پھوڑ نے پر مجبور ہوجا تا ہے ۔ ایسے حالات میں صوفی شاعر میاں محمد بخشؒ نے اپنے الفاظ میں یوں بیا ن کیا ہے
پاسے پاسے چلی جوانی ، پاس نہ سدیا یاراں
ساتھی کون محمد بخشا درد ونڈے غمخواراں؟
مان نہ کرئیو روپ گھنے دا، وارث کون حسن دا؟
سدا نہ رہن شاخاں ہریاں ، سدا نہ پھُل چمن دا
سدا نہ باغیں بلبل بولے ،سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ حسن جوانی قائم ، سدا نہ صحبت یاراں
آگے چل کر خود ہی میاں محمد بخش کہتے ہیں
باغ بہاراں تے گلزاراںبِن یاراںکس کاری
یا ر ملے دکھ جان ھزاراں،شکر پڑھاں لکھ واری
غم بہتے ، غمخوار نہ کوئی گن گن دساںکنوں؟
جس دے پچھے کرم گنوایا ، مُکھ نہ دسے مینوں
ان اشعار میں بہت سے باتیں جناب جاید ہاشمی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن چونکہ وہ صاحب فراش ہیں پورا پاکستان ا ن کے لئے دعا گو ہے کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنوں کے درمیان ہوں ۔ میری تما تر نیک خواہشات اُن کے ساتھ ہیں اللہ انہیں صحت کا ملہ عطا فرمائے ۔ جاوید ہاشمی جیسے لوگ پاکستان کا اثاثہ ہیں ہمیں انکی بہت ضرورت ہے جاوید ہاشمی بننے کے لئے جگر کا خون دینا پڑتا ہے اس لئے کہا گیا کہ "جاوید ہاشمی ہوا کرے کوئی "۔
جاوید ہاشمی صاحب اٹھیےe1
Makhdoom Javed Hashmi
 
' یا اللہ !جاوید ہاشمی کا بانکپن تادیر قائم رہے ''۔ e1
خبر کانوں میں پڑی تو بے اختیار ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے۔
یہ بانکپن کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت کا ہدف رہا اور کبھی پرویز مشرف کی آمریت کا۔اِس کو اللہ نے باقی رکھا اور ان کی شکستہ کوششیں تاریخ کی دھول بن گئیں۔لیکن جب معا ملہ قادر ِ مطلق کے اپنے ہاتھ میں ہو تو پھر حرف ِ دعا ہے، عجز ہے اور انکساری ہے۔
زندگی عجب کھیل ہے۔نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں۔یہ لمحہ لمحہ ٹپکتی ہے اور نا گہاں معلوم ہو تا ہے کہ پیالہ خالی ہو چکا۔یوں کہیے کہ نا گہاں، اچانک،بے وقت،انسانی لغت کی ایجا دیہ الفاظ تو ہم زیب ِ داستاں کے لیے کہہ دیتے ہیں،واقعہ یہ ہے کہ ہر گزرنے والا دن، ایک نقش کہ ناتوانی کا احساس کہیں جسے،یادگار چھوڑ جا تا ہے۔
گہے ازدست،گاہے ازدل،وگاہے زپامانم
بہ سرعت می روی اے عمر!می ترسم کہ دامانم
(کبھی ہاتھ بے جان ہو جاتے ہیں،کبھی دل کا اضطراب بڑھ جاتا ہے اور کبھی پائوں ہی چلنے سے انکار کر دیتے ہیں۔اے میری عمر!تو کس تیزی سے گزر رہی ہے کہ میری توانائیاں دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہیں۔)
عمر ِرواں کا یہ سلوک ہر ایک سے یکساں ہے۔کو ئی استثنا نہیں،حتیٰ کہ انبیا بھی نہیں۔حادثہ یہ نہیں کہ عمر گزرگئی،حادثہ یہ ہے کہ اس کے گزرنے کی خبر نہ ہو۔جنہیں اس کی خبر رہتی ہے،وہ عمر رائگاں کا ماتم نہیں کرتے۔جاوید ہاشمی کو اللہ عمر ِ خضر دے لیکن علالت کے ان ایام میںیقیناً یہ اطمینان ان کے ساتھ ہے کہ جو گزری،وہ ایسی نہیں تھی کہ کوئی حرفِ غلط کی طرح مٹا سکے اور جو باقی ہے وہ بھی انشاء للہ وقت کی لوح پر حرفِ مکرر نہیں ،نقش ِ اول ہی کا پرتو ہو گی۔ مجھے یہ تیقن اس سبب سے ہے کہ زندگی کا شعوراوائلِِ عمر میں عطاہو جائے تو تادم ِ مرگ ساتھ رہتا ہے۔
جا وید ہاشمی کے قصے میں اس شعورکا مفہوم کیاہے؟وہ اپنے خاندان کا پہلا آدمی ہے جس نے روایت کے بر خلاف مخدوم اور شاہ کو اپنے نام کا حصہ نہیں بنا یا۔اسے یہ پسند رہا کہ جاوہد ہاشمی یا صرف جا ویدکہا اور لکھا جا ئے۔جہاں لوگ مادر زاد ''مخدوم ''ہوں اوربدیسی حکمرانوں کی چا کری کے بعد بھی بزعم ِ خویش مخدوم بنے رہیں،وہاں یہ احساس جنم نہیں لے سکتا اگر شعور کی آنکھ نہ کھلی ہو۔وہ اسے بغاوت کہتا ہے۔سچ یہ ہے کہ یہ روایت شکنی ہم رکاب نہ ہوتی تو وہ ایک دوسرے 'باغی' سید مو دودی کو کیسے پہچانتا جسے وہ ''پیر روشن ضمیر '' کہتا ہے۔یہ دو پیر زادوں کا ملن تھا جو پیری مریدی کی اس روایت سے بغاوت کر کے آئے تھے۔جس فضامیں عالم ِدین کے اصل نام تک پہنچنے کے لیے مجدد ملت،غزالی دوراں، محی السنت،حکیم الامت،امام ِ انقلاب ،زبدة العلما اور معلوم نہیں کتنے القاب کا پر مشقت سفر طے کر نا پڑتا کہ ایک عام آدمی کا سانس اکھڑ جاتا،ایک پیر زادے کی کتابیں شائع ہو ئیں تولوگوں نے دیکھا کہ سرورق پر صرف 'ابوالاعلی مو دودی' لکھا ہے۔سچ یہ ہے کہ جو شعور ِ حیات کی دولت رکھتے ہیں، وہ القاب سے بے نیازہوتے ہیں۔ان کے القاب زمانہ طے کرتا ہے۔سید مو دودی ہی نے کہیں لکھا تھا کہ 'مہدیت' کر کے دکھانے کا کام ہے ،دعوے کا نہیں۔اگر ایسا ہو تا تو اس امت کی تاریخ میں مہدی ہو نے کا دعویٰ کر نے والے ان گنت افراد میں سے کسی ایک ہی کو مسلمان مہدی مان لیتے۔جاوید ہاشمی اس کا ادراک رکھتا تھا اور پھر پیر کے افکاراور صحبت نے اس میں رنگ بھرا۔جاوید نے لکھا ''اُن روشن آ نکھوں میں جھانکنے سے ایک دنیا روشن ہو جاتی۔اس کا ظرف خضر جیسا تھا اور میری بے قراری مو سیٰ جیسی۔۔۔''۔اسی لیے وہ خودمخدوم نہیں بنا، لوگوں نے بنایا۔شورش کا شمیری نے لکھا
جاویدہاشمی کی خطابت کا ہمہمہ
جیسے بہار سنبل و ریحاں کھلا گئی
سید مو دودی کے بارے میں اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے افکار نے اسے مشکل پسند بنا دیا۔اس کا اظہار چند سال پہلے بھی ہواجب آمریت کے عہد میںقرعہ فال اسی دیوانے کے نام نکلا۔یہ راستہ بھی اس کا اپنا انتخاب تھا۔وہ جس کارواں کا حصہ تھا، اس کا کو ئی میر نہیں تھا۔آسودہ حالوں
کے ہجوم میں وہ تنہا تھا۔تن آسانی عزیمت کے راستے میں آکھڑی ہوئی۔کوئی سرور پیلس جا پہنچا اور کوئی ایکڑوں کے گھر میں نظر بند۔کوٹ لکھپت اور اڈیالہ اسی کی طبیعت کو سازگار تھے۔
بارفیقان زخود رفتہ سفر دست نہ داد
سیر ِ صحرائے جنوں حیف کہ تنہا کردیم
(ہم خود ہی سفر پہ روانہ ہوئے اور دوستوں کا ہاتھ نہ تھاما۔افسوس کہ جنوں کے صحرا کا سفر ہم نے تنہا ہی کیا)۔
بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔میں نے تو دعائے صحت کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔نہیں معلوم کب اٹھے ہاتھوں نے قلم تھام لیا۔سچ یہ ہے کہ یہ کلمات بھی دعا ہی کا حصہ ہیں۔اللہ کے حضور میں اس کی خوبیوں کو گواہ بنایا ہے کہ اس سماج میں پہلے ہی ان کا قحط ہے۔اے اللہ ! آپ کی رحمت ہماری مجبوریوں سے کہیں بڑی ہے۔آپ جاوید ہاشمی کو صحت ِ عاجلہ کاملہ سے نوازیں کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔
محسن پاکستان کی کتاب” سحر ہونے تک“....حرف بہ حرف…علی مسعود سید e1
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کالموں کا مجموعہ ”سحر ہونے تک “تاریک رات کو چیرتی ہوئی روشنی کی وہ پہلی کرن ہے جواس امر کی دلیل ہے کہ بس اب سحر ہونے کو ہے
سحر ہونے تک ۔۔ایک خواب ہے مگر ایک عزم بھی ہے
سحر ہونے تک ۔۔ایک انتطار ہے مگر جدوجہد بھی ہے
سحر ہونے تک ۔۔ایک سفر کا آغاز ہے مگر منزل کا سراغ بھی ہے
سحر ہونے تک ۔۔ایک امید ہے مگر یقین بھی ہے
امید و یقین کے ساتھ یہ سطور میں نے ڈاکٹر صاحب کی پہلی کتاب کے دیباچہ میں راقم کیں ہیں،میری یہ خوش نصیبی ہے کہ اس کتاب کو مرتب کرنے کی سعادت مجھے نصیب ہوئی ۔محسن ِپاکستان کی یہ کتاب ایک طرح کا پورا پاکستان ہے،اس میں تعمیر کی خواہش ، نقصانات کا دکھ ،ترقی کے امکانات ،”ذلت و تباہی کے اسباب “،آگے بڑھنے کے لیے راہنمائی اور ماضی کی غلطیوں کا جائزہ شامل ہے۔ابتدائی تعلیم ،اعلیٰ تعلیم ،فنی تعلیم،کمپیوٹر ٹیکنالوجی ،انجینئرنگ،انصاف،ماحولیات ،نظام ِحکومت ،سیاست ،تنازعات، دشت گردی ،مہنگائی ،لوڈ شیڈ نگ معاشیت،خارجہ پالیسی سبھی موضوعات پر بہترین تحریریں لکھیں ۔زراعت کے بارے میں بار بار لکھا،آپ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ”زراعت پردھیان دو یا فاقہ کشی کرو“مگر لگتا ہے کہ ہم نے فاقہ کشی کا راستہ چن لیا ہے،آپ نے پاکستان کے دو لخت ہونے کے واقعے کو ”یاد ماضی عذاب ہے یا رب“کے عنوان سے رقم کیاہے ،جس میں رنج و ملال کی وہ کیفیت نظر آتی ہے کہ اس کی مثال کہیں اورنہیں ملتی۔ آ پ کی حالت اس ماں جیسی ہے جو اپنے ایک بچے کی جدائی کے غم میں نڈھال ہے جبکہ وہ اپنے دوسرے بچوں کومسلسل خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں،وہ چند گندے بچوں سے سخت نالاں بھی ہیں،یقینا بد بخت ہیں وہ بچے ،جو ماں باپ کو اس قدر ناراض کرتے ہیں کہ اللہ کا عذاب ان پر ٹوٹ پڑے،کس قدرعقل کے اندھے ہیں، وہ لوگ جو ماں جیسی نعمت کو ٹھکراتے ہیں اورغیر وں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے دوسرے کالم کا عنوان” ملکی بحران، امریکہ نواز پالیسیوں کا نتیجہ “مسئلہ کی جڑ کی نشاندہی کرتاہے۔ ”اے غیرت تو کہاں ہے“ اسلام کے اس عظیم سپوت کا گریہ پاکستانی قوم کی بیداری کا سبب بن رہا ہے۔
اس کتاب میں شامل تبصرے میں جناب ایس ایم ظفر نے لکھا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ان کالموں کے ذریعے ڈاکٹرصاحب اتنا ہی بڑا کام کررہے ہیں،جتنا بڑا کام انہوں نے 1984 اور پھر 1998تک جوہری میدان میں کیا ،اگر یہ پاکستانی معاشرہ ان کے کالموں کے عنوان کے ذریعے اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کر لے جن کا اشارہ یا ذکر ڈاکٹر صاحب نے کیا ہے تو ہم سب وہ جوہرپیدا کر سکتے ہیں،جو ملک کو ترقی کی بلندیوں پرلے جائے گا،جناب عبدالقادر حسن صاحب نے لکھا کہ ہم مسلمان کس حد تک اور کیسے ڈاکٹر صاحب کے احسانوں کابدلہ چکاپائیں گے،ملت اسلامیہ کے لیے ان کے احسانوں کا سلسلہ جاری ہے ۔آجکل وہ قلم سے جہاد کررہے ہیں ،جس سے پوری امت مستفید ہورہی ہے ۔
عطا الحق قاسمی صاحب نے تبصرہ کیا کہ ڈاکٹرصاحب کے کالم پڑھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ ایک سائنس دان نے اظہار کے منہ زور ”جن“ کو کیسے قابو کر لیا کہ یہ ”جن “ تو وہ ہے جو بہت ریاضت کے بعد بھی کسی کسی کے ہاتھ لگتا ہے جبکہ ڈاکٹر صاحب نے اسے پہلے ہی ہلے میں چت کر دیا،دراصل ہیرو ،ہیرو ہی ہوتا ہے چاہے اسے کسی بھی محاذ پرکھڑا کر دیا جائے۔جناب افتخار عارف صاحب نے لکھا کہ یہ مخلصانہ کالم ایک دردمند آدمی کی زندگی نامہ کا حصہ ہیں جو ہمارے بعد آنے والی نسلوں کو بھی احساس دلاتے رہیں گے کہ ہمارا ایک محسن تھا۔۔جو ہر حال میں ہم پر احسان کرتا رہا ،وہ ایسا کیوں کرتا رہا؟اس لیے کہ سلوک اور احسان اس کی سرشت کا حصہ تھا۔اللہ اپنے جن بندوں کو عزت دیتا ہے ،وہ ہمیشہ سر بلند اور سر فراز ہی رہیں گے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہما ری تاریخ کے ایسے ہی سرخرو افراد میں ہیں۔جناب عارف نظامی صاحب اور جناب جبار مرزا صاحب کابہت ہی عمدہ تبصرہ بھی اس کتاب کا حصہ ہے،یہاں میں 19 جون 2010 کولاہور میں منعقد اس کتاب کی تقریب رونمائی کا ذکر بھی ضرور کروں گا ،تقریب کی صدارت ایک غیرت مندشخص ،حقیقی معنی میں باغی اورمنفرد سیاست دان جناب مخدوم جاوید ہاشمی کررہے تھے ،جبکہ ڈاکٹرصاحب اس تقریب میں شامل نہ ہوسکے ،ملک کے مایہ ناز ادکار،ہماری تقریب کے میزبان اور میرے بہت مہربان جناب شجاعت ہاشمی صاحب نے جب ڈاکٹرصاحب کی رہائی کے مفہوم کو شعر کی صورت میں پیش کیا تو حاضرین عش عش کر اٹھے ،وہ شعر ہے کہ
یوں ہوا عہدہ برا صیاد اپنے فرض سے
کردئیے پنچھی رہا اس نے مگر پَر رکھ لئے
جناب مجیب الرحمن شامی صاحب بھی ہمیشہ کچھ منفرد ضرور کہتے ہیں،انہوں نے اپنی تقریرکے دوران ،اسٹیج پر موجود جماعت اسلامی لاہورکے امیر جناب امیر العظیم سے کہا کہ آپ اتنے لانگ مارچ نکالتے ہیں تو ایک لانگ مارچ ڈاکٹر صاحب کے لیے بھی ہونا چاہئے،یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے حلقوں میں ڈاکٹر صاحب کی بیحد تکریم کی جاتی ہے اور چھوٹے چھوٹے احتجاج بھی کرتے رہے ۔
مگروہ آج تک اس سلسلہ میں بھرپور اور بڑا احتجاج کرنے سے گریزاں رہے ہیں،اس حوالے سے میں بھی بہت سے معاملات کا گواہ ہوں ،میں نے جناب صدرِتقریب مخدوم جاوید ہاشمی کی موجودگی میں اپوزیشن کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا ،میں نے عرض کیا کہ حکومت تو بی بی کے قاتلوں پر ہاتھ ڈالنے سے معذور ہے اور اس جمہوریت میں ڈاکٹر صاحب سے وہی سلوک کیاگیا جو پہلے آمرانہ دور میں ہوا،یہ تو نہیں کہ ہم چپ چاپ بیٹھے رہیں گے ،ہم اپنا حق چھین کر بھی لے لیں گیں مگر یاد رہے کہ تاریخ اپوزیشن کی اس مجرمانہ خاموشی کو رقم کر رہی ہے۔ مایہ ناز ادیب ،شاعر،مصنف اور جنگ کے گروپ ایڈٹر جناب محمود شام نے تقریب میں خصوصی شرکت کی،انہوں نے حاضرین کو آگاہ کیا جب جنگ گروپ نے ڈاکٹر صاحب کے کالم شروع نے کرنے کا فیصلہ کیا تواسیٹبلشمنٹ نے اسے رکوانے کے لیے شدید دباوٴ ڈالامگر ہما را یہ اعزاز ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان جیسی شخصیت ہمارے اخبار میں کالم لکھ رہی ہے ،مقررین میں جناب وزیر احمد جوگیزی،علامہ اصغر علی کوثروڑائچ، ڈاکڑصبیحہ مشرقی صاحبہ، سعداللہ شاہ صاحب، سعدیہ قریشی صاحبہ نے بھی بہت عمدہ اور فکر انگیز خیالات کا اظہار کیا۔جناب جاوید ہاشمی صاحب کی بیان کی تفصیل آپ اخبارات میں پڑھ چکے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرصاحب کی مشکلات کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب امریکہ سے ڈرتے ہیں،ہمیں ہر صورت میں غلامی سے نجات حاصل کرنی ہوگی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے کمزور قیادت کو گریبان سے پکڑ کر عوام کے سامنے لانا ہے۔بے شک یہ ایک حقیقی باغی کی آواز ہے اور عوام کی آواز یہ ہے کہ جاوید ہاشمی قدم بڑھاوٴ ۔۔۔ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ۔ جاوید چوہدریe1
پاکستانی سیاست میں نئے باب کا آغاز۔ عباس مہکری e1

یہ ہے جمہوریت ۔ جاوید چوہدری e1

ہاشمی، سعد رفیق کا ووٹ سب نے محسوس کیا
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

مسلم لیگ نواز کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق کے اٹھارویں ترمیم کی ایک شق کے خلاف ووٹ کے بعد سیاسی حلقوں یہ بحث جاری ہے کہ اب پارٹی میں ان کا مقام کیا ہوگا۔ ونوں رہنماؤں نے ہمارے نامہ نگار علی سلمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ انہی کی جماعت سب سے زیادہ جمہوری ہے۔
قومی اسمبلی نے اٹھارویں ترمیم میں ایک شق ہے جس کے تحت سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی انتخابات کرانے کی پابندی سے متثنیٰ ہو جائیں گی۔ اور سیاسی جماعت کا قائد رکن پارلیمان نہ ہوتے ہوئے بھی پارٹی فیصلے سے انحراف کرنے والے رکن پارلیمنٹ کےخلاف تادیبی کارروائی کرسکے گا۔
تین سو بیالیس کے ایوان میں مسلم لیگ نون کے دو رہنماؤں مخدوم جاوید ہاشمی اور خواجہ سعید رفیق اور مسلم لیگ قاف کے منحرف تین اراکین کے سوا کسی رکن نے اس ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔
مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کا پارٹی کے باقی اراکین سے ہٹ کر ووٹ دینے کو سب نے محسوس کیا لیکن یہ بات کیوں نظر انداز کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی میں سے تو ایک بھی رکن ایسا نہ نکلا جو سیاسی جماعتوں کی آمریت کے خلاف بات کرسکتا۔
سیاسی جماعتوں پر اندرونی انتخابات کرانے کی پابندی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی لیکن جب اس کو ختم کیا جانے لگا تو اس کی نشاندہی مسلم لیگ قاف کی رکن کشمالہ طارق نے کی جو مشرف دور میں ان کی ٹیم میں شامل تھیں۔
مخدوم جاوید ہاشمی کاکہنا ہے کہ کسی اچھے قانون کو صرف اس بنیاد پر ختم کرنا نامناسب ہے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کے دور میں متعارف کرایا گیا۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان کے پیچھے خواجہ سعد رفیق بھی اس ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کے لیے آکھڑے ہوئے۔
مخدوم جاوید ہاشمی مسلم لیگ نون کے ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے مشرف دور میں سب سے طویل جیل کاٹی وہ مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر تھے اور انہیں بغاوت کے مقدمے میں جیل بھجوادیا گیا تھا۔
مخدوم جاوید ہاشمی کو رہائی کے بعد جمہوری قوتوں خاص طور پر ان کی اپنی جماعت میں بہت پذیرائی ملی اور عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والے رہنما بنے اور انہیں تین نشستوں پر کامیابی ملی۔
ان کا وہ بیان خاص طور پر نوٹ کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ملک میں آمریت کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں میں آمریت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ جب قومی اسمبلی کی تین سیٹوں کے فاتح مخدوم جاوید ہاشمی نے دو نشستیں خالی کرنا تھیں تو انہوں نے ملتان کی نشست سے دستبردار ہونے کی ’شریف خواہش‘ نظر انداز کرکے راولپنڈی کی سیٹ خالی کردی تھی جو ضمنی انتخاب میں شیخ رشید کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے لیے زندگی موت کا سبب بن گئی۔
سرائیکی صوبے کےحق میں مخدوم جاوید ہاشمی کا بیان بھی پارٹی قیادت کو کڑوا کسیلا لگتا ہے کیونکہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ہی صوبہ پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ملنے والے اس اختیار کے خلاف ووٹ ڈالنے والے خواجہ سعد رفیق ہیں جو شریف برادران کی جلاوطنی میں احتجاجی تحریکوں کے روح رواں جانے جاتے تھے۔ لیکن ماضی میں ان پر ایک ایسا دور بھی گذرا تھا جب شریف برادران ان کے خلاف تھے اور کشمیر سے ایک سیاستدان نے آکر انہیں دوبارہ شریف گڈ بک میں شامل کرایا تھا۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اس ترمیم کے خلاف ووٹ ڈالنے کا دونوں کا فیصلہ الگ الگ تھا اور انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان کے پیچھے خواجہ سعد رفیق بھی اس ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کے لیے آکھڑے ہوئے۔
جاوید ہاشمی اور سعد رفیق دونوں ہی پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دینے کے اپنے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ ان کی پارٹی میں باتیں ضرور ہورہی ہیں اور کئی افراد ان کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ خود مطمئن ہیں۔
لاہور سے منتخب ہونے والے خواجہ سعد رفیق نے بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شاید پارٹی کے باقی اراکین اتنی جلد فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ورنہ پارٹی لائن وہی ہوتی جو انہوں نے اپنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمالہ طارق نے اس قانون کی مخالفت کی تو چند لمحے تھے جس میں فیصلہ کرنا تھا ۔’یہ لیڈرشپ کا امتحان کا وقت تھا۔‘
خواجہ سعد رفیق نے کہا ’میں نے فوری طور پر اپنے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی لیکن سپیکر نے گنتی شروع کرادی صرف ڈیڑھ منٹ کا وقفہ ملا اور میں نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ دے دیا۔‘
سعد رفیق کا دعویٰ ہے کہ دیگر اراکین اسمبلی کو بھی غور و خوص کا مناسب وقت ملتا تو وہ بھی اس کے خلاف ووٹ دیتے ۔
جاوید ہاشمی اور سعد رفیق دونوں ہی پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دینے کے اپنے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ ان کی پارٹی میں باتیں ضرور ہورہی ہیں اور کئی افراد ان کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ خود مطمئن ہیں۔
جاوید ہاشمی نے کہاکہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور کرتے رہیں انہیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے البتہ انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ حالیہ فیصلے سے ان کی پارٹی میں حثیت سے کوئی فرق پڑا ہے۔

 
 
جاوید ہاشمی کہاں ہیں؟ ,,,,ادھورا سچ…اصغرae1
ہماری سیاست کی ہانڈی کوجب تک شیخ رشید کا تڑکا نہ لگے ذائقہ پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے گوشہ نشین ہو جانے سے سیاست میں وہ چٹخارا اورکرارہ پن باقی نہیں رہا۔ اگرچہ بعض چینلز انہیں گاہے بگاہے تکلیف دیتے رہتے ہیں لیکن ان کی باتوں میں وہ شوخی اور کٹیلا پن باقی نہیں رہا جوان کا خاصا تھا۔ یوں لگتا ہے انگارے پر راکھ کی موٹی تہہ جم گئی ہے باتوں میں عاجزی اور مسکینی کے ساتھ درویشی اور فقیری بھی جھلکنے لگی ہے۔ ایک انٹرویو میں تو شیخ صاحب نے تارک الدنیا ہونے کی دھمکی بھی دی ہے۔ کہتے ہیں اب اکیلے رہنے کو جی کرتا ہے۔ شیخ رشید کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اب وہ اپنے ہی تانگے کی واحد سواری ہیں۔ لیکن یہ اپنے جاوید ہاشمی کو کیا ہوا ہے ان کی پارٹی تو مقبولیت کے فراٹے بھر رہی ہے۔ رائے ونڈ میں بڑی رونق اور چہل پہل لگی ہے ۔ دیگیں ٹھنٹھنا رہی ہیں اور ہر روز پارٹی کو کوئی نہ کوئی خوشخبری بھی مل جاتی ہے جس سے لاہور کے حلوائیوں کی بن آئی ہے۔ مٹھائیوں کی تقسیم کے سلسلے بھی جاری ہیں۔ ایسے میں ہمارا دوست جاوید ہاشمی کہاں ہے؟ اگرچہ میاں نواز شریف جمہوری مزاج کو لے کر چل رہے ہیں اور پارٹی کے کردارکے حوالے سے بے حد محتاط ہیں۔ ذرا سی غلطی بھی برداشت نہیں کرتے۔ ایک ایم این اے جعلی ڈگری اور امتحان میں نقل کی پاداش میں فارغ کیاگیا۔ پھر بھولے بادشاہ چوہدری عبدالرحمن وزیر جیل خانہ جات اپنے جیالے ہونے کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ Excited ہو کر دوغلطیاں کر بیٹھے۔ اب میاں نواز شریف سے بچتے ہیں تو میاں شہباز شریف سے بچنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ چنانچہ چوہدری عبدالرحمن اپنے حصے کی غلطیوں کا کوٹہ پورا کر چکے ہیں۔ اللہ کرے وہ بات بات پر جذباتی نہ ہوا کریں۔ بی بی شمائلہ رانا کا ذکر کرنا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ حاسدوں کو بڑی جلدی جلدی اس طرح کے کیس مل جایا کرتے ہیں۔ بات میاں نواز شریف کی پارٹی کے جمہوری مزاج کی ہو رہی تھی تو ایسے میں پارٹی کے اہم فیصلوں میں مرکزی قیادت کے تمام لیڈر شامل ہوتے ہیں۔ ایسے میں نگاہیں جاوید ہاشمی کو تلاش کر رہی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اب جیل سے باہر آ چکے ہیں۔ پھر کہاں ہیں۔ مخدوم رشید میں ٹی وی کیمرے ان تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ اپنے ہونے کا ثبوت دے دیتے ہیں اور ثبوت بھی ایسا دیتے ہیں کہ پارٹی کی پالیسی کے خلاف سرائیکی صوبے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ میرے لئے تو جاوید ہاشمی جیل میں ٹھیک تھا۔ کم سے کم ہفتے میں ایک دفعہ بات تو ہو جاتی تھی یا کوئی پیغام ہی مل جاتا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دو کتابیں اردو ادب کو اس بہانے سے مل گئیں۔ جیل سے اس کی آواز ہماری سیاست پر راج کر رہی تھی۔ آزاد ہو کر جاوید ہاشمی کے پر کٹ گئے یا کیا وہ اپنے پر جیل میں چھوڑ آیا ہے۔ بے شمار شعر ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ قفس میں پنچھی کے پر بندھے رہ جاتے ہیں اور جب رہائی ملتی ہے تو وہ اڑان کے قابل نہیں رہتے۔ صرف اس شعر پر اکتفاء کر لیں…
اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے
اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے
کیا جاوید ہاشمی کے ساتھ یہ ہوا ہے یا کوئی اور بات ہے۔ اس بات کا تجزیہ کرنا اس لئے زیادہ ضروری ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جو کچھ ہوا اورجن حالات میں میاں صاحب کی فیملی کو جلا وطن ہونا پڑا… اس دوران میاں صاحب کے بڑے بڑے وفا دار بہانہ کر کے حکومت وقت کی گود میں جا بیٹھے اور بڑے بڑے جغادری کالم نویسوں اور تجزیہ نگاروں نے طے کر لیا کہ اب میاں صاحب کبھی سیاست میں نہیں آ سکتے۔ ایسے میں جو لوگ ڈٹے رہے ان میں عزیزی سعد رفیق اور میرا دوست جاوید ہاشمی تو سب کے سامنے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پرویز رشید کی خدمات کو کون بھول سکتا ہے جس نے اپنے خاندان کو داؤ پر لگا دیا اور بھی بہت سے رہنما ہیں۔ یہ موقع ان کے ذکرکا نہیں ہے۔ یہ بتانا مقصود ہے کہ جاوید ہاشمی بغاوت کے جرم میں سزا یافتہ ہو گیا۔ یہ بڑاجرم ہے اور اس جرم کی سزا پھانسی بھی ہوا کرتی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ جاوید ہاشمی نے اس سزا کو اپنے لئے نعمت قرار دیا۔ ذرا بھی اس کے پاؤں نہیں ڈگمگائے۔ وہ مسکراتا ہوا سزا کی کوٹھڑی میں چلاگیا۔ اس کی لکھی ہوئی کتابیں بتاتی ہیں کہ وہ جیل کو اپنا گھر بنا چکا تھا۔ چونکہ ان کی کتابوں کے مسودے مجھے جیل سے انہوں نے خود ارسال کئے اس لئے میں بتا سکتا ہوں کہ اس نے جیل کے قیام کو اپنے لئے خوشگوار تجربہ بیان کیا تھا۔ ظاہر ہے یہ خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا لیکن جاوید ہاشمی نے اپنی کوٹھڑی کے صحن میں سبزیاں اور پھول لگائے۔ روزانہ وہ پھولوں اور سبزیوں کی کیاریوں کو خود سینچتے تھے۔ پانی دیتے تھے اور پودوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ پودے جاندار ہوتے ہیں وہ آپ سے محبت مانگتے ہیں آپ جتنا ان سے پیار کرتے ہیں وہ اتنا پھلتے پھولتے ہیں۔ جاوید ہاشمی آزادی کے اس زمانے میں کہاں چلے گئے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کئی فلمیں یاد آ رہی ہیں۔ جن میں ایک قیدی جیل سے اتنا مانوس ہو جاتا ہے کہ وہ جیل کو آزادی اور جیل کے باہر کی دنیا کو قید سمجھتا ہے۔ اس کا فلسفہ ہوتا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوں پوری دنیا سلاخوں کے پیچھے ہے۔ اس لئے وہ قیدی جب رہائی پاتا ہے تو کوئی نہ کوئی جرم کرنے کی پلاننگ میں لگ جاتا ہے کہ کسی طرح واپس اپنے ”گھر“ پہنچے۔ لگتا یہی ہے کہ جاوید ہاشمی جیل کے بغیر اداس ہوگیا ہے۔ ویسے بھی اسے بڑی فکر ہو گی کہ جو پودے اس نے لگائے تھے کوئی انہیں پانی دے رہا ہو گا کہ نہیں۔ جو سبزیاں اس نے لگائی تھیں ان کے بیج کسی نے جمع کئے یا نہیں اور اب وہ اس پلاننگ میں ہو گا کہ کسی نہ کسی طرح جیل میں واپس چلا جائے اور اس کے جیل میں واپس جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ میاں نواز شریف ہوں گے۔ جو کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کا پارٹی کا ہیرا کوئی ان کی مقبولیت کے عروج کے زمانے میں چرا کر لے جائے۔ ایک اور بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے ملتانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی کبھی نہیں چاہیں کے کہ ان کی مٹی کا سونا جیل میں جا کر ان کے لئے مسئلہ بن جائے۔ تو بھائی جاوید ہاشمی تمہارے لئے جیل جانے کے راستے تو بند ہیں۔ اب ایسا ہے کہ اپنے پھولوں کے پودوں اور سبزی کے بیجوں کی حفاظت کے لئے اپنی ہی پارٹی کے وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبدالرحمن پر آپ کو بھروسہ کرنا ہو گا۔ وہ آپ کا یہ کام کر سکتے ہیں۔ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ میاں نواز شریف اپنے اس ہیرے کو جیل جانے سے اس لئے بچانا چاہتے ہوں کہ ان کی اگلی جلا وطنی میں جاوید ہاشمی کی انہیں جیل جانے کے لئے ضرو