دوسری زبان میں
انٹرویوز
تصنیفات
نقطہ نظر
تقاریر
پروفائل
خبریں / کالم e1  
3
2 1 p2
بی بی سی اردو
کالمe1
 
4

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مسلم لیگ کے رہنماء جاوید ہاشمی

’جوکہتے ہیں کہ وہ وکلاء کے دباؤ نہیں آئیں گے وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ جمہوریت کا مطلب ہے کہ عوامی رائےکےسامنےسرنڈر کیاجائے‘

پاکستان بارکونسل کے فیصلہ کی روشنی میں ملک بھر کے وکلاء نے جمعرات کو اپنے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس بھی نکالے۔ وکلاء کے جلوسوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نےلاہور میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمان نے عوام اور سول سوسائٹی کی آواز اور قربانیوں کو نظرانداز کیا تو پانچ سال یا پانچ ماہ تو دور کی بات ہے یہ پارلیمان پانچ دن تک قائم نہیں رہ سکے گی۔

جاوید ہاشمی معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور کی ضلع بار ایسوسی ایشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے بعد پنجاب اسمبلی تک وکلاء کے جلوس کی قیادت بھی کی۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

نئے اور پرانے جج

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif پرانے اور نئے ججوں کو ملا کر عدلیہ کو بحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کو بھی این آر او کے ذریعے بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایک آمر کے فیصلے کو اپنے پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار نہیں ہے اور عدلیہ کو بحال نہ کراسکی تو پھر صدر پرویز مشرف کو یہ حق ہے کہ وہ اس پارلیمان کو اپنے پاؤں کے جوتے تلے روند ڈالے
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

ادھر کراچی میں وکلاء نےہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منقعد کیے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدرجسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے ججوں کی بحالی میں تاخیر کی مذمت کی اور واضح کیا کہ اگر بارہ مئی کو جج بحال نہیں ہوئے تو وکلاء طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ اس موقع پر بارہ مئی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ۔

جاوید ہاشمی نے خطاب میں کہا کہ پرانے اور نئے ججوں کو ملا کر عدلیہ کو بحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کو بھی این آر او کے ذریعے بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایک آمر کے فیصلے کو اپنے پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار نہیں ہے اور عدلیہ کو بحال نہ کراسکی تو پھر صدر پرویز مشرف کو یہ حق ہے کہ وہ اس پارلیمان کو

اپنے پاؤں کے جوتے تلے روند ڈالے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2008/05/20080508134954lawyers_protest203.jpg

لاہور میں وکلاء کا احتجاج


جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ وکلاء کے دباؤ نہیں آئیں گے وہ لوگ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ان کے بقول جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ عوام کی رائے کے سامنے سرنڈر کیا جائے۔

لاہور کی ضلع بار کے اجلاس میں بارہ مئی کو عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے اور یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

جاوید ہاشمی کے خطاب کے بعد لاہور کے وکلاءنے ایوان عدل سے ایک جلوس نکالا جس میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور خاکسار تحریک کے کارکنوں نے اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شرکت کی۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

پیدل قافلہ

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif لاہور بار کے منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سرا نے وکلاء نے نو رکنی پیدل قافلے کو بھی روانہ کیا جو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے لاہور سے اسلام آباد میں پیدل سفر کرے گا۔ نو رکنی قافلہ میں سول سوسائٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ نو رکنی قافلہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

پنجاب اسمبلی کے سامنے وکلا رہمنا حامد خان کے خطاب کے بعد وکلا پرامن طور پر منتشتر ہوگئے۔

اس موقع پر لاہور بار کے منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سرا نے وکلاء نے نو رکنی پیدل قافلے کو بھی روانہ کیا جو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے لاہور سے اسلام آباد میں پیدل سفر کرے گا۔ نو رکنی قافلہ میں سول سوسائٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ نو رکنی قافلہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

ادھرصوبہ سرحد میں بھی وکلا نے اعلیْ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ۔پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ججوں کی بحالی کے لیے قائم کمیٹی کے پاس صرف برطرف ججوں کو ان کے عہدوں پر بحال کرنے کا مینڈیٹ ہے کہ پی سی او ججوں کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے اس لیے کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کرے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بارہ مئی کو صوبہ سرحد میں وکلا یوم شہدا منائیں گے اور اگر اس دن برطرف ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔

بلوچستان میں بھی ہفتہ وار احتجاج کے سسلسلہ میں وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ضلع کہچری سے وکلا نے ایک ریلی نکالی جو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے ججوں کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منشتر ہوگئے۔


 

وقتِ اشاعت: Friday, 25 April, 2008

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی: فائل فوٹو

جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ نو اپریل کے واقعے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئں

مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں، اگر عدلیہ بحال نہ ہوئی تو یہ واقعہ نو مارچ ، بارہ مئی اور نو اپریل کے واقعات سے بھی بڑا ہوگا اور عوام موجودہ اتحادی جماعتوں کو معاف نہیں کریں گے۔

جاوید ہاشمی نے کراچی میں جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے یہاں کی سول سائٹی اور وکلا نے گولیاں کھائیں اور جانوں کے نذرانے دیئے ہیں وہ یہاں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نو اپریل کے واقعے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئں اور جو ذمے دار ہیں انہیں سزا ملنی چاہیئے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

وزارتوں سے الگ ہو جائیں گے

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ججوں کی بحالی کے وعدے پر عمل ہوگا لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہوئی تو مسلم لیگ ن اس جمہوری ماحول کو نقصان نہیں پہنچائی گی اور وزراتوں سے الگ ہوکر اپنا کردار ادا کرے گی
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

مخدوم جاوید ہاشمی

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ اگر ججز کی بحالی پر ساتھ دے اور بارہ مئی اور نو اپریل کے واقعات کی تحقیقات کے نتائج کو قبول کرے تو انہیں ان کی حکومت میں شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججوں اور دیگر معاملات پر اگر کسی کا عوام کے موقف کے برعکس موقف ہوگا تو ’میں عوام کی ترجمانی کروں گا۔‘

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی پر مذاکرات جاری ہیں اور اس حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔ وہ وکلا کے اس موقف سے متفق ہیں کہ تیس اپریل تک ججوں کو بحال کرنا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے یہ الیکشن اقتدار اور وزارتوں کے لیے نہیں لڑا ہے۔ ’جیل، جلاوطنی اور بینظیر بھٹو کی شہادت ملک میں جمہوریت کے لیے تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ججوں کی بحالی کے وعدے پر عمل ہوگا لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہوئی تو مسلم لیگ ن اس جمہوری ماحول کو نقصان نہیں پہنچائی گی اور وزراتوں سے الگ ہوکر اپنا کردار ادا کرے گی۔

ججوں کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات کے اہم مرحلے پر نواز شریف کی لندن اور آصف علی زرداری کی دبئی روانگی پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل انہوں نے طاہر پلازہ کا بھی دورہ کیا جہاں نو اپریل کو پانچ افراد کو زندہ جلایا گیا تھا۔


 

’ہمیں آمریت کو دفن کرنا ہوگا‘

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی (فائل فوٹو)

مشرف حکومت نے جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا تھا

پاکستان کے ایوان زیریں یا قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے بعد حزب اقتدار میں شامل پاکستان مسلم لیگ نواز کے راہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلی ربر سٹیمپ یا کٹھ پتلی ایوان کی طرح ایک آمر کے اقدامات کی توثیق نہیں کرے گی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان کا اشارہ گزشتہ نومبر میں جنرل مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی جانب تھا۔ ان کی تقریر سے ظاہر ہو رہا تھا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کو آنے والے دنوں میں مشکلات درپیش ہوں گی۔

جاوید ہاشمی نے تکرار کے ساتھ کہا: ’ہمیں آمریت کو دفن کرنا ہوگا، دفن کرنا ہوگا، دفن کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دفاعی بجٹ کو بھی جانچ پڑتال کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے بطور سپیکر انتخاب اور حلف برداری کے بعد فہمیدہ مرزا نے ایوان میں قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الہی کو خطاب کی دعوت دی۔

پرویز الہی نے اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے ایوان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پرویز الہی نے بظاہر ایوان پر زور دیا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اختیارات کو کم کرنے سے اجتناب بہتر ہوگا۔

مخلوط حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے ایوان کو احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے، اگر خدانخواستہ اس مرحلے پر ایوان کوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کے نتائج ہمارے اور ہمارے بچوں کے لیے تباہ کن ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئروائس چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اب ملک جمہوریت کی راہ پر واپس آچکا ہے۔ انہوں نے سپیکر کے لیے فمہیدہ مرزا کی نامزدگی پر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں اور اپنا وعدہ نبھانا جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ ہم سب بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور یہ کہ زیادہ اختیارات کے لیے اداروں کے مابین تصادم سے گریز کریں گے۔ اور ریاستی ادارے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔‘

مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ صدر کے اس آئینی اختیار کی طرف تھا جس کے تحت وہ اسمبلیوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ حزب اقتدار میں شامل جماعتیں آئین کی ’شق اٹھاون دو بی‘ کے خلاف ہیں۔

 وقتِ اشاعت: 12 February, 2008 -

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

ہاشمی، شاہ محمود یا رائے منصب

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

ملتان کا معرکہ

مسلم لیگ نون عدلیہ کی آزادی اور حالیہ مہنگائی کو حریفوں پر بھرپور انداز میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں

پاکستان کے آبادی سے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوبی اضلاع کے اکثر حلقوں میں تکونی جبکہ بعض میں ون ٹو ون مقابلے ہو رہے ہیں۔ اصل معرکہ مسلم لیگ قاف اور نون کے علاوہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان متوقع ہے۔

ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں بےنظیر بھٹو کی ہلاکت سے قبل پنجاب کی حد تک مقابلہ زیادہ تر قاف اور نون میں تصور کیا جا رہا تھا لیکن اب پیپلز پارٹی کے امکانات بھی مزید بڑھ گئے ہیں۔

سب سے اہم، دلچسپ اور کانٹے کا ٹکراو ملتان کے این اے 148 پر متوقع ہے۔

این اے ایک سو اڑتالیس پر تین دو قومی اور ایک صوبائی سطح کے اہم سیاستدانوں میں مقابلہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر مخدوم شاہ محمود قریشی اور مسلم لیگ (ق) کے سابق صوبائی وزیر رائے منصب علی خان کے ساتھ انتخابی تصادم ہے۔

ان امیدواروں کی انتخابی مہم پولنگ کا دن قریب آنے کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی وہ سیاستدان ہیں جو قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخابی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں ان کی جماعت نے ملتان سے دو حلقوں کے علاوہ لاہور اور راولپنڈی سے بھی میدان میں اتارہ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2008/02/20080212094207khanewal_profile203.jpg

مسلم لیگ قاف کی پالیسیوں کو جنوبی اضلاع کی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے

ان پر ان چار حلقوں میں بیک وقت انتخابی مہم چلانے کے آثار قدرے واضع ہوتے جا رہے ہیں۔ پرجوش تقاریر کرتے کرتے پچاس سالہ جاوید ہاشمی کی آواز بیٹھ چکی ہے اور کئی کئی راتوں سے بستر پر نہیں سوئے۔ کبھی پنڈی تو کبھی لاہور اور کبھی ملتان۔

اس بھاگ دوڑ کا احساس انہیں بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک حلقہ پنجاب کے انتہائی شمال تو دوسرا جنوبی پنجاب میں جبکہ تیسرا مرکزی پنجاب میں ہے لیکن چونکہ پارٹی نے انہیں ہدف دیا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔

وہ اس تاثر سے متفق نہیں کہ چار حلقوں کی وجہ ہارنے کا خوف ہے۔ ’اگر میں نے صرف جیتنا ہوتا تو میں صرف لاہور سے لڑ لیتا لیکن یہ تو اعزاز کی بات ہوتی ہے سیاسی جماعتوں میں۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ اسے اپنا پیغام مضبوط انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیئے یہ کرنا پڑتا ہے۔‘

مسلم لیگ نون عدلیہ کی آزادی، سابق حکومت کی ووٹروں میں گیس یا بجلی کی فراہمی میں ناکامیوں اور حالیہ مہنگائی کو حریفوں پر بھرپور انداز میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے جلسوں میں ’وزیر اعظم جاوید ہاشمی، وزیر اعظم جاوید ہاشمی‘ جیسے نعرے بھی لگ رہے ہیں۔

اس نعرے کی وجہ ایک تو نواز شریف اور شہباز شریف کا انتخابات سے باہر ہونا اور ماضی میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف ان کا متحدہ حزب اختلاف کا جیل میں ہونے کے باوجود وزیر اعظم کا مشترکہ امیدوار ہونا بتایا جاتا ہے۔ تاہم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عہدہ حاصل کرنے کی ابھی کوئی امید نہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی واضع کر دیا کہ سیاست میں امکانات لامحدود ہوتے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://newsimg.bbc.co.uk/media/images/44419000/jpg/_44419709_203villagersdiscuss.jpg

مسلم لیگ قاف برادری اور خاندانی سیاست پر بھی کافی زور دے رہی ہے

ان کی انتخابی مہم کا واحد عنصر جو ان کے خلاف جاسکتا ہے وہ ہے ان کا چار حلقوں سے انتخاب۔ ووٹر کو خدشہ ہوسکتا ہے کہ کہیں منتخب ہونے کی صورت میں وہ یہ نشست نہ رکھیں اور ان کے مسائل کے حل میں مشکل درپیش آئے۔

ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا ایک بڑا نام مخدوم شاہ محمود قریشی ہیں۔ وہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے بظاہر ہمدردی ووٹ کی توقع کر رہے ہیں۔ وہ ووٹروں کو مسلم لیگ قاف کی پالیسیوں کو جنوبی اضلاع کی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

انہیں تاہم اصل خطرہ مسلم لیگ قاف سے ہی ہے کیونکہ مسلم لیگی امیدوار رائے منصب علی اپنے جلسوں میں آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ مسلم لیگ نون کو پیپلز پارٹی کی ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے بلکہ بعض اوقات تو اپنی تقاریر میں اس پارٹی کا ذکر تک بھی نہیں کرتے۔

رائے منصب علی جو گزشتہ صوبائی حکومت میں محض آخری دو ماہ کے لیے وزیر بھی مقرر ہوئے ووٹروں کو پیپلز پارٹی کو اب ایک لوٹ مار کا گروہ بن جانے جس کی قیادت آصف علی زرداری کر رہے جیسے الزامات سے ڈرا رہے ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کے لیے سابق حکومت کی جانب سے ایک سو سترا ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کرنے کے دعوے بھی کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ رائے منصب علی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں اسمبلی میں مسلم لیگ قاف میں شامل ہوئے۔

مقامی ناظمین کی جانب سے مدد کے الزامات کو مسلم لیگ قاف کے رہنما مسترد کرتے ہیں۔ رائے منصب کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے تحصیل ناظم ہیں تاہم ان کے ساتھ مہم میں دکھائی نہیں دے رہے۔ انکے صوبائی امیدوار ملک مظہر عباس کے برخوردار بھی ناظم ہیں اور وہ بھی موجود نہیں ہیں۔

صدر پرویز مشرف مسلم لیگ کے سرپرست اعلی قرار دیئے جاتے رہے ہیں لیکن اب اس جماعت کے امیدواروں کی مہم میں دکھائی نہیں دے رہے۔ نہ ان کا ذکر ہے نہ کوئی تصویر۔ رائے منصب علی خان بھی ان کو صدر منتخب کروانے کے لیے ان کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کا اب بھی احترام اور عزت کرتے ہیں لیکن ان کا اب جماعت کی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

مسلم لیگ قاف برادری اور خاندانی سیاست پر بھی کافی زور دے رہی ہے۔ ان کا کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب لڑنے کی بجائے زرداری کو ہدف بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جنوبی اضلاع کے بہت سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ووٹر عدلیہ کی بحالی کے وعدے کا ساتھ دے گا، بےنظیر بھٹو کی ہلاکت پر افسوس کرے گا یا علاقے کی ترقی کے دعوے قبول کرے گا

وقتِ اشاعت: 07 February, 2008 - Published 15:36 GMT

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

فرزندِ راولپنڈی کے لیے ایک نیا چیلنج

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

راولپنڈی کے شہری علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقوں این اے پچپن کو فرزند راولپنڈی شیخ رشید احمد کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے پہلی بار سن انیس سو پچاسی میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں اس علاقے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی تھی اور اس وقت سے لے کر سن دو ہزار دو تک وہ یہاں سے کبھی نہیں ہارے۔ یہ الگ بات ہے کہ سن انیس سو پچاسی میں جب وہ راولپنڈی کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے تھے تو وہ صوبائی اسمبلی کا انتخاب چودھری مشتاق کے مقابلے میں ہارگئے تھے۔

سن انیس سو پچاسی کے انتخابات میں شیخ رشید احمد نے اپنے مخالف امیدوار غلام حسین کو اکیس ہزار کی اکثریت سے شکست دی تھی۔ شیخ رشید احمد نے چالیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ غلام حسین کے حصے میں صرف انیس ہزار ووٹ آئے تھے۔

انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شیخ رشید احمد کے مقابلے میں جنرل (ریٹائرڈ) ٹکا خان کو امیدوار نامزد کیا تھا۔ لیکن شیخ رشید احمد آئی جے آئی کے ٹکٹ پر یہ سیٹ سولہ ہزار کے بھاری فرق سے جیت گئے تھے۔

سن انیس سو نوے کے انتخابات میں پی پی پی نے شیخ رشید کے مقابلے میں چودھری مشتاق حسین کو میدان میں اتارا لیکن وہ بھی شیخ رشید کو نہ ہرا سکے۔

سن انیس سو ترانوے اور ستانوے کو ہونے والے انتخابات میں آغا ریاض الاسلام اور ناہید خان شیخ رشید کے مقابلے میں آئے لیکن دونوں ہی امیدوار فرزند راولپنڈی کا مقابلہ نہ کر سکے۔

سن دو ہزار دو کے انتخابات کے لیے ہونے والی انتخابی حد بندیوں میں راولپنڈی شہر کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور شیخ رشید احمد نے شہر کے دونوں حلقوں این اے پچپن اور این اے چھپن سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد میں انہوں نے این اے چھپن کی سیٹ چھوڑ دی تھی اور ضمنی الیکشن میں ان کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو مسلم لیگ قائد اعظم کا امیدوار نامز کیا گیا تھا۔ تاہم وہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار حنیف عباسی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔

آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات میں شیح رشید احمد راولپنڈی شہر کے دونوں حلقوں این اے پچپن سے پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار ہیں اور ملک کے دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی بھر پور کوشش ہے کہ شیخ رشید احمد کو شکست دی جائے۔

اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق ایم پی اے عامر فدا پراچہ کو میدان میں اتارا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز نے پارٹی کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی کو ٹکٹ دیا ہے اور امید ہے کہ یہاں ایک سخت مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔

وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 13:45 GMT 18:45 PST

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

مشرف کی حمایت بند کریں: ہاشمی

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070804210651javed_hashmi203.jpg

جاوید ہاشمی کا خیال ہے کہ حکومت انتخابات سے بچنا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت جنرل پرویز مشرف کوصدر تسلیم نہیں کرتی اور یہ کہ کور کمانڈروں کو بھی صدر جنرل مشرف کی حمایت بند کردینی چاہیے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ نواز کے رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں حالیہ خود کش حملے حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور حکومت انتخابات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت جنرل مشرف کو کسی صورت پاکستان کا جائز حکمران نہیں مانتی اور وہ کور کمانڈروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی جنرل مشرف کی حمایت ختم کر دیں۔

سوات میں جاری حالیہ کشیدگی کے بارے میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ حمکرانوں نے اپنی پالیسوں کی وجہ سے سوات جیسی امن کی وادی کو ’انگار وادی‘ بنا دیا ہے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070804142339javed_hashmi3.jpg

جاوید ہاشمی کو فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سزا ہوئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں جاوید ہاشمی نے پاکستان الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابات کے لیے جاری کردہ ضابطہء اخلاق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن نے ضابطہء اخلاق بنانے سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہیں کی اس لیے وہ اس ضابط کو نہیں مانتے۔ اور اگر جنرل مشرف کے زیر صدارت انتخابات ہوتے ہیں تو اُن کا خیال ہے کہ ایسے انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کے موجودہ مسائل کا حل صرف شفاف انتخابات ہی ہیں اور اگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بغیر نگران حکومت بنائی گئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا۔

ملک میں ایمرجنسی اور مارشل لاء کی افواہوں کے بارے میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی یا مارشل لاء حکمرانوں کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن یہ خواہش ہی رہے گی۔

وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

جاوید ہاشمی کی بینظیر سےملاقات

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

18 اکتوبر کا واقعہ جمہوریت کی خلاف ایک سازش تھی: جاوید ہاشمی

پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے بلاول ہاؤس کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو سے ملاقات کی اور اٹھارہ اکتوبر کو ان کی ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 140 سے زائد افراد کی ہلاکت پر تعزیت کی۔

ملاقات لگ بھگ ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس میں ہونے والے بم دھماکے جمہوریت پر حملہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سازش تھی جو آئندہ بھی ہوسکتی ہے اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر جمہوریت کی جنگ لڑنی چاہیئے اور جمہوریت کی بحالی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوجانا چاہیئے جو میثاق جمہوریت اور اے آر ڈی کے منشور کا بھی حصہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت پر بھی بات ہوئی اور پیپلز پارٹی کی چئرپرسن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ میثاق جمہوریت پر فریقین کو قائم رہنا چاہیئے اور اس پر عمل پیرا رہتے ہوئے آپس میں رابطے بڑھانے چاہئیں۔

’بے شک ہمارا اختلاف رائے رہے، سیاسی اختلاف رائے ہر ایک کا ہوتا ہے اور ہم اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے پر الیکشن بھی لڑیں گے لیکن ایک قومی سیاسی ایجنڈہ ایسا ہونا چاہیئے جس کے ذریعے جمہوریت کو آگے بڑھایا جاسکے۔‘

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اہم امور پر جماعتی سطح کے بجائے قومی سطح پر مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیئے۔ اے آر ڈی کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ اس سلسلے میں بینظیر بھٹو سے ملاقات کے دوران قومی سطح پر باہمی رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

وقتِ اشاعت: Monday, 15 October, 2007, 20:52 GMT 01:52 PST

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

نواز شریف

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ اٹل ہے

مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے اعلان کیا ہے میاں نواز شریف نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان لوٹیں گے اور اس بار وہ لاہور ائر پورٹ پر اتریں گے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے یہ بات پیر کو ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ سعودی عرب میں میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد عید سے ایک روز پہلے ہی پاکستان لوٹے تھے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ نوازشریف نومبر ی واپسی کی تاریخ کا اعلان پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کرے گی۔

مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ اٹل ہے اور اگر حکومت گرفتار کرنا چاہتی ہے تو بے شک کرلے ان کی واپسی کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

’غلط بیانی‘

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif نواز شریف تین برس سے پہلے واپس نہیں لوٹ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنی واپسی کے حوالے سے اپنے کارکنوں سے غلط بیانی کرتے ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

پرویز الہی

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ’نواز شریف اور موجودہ فوجی حکومت کا کوئی رابطہ ہوا ہے نہ وہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ان کے بقول نواز شریف نے قوم کو فوجی حکمرانی سے ہمیشہ کے لیے نجات دلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

میاں نواز شریف نے دس ستمبر کو بھی پاکستان واپس آنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ائرپورٹ سے ہی سعودی عرب بھجوادیا گیا تھا۔

ادھراس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی نے گجرات میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف تین برس سے پہلے واپس نہیں لوٹ سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنی واپسی کے حوالے سے اپنے کارکنوں سے غلط بیانی کرتے ہیں۔


وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

اسلام آباد میں سیاسی گرفتاریاں اور چھاپے

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/09/20070909054107javed_hashmi203.jpg

جاوید ہاشمی اس سے قبل بغاوت کے الزام میں قید کاٹ چکے ہیں

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے جبکہ کئی رہنماؤں کی حراست کے لے دارالحکومت اسلام آباد میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے ہفتے کی رات گئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں راجہ ظفر الحق اور مخدوم جاوید ہاشمی، جمعیت علماء اسلام کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان قائدین کی حراست کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ پولیس جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ دونوں رہنما روپوش ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ وہ بھی اس وقت روپوش ہیں۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی کو ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے مخصوص پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا اور ان کی گرفتاری کے احکامات نقص امن کی دفعہ کے تحت جاری کئے گئے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کے پاس کم از کم حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پینتیس رہنماؤں کو حراست میں لینے کے احکامات ہیں۔

واضح رہے کے حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف پارلیمان سے انتیس ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔


وقتِ اشاعت: Saturday, 08 September, 2007,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

نواز شریف کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں: جاوید ہاشمی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے حکومت پر نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ایوانِ صدر کو سپریم کورٹ کے نواز شریف کے ملک واپس آنے کے فیصلے کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔

اس موقع پر چودھری نثار علی خان نے کہا کہ نواز شریف کا ملک سے دس سال باہر رہنے کا وعدہ نہیں تھا بلکہ یہ مدت پانچ سال کی تھی۔

سنیچر کے روز اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹیریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ’ایوانِ صدر ملک کے اندرونی اور بیرونی ذرائع استعمال کر رہا ہے تا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکے ۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے تمام تر اقدامات کے باوجود نواز شریف کے وطن واپس لوٹنے کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں اور’اُن کا آنا اٹل ہے۔‘

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اُن کی جماعت کے پورے ملک میں پندرہ سو زائد کارکن گرفتار کر لیےگئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کے اعلیٰ سرکاری افسران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ نواز شریف کے خلاف حکومت کے غیر قانونی اقدامات کا حصہ نہ بنیں کیونکہ اس طرح وہ اپنی نوکریوں سے جائیں گے۔‘

مخدوم جاوید ہاشمی نے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل کو خبردار کیا کہ ’وہ غیرقانونی اور غیرآئنی اقدامات سے گُریز کریں ورنہ اُن کو عدالتوں میں گھسیٹا جائےگا اور اُنہیں نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔‘

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

یاداشت میں کیا تھا

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ’نواز شریف جس مفاہمت کی یاداشت کے تحت پاکستان سے باہر گئے تھے اُس میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب میں رہیں گے بلکہ اُس میں لکھا تھا کہ سعودی عرب ان کی بیس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

چودھری نثار


انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے آج راولپنڈی میں ملاقات کرنے والے سعودی فرمانروا کے خصوصی ایلچی شہزادہ مُکرِن بن عبدلعزیز نے واضح طور پر کہا کہ سعودی عرب کو نواز شریف کے ملک واپس آنے کی صورت میں کوئی تشویش نہیں ہوگی۔

اں موقع پر بات کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی وجہ سے وہ اور اُن کی جماعت کچھ کہنے سے قاصر ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومت یکطرفہ بنیادوں پر نواز شریف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی باتیں کر رہی ہے لہٰذا اب وہ اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف کا ملک سے دس سال باہر رہنے کا وعدہ نہیں تھا بلکہ یہ مدت پانچ سال کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف جس مفاہمت کی یاداشت کے تحت پاکستان سے باہر گئے تھے اُس میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب میں رہیں گے بلکہ اُس میں لکھا تھا کہ سعودی عرب ان کی بیس ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی سیاست اس وقت فیصلہ کُن موڑ سےگُزر رہی ہے لہٰذا نوازشریف کے واپس آنے سے ملک کو استحکام پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا ’ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ مشرف نے ملک کو بین الاقوامی تماشہ بنا دیا ہے۔‘


 

وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 22:15 GMT 03:15 PST

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

جاوید ہاشمی 4سال بعد اسمبلی میں

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مخدوم جاوید ہاشمی

حکمرانوں سے حساب لینے کا وقت آگیا ہے: جاوید ہاشمی

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے جیل سے رہائی ملنے کے بعد پیر کے روز چار سال کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔

عدالت عظمی کے حکم پر ضمانت پر رہا ہونے والے مسلم لیگ کے قائم مقام صدر کو انکی سرکاری رہائش گاہ فیڈرل لاجز سے ایک جلوس کی شکل میں قومی اسمبلی لایا گیا جہاں اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

 

اسلام آباد کے علاوہ پنجاب پولیس کے ایلیٹ دستوں کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کے بیرونی گیٹ اور اندر جانےوالے رستوں پر تعینات تھی اور ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی اور تلاشی لی جا رہی تھی۔

مخدوم جاوید ہاشمی اجلاس شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کھڑے ہو کر اور پرجوش اندز میں ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ متعدد ارکان نے جاوید ہاشمی کی نشست پر جاکر انہیں مبارکباد دی۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آیا ہے جس میں نہ نئے مارشل لا کی گنجائش ہے اور نہ ایمرجنسی کی۔ لہذا فوجی حکمران قوم کو ان کا نام لے کر ڈرانے کا سلسلہ بند کردیں۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

مخدوم جاوید ہاشمی

قومی اسمبلی ہال میں حزب اختلاف کی اہم جماعت کے پارلیمانی لیڈر کا استقبال اور انہیں مبارکباد دینے والوں میں بعض سرکاری ارکان بھی پیش پیش رہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے سپیکر چوہدری امیر حسین سے درخواست کی کہ معمول کی کارروائی روک کر جاوید ہاشمی کو تقریر کرنے کا موقع دیا جائے۔

جاوید ہاشمی نے اپنی تقریر کا آغاز ارکان اسمبلی کے لئے شکریے کے جذبات سے کیا جو ان کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لئے سپیکر سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کرتے رہے تھے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ وہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ عدالت کی مداخلت پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں آ پائے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت اپنی آزادی کی جنگ جیت گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ کی بالادستی ابھی تک ایک خواب ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ایسی پارلیمان جو ایک بیان جاری کرنے پر اپنے ایک رکن کا تحفظ نہیں کر سکی وہ چودہ کروڑ عوام کا تحفظ کیسے کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ فوجی صدر جس نے اس پارلیمان کے تقدس کا خیال نہیں رکھا اور اسے اپنے خطاب کے قابل بھی نہ سمجھا اب وہ اسی سے دوبارہ منتخب ہونے کے لئے ووٹ مانگ رہا ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ نہ جنرل مشرف کو پارلیمنٹ سے خطاب کرنے دیں گے اور نہ منتخب ہونے دیں گے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ جیل کی زندگی کے دوران انہوں نے ملکی سیاست کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آیا ہے جس میں نہ نئے مارشل لا کی گنجائش ہے اور نہ ایمرجنسی کی۔ لہذا فوجی حکمران قوم کو ان کا نام لے کر ڈرانے کا سلسلہ بند کردیں۔ ‘

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملکی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاستدانوں نے جس ملک کو بنایا اور اسکی آبیاری کی فوجی حکمرانوں کے دور میں اس کی سرزمین اور جغرافیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بغیر الیکشن کے انعقاد کی کوشش کی گئی تو یہ متنازعہ الیکشن ملک کی شکست و ریخت کا باعث ہو سکتے ہیں۔

اپنے اوپر فوج کو بدنام کرنے اور بغاوت کے الزامات کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ فوج کی توہین اور اس کے خلاف سازش تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسے حکومت میں لائے جسکی وجہ سے آج ایک عام

  می بھی چوک میں کھڑا ہو کر فوج کو برا بھلا کہ رہا ہے۔دآ


 

 

مشرف مستعفی ہو جائیں: ہاشمی

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

پریس کانفرنس میں جاوید ہاشمی کے ساتھ لیاقت بلوچ اور ذوالفقار کھوسہ بھی موجود تھے

مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں اور نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی عدم موجودگی میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

اتوار کو لاہور میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔


جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت سے بچنے کے لیے جنرل مشرف کا کرسیِ صدارت پر نہ ہونا ضروری ہے۔ ’جنرل مشرف مستعفی ہو کر ثابت کر دیں کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے امیدوارں کی نامزدگیوں کے لیے اپنے اجلاس بلا کر صدر مشرف کے ’الیکشن جال‘ میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی قوم کو خوشخبری سنانے کے قابل ہوجائیں گے کہ آئندہ انتخابات جنرل مشرف کے بغیر ہو رہے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

پیپلز پارٹی کو سمجھائیں گے

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ہم پیپلز پارٹی کو کھینچ کر اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے، کیونکہ یہ سولہ کروڑ عوام کےحق کی بات ہے۔ ہم منتیں بھی کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے بھی
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات کی تیاریوں کی بجائے مشرف مخالف تحریک چلائی جائے، کیونکہ فردِ واحد کی مرضی کے تحت ہونیوالے انتخابات ملک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرینگے۔

جاوید ہاشمی اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے صدر بھی ہیں۔ مسلم لیگ (نواز) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔ تاہم بےنظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان مبینہ ڈیل کی خبروں سے اتحاد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اگر ایسا کچھ کر رہی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اے آر ڈی ختم نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا ’ہم پیپلز پارٹی کو کھینچ کر اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے، کیونکہ یہ سولہ کروڑ عوام کےحق کی بات ہے۔ ہم منتیں بھی کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے بھی۔‘ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ کل جماعتی جمہوری محاذ یعنی اے پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ یہ ’اتحادوں کا اتحاد‘ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مشرف مخالف تحریک

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ملک میں انتخابات کی تیاریوں کی بجائے مشرف مخالف تحریک چلائی جائے، کیونکہ فردِ واحد کی مرضی کے تحت ہونیوالے انتخابات ملک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرینگے
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

اخباری کانفرنس میں جاوید ہاشمی کے ساتھ مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذالفقار علی کھوسہ بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے بعد جاوید ہاشمی ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد روانہ ہوئے جہاں وہ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرینگے۔ قافلے میں شامل مسلم لیگی کارکن ’گو مشرف گو، وزیراعظم نواز شریف، ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

بغاوت کے مقدمے میں پونے چار سال تک جیل میں رہنے کے بعد جاوید ہاشمی سنیچر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ رہائی کے بعد وہ ایک جلوس کی شکل میں داتا دربار اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے گئے تھے۔


 

وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

مشرف مستعفی ہو جائیں: ہاشمی

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

پریس کانفرنس میں جاوید ہاشمی کے ساتھ لیاقت بلوچ اور ذوالفقار کھوسہ بھی موجود تھے

مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں اور نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی عدم موجودگی میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔

اتوار کو لاہور میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔


جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت سے بچنے کے لیے جنرل مشرف کا کرسیِ صدارت پر نہ ہونا ضروری ہے۔ ’جنرل مشرف مستعفی ہو کر ثابت کر دیں کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے امیدوارں کی نامزدگیوں کے لیے اپنے اجلاس بلا کر صدر مشرف کے ’الیکشن جال‘ میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی قوم کو خوشخبری سنانے کے قابل ہوجائیں گے کہ آئندہ انتخابات جنرل مشرف کے بغیر ہو رہے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

پیپلز پارٹی کو سمجھائیں گے

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ہم پیپلز پارٹی کو کھینچ کر اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے، کیونکہ یہ سولہ کروڑ عوام کےحق کی بات ہے۔ ہم منتیں بھی کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے بھی
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات کی تیاریوں کی بجائے مشرف مخالف تحریک چلائی جائے، کیونکہ فردِ واحد کی مرضی کے تحت ہونیوالے انتخابات ملک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرینگے۔

جاوید ہاشمی اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے صدر بھی ہیں۔ مسلم لیگ (نواز) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔ تاہم بےنظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان مبینہ ڈیل کی خبروں سے اتحاد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اگر ایسا کچھ کر رہی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اے آر ڈی ختم نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا ’ہم پیپلز پارٹی کو کھینچ کر اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے، کیونکہ یہ سولہ کروڑ عوام کےحق کی بات ہے۔ ہم منتیں بھی کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے بھی۔‘ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ کل جماعتی جمہوری محاذ یعنی اے پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ یہ ’اتحادوں کا اتحاد‘ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مشرف مخالف تحریک

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ملک میں انتخابات کی تیاریوں کی بجائے مشرف مخالف تحریک چلائی جائے، کیونکہ فردِ واحد کی مرضی کے تحت ہونیوالے انتخابات ملک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرینگے
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

اخباری کانفرنس میں جاوید ہاشمی کے ساتھ مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذالفقار علی کھوسہ بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے بعد جاوید ہاشمی ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد روانہ ہوئے جہاں وہ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرینگے۔ قافلے میں شامل مسلم لیگی کارکن ’گو مشرف گو، وزیراعظم نواز شریف، ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

بغاوت کے مقدمے میں پونے چار سال تک جیل میں رہنے کے بعد جاوید ہاشمی سنیچر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ رہائی کے بعد وہ ایک جلوس کی شکل میں داتا دربار اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے گئے تھے۔


وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

’دم توڑتی حکومت کو آکسیجن فراہم نہ کریں‘

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مخدوم جاوید ہاشمی

حکمرانوں سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے:جاوید ہاشمی

پونے چار برس بعد قید سے رہائی پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو سے اپیل کی ہے کہ وہ دم توڑتی مشرف حکومت کو آکسیجن فراہم نہ کریں۔

رہائی کے بعد اپنے استقبالیہ جلوس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ’میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ انہوں نے سات سال ہمارے ساتھ ملکر ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے ہیں اور اب کوئی کہے’ کم مشرف کم‘ تو یہ نہیں چلےگا‘۔

جاوید ہاشمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل اور پھانسی گھاٹ صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں بلکہ آئین کو پامال کرنے والوں کے لیے بھی بنے ہیں اور اس ملک کے عوام قانون اور عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور ملک میں کوئی ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو سنیچر کی شام لاہور کی کوٹ لکھپت سنٹرل جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ جیل سے باہر آنے پر جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں اس وقت رہا ہوں گے جب پارلیمان اور ادارے آزاد ہوں گے۔

رہائی کے بعد جاوید ہاشمی کو ایک بڑے جلوس کی صورت میں پہلے داتا دربار اور پھر مزارِ اقبال لے جایا گیا۔ جاوید ہاشمی کے جلوس کو عموماً ڈیڑھ گھٹنے میں طے ہونے والا یہ سفر مکمل کرنے میں قریباً بارہ گھنٹے لگے اور اور وہ اتوار کی صبح چار بجے مزارِ اقبال پر پہنچ سکے۔

جاوید ہاشمی کے جلوس کے راستے میں درجنوں مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے جہاں پر موجود کارکنوں نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ مسلم لیگی کارکن صدر جنرل مشرف کے خلاف اور نواز شریف اور جاوید ہاشمی کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ جاوید ہاشمی نے بھی مسلم لیگی کارکنوں کے ساتھ گو مشرف گو کے نعرے لگائے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif جیل اور پھانسی گھاٹ صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں بلکہ آئین کو پامال کرنے والوں کے لیے بھی بنے ہیں اور اس ملک کے عوام قانون اور عوام کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور ملک میں کوئی ایمرجنسی یا مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں کر سکتا۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی جاوید ہاشمی کا استقبال کیا۔ استقبالیہ کیمپوں سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا انہوں نے فوج کو بدنام کرنے کی کوئی سازش نہیں کی بلکہ جنرل مشرف نے اپنی غلط پالیسیوں سے فوج کو بدنام کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے اور ان سے بلوچستان اور وزیرستان میں چلائی جانے والی ایک ایک گولی کا حساب لیا جائے گا۔

اس سے قبل جب جاوہد ہاشمی کو سنیچر کی شام کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ جاوید ہاشمی کا استقبال کرنے والوں میں سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ (ریٹائرڈ) اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نمایاں تھے۔

مسلم لیگی کارکن سنیچر کی صبح سے ہی جیل کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جبکہ شام چار بجے کے بعد ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا۔جاوید ہاشمی جب جیل سے باہر آئے تو کارکنوں نے کئی کبوتر آزاد کیے۔
استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں نے مسلم لیگ کے جھنڈوں کے علاوہ بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن میں سے بیشتر پر تحریر تھا ’ایک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی‘۔ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور بار بار ’گو مشرف گو‘ کا نعرہ فضا میں گونجتا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے اور بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد جائیں گے۔


 

جاوید ہاشمی سیاسی ارتقاء کی کہانی

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا

مخدوم جاوید ہاشمی کو انیس اکتوبر سال 2003 کو فوجی قیادت کے نام ایک خط کی کاپیاں تقسیم کرنے کے الزام میں جب ایک ریٹائرڈ میجر کی شکایت پر پارلیمنٹ لاجز سے خفیہ ایجنسوں کے اہلکاروں نےگرفتار کیا تو یہ سیاست دانوں کے لیے فوج کا ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان میں آزادی اظہار کا دائرہ انتہائی محدود ہے۔

فوجی قیادت نےمخدوم جاوید ہاشمی کی شکل میں فوج پر تنقید کرنے والوں کے لیے ایک مثال قائم کرنی چاہی اور ان کو صرف ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی گواہی پر فوج میں بغاوت پیدا کرنے کے الزام میں سزا دلوائی گئی۔

جاوید ہاشمی جب تین سال نو ماہ اور چوبیس روز بعد سنیچر کو جیل سے باہر آئے تو انہیں یقیناً ملک میں فوج کے سیاسی کردار کے بارے لوگوں کی رائے میں تبدیلی نظر آئی ہوگی۔

شریف خاندان جب سن دو ہزار میں فوجی حکومت سے ڈیل یا مفاہمت کے ذریعے نہاری پکانے کے دو ماہر باورچیوں سمیت اٹھارہ لوگوں کو لے کر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوا تو اسلام آباد ائر پورٹ کے ٹارمک سے مخدوم جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ نواز کا قائم مقام صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا کہ فوج پر تنقید کی ایک حد تک اجازت ہے لیکن اس سے آگے بڑھنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائےگا
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

مخدوم جاوید ہاشمی نے آئی جے آئی کی کوکھ سے جنم لینے والی پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹی بنانے کی کوشش شروع کر دی اور کسی حد تک اس میں کامیابی بھی حاصل کر لی۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ آئی جے آئی کو کس نے بنایا حالانکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کا دعوٰی کرتے رہے ہیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نےفوجی قیادت کے نام خط تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ شامل کرنا چاہا۔ پاکستان پییلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن، جے یو آئی کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ بھی نیشنل اسمبلی کے کیفیٹریا میں ہونےو الی پریس کانفرنس میں موجود تھے، لیکن مقدمہ صرف جاوید ہاشمی کے خلاف درج ہوا۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا کہ فوج پر تنقید کی ایک حد تک اجازت ہے لیکن اس سے آگے بڑھنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائےگا۔

جاوید ہاشمی کےساتھ فوج نے وہ سلوک تو نہ کیا جو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبر پنجاب اسمبلی رانا ثنا اللہ کے ساتھ کیا تھا ، جب انہوں نے پنجاب اسمبلی کے فلور سے فوج پر تنقید کی لیکن ، جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد ان پر جو الزامات لگائےگئےاور پھر جس انداز میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک بند کمرے میں ان کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی لوگوں کو عدالتی فیصلے کا اندازہ ہو چکا تھا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2003/11/20031110152707javed_hashmi_2.jpg

جاوید ہاشمی کا تعلق ملتان کےگاؤں مخدوم رشید سے ہے

مخدوم جاوید ہاشمی کےمقدمے کی سماعت کے دوران مسلم لیگ کی بیرون ملک قیام پذیر قیادت جاوید ہاشمی کی تکالیف پر زیادہ پریشان نظر نہ آئی اور جب مخدوم جاوید ہاشمی کو اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں سزا سنائی جانے والی تھی تو پارٹی کارکنوں کو میاں شہباز شریف کی ملک واپسی کی تیاریاں کرنے کے احکامات موصول ہو چکے تھے۔

مخدوم جاوید ہاشمی زمانہ طالبعلمی میں جماعت اسلامی کی ذیلی طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم رکن رہے اورسال 1971 میں پنجاب یورنیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی عملی سیاست کا آغاز بھی پاکستان کے اکثرسیاستدانوں کی طرح فوجی آمریت سائے میں کیا اور انیس سو اٹھہتر میں پاکستان کی تاریخ کے بدترین فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور نوجوانان مقرر ہوئے۔

انیس سو پچاسی میں غیر جماعتی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد اس اپوزیشن گروپ کے ممبر بنے جس نے ضیا الحق کی خواہشات کے برخلاف سید فخر امام کو سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif جاوید ہاشمی نے اس وقت انتہائی اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اندر رہ کر ایک ایسے قانون کی مخالفت کی جو اگر پاس ہو جاتا تو کسی مجرم کو بھی شہر کے چوک میں پھانسی دی جا سکتی تھی
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

چار دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی نے اس وقت انتہائی اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اندر رہ کر ایک ایسے قانون کی مخالفت کی جو اگر پاس ہو جاتا تو کسی مجرم کو بھی شہر کے چوک میں پھانسی دی جا سکتی تھی۔

پاکستان کے موجودہ سیاستدانوں میں مخدوم جاوید ہاشمی نےملک میں فوجی حکمرانی کے بارے میں ایک واضح موقف اختیار کیا اور اس کے لیے قربانی بھی دی۔


 

 

پارٹیوں میں بھی آمریت تسلیم نہیں: ہاشمی

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مخدوم جاوید ہاشمی

’اس لیے جیل نہیں کاٹی کہ سیاسی جماعتوں میں آمریت کو تسلیم کریں‘

مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی پونے چار سال قید رہنے کے بعد سنیچر کو لاہور کی کوٹ لکھپت سنٹرل جیل سے رہا ہوئے تو سینکڑوں لوگوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔

جیل سے باہر آنے پر جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں اس وقت رہا ہوں گے جب پارلیمان اور ادارے آزاد ہونگے۔ جاوید ہاشمی کا استقبال کرنے والوں میں سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ (ریٹائرڈ) اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نمایاں تھے۔

سپریم کورٹ سے رہائی کا حکم جاری ہونے کے بعد بی بی سی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ رہا ہو رہے ہیں تو بدلا بدلا پاکستان ہے، بدلی بدلی عدلیہ ہے اور بدلی بدلی سیاست ہے۔’شخصیات کے گرد گھومنے والی سیاست کا دور اب ختم ہوگیا ہے، سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چھ سال تک اس لیے جیل نہیں کاٹی کہ باہر آنے کے بعد سیاسی جماعتوں میں آمریت کو تسلیم کریں۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر صبح سے ہی مسلم لیگی کارکن جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جبکہ شام چار بجے کے بعد ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ جاوید ہاشمی جب جیل سے باہر آئے تو کارکنوں نے کئی کبوتر آزاد کیے۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070804121217javed_hashmi_reception.jpg

استقبال کے لیے آنے والوں نے جاوید ہاشمی اور نواز شریف کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں

استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں نے مسلم لیگ کے جھنڈوں کے علاوہ بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن میں سے بیشتر پر تحریر تھا ’ایک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی‘۔ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور بار بار ’گو مشرف گو‘ کا نعرہ فضا میں گونجتا تھا۔

جیل سے رہائی کے بعد جاوید ہاشمی کارکنوں کے جلوس میں داتا دربار اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے کے بعد لاہور میں اپنے حلقے کا دورہ کرینگے۔ یاد رہے کہ جاوید ہاشمی سال دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ملتان میں اپنے راویتی حلقے میں پیپلز پارٹی کے مخدوم شاہ محمود قریشی سے ہار گئے تھے اور شمالی لاہور کے حلقے 123-NA سے منتخب ہو کر رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔


 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

فوجی اقتدار: ملک کی تباہی برقرار

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جو بھی آمریت کے ساتھ کھڑا ہوا عوام اسے معاف نہیں کرینگے: جاوید ہاشمی

مسلم لیگ نواز کے رہا ہونے والے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت جاری رکھنے سے فوج کے وقار کو مزید نقصان پہنچےگا اور اس سے پاکستان کا دفاع بھی متاثر ہوگا۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف اپنے ان خیالات پر قائم ہیں جن کی بنیاد پر ان پر مقدمہ قائم ہوا تھا بلکہ ان کے یہ خیالات مزید پختہ ہو گئے ہیں۔ ’سیاسی معالات میں فوج کا عمل دخل نہ صرف خود فوج کے لیے بلکہ ملک اور قوم کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔‘


اس سوال کے جواب میں کہ گزشتہ دنوں میں عدالت کے رویے میں کیا تبدیلی آئی ہے، تین سال دس ماہ قید رہنے والے مسلم لیگ رہنما کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں عدلیہ کو اعتماد ہے کہ سولہ کروڑ عوام اس کی پشت پر ہیں جو عدلیہ کی آزادی کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار ہیں۔ ’جب میری ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی تھی تو تب بھی افتخار محمد چودھری اس بینچ کے سربراہ تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ چار ماہ کی عوامی تحریک نے عدلیہ کو نئی طاقت دے دی ہے۔ عوام نے عدلیہ کی آزادی کی جنگ اس لیے لڑی ہے کہ وہ انہیں انصاف دے سکے۔ اب پاکستان، یہاں کی عدلیہ اور سیاست سب بدل چکے ہیں۔‘

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

فوج نہیں بچا سکی

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif فوج انیس سو ستّر اکہتر میں بھی پاکستان کو نہیں بچا سکی تھی، نہ فوج مشرقی پاکستان کو بچا سکی تھی اور نہ ہی اسے کارگل میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


جب مخدوم جاوید ہاشمی سے پوچھا گیا کہ رہائی کے بعد وہ وقتی تقاضوں کی سیاست (transitional politics ) کریں یا یا مزاحمت (confrontation) کا راستہ اپنائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ سوال مزاحمت کی سیاست کا نہیں بلکہ آئین کی پاسداری کا ہے۔ ’فوج انیس سو ستّر اکہتر میں بھی پاکستان کو نہیں بچا سکی تھی، نہ فوج مشرقی پاکستان کو بچا سکی تھی اور نہ ہی اسے کارگل میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ اب یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی بھی ملک کی فوج اس کا اکیلے دفاع نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے عوام اس کے ساتھ ہوں کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر فوج کی کوئی اہمیت نہیں۔

اپنے اس مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا: ’جب پہلے ملک ٹوٹا تھا تو اس وقت یحیٰ خان کی وردی تھی اور اب ہم یحیٰ خان کی وردی کو جنرل پرویز مشرف کے جسم پر دیکھ رہے ہیں۔ کوئی یحیٰ خان ملک کو نہیں بچا سکتا بلکہ ملک کو اس کے عوام، آئین اور اللہ کی ذات بچا سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اب ملک کسی دوسرے، تیسرے یا چوتھے جنرل یحیٰ خان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

مرغی مر چکی

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif عدالتیں، سپریم کورٹ اور سیاسی جماعتیں مارشل لاء کے ماں باپ بنتے رہے ہیں لیکن اب مارشل لاء مر چکا ہے اور اس کے انڈے بچے دینی والی مرغی بھی مر چکی ہے
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


اس سوال کے جواب میں کہ اگر انہیں اس صورتحال کا سامنا ہو کہ جہاں ایک باوردی یا وردی کے بغیر جنرل اور مارشل لاء میں انتخاب کرنا ہو تو ان کا ردعمل کیا ہوگا، جاوید ہاشمی نے کہا کہ اب پاکستان میں مارشل لاء ممکن نہیں کیونکہ اب عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ ’ مارشل لاء اپنی موت اس لیے مر چکا ہے کہ اب وہ یتیم ہو گیا ہے۔ مارشل لاء کو جائز ہونے کا سرٹیفیکیٹ دینی والی عدلیہ اب مر چکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہی عدالتیں، سپریم کورٹ اور سیاسی جماعتیں مارشل لاء کے ماں باپ بنتے رہے ہیں لیکن اب مارشل لاء مر چکا ہے اور اس کے انڈے بچے دینی والی مرغی بھی مر چکی ہے۔‘

سیاسی جماعتوں اور فوجی حکومت کے درمیان تعاون کے امکانات پر جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ملک کو ایک دوسرے سانحہ مشرقی پاکستان سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ’اگر سیاسی جماعتوں نے وہی کیا جو یحیٰ خان کے زمانے میں کیا تھا تو بلوچستان کو علیحدگی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ فوج کو بھی ٹوٹنے سے نہیں بچایا جا سکے گا۔‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک کے حوالے سے مسلم لیگ نواز کے نائب صدر نے کہا کہ چیف جسٹس کے باہر آنے سے پاکستان میں فیڈریشن زندہ ہوئی ہے۔ ’اب تمام صوبوں کے عوام محسوس کرتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو اسلام آباد کی ایک عدالت سے ان کی داد رسی ہو سکتی ہے۔‘

جاوید ہاشمی نے اس خیال کی تردید کی کہ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان میں زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں اور مزاحمتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔’پیپلز پارٹی، ایم ایم اے یا مسلم لیگ، جو بھی آمریت کے ساتھ کھڑا ہوا عوام اس کو معاف نہیں کریں گے۔‘

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

آزاد ذرائع ابلاغ

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif گزشتہ برسوں میں پاکستان میں مثبت تبدیلیاں آئیں ہیں اور ذرائع ابلاغ اتنے آزاد ہو چکے ہیں کہ کسی بھی سیاسی رہنما کا کردار عوام سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان میں مثبت تبدیلیاں آئیں ہیں اور ذرائع ابلاغ اتنے آزاد ہو چکے ہیں کہ کسی بھی سیاسی رہنما کا کردار عوام سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ ’ یہ رابطوں کی دنیا ہے اور اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ مخالفین کی آواز کو دبا سکے۔ آج کی دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے۔ اگر میں، مولانا فضل الرحمان، قاضی حسین احمد یا کوئی دوسرا غلط کام کرے گا عوامی طاقت سے نہیں بچ سکے گا۔ عوامی طاقت اتنا زور پکڑ چکی ہے کہ اس کے آگے جو بھی بند باندھنے کی کوشش کرے گا، عوام کا سیلاب اسے بہا لیجائے گا۔‘

بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان مبینہ ڈیل، اے آر ڈی میں اختلافات اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جنرل مشرف کے بحیثیت فوجی سربراہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کی حمایت کے عندیے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جاوید ہاشمی نے اپنا یہ مؤقف دھرایا کہ زمینی حقائق بدل چکے ہیں اور ایسے میں ’کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ عوامی خواہشات کے خلاف جا سکے۔‘

پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار سے متعلق جاوید ہاشمی کا مزید کہا تھا کہ ’ہماری فوج اسلامی دنیا میں سب سے اعلیٰ، تربیت یافتہ اور ڈسپلن کی پابند فوج ہے اور یہ فوج چند جنریلوں کی اقتدار کی خواہش کے لیے قربان نہیں کی جا سکتی۔‘

بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں جاوید ہاشمی نے امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’پاکستان کی فوج کو چلانے والے خود فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

سازش کے مترادف

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ’اگر پاکستانی فوج امریکہ کے کہنے پر لال مسجد، باجوڑ، وزیرستان، اکبر بگٹی کے خلاف اور بلوچستان میں فوجی کارروائی کرے گی تو یہ فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کے مترادف ہوگا
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


انہوں نے کہا کہ ’اگر پاکستانی فوج امریکہ کے کہنے پر لال مسجد، باجوڑ، وزیرستان، اکبر بگٹی کے خلاف اور بلوچستان میں فوجی کارروائی کرے گی تو یہ فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کے مترادف ہو گا۔‘

اس بارے میں جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے حوالے سے خود امریکہ میں سوچ بدل رہی ہے۔ ’ آج جارج بُش کو وہ حمایت حاصل نہیں ہے جو انہیں حاصل تھی۔ اگر امریکی عوام صدر بش کی حمایت نہیں کر رہے تو پاکستان ان کی حمایت کیوں کرے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ قید کے دوران پاکستان کی سیاست کے حوالے سے ان کے خیالات میں کیا تبدیلی آئی ہے، جاوید ہاشمی نے کہا کہ اب پاکستان میں شخصی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے ہاں جمہوری رویہ اپنانا ہوگا۔ ’ جب تک خود سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں آئےگی اس وقت تک پاکستان میں جمہوریت نہیں آ سکتی۔ ہمیں اب پاکستان میں جمہوریت کا بیج بونا ہے تا کہ آئندہ نسل کو اس کا ثمر مل سکے۔‘

’ میں نے گزشتہ عرصے میں نے بہت کچھ پڑھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میرے خیالات وہی ہیں جو سکول کے دنوں میں تھے۔ میرا نظریہ اور سیاست وہی ہے کہ اس دھرتی کو جمہوریت چاہیئے۔ اگر اسلام کی بات بھی کرنا ہے تو اس کے لیے بھی جمہویت کا ہونا ضروری ہے۔‘

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

رہائی میں آخری رکاوٹ بظاہرختم

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی

سنیچر کی صبح لاہور کی جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت نے مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے سرکاری کام میں مداخلت کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور کر لی۔ اس کے بعد جاوید ہاشمی کی رہائی میں آخری قانونی اور تکنیکی رکاوٹ بھی بظاہر ختم ہو گئی ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

جاوید ہاشمی کے خلاف سرکاری کام میں مداخلت کا مقدمہ تین اگست دو ہزار کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے افسر کے کمرے میں ہونے والے ایک مبینہ واقعہ کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070804081344pml_lawyers203.jpg

لاہور ماڈل ٹاؤن کچہری میں مسلم لیگی وکلاء

جوڈیشل میجسٹریٹ یاسین موہل کی عدالت میں دلائل دیتے ہوئے جاوید ہاشمی کے وکیل میاں محمد حفیظ نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور جن دفعات کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ تمام کی تمام قابل ضمانت ہیں۔

وکیل صفائی نے مزید کہا کہ اس مقدمے کا مقصد ان کے مؤکل کو محض پریشان کرنا تھا۔

میجسٹریٹ نے جاوید ہاشمی کے وکیل کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے دس ہزار روپے کے مچلکے کے عوض ضمانت پر ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

جاوید ہاشمی کے وکیل میاں محمد حفیظ نے بتایا ہے کہ انہوں نے عدالت کے حکم کے مطابق مچلکے جمع کرا دیے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070804083218pml_celebrate203.jpg

ماڈل ٹاؤن کچہری میں جاوید ہاشمی کی ضمانت پر خوشی

لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری میں جاوید ہاشمی کی ضمانت کا حکم جاری ہونے پر وہاں پر موجود مسلم لیگ کے کارکنوں نے ’جاوید ہاشمی زندہ باد‘ اور ’وزیراعظم نواز شریف‘ کے نعرے لگائے اور مٹھائی تقسیم کی۔

جاوید ہاشمی کے خلاف مذکورہ مقدمے میں الزام ہے کہ وہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں جامہ تلاشی دینے اور ہتھکڑی پہننے سے انکار کرتے ہوئے مداخلت کارِ سرکار کے مرتکب ہوئے تھے۔استغاثہ کے مطابق انہوں اس موقع پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو گریبان سے پکڑا تھا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

مذکورہ مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز گزشتہ ہفتے ہوا تھا اور عدالت نے جاوید ہاشمی کی شریک ملزم اور مسلم لیگ کی رہمنا تہمینہ دولتانہ کے خلاف چھ ستمبر تک ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز جاوید ہاشمی کے چھوٹے بھائی مختار ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی سنیچر کو آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

لاہور میں جاری سماعت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا جاوید ہاشمی کے خلاف سرکاری اہلکاروں سے جھگڑے کا ایک مقدمہ ہے لیکن ہمارے وکلاء نے ہمیں بتایا ہے کہ بظاہر اس مقدمے سے ان کی رہائی میں خلل نہیں پڑ سکتا۔

 

 

جاوید ہاشمی: گرفتاری سے ضمانت تک

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی

مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد سنیچر کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی عمل میں آنے کا امکان ہے۔

 

پریس کانفرنس اور گرفتاری
جاوید ہاشمی کو انیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کواسلام آباد میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کرنے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں انہوں نے دعویْ کیا تھا کہ ان کو فوج کے مونو گرام والے لیٹر ہیڈ پر فوجی حکمرانوں کے خلاف ایک خط موصول ہوا ہے۔

انتیس اور تیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کی درمیانی شب کو جاوید ہاشمی کو اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

درخواست مسترد
سترہ نومبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کی رہائی کے لیے ان کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو مسترد کردی گئی۔

بیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جاوید ہاشمی کے طبی معائنہ کی درخواست مسترد کردی۔

بائیس نومبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کی ضمانت مقامی جوڈیشل مسجٹریٹ نے مسترد کردی۔

باقاعدہ سماعت اور فرد جرم
آٹھ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔

چوبیس جنوری سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی پر غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے سمیت سات دفعات کی فرد جرم عائد کی گئی۔

دس اپریل سنہ دوہزار چار کو مقدمے کے جج چودھری اسد رضا نے جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمے میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت کا فیصلہ اور اپیل
بارہ اپریل سن دو ہزار چار کو عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سات مختلف الزامات میں جاوید ہاشمی کو مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی۔

اپریل دو ہزار سنہ دو ہزار چار کو بغاوت کیس کی سزا کے خلاف جاوید ہاشمی نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کی آج تک سماعت نہیں ہوئی۔

انتخابات میں حصہ
چھبیس اگست سنہ دو ہزار چار کو حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے جاوید ہاشمی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے شوکت عزیز کے مقابلہ میں امیدوار نامزد کیا۔

ستائیس اگست سنہ دو ہزار چار کو جاوید ہاشمی کو وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر پارلیمنٹ میں نہیں بلایا گیا اور حزب اختلاف نے اپنے امیدوار جاوید ہاشمی کو پیش نہ کرنے پر انتخاب کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے شوکت عزیز وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

ستائیس اپریل سنہ دو ہزار چار کو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں بلانے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا جس پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ایوان میں احتجاج کیا۔

درخواست ضمانت مسترد
چوبیس اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے جاوید ہاشمی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

دو اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو جاوید ہاشمی کو مستقل بنیادوں پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منقتل کردیا جہاں جاوید ہاشمی اپنے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس کی سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔اس سے قبل جاوید ہاشمی کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے لئے اڈیالہ جیل سے لایا جاتا تھا۔

دو دن کا پیرول
دس جولائی سنہ دو ہزارچھ کوجاوید ہاشمی کو بغاوت کیس میں سزا کے بعد پہلی بار کو اس وقت دو روز کے لیے پیرول پر رہائی ملی جب انہیں اپنی بھانجی اور ان کے شوہر کی ہلاکت کے بعد ان کی آخری رسوم میں شرکت کرنا تھی۔

مسلم لیگ کی نائب صدارت
دو اگست سنہ دو ہزار چھ میں مسلم لیگ کی جنرل کونسل نے مخدوم جاوید ہاشمی کو جماعت کا سینئر نائب صدر چن لیا۔

درخواست مسترد
نو اکتوبر سنہ دو ہزاز چھ کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جاوید ہاشمی کی بغاوت کیس میں سزا معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی۔

تئیس دسمبر سنہ دوہزار چھ کو جاوید ہاشمی کو دوبارہ پیرو ل پر رہائی ملی اور اس طرح جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی بشریْ کی شادی میں شرکت کی۔

آخری سماعت
یکم اگست سنہ دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے جاوید ہاشمی کی درخواست پر کارروائی کی اور حکومت کی یہ استدعا مسترد کردی کہ درخواست پر کارروائی ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو قید میں رکھنے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔

تین اگست سنہ دو ہزار سات کو سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

ہاں میں باغی ہوں
جاوید ہاشمی نے اپنی قید کے دوران ’ہاں میں باغی ہوں‘ اور’تختہ دار کے سایہ تلے‘ کے عنوان سے دو کتابیں بھی لکھیں اور ان کتابوں کی رونمائی ان کی عدم موجودگی میں ہوئیں۔ جاوید ہاشمی کی مزید دو کتابیں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری اور رہائی کے احکامات کے حوالے سے یہ بات دلچسپ ہے کہ جس وقت جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا اور جب ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ہیں تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور جاوید ہاشمی اپنی رہائی کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

 

جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی بغاوت کے جرم میں سزا کو معطل کرتے ہوئے ان کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں کام کرنے والے تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کےسابقہ فیصلے کو ختم ہوئے جاوید ہاشمی کو پچاس ہزار روپے زر ضمانت کے مچلکے سپریم کورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے پر فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ جب جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے اور معیاد کے لحاظ سے ان کی رکنیت برقرار ہے۔

سپریم کورٹ نے2006 میں جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست کو قبول نہیں کیا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو تین سال دس ماہ قبل فوج پر تنقید کرنے کی پاداش میں مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن کسی ایک جرم میں ان کی زیادہ سے سزا سات سال تھی۔یہ تمام سزائیں بیک وقت چل رہی تھیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif سپریم کورٹ کی طرف سے جاوید ہاشمی کو رہا کرنے کے حکم پر عملدرآمد سنیچر کو متوقع ہے۔ جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کر دیے جس میں زرضمانت کے مچلکے بھی شامل ہیں
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


سپریم کورٹ کا بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل ہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ ان کو موکل ریاستی جبر کانشانہ بنے تھے اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں وہ تقریباً چھ سال سے پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں بغاوت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے سے پہلے جاوید ہاشمی کو نیب کے قانون کے تحت ان کو دو سال تک جیل میں رکھا گیا تھا۔

مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی طرف سے سزا پانے کے بعد اپریل 2004 میں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس کی آج تک ایک سماعت نہیں ہوئی۔

ایڈوکیٹ اکرم شیخ کا موقف تھا کہ ان کے مؤکل جیل مینوئل میں دی گئی رعایتوں کی روشنی میں سزا پوری کر چکے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2007/08/20070803084122javed_celeberation_203.jpg

مسلم لیگ ن کی حامی خواتین کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار


حکومت کے وکیل اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سعید اکرم نےجاوید ہاشمی کو جیل مینوئل میں دی گئی رعاتیں دیئے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کو غداری کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور وہ رعایتوں کے مستحق نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاوید ہاشمی کو رہا کرنے کے حکم پر عملدرآمد سنیچر کو متوقع ہے۔ جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے جمعہ کی دوپہر تک عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق مختلف قانونی تقاضے پورے کر دیے جس میں زرضمانت کے مچلکے بھی شامل ہیں۔

جاوید ہاشمی کے چھوٹے بھائی مختار ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی سنیچر کو آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔انہوں نے کہا جاوید ہاشمی کے خلاف سرکاری اہلکاروں سے جھگڑے کا ایک مقدمہ ہے لیکن ہمارے وکلاء نے ہمیں بتایا ہےکہ بظاہر اس مقدمے سے ان کی رہائی میں خلل نہیں پڑ سکتا۔

مختار ہاشمی کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی رہا ہونے کی صورت پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں۔

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی کیوں قید ہیں: عدالت

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی

سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے مسلم لیگ کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے مقدمے کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا اور حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ حکومت جاوید ہاشمی کو جیل میں رکھنے کی وضاحت کرے۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی۔مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل نےعدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور جیل مینوئل میں دی گئی رعایتوں کی روشنی میں اب وہ رہائی کے مستحق ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ریکارڈ سے لگتا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور اگر حکومت ان کی جیل میں رکھنا چاہتی ہے تو عدالت کو بتائے کہ وہ کس بنا پر ان کو جیل میں رکھ سکتی ہے۔

مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشد چودھری نے عدالت کو بتایا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب عدالت میں چھٹیاں ہیں اور اس مقدمے کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

مقدمے کی سماعت کو جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت کو حکم دیا کہ اگرحکومت جاوید ہاشمی کے مقدمے کی سماعت کو لمبے عرصے تک ملتوی کرانا چاہتی ہے تو اسے جاوید ہاشمی کے لیے کوئی متبادل انتظام کرنا پڑے گا کیونکہ وہ بادی النظر میں اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر انیس سال قید کی سزا سنائی گی تھی۔جاوید ہاشمی کی ایک جرم میں زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور تمام سزائیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

سرکاری وکیل نےعدالت کی توجہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے اس خط کی طرف بھی دلائی جس میں انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو غداری کے الزام میں سزا دی گئی ہے اس لیے ان کو جیل مینوئل میں دی گئی رعایتیں نہیں مل سکتیں اور ان کو سات سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ درخواست گزار کی ایک یہ شکایت بھی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے جاوید ہاشمی کی اپیل کی ایک بار بھی سماعت نہیں کی ۔

مقدمے کی اگلی سماعت تین اگست کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل تھا۔

’فاٹا میں سیاست کرنے دیں‘

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2006/03/20060322082626supreme_court_203.jpg

جاوید ہاشمی کی رہائی کی درخواست بھی دی گئی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ صدرِ پاکستان کو ہدایت کریں کہ وہ سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سیاست کرنے کی اجازت دینے کے لیے پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کو فاٹا میں لاگو کریں۔

پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فاٹا کو مذہبی جماعتوں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت کو فاٹا میں سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔

بیرون ملک مقیم پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے اپنے وکیل سینٹر سردار لطیف خان کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک کے ذریعے دائر کی جانے والی درخواست میں لکھا ہے کہ سات قبائلی ایجنسیوں میں چھتیس لاکھ قبائلیوں کواپنی مرضی کی سیاسی جماعت چننے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

محترمہ بینظر بھٹو نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے مذہبی جماعتوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں سیاست کریں اور 2002 کے انتخابات میں حکومت نے فاٹا میں ایم ایم اے کے امیدواروں کو کتاب کا انتخابی نشان بھی آلاٹ کیا تھا جو مذہبی جماعتوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں حاصل تھا۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ مذہبی جماعتوں پر مسجد اور مدرسے سے سیاست کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ باقی کسی جماعت کو قبائلی حکومت میں سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا آفس محترمہ بینظیر بھٹو کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اسے عدالت کے سامنے لگانے یا پھر اسے درخواست گزار کو واپس کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

دریں اثنا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ (نواز) کے مقید رہنما جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس کی ضمانت سے متعلق درخواست کو جلد سننے کا حکم جاری کرے۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر انیس سال قید کی سزا سنائی گی تھی۔ جاوید ہاشمی کی ایک جرم میں زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور تمام سزائیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

جاوید ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ ان کا مؤکل جیل مینوئل کے مطابق اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور اب ان کو رہا ہونا چاہیے۔

وکیل نےعدالت کی توجہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے اس خط کی طرف بھی دلائی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی کو غداری کے الزام میں سزا دی گئی ہے اس لیے ان کو جیل مینوئل میں دی گئی رعایتں نہیں مل سکتیں ان کو سات سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اسی مقدمے کو بدھ کے روز دوبارہ سنا جائے گا۔


 

جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

نواز شریف

نواز شریف سات سال سے جلا وطنی کی زندگی کاٹ رہے ہیں

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے جاوید ہاشمی کی رہائی کے حکم کو جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ اور اچھی شروعات ہے۔

جاوید ہاشمی کی سپریم کورٹ کی طرف سے ضمانت پر رہائی پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف نے بی بی سی اردو سروس سے کہا کہ جاوید ہاشمی کو انصاف دیر سے ملا جو کہ انہیں پہلے ملنا چاہیے تھا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی کی رہائی

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif مشرف نے بندوق اٹھا رکھی ہے اور ان کے ہاتھ سے یہ بندوق لے کر طاق میں رکھنی ہو گی۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

نواز شریف


تاہم میاں نواز شریف نے اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا کہ جاوید ہاشمی کو انصاف ملا تو صحیح۔

مسلم لیگ کے رہنما نے اسے فیصلے کو امید کی ایک کرن قرار دیا اور کہا کہ اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ پاکستان میں رائج جنگل کا قانون ختم ہو گا اور جمہوریت بحال ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نظریہ ضرورت کی شکست ہے اور نظریہ ضرورت کی توجیح پیش کرنے والی عدلیہ ہی اس کی شکست کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی فتح ہے جنہوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، سچ کو سچ کہا ہے اور جھوٹ کو جھوٹ کہا ہے۔

اپنی وطن واپسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرف نے بندوق اٹھا رکھی ہے اور ان کے ہاتھ سے یہ بندوق لے کر طاق میں رکھنی ہو گی۔ انہوں نےکہا کہ ایک سلسلہ چل پڑا ہے اور سب کام سلسلہ وار ہی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے کوئی ڈیل نہیں کی اور آج بھی ان کا وہی موقف ہے جو بارہ اکتوبر کو تھا۔

’جاوید ہاشمی کوپیش کریں‘

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2006/02/20060215114247javeed_hashmi_203.jpg

ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت میں قید ہیں

حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے ارکان نے اتحاد کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں شرکت کے لئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مشترکہ طور پر ایک تحریری درخواست آج قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین کے نام یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی چوہدری اعتزاز احسن، سید خورشید شاہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر نثار علی خان اور جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی نے مشترکہ طور پر دی ہے۔

درخواست میں اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 23 اپریل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جاوید ہاشمی کی شرکت کے لیے ضروری حکم نامہ جاری کریں تاکہ وہ ایوان میں اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرسکیں۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif ’وہ چاہے ہمارا زمانہ ہو یا نواز شریف صاحب کا زمانہ ہو گرفتار ممبران کو بلایا جاتا رہا ہے۔ ان میں چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری بھی شامل رہے ہیں۔‘
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 


اس قسم کی درخواست پر کارروائی کے طریقہ کار کے بارے میں اے آر ڈی کے پارلیمانی سیکریٹری اظہار امروہوی نے بتایا کہ کسی بھی گرفتار یا قید رکن اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں سپیکر کو درخواست دی جاتی ہے اور قوائد کے مطابق سپیکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس رکن کو اسمبلی سیشن کی مدت کے دوران ایوان میں بلائیں اور جب سیشن ختم ہو تو اسے واپس جیل بھیج دیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی زیر حراست ارکان اسمبلی کو اس طرح ایوان میں بلایا جاتا رہا ہے۔ ’وہ چاہے ہمارا زمانہ ہو یا نواز شریف صاحب کا زمانہ ہو گرفتار ممبران کو بلایا جاتا رہا ہے۔ ان میں چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری بھی شامل رہے ہیں۔‘

جاوید ہاشمی کو اسمبلی کے اجلاس میں شریک کرانے کے سلسلے میں اس سے قبل بھی حزب اختلاف کی جانب سے متعدد درخواستیں دی جا چکی ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

جاوید ہاشمی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر بھی ہیں ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت میں قید ہیں۔ انہیں ساڑھے تین سال قبل اکتوبر 2003 ء کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بند کمرے میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں 23 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کی گرفتاری کی وجہ مبینہ طور پر ایک گمنام فوجی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بنا تھا جو انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفیٹریا میں پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا۔ اس خط میں جنرل پرویز مشرف کی حکمرانی پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

وقتِ اشاعت: Saturday, 23 December, 2006,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

طبی معائنے کے بہانے جیل سے نکال کر جہاز میں بٹھا دیا گیا

حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے حکومت کو پیرول پر رہائی کی درخواست نہیں دی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں اگر کوئی درخواست دونگا تو وہ صرف یہ ہوگی کہ ملک میں جمہوریت بحال کردیں‘۔


صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم کیے گیے بغاوت کے ایک مقدمے میں سزا پانے کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید جاوید ہاشمی کو حکومتی دعوے کے مطابق سنیچر کو پیرول پر رہا کیا گیا ہے تاکہ ملتان میں ہونے والی اپنی بیٹی کی شادی میں شریک ہو سکیں۔

جاوید ہاشمی کے مطابق انہیں یہ کہہ کر جیل سے باہر لایا گیا کہ طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جانا ہے، لیکن بعد میں ایئرپورٹ لا کر زبردستی جہاز میں بٹھا دیا۔

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

آئین کی خلاف ورزی

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے کسی نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا تو اسے ملک و قوم کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

 

جاوید ہاشمی

انہوں نے کہا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے شہباز شریف کو جماعت کی قیادت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت کےقائم مقام صدر ہیں لیکن انہیں قید میں ڈال کر تنظیمی کام کرنے سے عملی طور پر روک دیا گیا ہے۔

’ہماری جماعت کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کو ملک بدر جبکہ قائم مقام صدر کو جیل میں بند کر کے کوشش کی گئی ہے کہ ہم سانس بھی نہ لے سکیں۔‘

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور 73 کے آئین کی بحالی کے حوالے سے ان کی جماعت کا مؤقف سب سے زیادہ مضبوط ہے۔

جاوید ہاشمی نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہیں جو فوج کا نام استعمال کر کے اقتدار پر قابض ہیں۔ ’فوج کا کام حکومت کرنا نہیں ہے، ہم انہیں بیرکوں میں بھیج کر رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ’اس حوالے سے کسی نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا تو اسے ملک و قوم کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

 

جاوید ہاشمی کی ’عارضی‘ رہائی

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی تین سال سے اسیر ہیں۔

تین سال سے اسیر مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے رہنماء مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے دو دنوں کے لیے پیرول پر رہا کردیا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہونے کے بعد ملتان روانہ ہوگئے جہاں وہ اپنی بیٹی بشریٰ کی شادی میں شریک ہوں گے۔

ان کے خلاف لاہور کی احتساب عدالت میں ناجائز اثاثے بنانے کے الزام میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔

اس سال دس جولائی کو بھی جاوید ہاشمی کو اپنی بھانجی اور ان کے شوہر کی ہلاکت کے بعد ان کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے دو روز کے لیے پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔

جاوید ہاشمی کوانتیس اکتوبر سن دو ہزار تین کو اسلام آباد کے پارلینمٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا اور اپریل سنہ دو ہزار چار کو راولپنڈی میں انہیں بغاوت کے ایک مقدمہ میں مجموعی طور پر تئیس سال کی قید کی سزادی گئی تھی۔
اپریل سنہ دو ہزار پانچ کو انہیں اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا تھا۔

 

وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

جاوید ہاشمی: پیرول پر رہائی کا حکم

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی فوج کےخلاف بغاوت پھیلانے کے الزام میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقید رہنما جاوید ہاشمی کو پنجاب کی صوبائی حکومت نے دو روز کے لیے پیرول پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کی بھانجی اور ان کا شوہر ملتان میں تباہ ہونے والے فوکر طیارے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی تدفین کے لیے انہیں دو روز کے لیے رہا کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے احکامات لاہور کی جیل انتظامیہ کو پہنچا دیئے گئے ہیں اور پروگرام کے مطابق جاوید ہاشمی پولیس کی نگرانی میں سڑک کے ذریعے ملتان روانہ ہوں گے۔

جاوید ہاشمی حکومت کی جانب سے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

سعد رفیق نے بتایا کہ جاوید ہاشمی کی فوکر طیارہ گرنے سے ہلاک ہونے والی بھانجی کی تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے شوہر کے ہمراہ پیر کی رات عمرہ ادا کرنے کے لیے جدہ روانہ ہونے والی تھیں۔

ان کے مطابق وہ ملتان سے لاہور آنے کے لیے فوکر طیارے میں آرہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔


وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006,

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

 

’ایک کروڑ روپے نذرانہ ملا‘

 

 

http://www.bbc.co.uk/f/t.gif

جاوید ہاشمی

جاوید کا کہنا تھا کہ ریفرنس بنانے کامقصد مالی طور پر مفلوج کرنا ہے

مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے لاہور کی ایک احتساب عدالت کو بتایا ہے کہ ان کے زائرین نے بیس برسوں میں انہیں نذرانے کے طور پر ایک کروڑ روپے دیے۔

وہ بدھ کو لاہور کی احتساب عدالت کے جج سید شفقات احمد ساجد کے سامنے اپنی آمدن سے متعلق اپنا بیان صفائی ریکارڈ کرارہے تھے۔

احتساب عدالت میں جاوید ہاشمی پر اپنی معلوم آمدن سے زیادہ ناجائز اثاثے بنانے کے الزام قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کیا گیا ایک ریفرنس زیر سماعت ہے۔

ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ جاوید ہاشمی کے کچھ اثاثے ان کی بیوی اور بیٹیوں کے نام ہیں جو دراصل بے نامی دار ہیں۔

جاوید ہاشمی نے پانچ صفحوں پر مشتمل اپنے بیان صفائی میں اپنی آمدن کے ذرائع کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انیس سو اسی سے سنہ دو ہزار تک ان کے زائرین نے انہیں ایک کروڑ روپے کے نذرانے دیئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سنہ دو ہزار کے بعد سے ان کی زرعی اراضی کی سالانہ آمدن ایک کروڑ اسی لاکھ روپے ہے جبکہ ان کی بیوی جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہیں ان کی زرعی آمدن بھی چالیس لاکھ روپے سالانہ ہے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ زرعی اراضی انہیں وراثت میں ملی ہے جو سنہ اٹھارہ سو چھیالیس سے ان کے آباؤ اجداد کی ملکیت رہی جس کا بندوبست اراضی انہوں نے عدالت میں پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی زرعی جائداد اب شہری حدود میں آگئی ہے جس سے اس کی مالیت کروڑوں روپے ہوگئی ہے اور آئندہ برسوں میں اربوں روپے ہوجائے گی۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ ان پر یہ مقدمہ قائم ہوئے پونے چار سال ہوگئے ہیں اور ان کی اور ان کے بھائیوں اور عزیزوں کی جائداد کا کنٹرول احتساب بیورو (نیب) کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف اس ریفرنس کامقصد انہیں مالی طور پر مفلوج کرنا ہے اور انہوں نے اپنی جائیداد بیچ کر سیاست کی ہے۔

جاوید کا کہنا تھا کہ ان کے پاس انیس سو پچاسی ماڈل کی انیس سال پرانی کار ہے جس کی مالیت دو تین لاکھ روپے ہے جبکہ نیب نے اس کی قیمت بیس لاکھ روپے بتائی ہے۔

جاوید ہاشمی نے اپنے خلاف الزامات کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سیاسی انتقام لینا ہے کیونکہ وہ موجود حکمرانوں کے غیر آئینی اقدامات اور ایل ایف او کے مخالف تھے، ہیں اور رہیں گے۔

 

جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت منتقل

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

خط میں صدر مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئےگئے تھے

اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی کو راولپنڈی سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔

وہ اٹھارہ ماہ سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید تھے ان کے خلاف لاہور کی احتساب عدالت میں ناجائز اثاثوں کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے ۔

ناجائز اثاثوں کے مقدمے کی سماعت کے دوران جاوید ہاشمی کو صبح آٹھ بجے کی پرواز سے لاہور لایا جاتا ہے اور سہ پہر تین بجے کی فلائٹ سے واپس راولپنڈی لے جایا جاتا ہے۔

سنیچر کو لاہور میں احتساب عدالت کی کارروائی کے بعد انہیں واپس بھجوانے کی بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیا ۔

ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی سمیت سب اس فیصلے سے لاعلم تھے اور انہیں اس کا علم اس وقت ہوا جب اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ نے انہیں فون کرکے کہا کہ وہ جاوید ہاشمی کا سامان لے جائیں۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کا اب کوئی مقدمہ راولپنڈی میں زیر سماعت نہیں تھا اور لاہور میں ان کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں اور بار بار انہیں لاہور لانا اور پھر واپس لے جانا پڑتا تھا اس لیے انہیں لاہور ہی کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی کوانتیس اکتوبر سن دو ہزار تین کو اسلام آباد کے پارلینمٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا تھا اور گزشتہ سال اپریل میں بغاوت کے ایک مقدمہ میں مجموعی طور پر تئیس سال کی قید کی سزادی گئی تھی تب سے وہ اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔

ہاشمی: درخواست ضمانت مسترد

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2004/04/20040412142122hashmi_sentenced203.jpg

جاوید ہاشمی کو بغاوت کے جرم میں سات سال قید کی سزا ہوئی ہے

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس اختر شبیر نے اس کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا مگر بعد میں انہوں نے ایک مختصر حکم میں کہا کہ جاوید ہاشمی کی درخواست مسترد کی جاری ہے جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں بیان کی جائیں گی۔

جاوید ہاشمی کو گزشتہ سال اپریل میں بغاوت سمیت کئی الزامات کے تحت سات سال قید کی سزا سنائی گئ تھی۔انہوں نے اس سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور ساتھ ہی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جو آج مسترد کر دی گئ۔

جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے کی ساتویں شق پانچ سو پانچ اے جوکہ فوج کو بغاوت پر اکسانے اور فوج میں نفرت پھیلانے سے متعلق ہے کے تحت بھی سزا ہوئی تھی۔

جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ جاوید ہاشمی کو جو کہ قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں اپنے حلقے کی نمائندگی کرنے کے لئے ضمانت پر رہا کر دے۔

انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی گزشتہ دس ماہ سے جیل میں ہیں اور قانون کے مطابق وہ اپنی سزا کا کافی حصہ کاٹ چکے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے اپنی اسیری کے دوران ’ہاں میں باغی ہوں‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو گزشتہ ہفتے ہی منظر عام پر آئی ہے۔


’ہاں! میں باغی ہوں‘

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی کی کتاب

جاوید ہاشمی کی کتاب کا سرورق

مسلم لیگ نواز کے مقید رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کی کتاب’ہاں ! میں باغی ہوں‘ شائع ہوگئی ہے۔ کتاب کی رونمائی کی تقریب تیرہ فروری کو لاہور میں ہوگی۔

حکومت کی جانب سے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے میں سزا کاٹنے والے جاوید ہاشمی کی یہ کتاب تیرہ ابواب اور چار سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔

کتاب میں انہوں نے اپنے اوپر دائر مقدمے اور جیل کے اندر خصوصی عدالت لگا کر ملنے والی سزا، جیل میں ہونے والے سلوک اور عدالت کے سامنے پیش کردہ اپنے تحریری بیان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

اسلام آباد کو ملک کا نیا دارالحکومت بنانے پر ایوب خان سے اختلاف رائے، ذوالفقار علی بھٹو کو آئیڈیل سمجھنے کے بعد ان سے گرما گرم بحث مباحثوں، سخت اختلافات اور جیل بھجوانے کے واقعات بھی کھل کر بیان کیے گئے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی میں کی گئی بعض تقاریر بھی اس کتاب میں شامل کی ہیں۔

طالبعلمی کے زمانے سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب میں ملکی سیاست میں اپنی منفرد شناخت پیدا کرنے کےاس سیاسی سفر کے قصے بھی لکھے ہیں جس کے دوران وہ کئی بار جیل بھی گئے۔

نواز شریف ، شیخ رشید احمد اور اعجازالحق کے ہمراہ کراچی میں ایک جلوس کے حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’جب فوجیوں نے آگے بڑھنے سے روکا اور بندوقوں کا رخ ہماری طرف کرلیا تو شیخ رشید نے شدید اصرار کے ساتھ نواز شریف سے کہا کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے‘۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی نے کتاب میں اپنے سیاسی رفقاء کا ذکر کیا ہے

جاوید ہاشمی نے اعجاز الحق کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اس موقع پر انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ میں فوجی پس منظر رکھتا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ جب بھی فوجی اس طرح کی پوزیشن سنبھال لیں تو انہیں قتل کرنے کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔‘ لیکن ان کے مطابق نواز شریف نہیں گھبرائے۔

میاں نواز شریف کے ساتھ اپنی شناسائی کے متعلق جاوید ہاشمی نے لکھا ہے کہ ’نوازشریف سے سن چھہتر میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے میرے ساتھ مل کر سیاست کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے نواز شریف سے کہا کہ میری سیاست حزب مخالف کی ہے لیکن وہ پھر بھی تیار ہوگئے۔

ہاشمی کے مطابق جب وہ سن اٹھہتر میں وفاقی وزیر بنے تو ان کی کوشش تھی کہ میاں نواز شریف صوبائی وزیر بنیں اور یہ کوشش کامیاب رہی۔

جاوید ہاشمی نے کتاب میں دورانِ وزارت ’ کمیشن‘ اور ’ کک بیکس‘ کی پیشکشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے جہاں اپنے سیاسی رفقاء کا تذکرہ کیا ہے ، وہاں اپنے ملازمین کو بھی نہیں بھولے جو ان کے ساتھ مشکل اوقات میں بھی ساتھ رہے۔


 

 

جاوید ہاشمی کی قید کا ایک سال

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو تئیس سال قید کی سزا سنائی گئی

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید مسلم لیگ (نواز گروپ) کے قائم مقام صدر اور حزب مخالف کے اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صدر اور قومی اسمبلی کے رکن مخدوم جاوید ہاشمی کی فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتاری کو جمعہ 29 اکتوبر کو پورا ایک سال گزر گیا۔

صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں پہلی بار ہوا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے نظریہ پاکستان کے علمبردار اور فوج کی روایتی حلیف جماعت مسلم لیگ کے دو سیاستدانوں کو ، نواز شریف اور جاوید ہاشمی ، بغاوت کے الزام میں قید کیا گیا اور سزا سنائی گئی۔ اس سے پہلے بائیں بازو اور پاکستان کے چھوٹے صوبے کے سیاستدان اسٹیبلیشمینٹ کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کا شکار ہوتے تھے۔

اس سال بارہ اپریل کو اڈیالہ جیل میں لگائی عدالت میں سماعت کے بعد جاوید ہاشمی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چودھری اسد رضا نے سات مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمہ کی سماعت کی کاروائی میں صحافیوں کے شریک ہونے پر پابندی عائد تھی۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں پہلی بار ہوا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے نظریہ پاکستان کے علمبردار اور فوج کی روایتی حلیف جماعت مسلم لیگ کے دو سیاستدانوں کو ، نواز شریف اور جاوید ہاشمی ، بغاوت کے الزام میں قید کیا گیا اور سزا سنائی گئی۔

پارلیمینٹ لاجز میں اپنے گھر سے نکلتے ہوۓ انتیس اکتوبر سنہ دو ہزار تین کو گرفتار کیے جانےسے پہلے بیس اکتوبر کو جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ کی کیفے ٹیریا میں ایک اخباری پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ فوج کے مونو گرام والے لیٹر پیڈ پر فوجی حکمرانوں کے خلاف انہیں قومی قیادت کے نام کے عنوان سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس خط کی کاپیاں انہوں نے اخبار نویسوں میں بھی تقسیم کیں تھیں۔

اس خط میں صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اور انکےساتھیوں پر ملک لوٹنے اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گۓ تھے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ کارگل کی جنگ میں پاکستان کے نقصانات سنہ انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگ سے بھی زیادہ ہوئے تھے لیکن اس جنگ کی کوئی انکوائری نہیں کروائی گئی۔ خط میں کارگل جنگ پر ایک قومی عدالتی کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کارگل جنگ کا کمانڈر جنرل جاوید حسن تھا جو اس سے پہلے چار سال تک امریکہ میں سی آئی اے کی زیر نگرانی ملٹری اتاشی رہے۔ خط میں دعوی کیا گیا تھا کہ کارگل جنگ امریکی اشارے پر شروع کی گئی۔ خط کے مطابق جنگ کے دروان میں افسروں اور جوانوں نے غلط پلاننگ اور غلط احکامات کی وجہ سے جاوید حسن پر حملہ کردیا تھا۔

حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا تھا کہ جاوید ہاشمی کا پیش کردہ خط جعلی ہے اور انہوں نے اس خط کے ذریعے مسلح افواج کو خون خرابے پر اکسانے اور بدنام کرنے کی کوشش کی۔

لاہور کی احتساب عدالت میں بھی جاوید ہاشمی پر بدعنوانی کے ایک ریفرنس کی سماعت بھی ہورہی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جاوید ہاشمی نے انیس سو اکیانوے اور اٹھانوے کے درمیان حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال سے تین کڑور اسی لاکھ روپے کے اثاثے بناۓ اور جاوید ہاشمی کی بیوی، چھ بیٹیاں اور ایک داماد بھی ان اثاثوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

اس سارے عرصہ میں حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین نے قومی اسمبلی میں زبردست احتجاج کیا ، نعرے بازی کی اور اسپیکر سے بار بار ان کو اسمبلی میں لانے کے احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کیا جو اسپیکر نے نہیں مانا۔ حتی کہ وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر بھی ، جب جاوید ہاشمی موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلہ میں حزب مخالف کے امیدوار تھے ، انہیں اسمبلی میں نہیں لایا گیا۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتیں جاوید ہاشمی کی قید کے خلاف کوئی ایسا مؤثر احتجاج نہیں کرسکیں جس سے حکومت کے لیے امن وامان قائم رکھنے کا مسئلہ پیدا ہوسکتا۔ اس گرفتاری پر سیاسی کارکنوں کا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہ آنے سے حکومت کے لیے یہ آسان ہوگیا کہ وہ اس بارے میں زیادہ سخت گیر رویہ اختیار کیے رکھے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں معزول وزیراعظم نواز شریف کے بعد جاوید ہاشمی حزب اختلاف کے دوسرے سیاستدان ہیں جن پر بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا۔ نواز شریف کو بھی عدالت سے سزا ہوگئی تھی لیکن صدر مشرف نے ان کی سزا معاف کرکے انہیں ان کے اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب جلاوطن کردیا تھا۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں نواز شریف اور جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزام میں سزا سنایا جانا پاکستان اور خصوصا پنجاب کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامہ کا اشاریہ ہے۔

پاکستان کی تاریخ حزب مخالف کے سیاستدانوں پر بغاوت اور امن و امان درہم برہم کرنے الزامات کے مقدموں سے بھری پڑی ہے۔ راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس، حیدرآباد ٹریبیونل ، اٹک سازش کیس ان مقدمات میں نمایا ں ہیں۔

انیس سو اڑتالیس میں قلات نیشنل پارٹی کے رہنماؤں غوث بخش بزنجو ، گل خان نصیر وغیرہ سے بغاوت کے مقدمات کی ابتدا ہوئی اور پھر یہ سلسلہ چلتا چلا گیا جس کی زد میں آنے والے سیاستدانوں کی فہرست طویل ہے جس میں قلات کے ہی شہزادہ عبداالکریم ، صوبہ سرحد کے عبدالغفار خان، ولی خان ، قاضی عطا اللہ ، شاعر فیض احمد فیض ، کمیونسٹ رہنما میجر اسحاق ، میجر جنرل اکبر خان ، بلوچ قبائلی سردار نوروز خان ، سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید ، بنگالی سیاستدان حسین شہید سہروردی، بنگال کے ہی شیخ مجیب الرحمن ، کمیونسٹ رہنما حیدر بخش جتوئی ، وکیل رضا کاظم، بلوچ رہنما عطاللہ مینگل ، میجر جنرل تجمل حسین وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب پر بغاوت یا ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کےمقدمات بناۓ گۓ اور شہزادہ عبدالکریم کے علاوہ سب لوگ بالآخر رہا کردیے گۓ۔

جاوید ہاشمی کی ایک فوجی حکومت کے دور میں گرفتاری اور سزا اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ دائیں بازو کے ایسے سیاستدان ہیں جو فوجی اسٹیبلشمینٹ سے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ جنرل ضیاالحق کے دور میں وفاقی وزیر بناۓ گۓ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وہ ان کے بدترین مخالف سمجھے جاتے تھے اور آج ان کی جماعت پیپلزپارٹی کے بڑی اتحادی ہے۔

پاکستان میں بغاوت کے مقدمے بائیں بازو کے سیاستدانوں اور علاقائی جماعتوں کے رہنماؤں پر بنائے جاتے تھے جبکے جاوید ہاشمی دائیں بازو کے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان سیاستدانوں میں شامل رہے ہیں جنہیں مضبوط مرکز اور نطریہ پاکستان کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔ صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں نواز شریف اور جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزام میں سزا سنایا جانا پاکستان اور خصوصا پنجاب کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامہ کا اشاریہ ہے۔

 ہاشمی کی پیشی کی درخواست مسترد

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

مسلم لیگی مظاہرین

جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف مسلم لیگی کارکنان کا مظاہرہ(فائل فوٹو)

پاکستان میں قومی اسمبلی کے سپیکر نے میں قائد ایوان کے انتحاب کے لیے حزبِ اختلاف کے امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں پیش کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

یہ درخواست حزبِ اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی نے پیش کی تھی۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے سپیکر کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایوان کے اندر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیےحکومتی امیدوار شوکت عزیز اور جاوید ہاشمی کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہو رہا ہے جس کے لیے جمعہ کی شام کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ کامیاب امیدوار ہفتے کو حلف اٹھائیں گے۔

مخدوم جاوید ہاشمی بغاوت کے ایک مقدمے میں قید کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو زیرِ سماعت ہے۔ پاکستان میں پہلی بار کوئی جیل سے وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب لڑ رہا ہے۔

اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ قوانین کے مطابق امیدوار کی ووٹنگ کے وقت موجودگی ضروری ہے کیوں کہ اس سے صورتحال پر خاصا فرق پڑ سکتا ہے۔

حکمران جماعت کی جانب سے رکن اسمبلی زاہد حامد نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی سزا یافتہ ہیں اور انہیں ایوان میں نہیں لایا جاسکتا۔

پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور سپیکر کے درمیاں سخت تلخ کلامی بھی ہوئی اور سپیکر نے سارجنٹ کو طلب کرلیا جس کے بعد خواجہ سعد رفیق احتجاج کرتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے۔

ابتدائی طور پر جمعرات کی صُبح اے آر ڈی کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی جاوید ہاشمی کی حمایت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں عددی اکثریت کی بنا پر شوکت عزیز کی کامیابی نقینی نظر آتی ہے۔

بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔

چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اور اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

 

وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

شوکت بمقابلہ ہاشمی: تیاریاں

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2004/08/20040826153620shaukat_hashmi.jpg

حکومتی امیدوار کا مقابلہ قیدی سیاستدان سے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لیے’ون ٹو ون‘ مقابلہ حکومتی امیدوار شوکت عزیز اور حزب اختلاف کے جیل میں بند رہنما جاوید ہاشمی کے درمیاں ہوگا۔ ووٹنگ جمعہ کی شام اسمبلی کے خصوصی طور پر بلائے گئے اجلاس میں ہوگی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں اور جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی رد کرنے کے متعلق حکومتی اعتراضات مسترد کردیے ہیں۔

جمعرات کی صبح حزب اختلاف کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا تھا، لیکن عین وقت پر اتفاق رائے سے فیصلہ مسلم لیگ نواز کے حق میں کیا گیا۔

حکومتی امیدوار شوکت عزیز نے بذات خود جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی ’اے آر ڈی‘ کے مرکزی رہنماؤں نے جمع کرائے۔

دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتا شروع ہوئی تو سپیکر چودھری امیر حسین کا کمرہ امیدواروں کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خاصہ شور بھی بپا تھا۔

حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے کاغذات پر حزب اختلاف نے کوئی اعتراض نہیں کیا البتہ حکمران جماعت مسلم لیگ کے رکن اسمبلی زاہد حامد نے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی اس بنا پر چیلینج کیے کہ انہیں عدالت نے بغاوت کے مقدمے میں سزا سنا رکھی ہے اور وہ قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ آئین کے مطابق سزا یافتہ شخص انتخاب کے لیے نا اہل ہوتا ہے۔

حزب اختلاف کی جانب سے اعتزاز احسن نے حکومتی استدلال مسترد کرتے ہوئے دلائل پیش کیے کہ سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے اور ان کے موکل کو ابھی نا اہل قرار نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ جاوید ہاشمی کی بطور رکن اسمبلی تین دن قبل آپ نے خود چھٹی کی درخواست منظور کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور قانون کے مطابق رکن اسمبلی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب چودھری شجاعت حسین نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے اور انہیں پیپلز پارٹی نے چیلینج کرتے ہوئے کہا تھا کہ قرضہ معاف کرانے والا رکن نا اہل ہوجاتا ہے۔ اعتزاز نے سپیکر سے کہا کہ آپ نے اس وقت فیصلہ دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص رکن اسمبلی ہے اس وقت تک وہ انتخاب میں حصہ لے سکتاہے۔

اعتزاز کا کہنا تھا کہ آج وہ ہی قانون ہے اور ویسی ہی صورتحال ہے لہٰذا اس قانون کا اطلاق حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔

سپیکر چودھری امیر حسین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد سرکاری اعتراضات مسترد کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کے کاغدات منظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔

جاوید ہاشمی کی حمایت حزب اختلاف کے مذہبی جماعتوں ے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں عددی اکثریت کی بنا پر کامیابی شوکت عزیز کی ہی نظر آتی ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھااور اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔


 

وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی اے آر ڈی کےمتفقہ امیدوار

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

مخدوم جاوید ہاشمی پر بغاوت کا مقدمہ ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے مقابلے میں حزب اختلاف کے اتحاد’ اے آر ڈی‘ نے مخدوم جاوید ہاشمی کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔

یہ فیصلہ خاصے بحث مباحثے کے بعد جمعرات کی صبح اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی’اے آر ڈی‘ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مخدوم امین فہیم نے کی۔

حزب اختلاف کے اس اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا تھا۔

قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے آج کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی اور جمعرات کی شام کو بلائے گئے اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں انتخاب ہوگا۔

مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی اس وقت حکومت کے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے میں ملنے والی سزا کاٹ رہے ہیں، جس کے خلاف انہوں نے اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سزا کی بنیاد پر جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جاسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کے مطابق ’اے آر ڈی، قائد ایوان کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گی۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیے صرف شوکت عزیز اور جاوید ہاشمی نے ہی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں اور اگر ہاشمی کے کاغذات درست قرار دیے گئے تو ’ون ٹو ون‘ مقابلہ ہوگا۔ اس صورت میں بھی عددی اکثریت کے اعتبار سے شوکت عزیز کے ہی کامیابی کے امکانات واضع نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مخدوم جاوید ہاشمی کی بطور رکن اسمبلی چھٹی کی درخواست دو دن قبل منظور کی تھی۔ ان کے بقول اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ جاوید ہاشمی سے پہلے ہی مسلم لیگ نواز نے کاغذات نامزدگی پر دستخط کر الیے ہیں اور ان کے تین نامزدگی فارم داخل کیے جارہے ہیں۔

مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حزب اختلا ف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل‘ نے جاوید ہاشمی کی حمایت کا یقین دلایا ہے کیونکہ انہوں نے اپنا کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔

مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے بتایا کہ انہیں حمایت سے اختلاف نہیں البتہ حتمی فیصلہ جمعہ کو وہ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کی نامزدگی سے حزب احتلاف کے دونوں بڑے اتحادوں میں تعاون کا ایک موقعہ فراہم کیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔


 

 

وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 July, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

’میرے والد کو سزا انتقامی کارروائی ہے‘

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں

جیل میں قید حزب اختلاف کے رہنما جاوید ہاشمی کی بیٹی نے اپنے والد پر عائد کیے گئے الزامات کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ میمونہ ہاشمی نے کہا کہ چونکہ ان کے والد نے سیاست میں صدر مشرف کے کردار کو چیلنج کیا تھا اس وجہ سے ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے۔

یہ بیان انہوں نے لاہور کے ایک روزنامے کے دفتر میں بات چیت کے دوران جاری کیا۔

میمونہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید نہیں ہے کہ ان کے والد کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

جاوید ہاشمی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں اور انہوں نے بغاوت کے الزام میں دی گئی تئیس سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔

میمونہ ہاشمی بھی قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں ایک فرد واحد اپنی پسند اور ناپسند سے ملک کے لیے وزیر اعظم منتخب کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پارلیمان غیر موثر ہوگئی ہے اور ملک کی عدلیہ جنرل مشرف کے زیر اثر ہے۔

میمونہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے والد کی سزا کے خلاف اپیل اس لیے کی ہے تاکہ عدلیہ پر جنرل مشرف کے اثر کا پردہ چاک کیا جاسکے۔

جاوید ہاشمی پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں تاہم ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ان کے خاندان کے اثاثوں میں گزشتہ ایک سو پچاس سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔


 

وقتِ اشاعت: Friday, 16 April, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

امریکی ردعمل پر پاکستان کا احتجاج

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

ہاشمی

رچرڈ باؤچر نے کہا تھا کہ ہاشمی کا مقدمہ شفاف طریقے سے نہیں چلایا گیا

پاکستانی حکام نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کی سزا پر امریکی رد عمل کو مسترد کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اپنے ایک بیان میں امریکی رد عمل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے اندرونی اور عدالتی معاملات میں مداخلت کہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ یعنی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے کہا تھا کہ ہاشمی کا مقدمہ شفاف طریقے سے نہیں چلایا گیا۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور مسلم لیگ (ن) کے صدر جاوید ہاشمی کو فوج کے خلاف بغاوت کے الزام میں پیر بارہ اپریل کو تئیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق جمعہ کے روز اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کو پاکستان نے اپنے احتجاج سے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہاشمی کو پاکستان کی مجاز عدالت نے سزا دی ہے اور عدالت کے سامنے ان کو اپنی مرضی کے وکلاء مقرر کرنے کی سہولت بھی حاصل تھی۔

مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ سزا کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے جس کا ہاشمی کے وکلاء نے پہلے سے اعلان کر رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے اور یہ نا مناسب بات ہوگی کہ کوئی غیر ملکی حکومت پہلے سے نتائج اخذ کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ خود انہوں نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی خاطر بند کمرے میں سماعت جیسے اقدامات کئی مرتبہ کئے ہیں جو کہ ان کے عام قوانین اور عالمی معیار سے ہٹ کر ہیں۔ مگر پاکستان نے اس پر کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ امریکہ ایسے بیانات سے گریز کرے گا جو پاکستان کے اندرونی اور عدالتی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہوں۔


 

 

بغاوت کا الزام اور سزا

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام تھا

جاوید ہاشمی پر فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام تھا

پاکستان کی ایک عدالت نےمسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں سات سال قید با مشقت اور سات مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جاوید ہاشمی ملک کے پہلے سیاستدان نہیں جنھیں بغاوت کے الزامات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں بیشتر حکمرانوں کے دور میں سیاسی مخالفین پر بغاوت اور امن امان درہم برہم کرنے کی سازش کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے جاتے رہے ہیں جن میں راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس ، حیدرآباد ٹریبیونل اور اٹک سازش کیس نمایاں ہیں۔

جاوید ہاشمی کی سزا پر آپ کا ردِّ عمل کیا ہے؟ کیا جاوید ہاشمی واقعی اس سزا کے مستحق تھے؟ کیا پاکستان میں حکومتیں صرف اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے بغاوت کے تحت مقدمات قائم کرتی رہی ہیں یا ان کا مقصد ریاست کا تحفظ ہے؟ آپ کا ردِّ عمل



فیصل چانڈیو، حیدرآباد: جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ ہر چیز ہر موقعے پر بکتی ہے، خریدار ہونا چاہئے۔ ہمارے حکمرانوں تو سب کچھ لوٹ سیل پر لگایا ہوا ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی: جاوید ہاشمی کا گناہ فوج کی بدمعاشی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ بھلا پاکستان میں فوج سے زیادہ محبِ وطن، جان نثار اور قابل ہو سکتا ہے۔ ریاست کا تحفظ تو پاکستان فوج نے انیس سو اکہتر میں بھی خوب کیا تھا اور اس بار جاوید ہاشمی کو سزا دے کر کر رہی ہے۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

یس سر

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_99.gif ہاشمی مشرف کو سلوٹ ماریں اور یس سر کہیں تو باہر آسکتے ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_66.gif

 

آصف ججہ، ٹورنٹو

آصف ججہ، ٹورنٹو: اگر جاوید ہاشمی مشرف کو سلوٹ ماریں اور یس سر کہیں تو باہر آسکتے ہیں۔

خورشید احمد، پاکستان: جس ملک کی عدلیہ بدعنوان ہو وہاں یہی ہوتا ہے۔ مشرف نے آئین سے غداری کی، سیاستدن اچھے نہیں ہیں، حکومت میں آکر فرعون بن جاتے ہیں۔ جو مخلص لوگ ہیں انہیں حکومت میں آنے ہی نہیں دیا جاتا۔

شاد خان، ہانگ کانگ: میرے خدا، بدلے کی سیاست کب ختم ہوگی۔ مشرف بھی بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک بار ان کی وردی اتر جائے ان کا انجام عبرت ناک ہوگا۔

محمد عارف خان، ایبٹ آباد: ایک کمزور عدلیہ انصاف فراہم نہیں کرسکتی اور نہ ہی ایک سچے معاشرے کی تعمیر کر سکتی ہے۔

عمران نور، ٹورنٹو: جابر سلطان کے آگے کلمہِ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے۔ جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ لوگ مر جاتے ہیں لیکن نظریہ نہیں مرتا۔

عبدالرشید ملک، فرانس: یہ سب آخرت کی نشانی ہے۔

محمد وسیم اختر، مظفر گڑھ: جاوید ہاشمی کو سزا ہونا افسوس ناک ہے لیکن یہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی سمجھ بوجھ کے دیوالیہ پن کا واضح نتیجہ ہے جو ایک آمر کو سازشوں اور دوسرے غیرقانونی طریقوں سے ہٹانا چاہتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کا انجام ایک اور آمر ہے۔ مشرف کتنے برے کیوں نہ ہوں انہیں ایک عوامی آگہی اور تحریک سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ فوج کے ادارے کے ڈسپلن کو تباہ کرنے سے ایک اور بری تبدیلی ہی آئے گی جس کی بھاری قیمت ہمارا ملک اور اس کا نازک آئینی ادارہ نہیں ادا کر سکتا۔

اجمل خان، امریکہ: آزادیِ اظہار ہر پاکستانی کا حق ہے اور اسے دیا جانا چاہئے۔

محمد آصف، کراچی: یہ سزا بلاشبہ ایک سیاسی انتقام ہے اور اس پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ایک غیر مقبول حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جائے۔

محمد صادق، جنوبی کوریا: پاکستان میں کوئی قانون نہیں ہے اور ہماری عدالتیں اور انصاف حکومت کی جائداد ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

گفت و شنید پر نہ جائیے،

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_99.gif  اس کیس نے کچھ باتیں پھر سے ثابت کر دی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں عدالتیں اور آئین صرف آمروں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ آمر سابقہ آمروں سے کسی طور مختلف نہیں ہے۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_66.gif

 

فیضان رشید، کینیڈا

فیضان رشید، کینیڈا: اس کیس نے کچھ باتیں پھر سے ثابت کر دی ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں عدالتیں اور آئین صرف آمروں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ آمر سابقہ آمروں سے کسی طور مختلف نہیں ہے۔ ان کی گفت و شنید کی شیرینی پر نہ جائیے، مشرف کسی طور ان حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں جو اپنے مخالفین کو خاموش رکھنے کے لئے ہر قدم اٹھانے کو تیار رہتے ہیں۔ میں حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں اور خاص طور پر جاوید ہاشمی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو جمہوریت اور قانون کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ قانون سے بالا تر کسی کو نہیں ہونا چاہئے اور صرف ایک ہی شخص ہے جس نے آئین کو معطل کرکے اور اپنا حلف توڑ کر بغاوت کی ہے۔ میں اس دن کا منتظر ہوں جب فوج اپنے اقدامات کے لئے جواب دہ ٹہرائی جائے گی۔

محمد عامر خان، کراچی: مخالفت برائے مخالفت اچھی بات نہیں ہے۔ مشرف حکومت کو جو کریڈٹ جاتے ہیں وہ ہمیں اسے دینے چاہئیں۔ جاوید ہاشمی اس سزا کے مستحق تھے۔ وہ حکومت کی اچھی شہرت کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نقصان پہنچا رہے تھے۔

عرفان انصاری، گوادر: یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ غداری کا یہی انجام ہوتا ہے۔

شازیہ شیرازی، سرگودھا: مشرف آیین سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کا انجام ضیاء الحق جیسا ہوگا۔

محمد سلیم، راوالپنڈی: یہ سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی فیصلہ ہے۔ فوج نے ملک میں کئی بار حکومت پر قبضہ کیا ہے لیکب وہ پھر بھی محبِ وطن کہلاتی ہے اور جو اس کے خلاف صدائے احتجاج بنے وہ قصوروار ٹہراتا ہے۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جیسی کرنی ویسی بھرنی

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_99.gif جب جاوید ہاشمی کا دورِ حکومت تھا تب بھی بغاوت کے مقدمے بنے، ماورائے عدالت قتل ہوئے اور جاوید بھائی سمیت تمام ہمجولی وہی کہانیاں دہرا رہے تھے جو آج کے حکمران دہرا رہے ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_66.gif

 

ظفر محمد خان، مونٹریال

ظفر محمد خان، مونٹریال: جب جاوید ہاشمی کا دورِ حکومت تھا تب بھی بغاوت کے مقدمے بنے، ماورائے عدالت قتل ہوئے اور جاوید بھائی سمیت تمام ہمجولی وہی کہانیاں دہرا رہے تھے جو آج کے حکمران دہرا رہے ہیں۔ سچ ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ یہ سراسر سیاسی مسئلہ ہے اور پاکستان کی سیاست کے بنیادی اسباق میں سے ایک یعنی جو حکمران ہے وہ محبِ وطن ہے اور جو نہیں۔۔۔۔

اشرف بونیری: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوری حکومت ہو یا فوجی، سب اپنے اپنے مخالفوں کو گھیرتے ہیں۔

معاویہ عسکری، کراچی: صرف چھ منٹ میں سزا سنادی گئی۔ الزامات کے سچ یا جھوٹ ہونے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے۔ ہماری چاپلوس عدلیہ سے حکمران جو فیصلہ چاہیں دلوا لیتے ہیں۔

سیف اللہ خان سالار زئی: یہ تو حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو، فوجی یا غیر فوجی، مخالفین کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں بھی یہی ہوتا تھا۔ کسی کو قید کر دیا جاتا ہے تو کسی کو قتل۔ جاوید ہاشمی حکومت کے ساتھ چلتے تو آج کسی وزیر کے عہدے پر ہوتے۔ سچ ہے کہ جس کا راج ہو اسی کا طوطی بولتا ہے۔

حسیب خان، کراچی: عدالتوں نے پاکستان کی تاریخ میں سیاسی سطح کے فیصلوں پر کبھی بھی جرات نہیں دکھائی۔ باقی رہی حکومتیں اور خاص کر فوج تو مشرف ان تمام حرکتوں کو دہرارہے ہیں جو اس سے پہلے تمام فوجی حکمران دہرا چکے ہیں۔ وہ بھٹو کا چہرہ لگا کر ضیاء الحق کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ بالآخر ان کی منزل بھی وہی نہ ثابت ہو جو ان دونوں کی ہوئی۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

حقائق ہمیشہ چھپائے جاتے ہیں

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_99.gif پاکستان میں حقائق ہمیشہ لوگوں سے چھپائے جاتے ہیں۔ مشرف اینڈ کمپنی کو معلوم ہے کہ جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے نکلا انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔
http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/interactivity/quotes_quotebox_66.gif

 

نوشاد طالب حسین، ایمسٹر ڈیم

نوشاد طالب حسین، ایمسٹر ڈیم: سب کو معلوم ہے کہ مشرف اقتدار میں کیوں آیے اور کارگل کا ڈرامہ کیوں کھیلا گیا؟ جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں جو خط پڑھا تھا وہ اصلی تھا لیکن پاکستان میں حقائق ہمیشہ لوگوں سے چھپائے جاتے ہیں۔ مشرف اینڈ کمپنی کو معلوم ہے کہ جیسے ہی اقتدار ان کے ہاتھ سے نکلا انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ جاید ہاشمی کو ہونے والی سزا حکومت کی منشاء کے مطابق دی گئی ہے اور سب پر یہ بات عیاں ہے۔ جاوید ہاشمی ایک سچے پاکستانی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ وہ مشرف اینڈ کمپنی کے لئے ایک حقیقی خطرہ تھے اور عدلیہ نے پاکستان میں آج تک کبھی فوج کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا


 

وقتِ اشاعت:

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

’سزا غلط ملی ہے‘

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کی سزا کے خلاف احتجاج جاری ہے

پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں دی گئی سزا کے خلاف پیر کی شام ایوان بالا یعنی سینٹ کے اجلاس میں سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ جبکہ حکومت نے اس کو عدالتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اپیل کا حق باقی ہے اور لیگی رہنماؤں نے اپیل میں جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

سینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے نقطۂ اعتراض پر کہا کہ ہاشمی کو تئیس سال سزا دینا نا انصافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر انتقامی کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تاریخ میں آج کا دن یوم سیاہ ہوگا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما پروفیسر خورشید نے ہاشمی کو دی گئی سزا کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کے قاتل اور دہشت گردوں کے خلاف حکومت کچھ نہیں کر رہی جبکہ آئین کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو سزائیں دے رہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ حکومت لیگی رہنما کو سزا دے کر حزب اختلاف کو ڈرانے اور جھکانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

حکومتی سینیٹر خالد رانجھا نے کہا کہ ان کو سزا پر افسوس ہے لیکن یہ عدالتی معاملہ ہے اس پر ایوان میں مزید بحث نہیں کی جا سکتی۔

سینٹ میں قائدِ ایوان وسیم سجاد نے بھی اسے عدالتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاشمی کا اپیل کا حق بھی باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگی رہنماؤں نے پہلے ہی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے لہْذا اس معاملے پر مزید بحث نہ کی جائے۔

اس پر حزب اختلاف نے احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ کیا۔

علاوہ ازیں جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی نے، جو رکن قومی اسمبلی بھی ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے والد کی سزا کو مسترد کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سزا کو تمغہ بغاوت کہتے ہوئے بتایا کہ مشرف کے چار سالہ دور میں ان کے والد نو مرتبہ جیل گئے ہیں جو ان کے بقول انتقامی کارروائی کا ثبوت ہے۔

اس موقعہ پر لیگی رہنما سرانجام خان نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو سزا ملنے پر ان سے عہدہ واپس نہیں لیا جائےگا کیوں کے ان کے بقول سزا غلط ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد وہ پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلا کر فیصلے کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی وضع کریں گے۔

لیگی رہنما مشاہد اللہ خان نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک جانب کراچی میں دہشت گردی کرنے والوں کو حکومت میں شامل کیا ہوا ہے اور دوسری جانب بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلانے اور ملک کی خاطر انتیس بار جیل جانے والے جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزامات کے تحت سزا دی ہے۔

ایک اور مسلم لیگی رہنما ظفر اقبال جھگڑا نے، جو کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں، بتایا کہ اٹھارہ اپریل کو کوئٹہ میں اتحاد کا اجلاس ہوگا جس میں سزا کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔


 

وقتِ اشاعت: Monday, 12 April, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کی سزا غیرمتوقع نہیں

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر اور پارلیمانی رہنما جاوید ہاشمی کو راولپنڈی کی عدالت نے بغاوت کے الزام میں جو سزا دی ہے وہ غیرمتوقع نہیں اور سیاسی حلقے اسی فیصلہ کی توقع کررہے تھے۔

خود جاوید ہاشمی نے ایک بار اپنے مقدمہ کی سماعت کا بائکاٹ کیا لیکن بعد میں فیصلہ بدل دیا اور کہا کہ انہیں سزا دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے قائد نواز شریف نے انہیں سماعت میں حصہ لینے کو کہا ہے۔

جس طرح اڈیالہ جیل میں جاوید ہاشمی کے مقدمہ کی سماعت کی گئی ہے، جہاں صحافیوں کے عام داخلہ پر پابندی تھی اور عدالت کی اجازت سے مخصوص لوگ اس سماعت کو سن سکتے تھے، اس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلا اپنے شکوک کا اظہار کرچکی ہیں۔

جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو گرفتار کیا گیا جبکہ ان کی جس پریس کانفرنس کوبنیاد بنا کر ان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا وہ انہوں نے اپنی گرفتاری سے نو دن پہلے کی تھی اور جس شخص خورشید احمد نے اس پریس کانفرنس کی بنیاد پر مقدمہ درج کرایا وہ صحافی نہیں ہے۔

جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) میں ایک جارحانہ طرز عمل کے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور ان کا ماضی بھی احتجاجی تحریکیں چلانے میں گزرا ہے۔ بے نطیر بھٹو کے دور حکومت میں احتجاجی تحریک کے دروان میں پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائیں تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں وہ حزب اختلاف کی احتجاجی تحریکوں میں پیش پیش تھے اور ان کی شہرت بھٹو مخالف سیاستدان کی حیثیت سے ہوئی۔

جاوید ہاشمی پر بغاوت اور فوج کو اکسانے کا مقدمہ درج کرکے صدر جنرل پرویز مشرف نے واضح پیغام دیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کسی نرمی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور اپنے سیاسی اقتدار کے خلاف کسی بھی متحرک رہنما اور پارٹی سے سختی سے نپٹیں گے۔

اب جاوید ہاشمی کی سزا سے ایک بار پھر حزب اختلاف کو یہ پیغام مل گیا ہوگا کہ جنرل مشرف سے ٹکرانے کے صورت میں حکومت اس کے ساتھ کیا کرسکتی ہے اور کس حد تک جاسکتی ہے۔

جاوید ہاشمی کی سزا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے لئے بھی ایک پیغام پوشیدہ ہو ستکا ہے کہ اگر وہ اپنی جلاوطنی ختم کرکے ملک واپس آۓ تو ان کو بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی سماعت کا نتیجہ ان کی سزا اور قید کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت کا ارداہ کچھ بھی ہو لیکن جاوید ہاشمی کی سزا اور طویل قید کا ایک نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ مسلم لیگی حلقوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو اور وہ ایک زیادہ قد آور رہنما کے طور پر ابھریں۔

جاوید ہاشمی کا ملک کے اندر قید کاٹنا شریف خاندان کے رویے کے برعکس ہے جو ایک سال کی قید کے بعد حکومت سے معاہدہ کے تحت سعودی عرب جلا وطنی پر رضا مند ہوگۓ۔

یوں جاوید ہاشمی ملک کے اندر رہ کر فوجی حکومت کا مقابلہ کرکے، مسلم لیگ(ن) میں شریف خاندان کے بعد ایک بڑے رہنما کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔

اس سزا کا ایک نتیجہ تو بہرحال یہ نکل سکتا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرلے اور ملک کا سیاسی ماحول گرمی کےموسم میں اور گرم ہوجاۓ۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے جاوید ہاشمی کی سزا کے خلاف احتجاجی کیمپ لگانے اور مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن پچھلے پانچ سال سے اب تک یہ جماعت مشرف حکومت کے خلاف کوئی مؤثر احتجاج نہیں کرسکی ہے۔

دیکھنا یہ ہےکہ اب مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف کوئی زوردار احتجاج کرسکے گی یا نہیں اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو کیا شہباز شریف وطن واپسی کے ارادوں پر قائم رہ سکیں گے۔


 

وقتِ اشاعت: Monday, 12 April, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

بغاوت مقدمہ: سزا کی تفصیل

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

مسلم لیگ (ن) کے صدر جاوید ہاشمی پر بغاوت کے مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی سات دفعات کے تحت جو مقدمہ داخل ہوا تھا اس میں ہر شق کے تحت ان کو علیحدہ علیحدہ سزا دی گئی ہے۔

جاوید ہاشمی کے وکیل سید کشور بخاری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ دفعہ ایک سو اکتیس جو کہ بغاوت کے متعلق ہے اس کے تحت ان کے مؤکل کو سات سال قید با مشقت اور دس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہوگی۔

ضابطہ فوجداری کی شق ایک سو چوبیس اے کے تحت جوحکومت کے خلاف نفرت پھلانے کے متعلق ہے ہاشمی کو تین سال قید، دس ہزار روپے جرمانہ اور جرمانے کی عدم ادائگی پر دو ماہ مزید جیل میں رہنا پڑے گا۔

بخاری کے مطابق دفعہ چار سو اڑسٹھ کے تحت جوکہ سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کے متعلق ہے انہیں چار سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ مزید قید کاٹنی ہوگی۔

جعلسازی کی ایک اور شق چار سو انتہر کے تحت دو سال قید دو ہزار روپے جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں پندرہ دن مزید قید کاٹنی ہوگی۔

وکیل کے مطابق ایک اور شق چار سو اکہتر جعلی دستاویز استعمال کرنے کے متعلق ہے۔ اس کے تحت بھی چار سال قید، پانچ ہزار روپے جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ مزید قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بغاوت کے مقدمے کی شق پانچ سو جوکہ فوج کو بدنام کرنے کے متعلق ہے اس میں ایک سال قید پانچ ہزار روپے جرمانہ اور عددم ادائگی کی صورت میں ایک ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بغاوت کے مقدمے کی ساتویں شق پانچ سو پانچ اے جوکہ فوج کو بغاوت کے لئے اکسانے اور فوج میں نفرت پھلانے کے متعلق ہے اس کے تحت دو سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ قید بھگتنی ہوگی۔

 


 

وقتِ اشاعت: Saturday, 14 February, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جیل میں کارروائی، صحافیوں پر پابندی

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی (فائل فوٹو)

اتحاد برائے بحالی جمہوریت اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی پر غداری اور پاک فوج میں بغاوت پھیلانے کی مبینہ کوششوں کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے جسکی سماعت راولپنڈی کی ایک جیل کے احاطے میں جاری ہے۔

چونکہ اسے بند کمرے کی سماعت قرار نہیں دیا گیا تھا اس لئے مقدمہ کے جج چودھری اسد رضا نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کو کارروائی دیکھنے کی اجازت دے رکھی تھی۔

تاہم ہفتے کے روز بی بی سی کے اسلام آباد بیورو کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے دفتر سے اطلاع موصول ہوئی کہ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حکم امتناعی کے تحت نامہ نگار کو مقدمے کی کارروائی سننے کے لئےجیل کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے وکیلِ سرکار کی درخواست پر یہ حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ اگر بی بی سی کے نمائندے

کو اجازت دے دی گئی تو ابلاغ عامہ کے دیگر ادارے بھی اپنے نمائندے وہاں بھیجنے پر اصرار کریں گے اور اس طرح جیل حکام کے لئے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔


 

وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی پر حکومت کو نوٹس

 

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو حراست میں لیا گیا

 

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس سردار محمد اسلم نے بغاوت کے مقدمہ میں گرفتار اے آر ڈی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے مقدمہ کی جیل میں سماعت اور ضمانتوں سے متعلق دو درخواستوں پر آج حکومت کو نوٹس جاری کردیے۔

تاہم عدالت نے جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر ان کے وکیل لطیف کھوسہ کی یہ استدعا قبول نہیں کی کہ چیف کمشنر اسلام آباد کے جیل میں سماعت کے بارے میں دیے گئے حکم کو معطل کردیا جائے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ چونکہ یہ اہم اور حساس معاملہ ہے اس لیے دوسرے فریق کا موقف سننا ضروری ہے۔

وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت عالیہ سے کہا کہ منتخب رکن قومی اسمبلی اور حزب مخالف کے رہنما جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کی جیل میں سماعت غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل ہے۔

وکیل نے کہا کہ جس خط کی بنیاد پر جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ بنایا گیا وہ کوئی حساس معاملہ نہیں اور نہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے جبکہ جاوید ہاشمی نے حزب مخالف کے قائد کے طور پر اسمبلی کے فلور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر کو جیل میں مقدمہ کی سماعت کا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے اور ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے کیونکہ جیل میں عدالتی ماحول نہیں ہوتا اور کوئی سینیئر وکیل وہاں جانا نہیں چاہتا اور جیل میں سماعت سننے کے لیے صحافی، عوام اور ملزم کے رشتے دار نہیں جا سکتے۔

وکیل نے کہا کہ چیف کمشنر کے جیل میں سماعت سےمتعلق احکامات کو معطل کر کے سیشن کورٹ میں کھلی سماعت کا حکم جاری کیا جائے۔

تاہم جج نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ احکامات جاوید ہاشمی کی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے جاری کیے گئے ہوں۔ اس پر وکیل نے کہا کہ انہیں کھلی سماعت سے کوئی خطرہ نہیں اس لیے اس کے احکام جاری کیے جائیں۔

جج نے کہا کہ دوسرے فریق کا موقف جاننا ضروری ہے اس لیے پہلے انہیں بلا کر ان کا جواب حاصل کیا جائے گا۔

دوسری درخواست ضمانت میں وکیل نے عدالت عالیہ سے کہا کہ جاوید ہاشمی نے بیس اکتوبر کو خط صحافیوں کے سامنے پیش کیا وہ چار اکتوبر کو ایک ویب سائٹ پر شائع ہوچکا تھا اور اسے تقیسم کرنا کوئی جرم نہیں بنتا۔

وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے کارگل کے معاملہ پر ایک قومی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بات کی تھی جو کوئی بغاوت نہیں اور زندہ قومیں اپنے ملکی وقار کے معاملوں پر ایسا ہی کیا کرتی ہیں۔

جج محمد اسلم نے آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی اور کہا کہ وہ عدالت عالیہ کی چھٹیوں میں عارضی طور پر بینچ پر کام کر رہے ہیں اس لیے نئے جج اگلی سماعت کی تاریخ دیں گے۔

جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں اسلام آباد میں پارلیمینٹ لاجز سے گرفتار کیاگیا تھا اور سیکریٹیریٹ پولیس نے ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

عدالت عالیہ کے جج منصور احمد اس سے پہلے جاوید ہاشمی کی حبس بےجا کی رٹ درخواست اور ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ماتحت عدالت سے رجوع کرنے کا کہا تھا۔ بعد میں ماتحت عدالت نے بھی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔


 

وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

ہاشمی: مقدمے کی سماعت جیل میں

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

 

ڈسٹرک اینڈ سیشن جج اسلام آباد اسد رضا نے منگل کو اعلان کیا کہ اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اڈیالہ جیل میں چلایا جائے گا۔

اس فیصلے کی وجہ پچھلی سماعت پر مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں کی طرف سے کیے گئے احتجاج کو بنایا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے اور وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جیل کی دیواروں کے پیچھے عدالت ’کھلی عدالت کے اصول‘ کے خلاف ہے اور جاوید ہاشمی کو انصاف سے محروم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ’شفاف عدالت کاروائی‘ کی نفی ہے اور اس سے ظاہر ہو گیا ہے کہ حکومت اپنے اثرورسوخ کے زور پر جاوید ہاشمی کے خلاف فیصلے لینے کی کوشش کری گی۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو 29 اکتوبر کی رات ساڑھے دس بجے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بیس اکتوبر کو پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا۔

درخواست دہندہ خورشید احمد جس کے بارے میں کسی کو آج تک زیادہ معلومات نہیں ہیں،نے پولیس کو بتایا تھا کہ 20 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی دیکھنے گیا تو اس نے جاوید ہاشمی کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، اس کانفرنس میں جاوید ہاشمی نے ایک بغیر دستخط شدہ خط بعنوان ’ قومی قیادت کے نام‘ کی کاپیاں تقسیم کیں۔

’اس خط میں جنرل پرویز مشرف صاحب ، حکومت پاکستان ، اور افواج پاکستان کے بارے میں مواد تحریر تھا، اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گی ہے ، اس خط کے ذریعے جاوید ہاشمی نے مسلح افواج کے اندر نفرت اور بد اندیشی پیدا کرنے کی کوشش کی ھے ، اور انہیں بغاوت پر اکسایا ہے ۔ جاوید ہاشمی نے غلط بیانی سے کام لیا، اور واقعہ کارگل کے بارے میں غلط بیانی کرتے ھوئے کارگل میں پاکستان کا نقصان انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگوں سے زیادہ ہونے کی بات کی ہےاور یہ کہا ہے کہ بھارت نے کارگل کے معاملہ میں انکوئری کر کے بہت سے برگیڈیر اور جنرل نوکری سے فارغ کیے اس طرح جاوید ہاشمی نے افواج پاکستان کے خلاف نفرت اور بد اندیشی پیدا کی۔

جب منگل کو عدالت نے سماعت شروع کی تو حکومت کے وکیل نے عدالت کی توجہ چیف کمشنر اسلام آباد کے اس فیصلے کی طرف دلائی جس میں اس نے جاوید ہاشمی کے کیس کی سماعت کے لیے عدالت اب جیل میں لگائی جائے گی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ چیف کمشنر کو اسلام آباد میں وہ حیثیت حاصل ہے جو صوبوں میں گورنر کوہے اور گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت کے لیے جگہ کا تعین کر ئے۔

حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ نو کے تحت کسی بھی صوبے کا گورنر عدالت کے بیٹھنے کے بارے میں فیصلے کر سکے۔

جاوید ہاشمی کو عدالت میں پیش کیا گیا ، اس نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ھوئے کہا، کہ آج ملک کی تاریخ کا ایک تاریک دن ہے کیونکہ اسی دن سیاست میں جنریلوں کے کردار کی وجہ ملک کا ایک حصہ پاکستان سے علیحدہ ہو گیا تھا۔

وہ دن دور نہیں جب یہ جنرل بھی کٹھڑے میں کھڑے ہوں گے۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ بغاوت کس نے کی ہے ، اور کہا کہ اس کی جہدوجہد جاری رہے گی۔

جاوید ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ اس کو عدالت کے فیصلے کے باوجود ابھی تک ابھی تک اے کلاس نہیں دی گئی۔


 

وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

باقاعدہ سماعت شروع

 

جاوید ہاشمی

’انتہائی ابتر حالات میں گوانتاناموبے کے قیدیوں سے بھی برا سلوک کیا جا رہا ہے‘

 

اے آرڈی کے صدر جاوید ہاشمی کے خلاف داخل کردہ بغاوت کے مقدمے کی باقائدہ سماعت شروع کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج اسد رضا چودھری نے سولہ دسمبر کو ان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیاہے-

پیر کے روز سماعت شروع ہوئی تو جاوید ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ساتھ جیل میں بہت برا سلوک کیا جارہا ہےـ انکا کہنا تھا کہ ان کو عادی مجرم قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہےـ ’جیل کی تنگ کوٹھڑی میں ہوا بھی نہیں آتی اور ذہنی تشدد کانشانہ بھی بنایا جارہا ہے‘ـ

عدالت نے استفسار کیا کہ جب ہوا نہیں آتی تو آپ زندہ کیسے ہیں؟ ہاشمی نے کہا کہ ان کے ساتھ انتہائی ابتر حالات میں گوانتاناموبے کی قید میں رکھے گئے قیدیوں سے بھی برا سلوک ہورہا ہے۔ مقدمہ چلائے بغیر مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہاہےـ

ہاشمی نے کہا کہ وہ سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور اے کلاس ان کا قانونی حق ہےـ انہوں نے عدالت سے طبی معائنے کی بھی درخواست کی جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ہاشمی کو جیل میں اے کلاس دی جائے اور ان کا طبی معائنہ بھی کروایا جائےـ

عدالت نے اگلی سماعت سولہ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے بتایا کہ اگلی سماعت میں جاوید ہاشمی پر بغاوت کے مقدمہ میں فرد جرم عائد کردی جائے گی ـ

پیر کی صبح جاوید ہاشمی کو اڈیالہ جیل سے سخت حفاظتی انتظامات میں جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے وکلاء سید ظفر علی شاہ اور حشمت حبیب ایڈوکیٹ کے علاوہ راجہ ظفرالحق ، راجہ نادرپرویز، میمونہ ہاشمی اور دیگر پارٹی رہنما و کارکنان بھی موجود تھےـ

عدالت میں پیشی کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر جرنیلوں کے نزدیک پاکستان سے محبت کرنا، آئین و جمہوریت کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے آواز اٹھانا بغاوت ہے تو ہاں وہ باغی ہیں ـ ان کو جرنیلوں کی بالادستی اور ملک پر تسلط منظور نہیں ہےـ جب تک غاصبوں سے نجات نہیں ملتی وہ ہر قیمت پر اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں ’ملکی سیاست میں فوج کا کوئی کام نہیں ملک و قوم اور خود فوج کے ادارے کے مفاد میں یہی ہے کہ فوج پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں سے واپس بیرکوں میں چلی جائے اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ لیگل فریم ورک آرڈر اور جنرل مشرف کو صدر تسلیم نہیں کرتےـ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل نے کوئی مصنوعی آئینی پیکیج قبول کیا اور 1973ء کے آئین سے ہٹ کر حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو متحدہ مجلس عمل کی عوامی ساکھ تباہ ہوجائےگی ـ

واضع رہے کہ جاوید ہاشمی کو فوج میں نفرت پھیلانے کے جرم میں 29 اکتوبر کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ـ ضابطہ فوجداری کی دفعات 131 ـ 500 ـ 500 اے ـ469 ـ 471 ـ 124 ـ اے ـ 468 اور 109 کے تحت اب ان پر مقدمہ چلایا جائے گا -

جاوید ہاشمی نے مبینہ طور پر بعض فوجیوں کی جانب سے موصول ہونے والا خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا ـ جس میں جنرل پرویز مشرف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کارگل کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھاـ


 

وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

میمونہ ہاشمی کی اپیل

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

میمونہ ہاشمی

جاوید ہاشمی کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی

 

اتحاد برائے بحالی جمہوریت ( اے آر ڈی) کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے اسیر والد کے مقدمہ کی عدالتی کاروائی کی مانیٹرنگ کرے اور حکومت پر ان کے آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے زور دے۔

پیر کے روز میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈؤن میکنن کے نام تحریری خط میں لکھا ہے کہ جب دولت مشترکہ کی وزارتی کمیٹی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے عمل کو مانیٹر کررہی ہے تو ایسے موقع پر پارلیمینٹ میں حزب مخالف کے حقوق اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کے حوالے سے ان کی توجہ دلانا ضروری ہے۔

میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ کے نام اپنے خط میں کہا کہ ان کے والد جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کر لیا گیا اور ایک ہفتہ تک کسی میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیے بغیر ان کا ریمانڈ حاصل کرلیا اور ہائی کورٹ میں بھی ان کے ریمانڈ کی نقل پیش نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے خصوصی ہدایت نہ ملنے تک ان کے والد کے ساتھ وکلاء اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

میمونہ ہاشمی نے کہا کہ ان کے والد اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر ہیں اور اے آر ڈی کی قومی اسمبلی میں اسی ارکان کی نمائیندگی کرتے ہیں جبکہ حکومت نے ان کے والد کو خاموش کرانے کے ہتھکنڈے کے طور پر ان کو ایک بے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کرلیا۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے اکیس اکتوبر کو وہ خط پڑھا تھا جس میں فوجی افسران نے زور دیا تھا کہ قومی قیادت جمہوریت کی بحالی اور انیس سو ننانوے میں کارگل کے سانحہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے۔ انھوں نے کہا کہ اس خط پڑھنے کی سزا جاوید ہاشمی کو دی جا رہی ہے اور ان پر ایک بے بنیاد الزام کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔

میمونہ ہاشمی نے دولت مشترکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لے اور اس کی تحقیقات کرے۔


 

وقتِ اشاعت: Monday, 24 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں توسیع

 

 مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی

مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر بھی ہیں۔

 

اسلام آباد کی ایک عدالت نے پیر کو اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کے عدالتی ریمانڈ میں چودہ روز کی توسیع کردی ہے۔

جاورد ہاشمی اپنی گرفتاری کے بعد پیر کو پہلی بار اپنے کسی وکیل سے کمرۂ عدالت میں ملاقات کی ہے۔

سول جج اور جوڈیشل میجسٹریٹ عامر سلیم رانا نے جاوید ہاشمی کو عید کے موقع پر ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی۔ جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کو بغاوت کے الزم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پیر کو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ صبح آٹھ بجے کے قریب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد لایا گیا۔ انہیں سول اور جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد پہلے ہی موجود تھی۔

استغاثہ نے عدالت سے جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں آٹھ دسمبر تک توسیع کی درخواست کی تھی۔

وکیل صفائی حشمت علی حبیب نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے عدالت میں مکمل یا نامکمل چالان پیش نہیں کیا اس لیے قانونی طور پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ تین سو چوالیس کے تحت عدالت کے پاس ان کے مزید ریمانڈ کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس صرف یہی ایک اختیار ہے کہ وہ انہیں بری کردے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں عدالت عالیہ کے متعدد مقدمات کے حوالے بھی دیے۔

ان دلائل کے بعد عدالت نے جاوید ہاشمی کے ریمانڈ میں آٹھ دسمبر تک توسیع کا فیصلہ کیا۔ تاہم جج نے جاوید ہاشمی کے وکیل کو اجازت دی کہ وہ ان سے کمرۂ عدالت میں ملاقات کرسکتے ہیں۔

وکیل صفائی وکیل حشمت حبیب نے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) اور تین انسپکٹر اور متعدد دیگر اہلکاروں کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال کر جاوید ہاشمی سے دس منٹ تک ملاقات کی جو کسی وکیل کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔

وکیل صفائی وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کی کندھے اور کمر میں درد تھا۔ انہوں نے شیو بنائی ہوئی تھی اور صاف ستھرے لباس میں ملبوس تھے اور ان کا حوصلہ بلند دکھائی دیتا تھا۔ وکیل نے بتایا کہ جاوید ہاشمی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ انہوں نے جاوید ہاشمی سے ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمے کے مندرجات پر بات کی۔ انہوں نے کہا جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ایک سو چوبیس اے، ایک سو نو، ایک سو اکتیس، چار سو اڑسٹھ، چار سو انہتر، چار سو اکہتر، پانچ سو اور پانچ سو پانچ اے کے تحت درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دفعات میں ایک سو چوبیس اے بغاوت اور ایک سو اکتیس کسی فوجی کو بغاوت پر اکسانے سے متعلق ہے۔

وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف خورشید نامی شخص نے ایف آئی آر میں جو الزامات لگائے ہیں ان کا ان دفعات سے کوئی تعلق نہیں۔

جب جاوید ہاشمی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان سے ملنے کی کوشش کی اور پولیس کی گاڑی کے سامنے آگۓ لیکن پولیس کے حفاظتی پہرہ کے باعث وہ ان سے مل نہیں سکے۔ جاوید ہاشمی نے فتح کا نشان بنا کر ان کی زبردست نعرہ بازی کا جواب دیا۔

پیر کو پولیس کی بھاری نفری صبح ہی سے عدالت کے باہر تعینات تھی۔ منگل کو اسلام آباد کے ایک سیشن جج جاوید ہاشمی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی سماعت کریں گے۔


 

وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2003

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کی درخواست ضمانت

 

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

 

ہفتے کے روز اسلام آباد میں ایک سیشن جج کی عدالت میں مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی ضمانت پر رہائی کے لیے ایک درخواست دائر کردی گئی جس پر عدالت نے وفاقی حکومت کو ریکارڈ سمیت پچیس نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

درخواست ضمانت جاوید ہاشمی کے وکلاء لطیف کھوسہ اور اشتر اوصاف علی اور رکن قومی اسمبلی نیر حسین بخاری کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

اشتر اوصاف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جن دفعات کے تحت جاوید ہاشمی پر مقدمہ بنایا گیا ہے اس میں کوئی نجی طور پر فریق نہیں بن سکتا اور صرف ریاست ہی مدعی بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے موقف کے مطابق جاوید ہاشمی کے خلاف جو الزامات ہیں ان سے مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے اور دوئم ان کے مؤکل کا حق ہے کہ وہ قصوروار قرار دیئے جانے سے پہلے اپنا تحفظ کرے اور حراست میں رہ کر وہ ایسا نہیں کر سکتا اس لئے اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جاوید ہاشمی رکن قومی اسمبلی ہیں اور ایک سیاسی پارٹی اور ایک سیاسی اتحاد کے صدر ہیں ان کے خلاف یہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انہیں سیاسی عمل سے دور رکھا جائے۔

 

 

 


 

وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

ہاشمی کی رہائی درخواست مسترد

جاوید ہاشمی

جاوید ہاشمی کو غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

 

لاہور ہائی کورٹ، پنڈی بینچ کے ایک جج نے جاوید ہاشمی کی رہائی کے لئے دائر کی جانے والے درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

جاوید ہاشمی کو غداری اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں انتیس اکتوبر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جاوید ہاشمی پر فوج کو بدنام کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

جاوید ہاشمی کی رہائی کے لئے درخواست ان کی بیٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے دائر کی تھی۔

لیکن لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے ایک جج منصور احمد نے سوموار کے روز ان کی درخواست مسترد کر دی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے میمونہ ہاشمی کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی درخواست کے مسترد ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

میمونہ ہاشمی کے مطابق جیسے ہی انہیں فیصلے کی کاپی ملے گی وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔

 


 

وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif


مجھ پرتشدد کیا گیا: جاوید ہاشمی

 

ہاشمی

جاوید ہاشمی کو گیارہ روز کی اسیری کے بعد بیٹی سے ملایا گیا ہے

 

پاکستان میں بغاوت کے مقدمہ میں زیر حراست اتحاد برائے بحالئی جمہوریت کے صدر جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی میمونہ ہاشمی کو بتایا ہے کہ ان پر حراست کے دوران زبردست تشدد کیا گیا۔

گرفتاری کے بعد یہ ان کی اپنی بیٹی سے پہلے ملاقات تھی۔

رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی نے آج اپنے والد سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان پر حراست کے دوران جو تشدد کیا گیا وہ شاید گوانتانامو بے میں بھی قیدیوں پر نہ کیا گیا ہو۔

میمونہ ہاشمی کے مطابق جاوید ہاشمی کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور وہ گیارہ روز تک سورج کی روشنی نہیں دیکھ سکے جبکہ اس کے بعد تیز بلب جلا کر انہیں مسلسل جگایا گیا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ ان کی آنکھوں پر مسلسل سیاہ پٹی بندھی رہی اور سکیورٹی اہلکار انہیں پکڑ کر دیواروں سے ٹکراتے رہے۔

جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی کو بتایا کہ جن لوگوں نے ان پر تشدد کیا وہ پولیس والےنہیں ایجنسیوں کے لوگ ہیں جن کے نام انہیں معلوم ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ جتنا تشدد ان پر کیا گیا ہے اس سے کئی گنا زیادہ کے لیے وہ تیار ہیں لیکن وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ موجودہ پارلیمینٹ کی کوئی وقعت نہیں ہے اگر سیاستدانوں سے تحقیقات ہورہی ہیں تو فوجیوں سے بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ جرنیلوں کے اثاثے چیک کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر جس خط کی پاداش میں تشدد کیا گیا وہ انھوں نے نہیں لکھا بلکہ وہ انھیں ملا تھا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی بیٹی سے کہا کہ کارگل پر کمیشن بٹھایا جائے تاکہ یہ واضح ہو کہ قصور نواز شریف کا تھا یا جنرل مشرف کا۔

انہوں نے کہا کہ ایل ایف او پر انھوں نے نہ لچک پیدا کی اور نہ کریں گے۔ وہ سیاست میں فوج کے مستقل کردار کی مخالفت کرتے رہیں گے۔


وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کی رٹ پر فیصلہ محفوظ

 

جاوید ہاشمی

جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے باوجود جاوید ہاشمی کو وکلاء سے نہیں ملنے دیا گیا

 

جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس منصور احمد نے مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی بیٹی اور رکن قومی اسمبلی میمونہ ہاشمی کی جانب سے دائر کردہ رٹ درخواست پر دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ پیر کے روز تک کے لیے محفوظ کرلیا۔

دوسری طرف میمونہ ہاشمی نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے باوجود جمعہ کے روز انھیں اور جاوید ہاشمی کے وکلاء کو جیل حکام نے جاوید ہاشمی سے ملنے نہیں دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ادویات ، کمبل اور کپڑے لے کر جیل گئے تھے جہاں ان سے کہا گیا کہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی پر موجود نہیں اور بعد میں ڈپٹی سپرنٹڈنٹ جیل بھی غائب ہوگیا اس طرح ان کی جاوید ہاشمی سے ملاقات نہیں ہوسکی۔

جمہ کے روز عدالت عالیہ میں حکومت کے جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر منیر بھٹی نے اپنے دلائل میں کہا کہ جاوید ہاشمی کو تھانہ سیکرٹیریٹ میں درج مقدمہ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس کی گرفتاری سے متعلق ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا اور یہ بیس اکتوبر کا وقوعہ ہے جس کی ایف آئی آر ستائیس اکتوبر کو درج کی گئی جس میں خورشید احمد مدعی کا بیان ہے کہ وہ بیس اکتوبر کو اسمبلی کی کاروائی دیکھنے گیا جہاں کیفے ٹیریا میں گواہوں نادر اور جہانزیب سے ملاقات ہوئی۔ اس طرح اس وقوعہ کے یہ دو گواہ ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تو انھوں نے اس سے پہلے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں اخباری نمائندے شریک تھے اور ان میں قومی قیادت کے نام کے عنوان سے خط کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس خط میں صدر پرویزمشرف ، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف مواد تحریر تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل جاوید حسن کے بارے میں کہ جب وہ میجر جنرل تھے تو چار سال تک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرتے رہے جو کہ حقائق پر مبنی نہیں۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ چونکہ یہ خط خود جاوید ہاشمی نے تیار کیا اس لیے اس پر کسی کے دستخط نہیں۔

انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کا یہ کہنا کہ جاوید ہاشمی چھ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوۓ درست ہوسکتا ہے لیکن یہ درست نہیں ہوسکتا کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج کے خلاف نفرت انگیز اور بغاوت پیدا کرنے والے خط تیار کرکے اسے تقسیم کیا جاۓ۔

انھوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے اپنے ساتھیوں کے مشورہ سے خط تیار کیا اور نفرت ڈالنے کی کوشش کی جس سے پاکستان کی سلامتی ، خوشحالی اور یکجہتی کو نقشان پہنچانے سمیت ملک توڑنے کی سازش کی گئی۔

ریمانڈ کے کاغذ کے حوالہ سے وکیل استغاثہ نے کہا کہ ریمانڈ کے پرچہ پر میجسٹریٹ محمد اسلم گوندل کے دستخط اور مہر موجود ہے جبکہ جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد سے اب تک چار افسران پر مشتمل جماعت تحقیقات کررہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان افسروں میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد اسحاق وڑائچ ، انسپکٹر مسرت علی خان، سب انسپکٹر بشیر احمد لون اور سب انسپکٹر محمد بشیر شامل ہیں۔

عدالت عالیہ نے ریکارڈ پیش کرنے کا جو حکم دیا اس کے تحت مقدمہ سے متعلق تمام ریکارڈ عدالت عالیہ میں پیش کردیا گیا اس کے باوجود مدعی بار بار شور مچاتے ہیں کہ ریکارڈ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ لوگ ایف آئی آر میں دیے گئے رہائش گاہ کے پتے پر گئے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کے مدعی اور گواہوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر مدعی یا گواہوں کو کچھ ہوا تو اس کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوگی جس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے فاضل عدالت کی توجہ اس نکتہ کی جانب مبذول کراتے ہوۓ اعتراض اٹھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خود ہی مروا کر ہمارا نام لکھوا دیں۔

وکیل استغاثہ نے کہا کہ محض اس لیے دفعہ چار سو اکانوے کے تحت ضمانت کا حق ملزم کو نہیں دیا جا سکتا کہ وہ رکن قومی اسمبلی ہے۔ اس طرح تو پھر ارکان قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کوئی بھی جرم کرتے پھریں گرفتار نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ ارکان اسمبلی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر جب تحقیقات جاری ہیں درخواست گزار کے وکلا کا جاوید ہاشمی کی ضمانت کے لیے اصرار کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ اس لیے حبس بیجا کی رٹ مسترد کی جاۓ۔

وکیل استغاثہ نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد اور بیرسٹر اعتزاز احسن کے حوالے اور سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے مقدمات کے حوالہ جات دیتے ہوۓ کہا کہ ابھی تک قانون میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی کہ کوئی رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی اگر جرم کرے تو گرفتار نہ کیا جاۓ۔ اس لیے ضمانت کے لیے انھیں طریقہ کار کے تحت ماتحت عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

وکیل صفائی چودھری اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ خط پارلیمنٹ کے ارکان کے نام تھا اور خط میں اگر کارگل کی جنگ کے حوالے سے تحقیقات کی بات کی گئی ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔

انھوں نے کہا کہ چودھری پرویز الہی بھی ایک مقدمہ میں بطور ملزم تھے لیکن آج پنجاب کے وزیراعلی ہیں اور اللہ کرے گا ایک دن جاوید ہاشمی بھی کسی بڑے منصب پر ہوگا۔ یہ سب وقت کی بات ہے۔

وکی صفائی نے کہا کہ انھوں نے قانون کی روشنی میں ضمانت کی بات کی ہے اور ان کے بار بار کہنے کے باوجود خط کا اصل متن جس کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی انہیں نہیں دیا جا رہا اس سے ظاہر ہے کہ یہ خط حکومتی سیکرٹ ہے اور جی ایچ کیو کا صحیح لیٹر ہے جو صرف سرکاری تحویل میں ہے اور اب اس تمام بحث کی روشنی میں اس میں تبدیلی کا اندیشہ ہے اس لیے حبس بیجا کی اس درخواست کو ضمانت کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوۓ دلائل کی روشنی میں چار سو اکانوے کے تحت جاوید ہاشمی کی ضمانت منظور کی جاۓ۔

اعتزاز احسن نے عدالت عالیہ سے یہ بھی کہا آپ چاہتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے ساتھ چار چھ اور سیاستدان گرفتار کریں تو ہم گھبرانے والےنہیں۔


وقتِ اشاعت: Monday, 10 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

ایف آئی آر عدالت میں

 

جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں مذکورہ خط تقسیم کیا تھا

جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں مذکورہ خط تقسیم کیا تھا

 

حکومت نے سوموار کے دن مسلم لیگ کے قائم مقام صدر اور حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی کے رہنما جاوید ہاشمی کے خلاف درج مقدمے کو پہلی بار عدالت میں پیش کر دیا جس میں درخواست گزار خورشید احمد نے جاوید ہاشمی پر فوج کو صدر جنرل پرويز مشرف کے خلاف اکسانے ، اور کارگل جنگ کے بارے جھوٹ بولنے کا الزام لگایاہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج، جسٹس منصور احمد نے ایف آئی آر کی کاپی جاوید ہاشمی کے وکیل سید ظفر علی شاہ کو دکھائی لیکن لیکن اس کی کوئی نقل انہیں فراہم نہیں کی۔ تاہم وکیل سے کہا کہ اگو وہ ایف آئی آر کے مندرجات اپنے ہاتھ سے لکھنا چاہیں توان کو اجازت ہے۔

جاوید ہاشمی کا مقدمہ ایک بار پھر جعمرات تیرہ اکتوبر کو سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے پہلے بدھ کا دن مقرر کیا تھا۔ لیکن مدعا عالیہ کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی روشنی میں مقدمہ کی سماعت ایک دن بعد کر دی گئی ہے۔ کیونکہ اعتزاز احسن بدھ کو کسی اور مقدمے میں مصروف ھوں گے۔

درخواست دھندہ ، خورشید احمد ، جن کے بارے میں کسی کو آج سے پہلے کوئی علم نہیں تھا،ايف آئی آر کے مطابق مکان نمبر97 گلی نمبر 96 سیکٹر4 /8 I اسلام آباد کے رہائشی ہیں۔

درخواست دھندہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ بیس اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھنےگیا تواس نے جاوید ہاشمی کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے سنا۔ اس کانفرنس میں جاوید ہاشمی نے ایک بغیر دستخط شدہ خط ، بعنوان ’قومی قیادت کے نام ‘ کی کاپیاں تقسیم کیں۔

اس خط میں صدر مملکت پاکستان جناب پرویز مشرف صاحب ، حکومت پاکستان ، اور افواج پاکستان کے خلاف مواد تحریر تھا اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گی تھی۔ اس خط کے ذریعے جاوید ہاشمی نے مسلح افواج کے اندر نفرت اور بد اندیشی پیدا کرنے کی کوشش کی ھےاور انہیں بغاوت پر اکسایا ہے۔ جاوید ہاشمی نے غلط بیانی سے کام لیا، اور وقوعہ کارگل کے بارے میں غلط بیانی کرتے ھوئے کہا کہ کارگل میں پاکستان کا نقصان انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگوں سے زیادہ ھوااور یہ کہ بھارت نے کارگل کے معاملہ میں انکوائری کر کے بہت سے بریگیڈیر اور جنرل نوکری سے فارغ کیے اس طرح جاوید ہاشمی نے افواج پاکستان کے خلاف نفرت اور بد اندیشی پیدا کی۔‘

درخواست گزار نے کہا کہ ’جاوید ہاشمی نے غلط بیانی سے کام لیا کہ جاوید حسن جب میجر جنرل تھے تو چار سال کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے زیر نگرانی کام کرتے رہے۔‘

درخواست گزار نےکہا جوخط جاوید ہاشمی نے خود اور ہمراہیوں کے ساتھ ملکر تقسیم کیا وہ بظاہر جعلی لگتا ہے۔ اور اس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں، اور جو لیٹر پیڈ جی ایچ کیو کا استعمال کیا گیا ہے وہ بھی بادی النظر میں جعلی معلوم ہوتا ہے ۔ بادی النظر میں آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ مونوگرام بھی الگ سے لگایا گیا ہے ۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے بیس اکتوبر کو دی نیوز اخبار کو دیئے گے اپنے اخباری بیان میں اس بات کا اقرار کیا کہ میرے اپنے ہاتھ سے اس خط کو تقسیم کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خط مستند ہے۔‘

حظ کے ذریعے جاوید ہاشمی اور ان کے ہمراہی پاکستان کی سلامتی ، خوشحالی اور سلطنت کی یک جہتی کو مسمار کرنا چاھتے ہیں اور وہ پاکستان کی فوج کو تقسیم کرکے ملک کو توڑنا چاھتے ہیں۔،

حکومت نے ریمانڈ آرڈر کی کاپی بھی عدالت کو فراہم کی ہے۔ سید ظفر علی شاہ جنہوں نے وہ ریمانڈ آرڈر دیکھے۔ بعد میں بتایاکہ پہلے ریمانڈ آرڈر پر کسی جج کے دستخط، یا عدالت کی مہر نہیں ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جاوید ہاشمی کی نظر بندی غیر قانونی ہے۔

حکومت کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت میں پییش ہو جانے کے بعد اب اس حبس بے جا کی درخواست کو خارج کر دیا جائے، لیکن میمونہ جاوید ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ وہ ایف آئی آر کی کاپی کے حصول کے بعد ہی دلائل دینے کے قابل ھوں گے۔


 

وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

’ایف آئی آر عدالت میں پیش کریں‘

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

حکومت نے ابھی تک ایف آئی آر پیش نہیں کی

حکومت نے ابھی تک ایف آئی آر پیش نہیں کی

 

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور احمد نے بدھ کے روز حکومت کو ہدایت کی ہے کہ عدالت کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی کےخلاف درج مقدمے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اور مقدمے کی ایف آئی آراور مجسٹریٹ سے حاصل کردہ ریمانڈ آرڈرجمعہ تک عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے اعلان کیا کہ مقدمے کی اگلی سماعت بروز سوموار، نومبر کی دس تاریخ کو ہوگی۔

اپنے حکم کا اعلان کرتے ہوئے جسٹس منصوراحمدنے اسلام آباد پولیس کے رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا یہ امر افسوس ناک ہے کہ حکومت نے ایف آئی آر کی کاپی ابھی تک ظاہر نہیں کی ہے ۔

جاوید ہاشمی کی بیٹی، میمونہ ہاشمی کی جانب سے دائر کردہ حبس بے جا کی درخواست پر عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ کوچارنومبر کوعدالت میں پیش ہوکر جواب دینے کیلئے نوٹس بھی جاری کیے۔

چارنومبرکوجب عدالت نےمقدمے کی سماعت کی توحکومت نے عدالت کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کو بغاوت کی اعانت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور ایک تین رکنی کمیٹی اس مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن عدالت میں ایف آئی آر کی کاپی پیش نہیں کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اگر کسی کو ایف آئی آر کی کاپی چاہیے تو اس کو عدالت کے بجائے پولیس سے رابطہ کرنا چاھیے ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جاوید ہاشمی کا ریمانڈ کس عدالت سے حاصل کیا گیا ہے تو حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ ریمانڈ اسلام آباد کی ایک عدالت سے حاصل کیا گیا لیکن اس کو جج کا نام معلوم نہیں ہے ، اور نہ ہی اس کے پاس ریمانڈ آرڈر کی کاپی ہے ۔

سینیئر ایڈوکیٹ اعتزاز احسن نے جاوید ہاشمی کی وکالت کرتے ھوئے کہا کہ یہ کسی بھی شہری کا حق ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ اس کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کو اپنا دفاع کرنے کا پورا موقع ملنا چاھیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی گرفتاری ‏غیر قانونی ہے اور عدالت اس کو ان کی رہائی کا حکم جاری کرنا چاھیے ، اگر عدالت رہائی کا حکم جاری نہيں کرتی تو پھرحکومت کو حکم جاری کیا جائے کہ وکلا کو جاوید ہاشمی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

مخدوم جاوید ہاشمی کو انتیس اکتوبر کی رات ساڑھے دس بجے گرفتار کیا گیا تھا اور اب تک ان سے نہ کسی وکیل کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے نہ ہی خاندان کے کسی فرد کو۔

جاوید ہاشمی پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بیس اکتوبر کو پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا۔

اعتزاز احسن کے مطابق جاوید ہاشمی کے خلاف کیس میں کوئی جان نہیں ہے اور کسی بھی عدالت کے لیے یہ ممکن نہیں ھوگا کہ اس جرم میں ان کو سزا سناسکے۔


 

وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

اسلام آباد: حزب اختلاف کا مارچ

آصف زرداری

پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سات برس سے حراست میں ہیں۔

 

منگل کے روز قومی اسمبلی کے ارکان حزب اختلاف نے ایوان اور ایوان کے باہر جاوید ہاشمی اور آصف زرداری کو حراست میں رکھنے کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں ان جماعتوں کے نمائندے اور حامی بھی شامل تھے جو ماضی میں ان کی جماعت اور آصف زرداری کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

مظاہرے میں شدت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ آصف زرداری کو قید میں سات سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان پر قتل، اقدام قتل، منشیات اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت درجن بھر مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک مقدمہ کے باقی تمام میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔

ارکان اسمبلی نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’نو مشرف نو، اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے درج تھے۔ اس کے علاوہ آصف زرداری اور جاوید ہاشمی کی رہائی کے حق میں بھی نعرے درج تھے۔ جبکہ مظاہرین بھی یہ نعرے لگا رہے تھے۔

ارکان اسمبلی جب باہر آئے تو وہاں بڑی تعداد میں مظاہرین موجود تھے جو بعد میں جلوس کی شکل میں سپریم کورٹ کی عمارت تک گئے جہاں بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔ بعد میں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

 

وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کی گرفتاری ،کسے کیا ملا

 

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی

 

اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کے صدر اور مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کے غداری کے الزام میں گرفتاری کے خلاف مسلسل دوسرے روز بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ حزب اختلاف نے احتجاج کیا، اسپیکر کے ڈائس کے قریب آکر نعرے بازی کی، بینرز لہراۓ اور اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد اے آر ڈی کی جماعتوں اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ایک بار پھر یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس سے پہلے حدود آرڈیننس کے خاتمہ کے لیے پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان کی طرف سے بل پیش کرنے پر مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے متحدہ حزب اختلاف سے الگ ہونے کی دھمکی دی تھی۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا شدید احتجاج تو تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ اس نے حزب مخالف کی کمزوری اور عوام کی ان سے لاتعلقی کو واضح کردیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں سے جب سے جاوید ہاشمی گرفتار ہیں حزب اختلاف عوامی سطح پر کوئی موثر احتجاج منظم نہں کرسکی۔

جاوید ہاشمی کی جماعت مسلم لیگ(ن) بھی اپنے مرکزی رہنما کی گرفتاری پر، عوام کو تو دور کی بات، اپنے کارکنوں کو بھی سڑکوں پر نہیں لا سکی۔ لاہور جو شریف خاندان کی سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں پر بھی گزشتہ جمعہ مسلم لیگ(ن) کے بیس پچیس کارکن جمع ہوۓ جنھیں پولیس نے چند گھنٹے حراست میں رکھ کر رہا کردیا۔

شاید اسی غیر موثر احتجاج کو دیکھتے ہوۓ حکومت کا حوصلہ اور بلند ہوگیا اور وفاقی دارلحکومت کی پولیس نے ہفتہ کے روز صبح ساڑھے سات بجے جاوید ہاشمی کو اسلام آباد میں سول اور جوڈیشل میجسٹریٹ عامر سلیم رانا کی عدالت میں پیش کرکے ان کا مزید نو روز کا جسمانی ریمانڈ لے لیا۔

حکومتی ارکان یہ کہہ چکے ہیں کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران کسی رکن اسمبلی کو ایوان میں پیش کئے جانے کی مثال موجود نہیں اس لیے حزب اختلاف کا سپیکر سے یہ مطالبہ جائز ہے کہ وہ ان کو ایوان میں لانے احکامات جاری کریں۔ اب اس کام میں مزید نو روز کی توسیع ہوگئی ہے۔

جاوید ہاشمی کو رمضان کے مہینے میں قید کرکے حکومت نے رمضان کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ رمضان میں سیاسی بھاگ دوڑ میں ویسے ہی کمی آجاتی ہے اور اب اس مہینے کے آخری دنوں میں تو عبادات میں اضافہ کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں ویسے ہی رک جاتی ہیں۔ اسمبلی کا اجلاس بھی شاید جاری نہ رہے۔ گویا اسمبلی میں ہونے والا احتجاج بھی ختم ہوجاۓ گا اور عوامی سطح پر تو ویسے ہی کچھ نہیں ہورہا۔

جاوید ہاشمی کے ایک ایسے خط کو، جو مبینہ طور پر فوج کے کچھ اہلکاروں کی طرف سے حزب اختلاف کی حمایت اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی مخالفت میں لکھا گیا تھا، پریس کانفرنس میں نشر کرنے پر گرفتاری کے بارے میں یہ راۓ تو عام طور پر سامنے آچکی ہے کہ حکومت کا مقدمہ کمزور ہے۔ کچھ عرصہ بعد حکومت عدالت میں اپنا مقدمہ زور دار طریقے سے پیش نہ کرکے انھیں رہا کردے تب بھی اس نے کچھ مقاصد تو ابھی سے حاصل کر ہی لئے ہیں۔

ایک تو حکومت کی طرف سے یہ پیغام سامنے آیا ہے کہ جو بھی جنرل مشرف کے خلاف ایک حد سے زیادہ آگے جاۓ گا حکومت اس سے بہت سختی سے نپٹے گی۔ حزب اختلاف کے کئی کمزور دل رہنماؤں کو سمجھانے کے لیے یہ بات کافی ہے خاص طور پر اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہونے کے بعد کہ جاوید ہاشمی کو حراست میں مارا پیٹا گیا۔ ان کوگرفتاری کے وقت تھپڑ مارے گۓ تھے یہ بات تو ان کی بیٹی نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کی تھی۔

وزیراغظم ظفراللہ جمالی نے لاہور میں کھل کر یہ بات کہی کہ پارلیمان اپنی حدود میں رہے اور عدلیہ اور فوج پر تنقید برداشت نہیں کی جاسکتی۔ لاہور میں کانسٹیبل کے ایک جنرل کے اہل خانہ کی گاڑی کو روکنے پر جو سزا ملی اور اس پر فوجی افسر کے خلاف اور پولیس کانسٹیبل کے حق میں جو عوامی ردعمل سامنے آیا اس سے بھی حکمران خاصے زچ تھے۔ جاوید ہاشمی کی فوج میں منقسم راۓ کو مشتہر کرنے پر ان کو گرفتار کرکے واضح کردیا گیا ہے کہ جو مخالفت کرے گا اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی اس سوچ کی نشاندہی ہفتہ کے روز وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جو انھوں نے اخبار نویسوں سے اپنے چیمبر میں بات چیت کرتے ہوۓ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسپیکر نے حزب اختلاف کے خلاف کاروائی کی تو وہ سخت ہوگی اور اب ہلکی پھلکی موسیقی سے کام نہیں چلے گا۔

جنرل مشرف کے لیے یہ بھی اطمینان کی بات ہوگی کہ اس وقت حزب اختلاف کی توجہ ایل ایف او اور ان کی وردی پر نہیں ہے بلکہ جاوید ہاشمی کی رہائی کا مطالبہ ایک بڑا ایشو بن گیا ہے۔

جو لوگ جاوید ہاشمی کی گرفتاری میں زیادہ گہرے معنی تلاش کرنے کے خواہش مند ہیں وہ اس خدشہ کا اظہار کرہے ہیں کہ کیا اس کا مقصد یہ تو نہیں کہ حزب اختلاف کو اسمبلی میں اتنے شدید احتجاج پر مجبور کردیا جاۓ جس کے بعد اسٹیبلشمینٹ موجودہ نظام کے ساتھ کچھ بھی کرے تو لوگ کہیں اچھا ہی ہوا۔

جمعہ کے روز جس طرح حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور ایک رکن نے دوسرے کو ٹکر ماری اس کے بعد یہ امکان تو موجود ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی بڑھ کر گھناؤنی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے۔

شیخ رشید نے ہفتہ کے روز ایک بات اور بھی کہی ہے کہ صدر پارلیمینٹ سے خطاب کریں یا نہ کریں اسمبلیاں چلتی رہیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کوشش ہے کہ اسمبلی نہ چلے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ ہوگا تو ہمارا (حکومتی مسلم لیگ) اور متحدہ مجلس عمل کا کیا جاۓ گا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہے۔

جو لوگ پاکستان کی سیاست سے واقف ہیں انہیں معلوم ہے کہ حکومت کسی خدشہ کی بار بار تردید کرے تو وہ اکثر صحیح نکل آتا ہے۔ جاوید ہاشمی کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے خدشات کچھ ایسے بے جا بھی نہیں۔


وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

کورٹ نے وضاحت طلب کرلی

 

میمونہ ہاشمی

حبس بے جا کا مقدمہ جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی نے دائر کیا ہے

 

لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس منصور احمد نے اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد پولیس سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

ادھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آر ڈی کے دوسرے رہنماؤں کے خلاف بھی مبینہ خط کے سلسلے میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ کو منگل چار نومبر کو عدالت میں پیش ہوکر جواب دینے کیلئے نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس منصور احمد نے پیر کے روز جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ جاوید ہاشمی کی حبس بے جا کی درخواست کی سماعت شروع کی تو انکی وکالت کے لئے سینیئر ایڈوکیٹ بیریسٹر اعتزاز احسن اور سید ظفر علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقعہ پر درخواست گزار میمونہ ہاشمی کے علاوہ مسلم لیگ کے بیشتر مرکزی رہنما بشمول راجہ ظفرالحق اور سرانجام خان بھی موجود تھے۔

عدالت نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت دائر کردہ حبس بے جا کی درخواست کی ابتدائی مختصر سماعت کے بعد ایس ایس پی اسلام آباد اور ایس ایچ او کو منگل کے روز پیش ہوکر جواب دینے کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے جس میں پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ جاوید ہاشمی کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں کہاں رکھا گیا ہےـ

واضع رہے کہ مبینہ بغاوت کے الزام کے تحت اے آرڈی کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کو 29 اکتوبر کی رات ساڑھے دس بجے گرفتار کیا گیا تھا اور اب تک ان سے نہ کسی وکیل کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے نہ ہی خاندان کے کسی فرد کو۔

ان کی بیٹی میمونہ جاوید ہاشمی نے یکم نومبر بروز ہفتہ لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے والد کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بیس اکتوبر کو پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا۔

علاوہ ازیں مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ان کے مؤکل کو 30 اکتوبر کو ریمانڈ کیلئے پیش کرنا لازمی تھا اور وہ کچہری میں رات ساڑھے آٹھ بجے تک انتظار کرتے رہے جبکہ پولیس نے ریمانڈ کیلئے جاوید ہاشمی کو پیش نہیں کیا۔

ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ دعوٰی سے کہتے ہیں کہ پولیس نے ریمانڈ عدالت میں آکر نہیں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 30 اکتوبر کو سول جج اسلم گوندل کے پاس گئے تھے انہیں کہا تھا کہ انکو سنے بغیر ریمانڈ نہ دیا جائے لیکن ان کو اس حق سے محروم کر دیا گیا۔

جاوید ہاشمی کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منگل چار نومبر کو ختم ہوگا اور امکان ہے کہ پولیس انکا مزید ریمانڈ لےگی۔

ادھر پیر کے روز جب وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات سے صحافیوں نے دریافت کیا کہ جب جاوید ہاشمی نے خط جاری کیا تھا اس وقت پریس کانفرنس میں دیگر رہنما بھی موجود تھے اور اے آر ڈی نے یہ خط باضابطہ طور پر جاری کرنے کا کہا تھا۔ کیا حکومت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی تو فیصل صالح حیات نے کہا کہ ابھی جاوید ہاشمی سے تفتیش ہورہی ہے اور ضرورت پڑی تو قانون کے مطابق دیگر رہنماؤں کےخلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

 

وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

مقدمۂ بغاوت: جاوید ہاشمی پہلے ملزم؟

 

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

اے آر ڈی رہنما

کیا اے آر ڈی کے دوسرے رہنما بھی اس مقدمہ کی زد میں آ سکتے ہیں؟

مبصرین نے اے آر ڈی کے رہنما جاوید ہاشمی کی گرفتاری کو ملک کے سیاسی منظر نامہ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

اے آر ڈی کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ کے اندراج اور ان کی گرفتاری کے بارے میں قانونی ماہرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اے آر ڈی کی باقی قیادت بھی اس مقدمہ کی زد میں آتی ہے؟ اور کیا حکومت اس کوسیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرے گی؟

جاوید ہاشمی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ ’ اس خط کواے آر ڈی کی پارلیمانی پارٹی نے پریس کانفرنس میں پڑھنے کی ہدایت دی تھی اور یہ کہ یہ خط پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن فوزیہ کو ملا تھا اور لفافہ پر بھی انہی کا نام تحریر ہے۔‘

پنجاب پولیس کے شعبہ قانونی امور کے ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس رائے کا اظہار کیا ہے: ’اگر صرف خط پڑھنا ہی انہیں فوج کو اکسانے اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کا ملزم بناتا ہے تو پھر وہ تمام افراد بھی اعانت جرم کے ملزم ہیں جنہوں نے انہیں یہ خط پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔‘

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی راۓ تھی کہ اعانت جرم کی دفعہ ایک سے زیادہ افراد یا کسی گروہ کے خلاف عائد کی جا سکتی ہے اور اس کی سزا اصل جرم کے برابر ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختاراں مائی کیس کا حوالہ دیا جس میں زیادتی کا فیصلہ دینے والے چاروں پنچائتی افراد کو اعانت جرم میں چالان کیا گیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ صرف جاوید ہاشمی کے بیان دے دینےسے کوئی ملزم نہیں بن جاتا بلکہ کوئی غیر جانبدرارنہ شہادت اور ثبوت ضروری ہیں۔ یا پھر پارلیمانی پارٹی یہ کہہ دے کہ اس نے جاوید ہاشمی کو ایسا کرنے کو کہا تھا۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بھی صورت جاوید ہاشمی کو تو کوئی رعائت نہیں دلا سکتی البتہ دوسروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔‘

جاوید ہاشمی بیس اکتوبر کو ہونے والی جس مشترکہ پریس کانفرنس کے نتیجہ میں گرفتار ہوئے اس میں ان کے ہمراہ دیگر رہنماؤں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے محمود قریشی اور ایم ایم اے کے لیاقت بلوچ بھی شریک تھے۔

پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے ابھی تک جاوید ہاشمی کے اس بیان کی، کہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت پر انہوں نے خط پڑھا تھا، تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارلیمانی پارٹی اس بات کا اعتراف کرے گی کہ واقعی یہ فیصلہ ہوا تھا اور جاوید ہاشمی نے پارلیمانی پارٹی کے کہنے پر خط پڑھا تھا؟

ان کی گرفتاری سے اگلے روز ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں اے آر ڈی کے رہنما اس سوال کو ٹال گئے تھے۔ اس پریس کانفرنس میں شریک روزنامہ ڈان کے رپورٹر عامر وسیم نے کہا ہے کہ صحافیوں کے اس سوال پر کہ’ کیا واقعی جاوید ہاشمی کو پارلیمانی پارٹی نےخط پڑھنے کو کہا تھا؟‘ رہنماؤں کا جواب تھا کہ ’اس سلسلہ میں فیصلہ آئندہ اجلاس میں کیا جاۓ گا۔‘ اور جب صحافیوں نے کہا کہ اس کا جواب تو ہا ں ناں میں دیا جاسکتا ہے اس کے لیے اجلاس منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے تو رہنما بات ٹال گئے ۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کے خلاف یہ مقدمہ ہی غلط ہے باقیوں کے ملوث ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اصل ملزم وہ ہے جس نے بقول حکومت کے یہ جعلی خط بناۓ ہیں۔‘

قانونی ماہرین کے مطا بق اس خط کو تحریر کرنے والا مرکزی ملزم ہے خواہ یہ خط اصلی ہو یا نقلی۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ان کی گرفتاری کے روز جاری ہونے والے ہینڈ آوٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ خط جعلی ہے اور جاوید ہاشمی نے اس کے اصلی ہونے پر اصرار کیا تھا۔ لیکن پریس نوٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ جعلی خط بنانے کا الزام کس کے سر ہے۔

حکومت کے وکیل منیر بھٹی سے جب بی بی سی نے یہی سوال کیا کہ کیا اعانت جرم میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی ملوث کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تین روز تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ تین روز تک تبصرہ نہ کرنے کی وجوہات ہیں تاہم انہوں نے ان وجوہات کی وضاحت نہیں کی ۔

ادھر ان کی صاحبزادی نے سنیچر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہے ان کی حبس بے جا کے خلاف ایک درخواست عدالت عالیہ کے راولپنڈی بنچ میں دائر کر دی گئی ہے جس کی سماعت سوموار کو ہوگی ۔
اے آر ڈی کے ایک رہنما نے بتایا ہےکہ جاوید ہاشمی نے جن مزید خطوط کی بات کی تھی ان سمیت وہ لفافہ جس پر پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ حبیب کا نام درج تھا جاوید ہاشمی کے وکیل ظفر علی شاہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہربند یہ ایف آئی آر سپریم کورٹ میں دائر کہیں اس درخواست کی مانند تو نہیں جس میں ایم ایم اے کے بیشتر اراکین کی ڈگریوں کو چیلنج کیا گیا ہے اور جس کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

 

وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

پنجاب اسمبلی: کارروائی کا بائیکاٹ

 

پنجاب اسمبلی

اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے

 

پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے جمعرات کے روز مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر ڈیڑھ گھنٹے تک ایوان میں شدید احتجاج کیا اور اس کے بعد جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

اسمبلی کا ریکارڈ

 

جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

 

آج صبح ساڑھے دس بجے جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناء اللہ پوائینٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوگۓ اور انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو گزشتہ روز گرفتار کرتے ہوئے تھپڑ مارے گئے۔ انہوں نے کہا جس توہین آمیز انداز میں جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا وہ پارلیمینٹ کی توہین ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جاوید ہاشمی پر ایک ایسے خط کے حوالے سے کارروائی کی گئی ہے جو کسی نے لکھا تھا اور حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے خط قبضہ میں لے کر اس کی تحقیقات کراتی اور اگر جاوید ہاشمی کی بات غلط ثابت ہوتی تو کوئی کارروائی کرتی۔

رانا ثناء اللہ نے موقف اختیار کیا کہ فوج کے ادارے کو بدنام کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات اب تک ایک فیصد لوگوں کو معلوم تھی وہ جاوید ھاشمی کو گرفتار کرکے پوری دنیا میں پھیلا دی گئی ہے اور یہ مقدمہ درج کرنے والوں نے فوج کے خلاف سازش کی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کے جواب میں پنجاب حکومت کے ایک وزیر کرنل محمد انور نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف کارائی اس لیے کی گئی ہے کہ ایک جعلی خط کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

کہا گئے وہ دن

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

رانا ثناء اللہ

 

تاہم رانا ثناء اللہ نے، جو کچھ عرصہ پہلے خود بھی پنجاب اسمبلی میں فوج پر تنقید کرنے کے بعد اغوا کرلیے گۓ تھے اور ان کی بھنویں مونڈ دی گئیں تھیں، قدرے دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت فوج کے ادارہ کا احترام کرتی ہے لیکن وہ ان جرنیلوں کے خلاف ہیں جو وردی پہن کر سیاست میں آ کر اس ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکمرانوں پر جب برا وقت آتا ہے تو جس طرح جاوید ہاشمی کے خلاف کارروائی کی گئی برسرِ اقتدار لوگوں سے اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں یا کروائی جاتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما قاسم ضیا نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کس قانون کی بات کرتی ہے اور ایک فرد واحد کو کس قانون نے وردی میں حکومت کرنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو بھی سوچنا چاہیے کہ جو لوگ کل اس کی حمایت کرتے تھے آج اس کے مخالف بن گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی رہنما اصغر گجر نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی جیسے ایک سینیئر پارلیمینٹیرین کو تھپڑ مارا گیا جبکہ قانون تو ایک قاتل پر بھی تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کا دفاع کیا اور کہا کہ جاوید ہاشمی کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہوں نے خط ملنے کے بعد پریس کانفرنس کر کے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی جو ان جیسے ذمہ دار شخص کے شایان شان نہیں تھا۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف فوج کے ادارے کے سربراہ کے خلاف باتیں کرتی ہے اور یہ درحقیقت سب ہندوستان کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو دباؤ میں لانا حزب اختلاف کی دائمی خواہش ہے اور اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا واقعہ پیش نہ آتا اور یہ لوگ اب اقتدار میں ہوتے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ بیس اکتوبر کو ملنے والے خط کے ایک ہفتہ بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی جس کا مطلب ہے کہ اس دوران میں حکومت نے اس معاملہ کی مکمل چھان بین کی ہے۔

ایوان میں اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایک شعر پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی کمینہ فرش سے عرش پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس بات پر حکومتی جماعت کے ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں مختلف جماعتوں کے لوگ ایک ساتھ بولنے لگے۔

اس موقع پر حزب اختلاف نے گو مشرف گو اور مشرف کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیے اور کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔


وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

پنجاب اسمبلی میں احتجاج

 

پنجاب اسمبلی

اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے

 

پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے جمعرات کے روز مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر ڈیڑھ گھنٹے تک ایوان میں شدید احتجاج کیا اور اس کے بعد جنرل مشرف کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

اسمبلی کا ریکارڈ

 

جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد کسی حکومتی رکن نے ان سے کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں کہا بلکہ اس دوران میں اسپیکر اسمبلی افضل ساہی نے پندرہ بیس منٹ میں حزب اختلاف کی سو سے زیادہ تحریکیں ان ارکان کے موجود نہ ہونے پر تیزی سے نپٹا دیں جو پنجاب اسمبلی میں ایک ریکارڈ ہے۔

 

آج صبح ساڑھے دس بجے جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناء اللہ پوائینٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوگۓ اور انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو گزشتہ روز گرفتار کرتے ہوئے تھپڑ مارے گئے۔ انہوں نے کہا جس توہین آمیز انداز میں جاوید ہاشمی کو گرفتار کیا گیا وہ پارلیمینٹ کی توہین ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جاوید ہاشمی پر ایک ایسے خط کے حوالے سے کارروائی کی گئی ہے جو کسی نے لکھا تھا اور حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے خط قبضہ میں لے کر اس کی تحقیقات کراتی اور اگر جاوید ہاشمی کی بات غلط ثابت ہوتی تو کوئی کارروائی کرتی۔

رانا ثناء اللہ نے موقف اختیار کیا کہ فوج کے ادارے کو بدنام کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات اب تک ایک فیصد لوگوں کو معلوم تھی وہ جاوید ھاشمی کو گرفتار کرکے پوری دنیا میں پھیلا دی گئی ہے اور یہ مقدمہ درج کرنے والوں نے فوج کے خلاف سازش کی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کے جواب میں پنجاب حکومت کے ایک وزیر کرنل محمد انور نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے خلاف کارائی اس لیے کی گئی ہے کہ ایک جعلی خط کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

کہا گئے وہ دن

 

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_right_quote.gif یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/800_left_quote.gif

رانا ثناء اللہ

 

تاہم رانا ثناء اللہ نے، جو کچھ عرصہ پہلے خود بھی پنجاب اسمبلی میں فوج پر تنقید کرنے کے بعد اغوا کرلیے گۓ تھے اور ان کی بھنویں مونڈ دی گئیں تھیں، قدرے دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت فوج کے ادارہ کا احترام کرتی ہے لیکن وہ ان جرنیلوں کے خلاف ہیں جو وردی پہن کر سیاست میں آ کر اس ادارے کو تباہ کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکمرانوں پر جب برا وقت آتا ہے تو جس طرح جاوید ہاشمی کے خلاف کارروائی کی گئی برسرِ اقتدار لوگوں سے اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں یا کروائی جاتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما قاسم ضیا نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کس قانون کی بات کرتی ہے اور ایک فرد واحد کو کس قانون نے وردی میں حکومت کرنے کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو بھی سوچنا چاہیے کہ جو لوگ کل اس کی حمایت کرتے تھے آج اس کے مخالف بن گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی رہنما اصغر گجر نے بھی جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی جیسے ایک سینیئر پارلیمینٹیرین کو تھپڑ مارا گیا جبکہ قانون تو ایک قاتل پر بھی تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کا دفاع کیا اور کہا کہ جاوید ہاشمی کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہوں نے خط ملنے کے بعد پریس کانفرنس کر کے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی جو ان جیسے ذمہ دار شخص کے شایان شان نہیں تھا۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف فوج کے ادارے کے سربراہ کے خلاف باتیں کرتی ہے اور یہ درحقیقت سب ہندوستان کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو دباؤ میں لانا حزب اختلاف کی دائمی خواہش ہے اور اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا واقعہ پیش نہ آتا اور یہ لوگ اب اقتدار میں ہوتے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ بیس اکتوبر کو ملنے والے خط کے ایک ہفتہ بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی جس کا مطلب ہے کہ اس دوران میں حکومت نے اس معاملہ کی مکمل چھان بین کی ہے۔

ایوان میں اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ق) کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگ نواز شریف دور میں ہمارے ساتھ تھے اور انہیں ایک معزز رکن کی گرفتاری پر حزب اختلاف کا ساتھ دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اب مزے لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایک شعر پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی کمینہ فرش سے عرش پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس بات پر حکومتی جماعت کے ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں مختلف جماعتوں کے لوگ ایک ساتھ بولنے لگے۔

اس موقع پر حزب اختلاف نے گو مشرف گو اور مشرف کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگانے شروع کردیے اور کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2003,

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی کا متنازع خط

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/2003/10/20031030170213javedhashmi_letter2.gif

 

 

 

 

 


 

وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2003, 11:31 GMT 16:31 PST

http://www.bbc.co.uk/worldservice/images/furniture/clear.gif

 

جاوید ہاشمی: غداری کا الزام

جاوید ہاشمی پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں

جاوید ہاشمی پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں

 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت کے سربراہ مخدوم جاوید ہاشمی کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مسلم لیگ کے ذرائع کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی کو بدھ کی رات کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز سے باہر آ رہے تھے۔

اسلام آباد سے رات گئے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف ملک دشمنی، بغاوت اور جال سازی کے الزامات کے تحت اسلام آباد کے تھانہ سکریٹریٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات صدیق الفاروق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ جاوید ہاشمی کو پارلیمنٹ لاجز کے گیٹ پر گرفتار کیا گیا۔ صدیق الفاروق نے جاوید ہاشمی کے ڈرائیور عبدالغفور کے حوالے سے بتایا کہ جاوید ہاشمی کو آئی ایس آئی نے گرفتار کیا اور انھیں ایک لینڈ کروزر جیپ میں ڈال کر وہاں سے لیے جایا گیا۔

صدیق الفاروق نے بتایا کہ حکام نے انھیں ابھی تک مطلع نہیں کیا کہ جاوید ہاشمی کو کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ کے سیکریٹر ی اطلاعات نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے اور اجلاس کے دوران کسی رکنِ پارلیمنٹ کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے بقول ملک میں آئین کو بحال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئین بحال ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔

صدیق الفاروق نے کہا کہ ملک میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے اور جہویت دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے ہے۔

مسلم لیگ کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کے ارکان نے اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کی رہائش گاہ پر جا کر انھیں جاوید ہاشمی کی گرفتاری کی اطلاع دی۔

انہوں نے کہا کہ اس موقعہ پر وہاں کچھ پولیس اہلکار بھی پہنچ گئے اور اسپیکر کو جاوید ہاشمی کی گرفتاری اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔

ان ذرائع کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کوگرفتاری کے بعد سہالہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

گرفتاری سے چند گھنٹوں قبل جاوید ہاشمی نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ ان کے خلاف غداری اور ملک دشمنی کے مقدمات بنائے جارہے ہیں۔

جاوید ہاشمی نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کے دوران ایک خط کی کاپیاں فراہم کی تھیں جو ان کے بقول آرمی ہیڈ کوائٹر جی ایچ کیو سے کچھ اعلی فوجی افسروں کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ اس خط میں مبینہ طور پر ان اعلی فوجی افسران نے جنرل مشرف کی پالیسوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج بدنام ہو رہی ہے۔


 

 

 
Copyright © 2010 www.makhdoomjavedhashmi.com